BOOST

وقت کی تنظیم

وقت کی تنظیم، کم وقت میں زیادہ اور اہم کاموں کی انجام دہی، مناسب آرام اور کاموں کو انجام دینے کے سلسلہ میں وقت کی تعین خواتین کے لیے بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی مردوں کے لیے۔ اس ضرورت کا احسا س جہاں کامیاب زندگی کے لیے ضروری ہے وہیں آخرت کی کامیابی کے لیے بھی لازمی ہے۔ قیامت کے دن ہر مرد اور عورت کو یکساں طور پر اپنے وقت کا حساب دینا ہوگا اور کسی بھی بندۂ مومن کے قدم اللہ کے حضور سے ہل نہ سکیں گے جب تک وہ جواب نہ دے لے کہ ’’عمر کس چیز میں گزاری، جوانی کس کام میں صرف کی، مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور جو علم حاصل ہوا اس پر کتنا عمل کیا؟‘‘
ہماری نمازوں کے اوقات کا تعین اس بات کی طرف واضح رہنمائی کرتا ہے کہ بندئہ مومن (خواہ مرد ہو یا عورت) ایک خاص اور منظم و منضبط انداز میں اپنا وقت صرف کرے۔ ہماری تاریخ میں ایسی خواتین بھی ملتی ہیں جو اپنی گھریلو ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مختلف النوع سماجی، سیاسی، اقتصادی اور علمی سرگرمیوں میں بھی اعلیٰ مقام پر تھیں۔ ایسی عالم و فاضل خواتین بھی ملتی ہیں جن سے بڑے بڑے مرد علماء نے درس لیا اور وہ باقاعدہ درس و تدریس اور قرآن و حدیث و فقہ اور سیرت، طب و سائنس جیسے میدانوں میں ماہر تھیں اور ساتھ ہی اچھی ماں، دلنواز بیوی، بہترین خانہ دار خاتون اور اولاد کی مربی بھی تھیں۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کی عظمت و بلندی اور اس تاریخی شہرت و ناموری کے پیچھے کلیدی رول اس بات کا تھا کہ انھوں نے وقت پر اپنی گرفت مضبوط کرلی تھی اور زندگی کے ایک ایک لمحے کو انھوں نے خوب اچھی طرح نچوڑ لینے کا فن سیکھ لیا تھا۔
وقت کی تنظیم کیا ہے؟
وقت کی تنظیم یا ٹائم مینجمنٹ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس بات کا جائزہ لے کہ اس کا وقت کس طرح ضائع ہوتا ہے اور وہ اپنے کاموں کو کس طرح بہتر انداز میں اور مناسب وقت پر انجام دے سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنی ترجیحات متعین کریں اور کاموں کی انجام دہی میں اس بات کا خیال رکھیں کہ وقت برباد نہ ہو اور جو بھی وقت ملے اس کا استعمال مفید اور کارآمد سرگرمیوں میں لگائیں۔
ہماری کتنی ہی بہنیں ہیں جو سہیلیوں اور پڑوس کی خواتین کے ساتھ بے کار کی گفتگو میں گھنٹوں ضائع کردیتی ہیں۔ گفتگو وہ بھی فضول اور اکثر ایسی جس میں ایک دوسرے کی برائی، تنقید اور شرعی اصطلاح میں غیبت ہوتی ہے مگر جب ان سے ہفتہ کے اجتماع میں شرکت کو کہا جاتا ہے تو وہ ’’وقت ہی نہیں ملتا‘‘ کا رونا روتی ہیں۔ وقت کیوں ضائع اور کیسے ضائع ہوتا ہے؟
وقت اس لیے ضائع ہوتا ہے کہ:
(۱) زندگی کا نصب العین اور مقاصد طے نہیں ہوتے۔
(۲) کام کا طریقہ اور راہیں متعین نہیں ہوتیں۔
(۳) مقصد کے لیے عزم و ارادہ کی کمی ہوتی ہے۔
(۴) وقت کی منصوبہ بندی نہیں ہوتی۔
(۵) وقت کی قدر وقیمت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
اگر ایسا ہوگا تو لازماً انسان کاموں کی انجام دہی اور وقت بچانے کے سلسلہ میں سنجیدہ نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر نہیں ’’وقت کاٹنے‘‘ کے انداز میں صبح سے شام کردیتی ہیں اور اپنی تعلیم و تربیت، علمی و شخصی ارتقا کی منصوبہ بندی، دینی وتحریکی سرگرمی، ضروری دینی مطالعہ یہاں تک کہ بچوں کی تربیت و تعلیم تک پر خاطر خواہ وقت نہیں دیتیں۔اور ان کا پورا دن بے شعوری اور تعمیری مقاصد سے غفلت ہی میں گذر جاتا ہے۔ ان مصروفیات کی انجام دہی میں وہ بہنیں’’تھکن‘‘ کا احساس کرتی اور جلد سوجانے کی خواہش کرتی ہیں حالانکہ رات دیر گئے تک وہ اس تھک کے باوجود ٹی وی پروگرام دیکھنے سے نہیں اکتاتیں۔
زندگی کا عظیم مقصد
مضمون نگار نے ایک مرتبہ دلی سے حیدرآباد کا سفر کے دوران ایک غیر مسلم خاتون کو دیکھا جس نے پورے سفر کے دوران اپنے وقت کے چند منٹ بھی ضائع نہیں کیے۔ اس خاتون کے پاس پوسٹ کارڈ کا ایک موٹا سا بنڈل تھا اور پتوں کی ایک فہرست تھی۔ اسی کے ساتھ ایک اسٹیکر کی شیٹ بھی تھی جس پر باریک سا ’جئے شری رام‘ ہندی میں لال رنگ سے لکھا تھا۔ عورت فہرست سے پتہ دیکھتی پوسٹ پر لکھتی، پھر پوسٹ کارڈ کی پیشانی اسٹیکر چپکاتی جس طرح ہم بسم اللہ لکھتے ہیں۔ پھر اس پر خط کا جو بھی مضمون لکھنا ہوتا وہ لکھتی رہی یہاں تک کہ اس کے پاس ایک بڑا بنڈل تیار ہوگیا۔ ا سکے بعد ناگپور شہر کے پلیٹ فارم پر اتر کر اس نے وہ خطوط لیٹر بکس میں ڈال دیے۔ مضمون نگار کے اندازہ کے مطابق اس کی عمر چالیس کے قریب تھی اور وہ کسی ہندو تنظیم کی فعال کارکن معلوم ہوتی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی عظیم مقاصد کی تکمیل کے لیے دی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ : ’’ہم نے انسان اور جنات کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ ہماری عبادت کریں۔‘‘ اور عبادت یہہے کہ ہمارا ہر عمل صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے اور اس طریقے کے مطابق ہوجائے— اس کے بعد یہی عبادت ان لوگوں سے بھی مطلوب ہے جو اس کا شعور نہیں رکھتے۔ اس شعور کو لوگوں کے اندر پیدا کرنا بھی ہماری عبادت کا حصہ ہے۔ چنانچہ پوری دنیا پر اللہ کی حکمرانی اور تمام انسانوں کو اللہ کا بندہ بنانا ہماری زندگی کا وہ نصب العین ہے جس کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا ہے اور جو ہمارا فرض منصبی ہے۔
اگر ہماری خواتین اس بات کو سمجھ لیں تو ان کا اندازِ فکر و عمل تبدیل ہوجائے گا اور ان کے سامنے اس مختصر سے زندگی کے لیے اتنے بڑے بڑے اور اہم کام نکل آئیں کہ وقت برباد کرناتو دور کی بات ہے ایک ایک لمحے کو نچوڑ لینے کا جذبہ اور امنگ ہمارے اندر پیدا ہوجائے گی۔
کسی بھی مسلم خاتون کی شخصیت اس وقت تک اعلیٰ مقام تک نہیں پہنچ سکتی جب تک وہ اپنے وقت اور اس کے مناسب ترین استعمال پر توجہ نہ دے۔ مسلم عورت خواہ وہ خاتون خانہ ہو یا بیرونی خانہ کی سرگرمیوں سے دلچسپی رکھتی ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ تنظیم وقت کی طرف بھر پور توجہ دے اور اس کا بہترین استعمال کرنے پر قادر ہو۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ کس طرح ممکن ہے۔
دن بھر کی منصوبہ بندی (شیڈولنگ) کریں:
آپ کو دن بھر کا وقت صبح فجر کی نماز سے لے کر رات کو عشاء کے بعد سونے تک کے وقت کا منصوبہ بنانا چاہیے۔ اور اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ کاموں کو ان کے وقت کے اندر ہی نمٹا لینا ہے۔ درمیان میں تروتازہ ہونے اور آرام کرنے کے لیے بھی وقت مقرر کیجیے۔ جیسے:
(۱) صبح فجر کی نماز کے لیے اٹھنا اور چند منٹ تلاوت قرآن اور ورزش وغیرہ۔
(۲) ناشتہ کی تیاری اور بچوں کے لیے اسکول کے لیے تیار کرنا۔
(۳) بچوں اور گھر والوں کے چلے جانے کے بعد گھر کی صفائی ستھرائی اور کپڑے وغیرہ دھونا۔
(۴) دینی اور ضروری مطالعہ جس میں اخبارات و رسائل بھی شامل ہوں۔
(۵) دوپہر کے کھانے کی تیاری اور ظہر کی نماز۔
(۶) آرام کرنا۔
(۷) ضروری کام سے اگر باہر جانا ہو تو نکلنا۔
(۸) بچوں کا ہوم ورک کرانا اور ان کی تعلیمی رہنمائی۔
(۹) تحریکی و دعوتی کاموں کے لیے نکلنا۔
(۱۰) رات کے کھانے کی تیاری۔
(۱۱) باہمی گفتگو اور گھریلو موضوعات پر تبادلۂ خیال۔
(۱۲) سونے سے پہلے بچوں کو اچھی اخلاقی کہانیاں سنانا۔
ان ضرورتوں یا حسب حال اپنی ضرورتوں کی منصوبہ بندی کرتے وقت بہتر ہے کہ کاموں کا وقت بھی متعین کرلیا جائے۔ مطالعہ اور دعوتی، تحریکی اور سماجی سرگرمیوں کے لیے ایسا وقت متعین کیا جائے جب نسبتاً زیادہ یکسوئی میسر ہو اور بچے وغیرہ گھر پر نہ ہوں۔ کاموں کی انجام دہی کے سلسلے میں ایسا کرنا بھی مناسب ہے کہ اپنے طور پر یہ متعین کرلیں کہ ناشتہ آدھے گھنٹے میں تیار کرلینا ہے اور کپڑے دھونے اور صفائی وغیرہ میں زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ صرف کرنا ہے۔ اور پھر اس بات کی کوشش ہوکہ کاموں کو ان کے مقررہ وقت کے اندر ہی کرنے کی کوشش کی جائے۔ شروع میں یہ چیز مشکل ہوگی مگر مستقل مزاجی اور پابندی اس چیز کو بعد میں آسان بنادیںگے۔
ہماری وہ بہنیں جو ابھی طالب علمی کے مرحلے میں ہیں وقت کی قدر وقیمت کا احساس کم ہی کرپاتی ہیں، حالانکہ زندگی کا یہی دوران ان کے مستقبل کو بنانے والا ہے۔ لہٰذا ان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی پڑھائی اور گھر کے کاموں کی انجام دہی کے لیے ایک ٹائم ٹیبل بنائیں تاکہ وقت کا بھر پور استعمال کرسکیں۔ اس کے علاوہ درج ذیل چیزوں کا خیال رکھنا مفید ہوگا۔
روز کا کام روز!
اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ خواہ مرد ہو یا خواتین کاموں کو آخری وقت تک ٹالتے رہتے ہیں۔ یہ رویہ ان کے لیے اچانک کاموں کا بوجھ بڑھا دیتا ہے۔ یہ ہر اعتبار سے نقصان دہ ہے۔ معاملہ چاہے پڑھنے لکھنے والی طالبات کا ہو یا گھریلو خواتین کا روز کا کام روز نمٹانے کی عادت ڈالیے۔ گھر کے کپڑے دھونے کی ہی مثال لے لیجیے۔ اگر روز کے کپڑے روزانہ دھوئے جائیں تو ایک گٹھر تیار ہوجائے گا جس کو دھونے میں وقت بھی زیادہ لگے گا اور تھکن کا بھی احساس زیادہ ہوگا۔ بے دلی بھی محسوس ہوگی اور ممکن ہے کہ یہ چیز صحت کے لیے بھی نقصان دہ بن جائے۔
ترجیحات کا تعین کیجیے
٭ کاموں کی انجام دہی کے سلسلہ میں وقت کا خیال رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کاموں کی درجہ بندی کریں اور اہمیت کے اعتبار سے انہیں آگے پیچھے کرلیا کریں۔ جو کام زیادہ اہم ہیں، انہیں پہلی ترجیح میں رکھیں اور پھر جو کم اہم ہیں، انہیں بعد میں انجام دیں۔ ممکن ہے اس طریقے سے آپ کو کچھ کم اہم کام ٹالنے پڑجائیں تو انہیں آگے کے لیے موخر کردیں مگر زیادہ تاخیر بہ ہرحال بوجھ بڑھانے والی ہے۔
٭ ایک کام کے درمیان دوسرا کام کریں۔ مثلاً اگر آپ کھانا پکار رہی ہیں اورچولہے پر چڑھا دینے کے بعد چند منٹ کا وقفہ ہے تو اس دوران کوئی مناسب کام کرتی رہیں۔ مثلاً: گوشت چولہے پر بھن رہا ہے تو آپ چاول یا دال بین کر صاف کرسکتی ہیں۔ سبزی کاٹ اور دھو سکتی ہیں۔ اس طرح کچن میں آپ کا خالی وقت بھی کارآمد ہوجائے گا۔
٭ وقت بچائیں۔ اس طرح کے کاموں میں دوسروں کو شریک کریں۔ چھوٹے بچوں کو اپنے کپڑے دھونے کے لیے کہیں یا ساتھ میں ان کی مدد لیں۔ اس سے ان کی ترتیب بھی ہوگی اور خود اعتمادی بھی۔ بچوں اور گھر کے دیگر افراد سے چیزوں کو ترتیب اور نظم سے رکھنے کی تاکید کریں تاکہ دن میں کئی بار چیزوں کو درست کرنے میں وقت نہ لگانا پڑے۔ اسی طرح اگر گھر میں خادمہ ہے تو سارا کام جو اس سے کرانا ہے اسے اچھی طرح سمجھا کر مطمئن ہولیں اور خود اس دوران مطالعہ یا کوئی اور مناسب کام انجام دیں۔
٭ روز کے کاموں کی فہرست رات میں تیار کرلیں کہ کل کیا کیا کرنا ہے۔ فہرست کے مطابق یا تو کام خو دانجام دیں یا دوسروں کے سپرد کردیں اور جو کام انجام دیے جائیں انہیں نشان زد کردیں۔ بعض کاموں کو ایڈوانس کرکے چلیں مثلاً بچوں کی ڈریس، جوتوں پر پالش اور صبح کے ناشتے کی تیاری رات ہی میں کرلیں کہ بس صبح اٹھ کر صرف ناشتہ بنانا ہی رہ جائے اور بچوں کو صرف کپڑے پہنانے ہی کا کام رہ جائے۔
٭ملنے جلنے والی پڑوس کی خواتین جن کو کوئی خاص کام نہیں ہوتا، ان کاکام یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کا وقت برباد کرتی ہیں۔ ایسی خواتین سے اپنے وقت کو بچانے کے لیے اسٹریٹجی بنالیں۔ مثلاً اگر وہ مطالعے کے وقت میں آتی ہیں تو ان سے کہیں کہ میں یہ کتاب پڑھ رہی تھی اس میں یہ بات بہت اچھی ہے اور انہیں اپنے مطالعہ میں شریک کریں۔ اگر کوئی اور کام کررہی ہوں تو اپنا کام جاری رکھیں اور ان سے باتیں بھی کرتی رہیں۔ اور اگر واقعی کاموں میں خلل واقع ہوتا ہو تو احسن طریقے سے معذرت کرلیں۔
خود احتسابی
اللہ کے رسول ﷺ نے وقت کے مناسب ترین استعمال کا درس اپنی امت کے افراد کو دیا ہے۔ اور کہیں آپ نے یہ کہا ہے کہ ’’مومن کا آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے بہتر ہوتا ہے۔‘‘ اور کہیں تنبیہ کی ہے کہ ’’وہ شخص ہلاک ہوگیا جس نے اپنے آنے والے کل کو گزشتہ کل کے مقابلہ میں بہتر نہ بنایا۔‘‘
یہ دونوں باتیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہم اپنے وقت کا احتساب اور جائزہ لیتے رہیں اور اس بات پر نظر رکھیں کہ ہمارا صبح سے شام تک کا وقت کس طرح گزرا اور ہم نے اس مدت میں اپنے لیے کیا خیر سمیٹا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’ہر انسان کو چاہیے کہ وہ یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا کچھ آگے بھیجا ہے۔‘‘ احتساب و جائزہ میں یہ پہلو بھی ہونا چاہیے کہ ہماری عملی زندگی ہمارے عزائم، حوصلوں، امنگوں اور ہمارے بنیادی نصب العین سے کتنی ہم آہنگ ہے اور مقصد کے حصول کی تگ و دو میںکس حدتک لگی ہے۔ اگر اس بات پر نظر نہ رکھی گئی تو سرمایۂ حیات برف کی مانند گھل کر ختم ہوجائے گا اور ہم خالی ہاتھ پچھتاتے رہ جائیں گے۔ کیونکہ وقت ایک دودھاری تلوار ہے اور وقت برباد کرنے والے اس کا شکار ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ممتاز تنویر

تبصرہ کیجیے