مشورہ حاضر ہے!

[پروفیسر ریاض احمد پاکستان کے معروف ماہر نفسیات ہیں۔ ان کا یہ انٹریو فرائی ڈے اسپیشل کے نمائندے اے اے سید نے لیا ہے۔ جسے ہم افادہ عام کی خاطر مذکورہ میگزین اور نمائندے کے شکریے کے ساتھ قارئین ’حجاب اسلامی‘ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ (ایڈیٹر)]
سوال: ہمارے یہاں ذہنی صحت زوال پذیر ہے، اعصابی تناؤ میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے ہر شخص کسی نہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟

ڈاکٹر ریاض: معاشرے میں ذہنی صحت سے متعلق منفی رجحانات، بیماریوں، ذہنی پریشانیوں، پریشان خیالی اور نسبتاً کم صحت مند رجحانات کی بڑی وجہ خواہشات کا بڑھ جانا اور تعیشات زندگی کے حصول میں مقابلے کے رجحان نے، خصوصا ان حالات میں جب وسائل محدود ہوں، لوگوں میں بے اطمینانی اور تناؤ کو جنم دیا ہے۔ آپس کے تعلقات میں کھنچاؤ اور لاتعلقی درآنے سے افراد میں تنہائی کا احساس بڑھ گیا ہے۔ خوشی کے مواقع اور معاشرتی اور سماجی سپورٹ کی کمی بڑی حد تک انسان کو بے چین اور خوف زدہ کردیتی ہے۔ یہی عوامل جب حد سے بڑھ جائیں توذہنی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ خاندانی نظام، والدین کے متضاد رویے، اساتذہ کی اپنے شاگردوں کے بارے میں عدل دلچسپی، غیر منصفانہ نظام اور معاشی تفریق بھی ذہنی پریشانی کے اسباب ہیں۔

سوال:ڈاکٹر صاحب اسی پس منظر میں میرا ایک اور سوال ہے کہ ہمارے معاشرے میں ماضی کے مقابلے میں عدم برداشت اور تشدد کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، آپ کے خیال میں اس کا سد باب کس طرح ممکن ہے؟

ڈاکٹر ریاض: روز مرہ کی فرسٹریشنز جن کا کوئی مثبت نکاس نہ ہو، عدم برداشت کو جنم دیتے ہیں۔ عموماً تشدد اس کا انتہائی نتیجہ ہوتا ہے۔ اپنی ذات پر حد سے بڑھا ہوا ارتکاز، اور صرف اپنے بارے میں سوچنا بھی انسان کو عدم برداشت کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کا سدباب لوگوں میں مثبت سوچ اور باہمی تعلق کو پروان چڑھا کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں، جن میں صحت مند سرگرمیوں میں حصہ لینا، جیسا کہ کھیل اور دوسری صحت مند سرگرمیاں، دوسرے کے نقطہ نظر کو سننے کی بچپن سے عادت ڈالنا، اور بچپن سے ہی تربیت میں جسمانی تشدد یا جھگڑے کے حوصلہ شکنی شامل ہے۔ اچھی اور مثبت مصروفیات انسانی ذہن سے اضطراب اور غصے کی شدت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

سوال: وہم کا علاج تو کہا جاتا ہے کہ لقمان حکیم کے پاس بھی نہیں تھا، لیکن ہر دوسرا شخص اس بیماری کا شکار ہے، آخر یہ کیوں ہوتا ہے اور کیا اس کا واقعی کوئی علاج نہیں ہے؟

ڈاکٹر ریاض: معاشرے میں تواتر کے ساتھ استعمال ہونے والے اس طرح کے اقوال در اصل ان ریوں کے بارے میں ہوتے ہیں جو عام افراد کے بارے میں وضع کیے جاتے ہیں۔ ذہنی امراض سے نبرد آزما افراد میںوہم دراصل کچھ خاص ذہنی امراض کا شاخسانہ ہوتا ہے، جس کی شدت عام افراد میں پائے جانے والے وہم کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایسا وہم جو اتنی شدت سے ہو اور جس پر مریض کو مکمل یقین ہو، باوجود اس کے مخالف دستیاب ثبوتوں کے، یہ ذہنی امراض کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اس کا علاج یقینا موجود ہے اگرچہ کافی دقت طلب اور محنت طلب ہے۔ دوا کے ساتھ ساتھ سائیکو تھراپی اور کونسلنگ کا استعمال اس میں بہتری لاسکتا ہے۔

سوال: انسان کو غصہ کیوں آتا ہے اور یہ کب ایک بیماری کی صورت اختیار کرلیتا ہے؟ اس سے کس طرح بچا جاسکتا ہے؟

ڈاکٹر ریاض: غصہ آنا فطری عمل ہے۔ یہ ایک انسانی جذبہ ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ غصہ کے اظہا رکا طریقہ اس کو صحیح اور غلط بناتا ہے۔ جب غصے کو دبایا جاتا ہے یا اسے غیر حقیقی انداز میں برتا جاتا ہے تو انسان مسائل کا شکار ہوسکتا ہے۔ اگر افراد کو یہ سکھا دیا جائے کہ غصے کا مثبت انداز میں کیسے اظہا رکیا جاسکتا ہے اور اپنے آپ پر قابو رکھتے ہوئے کس طرح اپنا نقطہ نظر دوسرے فرد تک پہنچایا جاسکتا ہے تو فرد اپنے اور دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث نہیں بنتا۔ بنیادی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ہمارے ہاں لوگوں میں Assertive Communication skillsکی کمی کے باعث غصے کا اظہار ایک منفی رخ اختیار کر جاتا ہے۔ خود پسندی اور اپنی رائے ہی کو صحیح سمجھنا بھی غصے کے اسباب ہوسکتے ہیں۔

سوال: کیا یکسوئی کا نہ ہونا بھی کوئی ذہنی مرض ہے؟ زندگی میں یکسوئی کس طرح پیدا ہوسکتی ہے؟

ڈاکٹر ریاض: یکسوئی کا نہ ہونا بجائے خود کوئی ذہنی مرض نہیں، مگر یہ مختلف ذہنی امراض یا پریشانیوں کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔ اکثر ڈپریشن میں مبتلا مریض یکسوئی سے متعلق مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ یکسوئی صحت مند معمول زندگی اور بامقصد زندگی کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ اگر آپ کو کوئی کام پسند ہے یا بالفرض آپ اپنی پسندیدہ کتاب پڑھ رہے ہوں یا فلم دیکھ رہے ہوں تو آپ دیکھیں گے کہ آپ اس میں کتنا مگن اور یکسو ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ کی زندگی کا ایک مقصد ہو جو آپ کی پسند کے مطابق ہو تو یکسوئی کے ساتھ کام کرنا ممکن ہے۔ یعنی عدم دلچسپی، ناکامی کا خوف اور احساس کمتری جیسے مسائل یکسوئی میں کمی کا باعث ہوسکتے ہیں۔

سوال: یہ بات عموما دیکھنے میں آتی ہے کہ پہلوٹھی کے بچے سے والدین ترجیحی برتاؤ کرتے ہیں۔ جب والدین کی طرف سے بڑے بچے کو ترجیح ملتی ہے تو گھرکے چھوٹے بچوں پر کیا مثبت او رمنفی اثرات آپ دیکھتے ہیں؟

ڈاکٹر ریاض: پہلا بچہ نہ صرف والدین کی طرف سے ترجیحی سلوک لیتا ہے بلکہ اولدین جو ابتدا میں اتنے تجربہ کار نہیں ہوتے، بچے کی تربیت میں بعض اوقات زیادہ سختی یا زیادہ پریشانی کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو ہر گھر میں بچوں کی پیدائش کی ترتیب یقینا بچوں کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے، مگر ا سکے کچھ مثبت او رکچھ منفی پہلو ہوتے ہیں۔ گھر میں چھوٹے بچے اگر کسی لحاظ سے کم ترجیح محسوس کرتے ہیں تو ساتھ ہی بڑے بچے کے مقابلے میں ملنے والی نسبتاً زیادہ آزادی سے بھی محظوظ ہوتے ہیں۔ ہر وہ بچہ جسے اپنی جگہ بنانے کے لیے تھوڑی محنت کرنا پڑتی ہے نسبتاً زیادہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

سوال: آپ آج کے بچوں میں کس قسم کی ذہنی یا نفسیاتی بیماریاں دیکھ رہے ہیں اور اس کی کیا وجہ ہے؟ ہم ایک بچے کو کب کہتے ہیں کہ وہ کسی ذہنی مرض کا شکار ہے یا ہو رہا ہے؟

ڈاکٹر ریاض: آج کل بچوں میں نفسیاتی پریشانیاں نظر آرہی ہیں مثلاً بڑھتی ہوئی بے چینی اور بڑوں کے خلاف ضد اور بڑھتا ہوا غصہ۔ جب آپ دیکھیں کہ ایک بچہ عموماً تنہا رہنا پسند کرتا ہے، صحت مندانہ مصروفیات میں حصہ نہیں لیتا، چڑچڑاپن ظاہر کرتا ہے اور اس کی تعلیمی اور کھیل کی دلچسپی پہلے سے کم ہو رہی ہے تو آپ کو اس کے علاج پر توجہ دینی چاہیے۔

سوال: علاج سے آپ کی کیا مراد ہے؟

ڈاکٹر ریاض: میں بحیثیت ماہر نفسیات والدین کو یہاں یہ پیغام دینا اپنی اہم ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ علاج کے لیے ہمیشہ ایک ماہراو رمستند کلینکل سائیکالوجسٹ سے رجوع کریں جس نے اس شعبے میں ماسٹر کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کم از کم ایک سال ذہنی وجذباتی مسائل کی تشخیص اور طریقہ علاج کی خصوصی تربیت ایک ماہر کی زیر نگرانی میں حاصل کی ہو او رکسی مستند ادارے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہو۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ ذہنی و جذباتی مسائل کی بروقت تشخیص اور صحیح پیمانے پر اس کی جانج ہی ایک بہتر علاج کی ضمانت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کوئی باڈی نہ ہونے کے باعث اس شعبے میں مخصوص ٹریننگ نہ ہونے کے باوجود کچھ لوگ بہ آسانی اپنے آپ پر ماہر نفسیات کا لیبل لگا کر اس شعبے سے منسلک ہوجاتے ہیں۔ اور خصوصی تجربہ نہ ہونے کے باعث بہتر انداز اور درست پیمانوں پر علاج مہیا کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوتے۔ گوکہ ذہنی و جذباتی مسائل کے حل کے لیے سائیکو تھراپی اور کاؤنسلنگ کے علاوہ ضرورتا اودیات کا استعمال بھی کارگر ہوتاہے، لیکن پندرہ سال یا اس سے کم عمربچوں کے جذباتی رویوں اور ذہنی مسائل کے حل کے لیے ادویات سے زیادہ سائیکو تھراپی او رمتبادل طریقہ علاج زیادہ سود مند ثابت ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں انتہائی اہمیت کی حامل بات ہے کہ جہاں بچوں کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے درست طریقے اور ان کے مناسب حل کے لیے والدین کو مخصوص ٹریننگ دی جاتی ہے، وہاںوہ اپنی مدد آپ کے تحت بچوں اور خصوصاً نوجوانوں کو بروقت اور صحیح انداز میں سپورٹ فراہم کرسکتے ہیں۔

سوال: بعض بچے زیادہ جذباتی ہوتے ہیں، ان کے زیادہ جذباتی رویے کو کس طرح جانچا جاسکتا ہے کہ پیچیدہ ذہنی مرض نہ بن جائے؟

ڈاکٹر ریاض: بچوں کے جذباتی مسائل زیادہ تر والدین کے آپس کے تعلقات اور بچوں سے متعلق رویوں سے منسلک ہوتے ہیں۔ بچے کے زیادہ جذباتی پن یا ٹھیراؤ کی کمی بھی اس کے خاندان سے متعلق بزرگ یا افراد یا اس کی دیکھ بھال کرنے والوں کی اپنی جذباتی کیفیات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ بہرحال اگر بچہ اپنے معمول کے رویے سے کچھ ہٹ کر رویہ اپنا رہا ہے تو بہتر ہے کہ اس سے اس سلسلے میں بات چیت کی جائے اور گھر کے ماحول کو پرسکون بنانے کی کوشش کی جائے۔ بچوں اور والدین میں بڑھتے ہوئے فاصلے یا خوف کی فضا کی وجہ سے بچے بعض اوقات اپنے مسائل بڑوں کو بتا نہیں پاتے۔ بات چیت کی فضا اور بچوں کے ساتھ وقت گزارنے سے ان میں اعتماد پیدا ہوتا ہے، اور آپ بروقت ان کی مدد کرسکتے ہیں۔

سوال: موبائل فون کے کثرت استعمال کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا یہ انسان کی ذہنی صحت کے لیے کسی خطرے کی علامت ہے؟

ڈاکٹر ریاض: موبائل فون کا کثرت سے استعمال چھوٹے اور بڑھتے ہوئے بچوں کی ذہنی صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ اس سے ان کی ذہنی نشو و نما متاثر ہوتی ہے۔ بڑوں کے لیے بھی صحت کے مختلف مسائل اس کا نتیجہ ہوسکتے ہیں۔ ذہنی صحت کے لحاظ سے موبائل فون کا استعمال اگر زیادہ ہو تو یہ فرد کے تنہائی کا شکار ہونے، اپنے آس پاس کے لوگوں سے کٹ جانے، باہمی ربط و ضبط میں خرابی اور بڑھتی ہوئی بے چینی کا باعث ہوسکتا ہے۔ خصوصاًموبائل فون پر سماجی میڈیا میں بڑھتی ہوئی دلچسپی لمحہ فکریہ ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
اے اے سید

Leave a Reply