خود اعتمادی

گاؤں میں ایک شخص کا کسی سے جھگڑا ہوگیا۔ بات لمبی نکل گئی اور تھانے تک جاپہنچی۔ کریم کی بیوی نے کہا جاؤ تھانے میں رپورٹ کرکے آؤ۔ وہ گیا اور رپورٹ درج کرنے کے لیے کہا۔ پولیس افسر نے اسے ڈانٹ ڈپٹ کر بھگادیا اور رپورٹ درج نہیں کی۔ کریم کی بیوی کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے برقع پہنا اور تھانے جا دھمکی۔ پہلے پولیس والے نے اس کے شوہر کو ڈرایا دھمکایا تھا اب اس نے پولیس والے کو ڈرایا دھمکایا اور رپورٹ لکھنے پر مجبور کردیا۔
یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ گاؤں کے رہنے والے معمولی تعلیم یافتہ کریم کی ان پڑھ اور ناخواندہ بیوی کی خود اعتمادی اور بہادری کا ایک واقعہ ہے۔ جس نے وہ کام انجام دیا جو ایک مرد انجام نہ دے سکا۔ خواتین جو عام طور پر ہمارے معاشرے کا انتہائی کمزور اور دبا کچلا حصہ نظر آتی ہیں، اس خود اعتمادی سے محروم ہیں۔ اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں۔ مثلاً غیر تعلیم یافتہ ہونا،ماحول اور اسی طرح سے خواتین کے لیے عام زندگی میں کام کے مواقع کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ تعلیم یافتہ اور وہ خواتین جنھیں گھروں سے نکل کر باہر کی دنیا کو بھی دیکھنے کا موقع ملتا ہے وہ زیادہ خود اعتماد ہوجاتی ہیں۔ اور عام زندگی میں روز مرہ کے معمولات کو بہتر انداز میں انجام دینے کے قابل ہوجاتی ہیں۔
ہماری خواتین میں پھیلی عدم خود اعتمادی کے اسباب پر اگر غور کیا جائے تو وہ دو طرح کے ہیں۔ اول وہ جنکا تعلق ماحول اور معاشرہ سے ہے اور دوم وہ جو فرد کی اپنی شخصی کمزوریاں ہیں۔
موجودہ معاشرہ عجیب و غریب قسم کے عدم توازن کا شکار ہے۔ ایک طرف تو وہ خواتین ہیں جو سماجی و اخلاقی پابندی سے آزادی ہوکر بلبلوں کی طرح ہر جگہ چہچہاتی پھرتی اور اپنے مشن کی نمائش کرتی پھرتی ہے۔ دوسری طرف وہ عورت ہے جسے سماجی روایات، معاشرتی بندھنوں اور مذہبی پابندیوں کے نام پر انتہائی محدود اور پابندیوں کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا ہے اور یہ صورت حال ملک میں بسنے والی زیادہ تر عورتوں کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ اس میں علاقہ اور مذہب کی کوئی قید نہیں۔
جہاں تک شخصی کمزوریوں کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں ہر لڑکی اور عورت زیادہ بہتر جان سکتی ہے کہ اس کی شخصی کمزوریاں کیا ہیں۔ اگر ان کمزوریوں کو دور کردیا جائے تو خود اعتمادی پیدا ہوسکتی ہے:
٭ اس میں کسی بھی قسم کی جسمانی معذوری خاص طور پر قابلِ ذکر ہے جو لڑکیوں کی ابتدائے عمر ہی سے خود اعتمادی چھین لیتی ہے اور جو معذور لڑکیاں اپنی خود اعتمادی کی طاقت کو بچانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں وہ معذوری کے باوجود بڑے بڑے کارنامے انجام دیتی ہیں۔
٭ احساس کمتری اور مرعوبیت خواتین کی عام کمزوری ہیں۔ جو ابتدائی عمر میں جو صلاحیتوں کے پروان چڑھانے کی عمر ہوتی ہے، دبوچ لیتی ہیں، اور پوری زندگی کی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔ احساس کمتری کا مطلب ہے دوسری خواتین کے مقابلہ اپنے آپ کو کم تر تصور کرنا۔ لڑکیاں حسن سے مرعوب ہوجاتی ہیں اور یہ تصور کرنے لگتی ہیں کہ اس کے مقابلہ میں وہ کم حسین ہیں اس لیے بے بکار ہیں اور محض ایک معمولی سی چیز حسن جو مٹ جانے والا ہے وہ خود کو احساس کمتری میں مبتلا کرلیتی ہیں۔ خوبصورت اور قیمتی لباسوں کو دیکھ کر بھی بعض خواتین دوسری خواتین سے مرعوب ہوجاتی ہیں اور ان کے مقابلہ خود کو کمتر تصور کرنے لگتی ہیں۔ حالانکہ دولت آتی جاتی چھاؤں ہے۔ اور عورت اس کے خوبصورت لباس سے نہیں بلکہ بلند اخلاق و کردار سے جانی اور پرکھی جاتی ہے۔
٭ بعض خواتین ہمیشہ خوف اور تردد کا شکار رہتی ہیں۔ ایسا کریں یا نہ کریں۔ فلاں کام کردیا تو ایسا ہوجائے گا ویسا ہوجائے گا۔ یہ وہم عورتوں کی خود اعتمادی کو چھین لیتا ہے۔ اس میں سماجی توہمات اور روایات پرستی کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے۔ یہ خوف و اندیشہ اور تردد کی کیفیت خود اعتمادی کو ختم کردیتی ہے۔ اس لیے مضبوط قوت فیصلہ پیدا کرنی چاہیے اور وہموں اور اندیشوں سے خود کو دور رکھنا چاہیے۔
٭ مایوسی اور شرمندگی خود اعتمادی کو قتل کردینے والی کمزوریاں ہیں۔ غلطیوں اور کمز وریوں پر مایوس نہیں ہونا چاہیے کہ اب ہم کبھی صحیح کام کر ہی نہیں سکتے بلکہ ہمیشہ پر امید رہنا چاہیے اسی طرح شرمندگی کا احساس اچھی بات ہوسکتی ہے مگر اسے ہمیشہ کے لیے اپنے اوپر طاری کرلینا آپ کی شخصیت کو تباہ کرسکتا ہے بس یہ تصور کیجیے کہ غلطی ہر انسان سے ہوسکتی ہے اور غلطی کے بعد ہی انسان صحیح کام کرنے کے قابل ہوتا ہے اور ہمیشہ بہتر کی طرف چلنے کی کوشش کیجیے۔
عورت مربی اور نئی نسل کی معمار ہے، احساس کمتری کا شکار، مرعوبیت سے دوچار، مایوسی کے جذبات اور شک و تردد سے بھری اور علم سے خالی عورت کبھی بھی خود اعتماد، بلند حوصلہ اور تعلیم یافتہ اولاد نہیں بناسکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہماری خواتین کے اندر اعتماد حوصلہ اور اعلیٰ سوچ جیسی خوبیاں پیدا ہوں۔ واضح رہے کہ اپنے کچن میں کھانے پکانے سے لے کر اولاد کے اندر عزائم اور حوصلوں کی روح پھونکنے تک ہر مرحلہ میں آپ کے اندر خود اعتمادی کی ـضرورت ہے۔ اس لیے اپنی شخصیت کو اتنا مضبوط اور مستحکم بنائیے کہ حالات اور مصائب کی آندھی بھی اسے ہلا نہ سکے اور بڑی سے بڑی ناکامی بھی آپ کے اعتماد کو دھکا نہ دے پائے۔
اپنی صلاحیتوں کو پہچانئے:
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ایک اندھا شخص امریکہ میں بیس سال تک ڈرائیونگ کرتا رہا اور اس دوران کبھی ایکسیڈینٹ نہیں ہوا۔ ٹریفک پولیس کو یہ راز اس وقت معلوم ہوا جب ایک شخص نے پیچھے سے اس کی کار کو ٹکر مار دی۔
دراصل اس کی بینائی چھین کر اللہ تعالیٰ نے اسے زبردست شعور و احساس کی طاقت سے نواز دیا۔ وہ دور سے آنے والی گاڑی اور راستہ کی چیزوں کو محسوس کرلیتا اور اپنی رفتار کو کم زیادہ اور گاڑی کو دائیں بائیں کرلیتا تھا۔
ہر انسان کے اندر بے شمار خوبیاں ہیں اور ان میں کچھ انتہائی نمایاں ہوتی ہیں۔ ان نمایاں خوبیوں کو پروان چڑھانا اور ترقی دینا ہی انسان کو خود اعتماد بناتا ہے۔ یاد رکھئے ایک شخص قلم کار، آرٹسٹ، خطیب ڈیزائنر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے لوگوں سے مرعوب ہوکے بغیر اپنی خوبیوں کو پہچانئے اور انہیں ترقی دیجیے۔
علم کی روشنی سے زندگی منور کیجیے:
علم کے بغیر خود کو کیا ہم خدا کو بھی نہیں پہچان سکتے۔ علم انسانی فکر کو زندگی عطا کرتا ہے۔ جاہل کبھی زندگی کو خود اعتمادی سے ہمکنار نہیں کرسکتا۔ یاد رہے علم صرف کتابوں سے حاصل نہیںہوتا۔ تجربات، مشاہدات اہل علم کی صحبت، بزرگوں سے گفتگو اور کامیاب لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ ہمیں عزم و حوصلہ اور خو داعتمادی کے جو ہر سے ہم کنار کرسکتا ہے۔ علم لا محدود ہے۔ دنیا بھر کاعلم اور سیکڑوں ہزاروں لائبریریوں کو چاٹ جانا بھی علم کے سمندر سے سوئی ڈبو کر پانی لینے کے مانند ہے۔
بس ہماری خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے اوقات کو منظم کریں اور اپنی زندگیوں کو علم سے جوڑیں اچھی کتابوں اور دینی لٹریچر کے مطالعہ کو معمول بنائیں۔ آپ دیکھیں گی کہ آپ کے ذہن و فکر کو غذا مل رہی ہے اور آپ کے اندر زبردست قوت اعتماد بیدار ہورہی ہے۔
ذمہ داریوں کا احساس پیدا کیجیے:
بے حس، بے شعور اور اپنے ارد گرد کے ماحول سے ناآشنا لوگ کبھی خود اعتمادی کی دولت سے ہم کنار نہیں ہوسکتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنے اندر حالات کا علم اور شعور پیدا کرکے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے خود کو فعال، متحرک بنائیں۔ سماجی، معاشرتی اور دینی ذمہ داریوں کا احساس و شعور آپ کے اعتماد میں اضافہ کرے گا اور ان کو ادا کرنے کی کوشش اس طاقت کو پروان چڑھائے گی۔
دھوپ چھاؤں پہ بھی ڈالئے نگاہ:
آپ کے ارد گرد کیا ہورہاہے، زندگی کس ڈگر پر جارہی ہے، سماج اور ملک و ملت کے مسائل کیا ہیں، ہماری خواتین کی صورت حال کیا ہے اور وہ کس قسم کے مسائل سے دوچار ہیں؛ یہ وہ سوالات ہیں جن پر بہ حیثیت عورت غور کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔
اور یہ ذمہ داری محض سوچنے اور غوروفکر کرنے سے ادا نہیں ہوسکتی اس کے لیے آپ کو ماحول کو بدلنے کی جدوجہد اور خود کو اس کے لیے فعال کرنا ہوگا۔ اس ذمہ داری کا احساس اور ماحول و معاشرہ کو بدلنے کی جدوجہد کا عزم و حوصلہ آپ کے اندر زبردست خود اعتمادی کی طاقت کو بیدار کرے گا۔ اس لیے اس اہم کام سے بھی غفلت کو ختم کیجیے۔

شیئر کیجیے
Default image
اسماء فردوس، اورنگ آباد

Leave a Reply