گھر کی مالیات

ایک خاتون ہے جس کے چار پانچ بچے ہیں۔ شوہر کی تنخواہ چار پانچ ہزار روپے ماہوار سے زیادہ نہیں۔ اس کے باوجودہ وہ قریبی رشتہ داروں کو کچھ نہ کچھ دے کر مدد بھی کرتی رہتی ہے اور گھر کا معیار بھی بہتر بنا رکھا ہے۔ اور حیرت ہے کہ اس معمولی سی تنخواہ سے بھی وہ کچھ نہ کچھ رقم بچانے میں کامیاب رہتی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کے پاس وقت بے وقت اور اچانک پیش آنے والے اخراجات کے لیے رقم موجود نہ ہو کہ انہیں کسی سے مانگنے کی ضرورت پڑے۔ تمام خاندان والوں اور رشتہ داروں کو حیرت اس وقت ہوئی جب گذشتہ سال دونوں میاں بیوی نے حج کے لیے جانے کا فیصلہ کیا۔ ان کی بھابی نے توآخر پوچھ ہی لیا کہ وہ سفر حج کے اخراجات جمع کرنے پر کیسے قادر ہوئیں۔ انھوں نے بتایا کہ شوہر کی تنخواہ سے محض سو روپے ماہانہ بچا کر ہی ان کے لیے ایسا ممکن ہوگیا۔
پھر ان کی بھابی کہنے لگیں کہ ہمارے شوہر کی تنخواہ دس بارہ ہزار روپے سے کم نہیں مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تمام رقم مہینہ کی بیس یا پچیس تاریخ تک ہی ختم ہوجاتی ہے اور بقیہ وقت قرض لے کی کام چلانا پڑتا ہے۔ اور ان کے لیے کچھ بھی بچالینا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ آئندہ ماہ کی تنخواہ سے گذشتہ مہینے کا قرض بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح وہ ہمیشہ اپنے شوہر کو قرض میں ہی دیکھتی ہیں۔ یہ دونوں چیزیں گھر کی مالیات کے انتظام کے دو نمونے ہیں۔
گھر کے اخراجات اور مالیات کا حسن انتظام عورت کی شخصیت کا اہم ترین گوشہ ہے۔ جو عورتیں مالی انتظام اچھے انداز میں چلاتی ہیں وہ کم آمدنی میں بھی گھر کا بہترین انتظام کرلیتی ہیں۔ انہیں اپنے لڑکے لڑکیوں کی شادیوں، عید، بقرعید کے انتظامات اور اچانک پیش آنے والی ضرورتوں، جیسے دوا علاج وغیرہ کے لیے بھی ہمیشہ فکر و تشویش میں رہنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اس کے برخلاف وہ خواتین جو گھر کے بہتر مالی انتظام پر توجہ نہیں دیتیں یا خود کو اچھا منتظم بنانے کی کوشش نہیں کرتیں وہ ہمیشہ پریشان رہتی ہیں۔ مستقبل کے اخراجات کی فکر انہیں ہمیشہ بے چین رکھتی ہے اور وہ خود بھی قرض کے بوجھ تلے دبی رہتی ہیں۔ اور اکثر انہیں دوسروں سے قرض لینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ خواہ ان کے گھر کی آمدنی دس پندرہ ہزار روپے ہی کیوں نہ ہو۔
کم آمدنی بھی گھر کا اچھا انتظام چلانا اور مستقبل کی ضروریات کے لیے کچھ نہ کچھ بچت کرنا اس بات پر منحصر ہے کہ ایک عورت اپنے گھر کی آمد و خرچ میں توازن کیسے قائم رکھتی ہے اور گھر کی ضروریات کو کس طرح آمدنی کے اندر ہی پورا کرلیتی ہے۔ عورت کیونکہ عملی طور پر گھر کی مالکن ہوتی ہے اس لیے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی آمدنی کے اندر ہی گھر کے جملہ اخراجات خوش اسلوبی سے پورا کرنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرے اور جو خواتین ایسا نہیں کرتیں یا کرپاتیں وہ زیادہ آمدنی کی صورت میں بھی حسنِ انتظام پر قادر نہ ہوسکیں گی۔ذیل میں کچھ ایسی چیزیں درج کی جارہی ہیں جن کا خیال رکھ کر ہماری بہنیں گھر کی مالیات کو زیادہ بہتر اور منظم انداز میں سنبھال کر سلیقہ مندی کا ثبوت دے سکتی ہیں اور اپنی ذات اور شخصیت کو بہت سی ایسی خواتین کے لیے نمونہ بناسکتی ہیں جو زیادہ آمدنی کے باوجود گھر کی مالی ضروریات کو صحیح انداز میں پورا کرنے پر قادر نہیں۔
(۱) آمدوخرچ کا حساب:
گھر کی مالیات کو بہتر انداز سے چلانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک عورت کو مہینہ بھر کے جملہ اخراجات کاقریب قریب اور صحیح اندازہ ہو۔ اور اس کے لیے اہم ترین بات یہ ہے کہ وہ اخراجات کو لکھنے کا انتظام کرے۔ اخراجات کو لکھنا آپ کی مدد کرے گا کہ آپ اپنے اخراجات کو ماہانہ آمدنی کے اندر ہی رکھ سکیں۔ خرچ کو لکھنے کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں فضول خرچی سے بچا جاسکتا ہے۔
(۲) بجٹ بنائیں
بجٹ یا آمد وخرچ کا گوشوارہ بنانا اب عام سے بات ہے۔ تعلیم یافتہ گھر، ادارے، تنظیمیں اور تجارتی مراکز اپنی سالانہ آمد و خرچ کا گوشوارہ بناتے ہیں۔ حکومتیں اپنا سالانہ بجٹ تیار کرتی اور سال بھر اسی بجٹ کے مطابق اخراجات کرتی ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو ملک مالی بحران کا شکار ہوجائے۔ بجٹ اگر نقصان اور خسارہ کا ہوتا ہے تو اس خسارہ کو پورا کرنے کی راستے تلاش کیے جاتے ہیں۔ اس بجٹ میں قدرتی آفات کے لیے بھی ایک حصہ مختص کیا جاتا ہے۔
اسی طرز پر ہماری خواتین اپنے گھر کا بجٹ بناسکتی ہیں اور یقینا انہیں بنانا چاہیے۔ البتہ گھریلو بجٹ کے لیے دو خاص پہلو پیش نظر رہیں۔ ایک پہلو ماہانہ بجٹ کا ہے۔ جس میں پوری مہینے کی آمدنی کو پورے مہینے کے اخراجات پر پھیلا کر منظم کیا جائے۔ اور دوسرا پہلو گھر کے سالانہ بجٹ کا ہے۔ جس میں کل آمدنی کو سال کے بارہ مہینوں پر پھیلایا کر باقاعدہ گوشوارہ بنایا جائے۔ ماہانہ بجٹ میں صرف مہینہ بھر کی عام ضروریات زندگی شامل ہوں گی جبکہ سالانہ بجٹ میں خاص چیزوں مثلاً: بڑے بچے خالد کی داخلہ فیس کی رقم بارہ ہزار روپے، گھر کی صفائی اور مرمت کی رقم، ولادت و عقیقہ کے اخراجات، عید بقرعیر کے خاص خرچے، ضرورت مند رشہ داروں کی مدد یا زکوٰۃ کی ادائیگی وغیرہ شامل ہوسکتے ہیں۔
بچت کرنے کی خواہش، صلاحیت اور آمدنی کی کثرت و قلت کو دیکھتے ہوئے بجٹ کا درج ذیل انداز اختیار کیا جاسکتا ہے۔
ماہانہ بجٹ
آمد
اخراجات
تنخواہ
6800.00
کچن کے اخراجات
3500.00
مکان کاکرایہ
2400.00
بجلی و پانی
400.00
ٹیوشن
800.00
ٹیلی فون
350.00

تینوں بچوں کے تعلیمی اخراجات
1100.00

بچوں کا جیب خرچ
600.00

اخبارات و رسائل
280.00

خادمہ
400.00

دوا علاج
500.00

اعانت و امداد
200.00

بچوں کی ضروریات کی خریداری
300.00

آمد ورفت اور اسکوٹر کا خرچ
550.00

متفرق اخراجات
500.00
میزان
10,000.00
میزان
8,680.00
اس ماہانہ بجٹ میں جس کی آمدنی محض دس ہزار روپے ہے مناسب ترین انداز میں خرچ کرتے ہوئے گھر کی خاتون ایک ہزار تین سو بیس روپے ماہانہ بچانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ جبکہ ماہانہ خرچ میں کسی بھی کمی یا زیادتی کو کنٹرول کرنے کے لیے پانچ سو روپے کی رقم خاص کی ہے۔ عام شہری زندگی کے لیے یہ انداز ماہانہ بجٹ کے لیے مناسب قرار دیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اس میں اس بات کی گنجائش ہے کہ حسبِ حال اس میں کمی یا زیادتی کی جائے۔ اگر گھر کا کوئی فرد مستقل بیمار ہے تو کسی جگہ سے کم کرکے دوا علاج میں دی گئی رقم کو بڑھایا جاسکتا ہے۔
سالانہ بجٹ سال کے بارہ مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کی آمد میں وہ چیزیں بھی شامل ہوتی ہیں جو سال میں کسی بھی وقت آسکتی ہوں یا جن کا ماہانہ پابندی سے آنا ممکن نہ ہو۔ اسی طرح اخراجات میں وہ چیزیں شامل ہوتی ہیں جو عام طور پر ہر ماہ شامل نہیںہوتی۔ اس کی مثال کے لیے درج ذیل گوشوارہ پیش کیا جاتا ہے۔
سالانہ بجٹ
آمد
اخراجات
تنخواہ
81600.00
مالانہ خرچ
104160.00
مکان سے کرایہ
28800.00
آئندہ سال عدی کے داخلہ کاخرچ
20000.00
ٹیوشن سے اوسطاً
10000.00
بچوں کی کتابیں اور تعلیمی ضروریات
3500.00
گاؤںکے مکان کا کرایہ
7200.00
گھر کی مرمت و سفیدی
5200.00
زمین کی فصل سے آمد
3800.00
زکوٰۃ و رمضان کا اضافی خرچ
4500.00

عیدالاضحی
2900.00

سال میں دو بار وطن کا سفر
7300.00

افرادِ خانہ کا لباس و دیگر ضروریات
7500.00

گھریلو سامان کی خریداری
4500.00

طبی اخراجات
5000.00

متفرق خرچ
5000.00
میزان
165000.00
میزان
169560.00
ماہانہ بجٹ میں اگرچہ آپ نے ہر ماہ 1320.00روپے کی بچت کی تھی مگر بڑے بیٹے کی عدی کے داخلہ کے بھاری اخراجات نے آپ کے سالانہ بجٹ کو خسارہ میں کردیا اور سالانہ بجٹ میں 4560.00کی کمی واقع ہوگئی۔ اب کیا کیا جائے۔ تو آپ نے ایک ترکیب یہ اختیار کی کہ گھر کی مرمت اور سفیدی کا کام اگلے سال کے لیے موخر کردیا اور 5200.00روپے کی کٹوتی کرکے بجٹ کو برابر کردیا۔ اب اگر پھر بھی آپ مزید بچت کی خواہش مند ہوں سال کے ان اخراجات میںکہیںکہیں کرکے یا وطن کے سفر کو دو مرتبہ کے بجائے ایک مرتبہ کرکے مزید بچت کرنے کی ٹھان سکتی ہیں۔ اسی ایمرجنسی کی صورت میں شوہر کے سالانہ ملنے والے فنڈ وغیرہ سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ اگر آپ کرایہ کے مکان میں رہ رہی ہوں تو ماہانہ بجٹ میں اسے بھی شامل کیاجائے اور اخراجات کی مدوں میںمناسب پھیربدل کرلیا جائے۔ لیکن اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھا جائے کہ ماہانہ اور سالانہ دونوں گوشواروں میں آمد و خرچ کے درمیان ایسا توازن ہو جب سال بھر آپ کو قرض لینے کی مجبوری پیش نہ آئے۔
بعض ضرورتیں انسان کی اپنی خواہش پر منحصر ہوتی ہیں اور ان کی کوئی حد متعین نہیں کی جاسکتی۔ ایسی ہی ضرورتوں کے سلسلہ میں قناعت اور میانہ روی اختیار کرنی ہوتی ہے۔ کہا گیا ہے کہ ’’خرچ میں میانہ روی معاشی مسئلہ کو ختم یا کم کردیتی ہے۔‘‘ جتنی چادر ہو اتنے ہی پاؤں پھیلانے کی کہاوت عملی زندگی میں بڑی کار آمد ہے۔ اسے ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے۔
قرآن کریم میں اہلِ ایمان کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے:
والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذالک قواماً۔
’’اہل ایمان وہ ہیں کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ وہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان کی
روش اختیار کرتے ہیں۔‘‘
اسی طرح بعض اخراجات ایسے ہوتی ہیں جن پر انسان کا بس نہیں چلتا۔ مثلاً کوئی قدرت آفت آگئی۔ گھر کا کوئی فرد شدید بیمار پڑگیا۔ کوئی حادثہ ہوگیا وغیرہ۔ ایسے میں انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ سے پناہ مانگتے رہیں اور موقع پڑنے پر کسی بھی ان انسانی ضروریات کی تکمیل کریں۔ اور بعد میں اس کی بھر پائی کے لیے اللہ سے مدد بھی چاہیں اور مزید جدوجہد کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں۔ ایسی صورت میں گھر کی تعلیم یافتہ یا صاحب ہنر خاتون اپنے شوہر کی مالی مدد کے لیے مناسب کام بھی تلاش کرسکتی ہیں کیونکہ اسلام نے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے مقابلے میں باعزت زندگی اور حلال رزق کی تعلیم دی ہے۔
خواتین کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اہلِ خانہ کی صحت کی فکر بھی کی جائے۔ صحت کے لیے جہاں دوسری کئی باتیں ہیں وہیں مناسب ترین غذا بھی بڑی اہم چیز ہے۔ بعض گھرانوں میں عورتیں فیشن، لباس اور دکھاوے کی چیزوں پر ز یادہ توجہ دیتی ہیں اور کھانے کے سلسلے میں ’’موٹا جھوٹا‘‘ کھانے کی روش رکھتی ہیں۔ یہ بات مناسب نہیں ہے۔ ظاہری چیزوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر انہیں پہلی ترجیح بنانا بھی مناسب نہیں۔ غذا پر اہل خاندان کی صحت کا انحصار ہے اس لیے اسے نظر انداز نہ کیا جانا چاہیے۔
بہترین غذا کا مطلب ہمیشہ انڈا، مچھلی، گوشت اور دیگر معروف قیمتی چیزیں کھانا ہی ہرگز مقصود نہیں بلکہ ایسی غذا استعمال کرنی چاہیے جس میں انسانی جسم کی جملہ ضروریات پوری ہوجائیں۔ یہ سبزیوں اور معمولی قسم کے پھلوں سے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔
گھر کی مالیات کے انتظام کے لیے ایک عورت کا باشعور اور سلیقہ مند ہونا ہی کافی ہے۔ اوریہ اصول بڑا اہم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو کچھ دے رکھا ہے اس کے بارے میں قیامت کے دن ہم سے ضرور پوچھا جائے گا۔ چنانچہ ایک کامیاب اور معیاری خاتون وہ ہے جو کم آمدنی میں قناعت کے ساتھ اور اللہ سے ڈرتے ہوئے اپنی جملہ ضروریات کی تکمیل کرکے اللہ کا شکر ادا کرے۔ اس طرح شکر کے نتیجہ کی توفیق بھی ملے گی اور رزق میں کشادگی بھی حاصل ہوگی۔

شیئر کیجیے
Default image
مریم جمال

Leave a Reply