مطالعہ جنرل نالج

ہر لمحہ بدلی دنیا اور رو بہ رو ہونے والی نئی نئی ایجادات اور تحقیقات، ملکی و عالمی سیاست کی تبدیلیاں، اقتصادیات، تعلیم، سماج، سائنس و ٹکنالوجی اور صحت و میڈیکل کے میدان کی نئی ریسرچ وہ باتیں ہیں جن کی تازہ معلومات رکھنا ہر انسان کی ضرورت ہے۔ بیوروکریسی کے نظام، ضروری قانونی واقفیت اور بہ حیثیت شہری اپنے حقوق کا علم ایسی چیزیں ہیں جنھیں ضرور جانا چاہیے۔ اور یہ تمام چیزیں جنرل نالج میں آتی ہیں۔
جنرل نالج میں وسعت اور مضبوطی ہونا خواتین و طالبات کی بھی ضرورت ہے اور اس ضرورت کو پورا کیے بغیر ہماری شخصیت معتبر اور مکمل نہیں ہوسکتی۔ خواتین کیونکہ اولاد کی مربی اور ان کی معمار ہوتی ہیں اس لیے عملی ضروریات کی تکمیل کے لیے بھی اور بچوں کی جنرل نالج میں اضافہ کے لیے بھی اس میدان کا خاطر خواہ مطالعہ خواتین کے لیے ضروری ہے۔ ایک طرف جنرل نالج رکھنے والی ماں یا عورت گھر کے بچوں کی جنرل نالج میں وسعت و مضبوطی کا بھی ذریعہ ہوتی ہے۔ دوسری طرف فعال اور باشعور خاتون جو حالات پر اپنا ردعمل ظاہر کرنے والی اور عملی میدان میں کام کرنے والی ہو اس کے لیے بھی حالات و واقعات اور زمانے کی تبدیلیوں سے واقفیت ضروری ہے۔
جنرل نالج یا عام معلومات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ اس ضرورت کو کسی خاص گائیڈ یا کتاب کے ذریعہ پورا نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ روز مرہ کے مطالعہ کو پابندی کے ساتھ جاری رکھا جائے اور ان ذرائع پر نظر رکھی جائے جو مختلف میدانوں کی تازہ ترین معلومات فراہم کرتے ہیں۔
اس مضمون میں ہم چند ایسے ذرائع کا تذکرہ کریں گے جو آپ کی جنرل نالج یا حالات و واقعات اور مختلف میدانوں کی معتبر اور تازہ ترین معلومات آپ کو دے سکتے ہیں اور آپ ان سے فائدہ اٹھا کر اپنی شخصیت کی تزئین کاری اور اپنے علم میں اضافہ کرسکتی ہیں۔
(۱) اخبارات و مگیزین
آج کے دور میں روزنامے اور ہفتہ وار / ماہانہ میگزنس حالات و واقعات سے واقفیت اور تازہ ترین معلومات کا سب سے سستہ، آسان اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہیں۔ ان میں مختلف موضوعات پر مضامین، فیچرس اور بحثیں ہوتی ہیں۔ موجودہ دور کے اخبارات کی کوشش یہ ہے کہ وہ ہر طبقہ اور ہر ذوق و پسند کے افراد کے لیے ضروری مواد فراہم کریں۔ یہاں فلم بینی کے شائقین کے لیے بھی بھر پور مواد ہوتا ہے اور سائنس و مینجمنٹ کے لوگوں کے لیے بھی۔ گھر داری، کھانے پکانے، گھر کی آرائش ، سلائی کڑھائی خواتین کے تعلیم و کیرئر، ہوم مینجمنٹ، صحت و علاج، نفسیاتی و گھریلو مسائل، فیشن، حسن و آرائش سے لے کر ذاتی قسم کے سوال و جواب تک آپ کو مل جاتے ہیں۔ اور یہ سب سیاسی، سماجی اور معاشرتی مسائل اور خبروں کے علاوہ ہوتا ہے۔ اور اس وقت یہ اخبارات و رسائل بہت کم قیمت پر آپ کے گھر کے دروازہ پر بہ آسانی دستیاب ہیں۔
مگر عام طور پر ان اخبارات و رسائل سے مرد افراد ہی فائدہ اٹھاتے ہیں اور خواتین ان کے مطالعہ سے خاطر خواہ دلچسپی نہیں رکھتیں۔ ضروری ہے کہ خواتین خود کو ان اخبارات و رسائل کے مطالعہ سے جوڑیں۔ اور ان کا مطالعہ روز مرہ کے معمولات میں شامل کریں۔ اگر ایک روز کا اخبار آپ کی نظر سے نہ گزرے تو اس میں دی گئی خبروں اور معلومات کی بھر پائی کسی بھی اور ذریعہ سے ممکن نہیں۔ اور یہ مسلسل اور تھوڑی دیر کا مطالعہ آپ کی عام معلومات میں اضافہ کا بہترین ذریعہ بھی ہوگا اور حالات و واقعات سے واقف کراکر آپ کے ذہن و فکر کو سوچ اور عمل کی نئی جہتیں بھی عطا کرے گا۔
(۲) الیکٹرانک میڈیا
موجودہ دور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے اور مختلف قسم کے ٹی وی چینلوں اور نشریاتی اداروں نے لوگوں کے ذہن و فکر پر مضبوط گرفت بنالی ہے اور سوچ میں تبدیلی اور معاشرتی و سماجی زندگی کے تانے بانے بدل ڈالے ہیں۔ لوگوں کے طرز زندگی، ان کی ضروریات، افکار وخیالات اور مذہبی رجحانات تک پر اس نے اثر ڈالا ہے جو بڑی حد تک منفی ہے۔
باشعور دختر اسلامی اور مسلم عورت بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ مغربی دنیا ایک ثقافتی اور فکری جنگ ہم سے ہمارے گھروں میں بیٹھ کر لڑ رہی ہے اور ہمارے پاس اس کے دفاع کی کارگر صورت نہیں۔
مگر اس کا ایک مثبت پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ الیکٹرانک میڈیا ہمیں تازہ ترین صورتحال سے واقفیت اور نئی نئی معلومات بھی بہم پہنچاتا ہے۔ ٹی وی اور ریڈیائی نشریات اب گھر گھر پہنچ گئی ہیں۔ کیبل نیٹ ورک نے اسے اور زیادہ آسان اور سستا بنادیا ہے۔ چنانچہ ہماری بہنیں اس ذریعہ معلومات پر دو انداز سے توجہ دے سکتی ہیں:
(الف): اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے اس ذریعہ کو معلومات اور اطلاعات کا ذریعہ بناسکتی ہیں۔ایسی نشریات سن کر اور دیکھ کر جو معلوماتی خبریں دیتی ہوں اپنے اور اپنے اہلِ خانہ میں خاص طور پر چھوٹے بچے شامل ہیں۔ اپنے لیے معلومات کا خزانہ سمیٹ سکتی ہیں۔ یہاں ایسے چینلز بھی ہیں جو دن رات ناچ گانے، میوزک اور مغربی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔کچھ ایسے بھی ہیں جو صرف اور صرف اچھوتی، نادر اور اہم تحقیقی و علمی خبروں اور معلومات کے لیے مشہور ہیں ان میں سرِ فہرست ڈسکوری اور نیشنل جغرافک کا نام لیا جاسکتا ہے۔ ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو معلومات کے ساتھ ساتھ تفریح کے نام پر اخلاقیات کے خلاف چیزیں نشر کرتے ہیں۔
(ب): یہ ذریعہ معلومات اخلاقی قید و بند سے نہ صرف آزاد ہے بلکہ ان اقدار کے تہ و بالا کردینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایسے میں ہماری خواتین کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان آلات کے استعمال کے ساتھ ساتھ ان مضر پروگراموں سے خود بھی بچیں اور اپنے اہلِ خانہ اور بچوں کو اس قسم کے پروگراموں اور ان کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کریں یہ تربیتی پہلو ہے۔ کیونکہ اللہ کے رسول نے فرمایا تھا: خذما صفا و دع ما کدر۔ (جو صاف ستھرا ہے، اسے لے لواور جو گدلا ہے اسے چھوڑدو۔)
(۳) ایربکس اور دستاویزات
عام معلومات اور جنرل نالج کے حصول کا ایک اہم ذریعہ مختلف اداروں کی جانب سے شائع ہونے والی ائیربکس بھی ہیں۔ یہ ائیر بکس تازہ ترین معلومات کا ایک انسائیکلوپیڈیا جیسی ہوتی ہیں۔ ان میں پورے سال کے دنیا کے اہم واقعات و حادثات، تبدیلیاں، مختلف میدانوں کی تازہ تحقیقات و ایجادات کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ممالک کی سیاسی، سماجی، معاشرتی، اقتصادی اور جغرافیائی معلومات ہوتی ہیں اور نہایت معتبر و تازہ ترین اعداد و شمار بھی ہوتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا مرجع (رسورس) ہوتی ہیں،جنھیں مفید معلومات کے لیے دیکھا جاتا ہے۔
اسی طرح سال بھر مختلف ملکی و عالمی اداروں کی جانب سے مختلف موضوعات اور جہتوں میں جاری تحقیق پر رپورٹیں شائع ہوتی رہتی ہیں مثلاً اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس رپورٹ، یونیسکو کی چائلڈ لیبر رپورٹ وغیرہ وغیرہ۔
اس کی ایک اہم مثال وہ رپورٹ ہے جس کا اس وقت نہ صرف ملک میں بلکہ دنیا بھر بڑا چرچا ہے وہ ’’سچر کمیٹی کی رپورٹ‘‘ جو وزیر اعظم نے مسلمانوں کے حالات سے متعلق طلب کی تھی۔ یہ رپورٹ مسلمانوں کی ہندوستان میں صورتِ حال پر ایک اہم دستاویز ہے اور طویل بحث و تحقیق کے بعد منظرِ عام پر آئی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی مختلف الجہات پسماندگی پر اس میںبڑی معلومات ہیں۔
اس طرح کی رپورٹیں اپنے موضوع پر اچھی اور خصوصی معلومات فراہم کرتی ہیں جو جنرل نالج میں اضافہ کا ذریعہ ہیں۔
(۴) جرنلس
بحث و تحقیق کے میدان میں جرنلس کی بڑی اہمیت ہے۔ مگر ان سے استفادہ عام آدمی کے لیے دشوار ہوتا ہے کیونکہ یہ کسی خاص مضمون پر ہی اہم اور تحقیقاتی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ البتہ، وہ خواتین جو مختلف میدان ہائے علم سے وابستہ ہیں اپنے میدان کے جرنلس سے فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔ اگر آپ کو دلچسپی ہے تو اپنی دلچسپی کے مضامین کے جرنلس بھی آپ کی معلومات میں اضافہ کا ذریعہ ہوں گے۔ مثلاً جرنل آف سوشل سائنس، جرنل آف ہسٹری، جرنل آف ایجوکیشن وغیرہ کی طرح مختلف میدان کے جرنلس شائع ہوتے ہیں۔ آپ اگر دلچسپی رکھتی ہیں تو جرنلس بھی آپ کی معلومات عامہ میں اضافہ کا ذریعہ ہوسکتے ہیں۔
(۵) انٹرنیٹ
انٹرنیٹ موجودہ دور کا معلومات کے حصول کا تیز رفتار اور آسان ذریعہ ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو کمپیوٹر سے واقفیت رکھتے ہیں۔ اس کی معلومات کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ آپ ایک لفظ مثلاً ’’ٹررزم‘‘ ٹائپ کریں تو لاکھوں فائلیں موجود ہوں گی۔ اسی طرح اپنے مطلوبہ معلومات کا کوئی لفظ ٹائپ کرکے آپ اس کے ذریعہ وسیع معلومات حاصل کرسکتی ہیں۔
انٹرنیٹ جہاں معلومات اور انفارمیشن کا خزانہ ہے وہیں فحاشی، بے حیائی اور بداخلاقی کا مرکز بھی بنتا جارہا ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک طرف حسین باغ ہو اور دوسری طرف غلاظت و گندگی کا ڈھیر۔ آپ اگر خوبصورت باغ میں چہل قدمی کرنا چاہیں تو اللہ کی بے شمار نشانیاں آپ کو ملیں گی۔ اور گندگی اور بدبوسے اپنی طبیعت کو آلودہ کرنا چاہیں تو اس کا بھی انتظام ہے۔
جنرل نالج اور معلومات عامہ میں وسعت آپ کی شخصیت کی علمی گہری اور معلومات کی سطح کو ظاہر کرتے ہیں اور یہی چیزیں ہیں جن پراہلِ علم کے درمیان آپ کی شخصیت کو جانچا جاتا ہے۔ معلومات عامہ کے جو ذرائع یہاں بیان ہوئے ان کی نوعیت یہ ہے کہ وہ آسان ترین ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اندر جاننے کی لگن اور تڑپ ہو تو قدم قدم پر وہ معلومات کے خزانے سمیٹتا جاتا ہے۔
بس آپ اپنے اندر معلومات حاصل کرنے کی حرص اور علم کے حصول کا شوق پیدا کریں خواہ وہ کہیں سے بھی حاصل ہوسکتا ہو۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply