شفیق ماں

’’ماں‘‘ دنیاکا حسین ترین اور عظیم ترین لفظ ہے۔ اس کے اندر محبت و شفقت کا بہتا دریا اور عظمت و بلندی کے عظیم پہاڑ ہمیں نظر آتے ہیں۔ لفظ ماں کسی عورت کی شخصیت کی بنیاد بھی ہے اور معراج بھی۔ ماں بنے بغیر ایک عورت کی شخصیت نامکمل ہے اور ماں کی شفقت و محبت دل بسائے بنا کسی بھی عورت کی عظمت کا تصور ناممکن ہے۔ اور پھربہ حیثیت ماں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بغیر یہ لفظ بے معنی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ماں کی شخصیت کو عظمت و بلندیوں کی انتہا کو پہنچا دیا جب آپ نے فرمایا:
الجنۃ تحت اقدام الامہات۔
’’جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔‘‘
جنت جو ہر دو جہاں کی کامیابی اور ہر انسان کی منزلِ مقصود ہے، اسے ماں کے قدموں تلے بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر عورت دیکھے کہ وہ کون سی خوبیاں اور کیا صفات ہیں جو جنت کو اس کے قدموں تلے رکھ کر اولاد کے لیے خدمت اور حسن سلوک کا قبلہ بناتی ہیں۔ اگر عورت واقعی اپنے اندر خوبیوں اور اچھائیوں کا وہ حسن پیدا کرلیتی ہے جن کے سبب اسے یہ عظمت عطاء کی گئی تو اس سے خوش قسمت عورت کوئی نہیں ہوسکتی لیکن اگر وہ ان بنیادی اوصاف سے خود کو آراستہ کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس خوش بختی کے برخلاف ذلت و پستی کی کھائی میں بھی گرسکتی ہے۔ اس لیے دیکھنے اور سوچنے کا مقام ہے کہ ہر مسلم عورت اپنی شخصیت کو کس طرح بہ حیثیت ماں پروان چڑھائے کہ وہ خود بھی عظمت و بلندی کے اس مقام کو چھوسکے جس کی خبر اللہ کے رسول نے دی ہے اور اپنی دنیا کے ساتھ ساتھ آخر ت کی کامیابی کو بھی یقینی بناسکے۔
ماں کا عظیم رول
ماں انسانوں کی پہلی درسگاہ اور اخلاق و کردار کا سانچہ ہے، جس میں انسانوں کی زندگیاں ڈھلتی اور عظمتوں، بلندیوں اور کارہائے نمایاں کی بنیادی رکھی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر عظیم انسان کی عظمت اور اس بلند پایہ کارناموں کے پیچھے ماں کی شفقت، رہنمائی اور وہ تربیت ضرور رہی ہے جو بچپن میں اسے حاصل ہوئی۔ اس حیثیت سے ماں اگر اپنی ذات کی اہمیت کا ادراک کرے اور اپنی شخصیت کو ایک مکمل اور کارگر ماں کی حیثیت سے تیار کرلے تو نہ صرف یہ اس کی معراج ہوگی بلکہ اس کی گود میں پلنے والی نسل کی بلند مرتبوں اور کارگہہ حیات میں کارہائے نمایاں انجام پانے کا ذریعہ بھی ہوگی۔
اس کے برخلاف غافل، بے سلیقہ، فن تربیت و تعلیم سے ناآشنا اور ماں کے فرائض و واجبات سے ناواقف عورت نہ صرف یہ کہ اپنی نسلوں کو فکری و عملی افلاس اور زندگی کے میدان میں ناکامیوں کی کھائی میں دھکیلنے کا سبب بنے گی۔ ذرا ان ماؤں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیے جو پارٹ ٹائم مائیں ہیں یا جن کو زندگی کی تگ ودو اور عیش و عشرت لذات زندگی کی حرص نے گم کردئہ راہ بنادیا۔ ان کی نسلوں کا کیا حال ہے۔ مغربی دنیا اس کی واضح مثال ہے جہاں ماؤں کی شفقت و محبت اور تربیت و نگرانی سے محروم بچے جرائم کی دنیا کے بڑے بڑے ڈان بن رہے ہیں اور حکومتوں اور اپنے معاشروں کے لیے درد سر ہی نہیں بلکہ سماج کا کینسر بن رہے ہیں۔
ذیل میں ماں کی شخصیت کے چند پہلوؤں کا تذکرہ کیا جاتا ہے تاکہ ہماری خواتین ان پہلوؤں کا بھر پور جائز لیں اور اپنی شخصیت کو ان پہلوؤں سے مضبوط، مستحکم اور کامل بنانے کی فکر کریں۔
(۱) شفقت و محبت
ماں کی شخصیت کا سب سے اہم اور نمایاں پہلو اس کی اولاد کے لیے شفقت و محبت ہے۔ ماں کی فطری شفقت و محبت ہی وہ خوبی ہے جو پیدائش کے وقت سے لے کر آخری دم تک اولاد کی خدمت میں مصروف رہتی ہے۔ اولاد کی محبت میں ایک ماں کیسی کیسی مشقتیں اٹھاتی ہے بلکہ اپنی زندگی، اپنی خواہش اور عیش و آرام کو اولاد کی محبت پر قربان کردیتی ہے۔یہی وجہ ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایاہے۔
وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا اما یبلغن عندک الکبر احدہما او کلاہما فلا تقل لہما اف ولا تنھر ہما وقل لہما قولا کریما۔ واخفض لہما جناح الذل من الرحمۃ وقل رب ارحمہما کما ربیانی صغیرا۔
’’اور تمہارے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف، تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے اچھے انداز میں بات کرو اور ان کے لیے خاکساری اوررحمت کے بازو جھکائے رہو اور (ان کے لیے دعا کرو) کہ اے میرے رب ان پر رحمت فرما جس طرح انھوں نے بچپن میں (شفقت و محبت سے) ہماری پرورش کی۔‘‘
ایک مرتبہ کسی صحابی نے اللہ کے رسول سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول میرے سب سے زیادہ حسنِ سلوک کا مستحق کون ہے؟ آپ نے تین مرتبہ فرمایا تمہاری ماں اور پھر چوتھی مرتبہ پوچھنے پر فرمایا تمہارا باپ۔ ایک مرتبہ اللہ کے رسول صحابہ کی مجلس میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے لوگوں سے تین مرتبہ کہا : ’’کیا میں تمہیں بڑے گناہوں میں سب سے بڑے گناہ سے آگاہ نہ کروں۔ صحابہ نے کہا ضرور یا رسول اللہ! اس پر آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرانا اور والدین کی نافرمانی و حق تلفی۔
قرآن کی یہ آیت اور اللہ کے رسول ﷺ کی یہ تعلیمات یقینا والدین کے حقوق، ان کی عظمت اور ان کی نافرمانی کی وعید بیان کرتی ہیں لیکن ان سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مائیں خصوصاً اور والدین عام طور پر ان اوصاف سے اپنی زندگیوں کو متصف کریں جو انہیں اس عظمت سے سرفراز کرتی ہیں۔
(۲) تعلیم و تربیت
ماں کی شخصیت کا دوسرا اہم اور نمایاں پہلو اولاد کی مربی اور ان کی رہنما کا ہے۔ ماں کی گود میں ہی کردار کی بلندی بھی پلتی تھی اور اخلاقی پستی بھی۔ وہیں حق گوئی اور عدل و انصاف کی بنیاد بھی پڑتی ہے اور بے ایمانی اور ظلم و زیادتی کی ابتدا بھی ہوتی ہے۔ وہیں خدا خوفی اور انسانیت سے محبت کے جذبات بھی پروان چڑھتے ہیں اور طغیان و بغاوت اور مجرمانہ ذہنیت کی بھی شروعات ہوتی ہے۔ دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے، ظلم کو مٹانے اور انسانیت کو فلاح و کامرانی سے ہم کنار کرنے کا عزم و حوصلہ بھی ملتا ہے اور دولت و شہرت کمانے اور اعلیٰ افسر بننے کی خواہش بھی پیدا کی جاتی ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا کردار بھی وہیں سے آتا ہے اور تاریخ ہند کا بلند پایہ ڈاکو سلطانہ بھی اپنے فن کی شروعات وہیں سے کرتا ہے۔ خیر اور اچھائی کی پرورش بھی وہیں سے شروع ہوتی ہے اور شروبرائی کا پودا بھی اسی جگہ سے لگ جاتا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ ماں اپنی گود میں کون سے جذبات پروان چڑھاتی اور کون سے طبقہ کی پرورش کرتی ہے۔
عام ماؤں کی ترجیحات، افکار و خیالات اور زندگی کے ارادے اور عزائم کچھ بھی ہوں ایک اسلام پسند ماں کی شخصیت کا نمایاں پہلو یہی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی ایسی صالح تربیت چاہتی ہے جو اسے دنیا میں خیرو فلاح اور عدل و انصاف کے قیام کا ذریعہ بنادے، کردار کی بلندی اور اخلاق میں رفعت ہو اور آخر کار وہ آخرت میں خود بھی کامیاب ہو اور ماں باپ کے لیے صدقہ جاریہ بنے اور اس وقت جب ان کا زندگی سے رشتہ کٹ جائے تو ان کے لیے دعائے خیر کرے۔
ایک مرتبہ رسول ﷺ صحابہ کے ہمراہ کہیں جارہے تھے۔ راستہ میں ایک گھر سے گزر ہوا جہاں چولہا جل رہا تھا۔ ایک چھوما سا بچہ رینگتا ہوا چولہے کی آگ کی طرف بڑھ رہا تھا اور قریب تھا کہ وہ آگ میں ہاتھ ڈال دے کہ اس کی میں دوڑتے ہوئے آئی اور اسے گود میں اٹھالیا۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ لوگو! کیا یہ ماں اپنے بچہ کو آگ میں جلتا ہوا دیکھ سکتی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر یہ ماں اپنے بچہ کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تو پھر اسے چاہیے کہ وہ اپنے بچہ کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے بھی فکر مند ہو۔
ایک مسلمان اور صاحبِ ایمان ماں کی شخصیت اسی حیثیت سے عام ماؤں سے ممتاز اور منفرد ہے کہ وہ اپنی اولاد جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کرتی ہے اور اس کی ایسی صالح تربیت کے لیے کوشاں ہوتی ہے جو آخرت میں اسے جہنم کے بجائے جنت میں لے جانے کا ذریعہ بنے۔ یہی بات ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں توجہ دلائی ہے:’’لوگو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔‘‘
(۳) ماں بہ حیثیت داعیہ
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! تم میں ہر ایک ذمہ دار اور نگراں ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا۔ عورت ذمہ دار اور نگراں ہے شوہر کے گھر کی اور اس کی اولاد کی اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘
ماں کی شخصیت کا یہ پہلو اور زیادہ پھیلا ہوا اور وسیع ہے جس میں محبت و شفقت اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ وہ تمام ذمہ داریاں بھی آتی ہیں جو ایک نگراں کی حیثیت سے کسی انسان پر عائد ہوتی ہیں۔ ماں اولاد کی نگران ہے یعنی یہ اس کی شخصیت کا بنیادی پہلو ہے کہ وہ اولاد کے تمام امور پر متوجہ رہے۔ ان کے لباس و ضروریات زندگی سے لے کر ان کے اخلاق و کردار، حلقہ یاراں اور دوست احباب اور ان کے معاملات و اندازِ زندگی تک پر نظر رکھنا ماں کی ذمہ داری قرار پاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات بھی ہمارے سامنے آتی ہے کہ ایک ماں خود کو اولاد کے لیے بہترین نگراںاور ان کی ضروریات کے لیے بہترین منتظم ثابت کرے۔
اوپر گنائے گئے ماں کی شخصیت کے تینوں پہلو ایسے ہیں جن میں ماں کے اندر اولاد کے لیے انتہائی جذبہ شفقت و محبت درکار ہوتا ہے۔ بہ حیثیت مربی وہ کسی ڈنڈے باز استاد کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری انجام نہیں دے سکتی اور نہ ہی بہ حیثیت نگراں اور ذمہ دار کسی افسر کی طرح اپنی ذمہ داریاں پوری کرسکتی ہے۔ اس کے لیے رحمت و مودت اور الفت و محبت کے جذبات کارگر ہوسکتے ہیں اور اگر ایسا ممکن ہوسکا تو ماں نہ صرف یہ کہ اپنی ذمہ داریاں انجام نہ دے سکے گی بلکہ اپنی اولاد کو جہنم کی آگ سے بچانے میں بھی ناکام رہے گی جو ایک بڑا خسارہ ہوگا اور خود اس کی دنیا و آخرت کی تباہی پر بھی منتج ہوسکتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
نور النساء اورنگ آباد

Leave a Reply