نیکیاں ضائع ہونے سے بچائیے!

ہماری زندگی میں ایسے بہت سے کاموں کی مثالیں ہیں کہ جنھیں کرنے یا انجام دینے والے کو گمان ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی رضا اور آخرت کے اجر کے لیے کررہا ہے، لیکن درحقیقت اس کی نیت کچھ اور ہوتی ہے۔

انفاق ضائع ہوجاتا ہے،اگر اس کے بعد احسان جتایا جائے یا تکلیف دی جائے یا دکھاوے کے لیے کیا جائے۔اور اس کے لیے چٹان پر سے مٹی ہٹنے کی مثال دی گئی ہے۔ ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کر کے جو نیکی کماتے ہیں، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا۔ (البقرہ:۲۶۴)

اعمال دنیا ہی کی نیت سے کیے جائیں تو بڑھاپے میں باغ یا آمدنی کا واحد ذریعہ ختم ہوجانے کی مثال دی گئی ہے۔(البقرہ:۲۶۶ )

حدیثِ نبویؐ سے معلوم ہوتا ہے کہ شہید، عالم اور سخی کو بھی جہنم میں ڈال دیا گیا کیوںکہ یہ دکھاوے کے لیے عمل کرتے تھے۔ اس طرح جان کی قربانی، حصولِ علم، صدقہ کیا ہوا مال ضائع ہوسکتے ہیں۔(نسائی، عن ابی ہریرہؓ)

نماز کو ورزش،روزے کو خوراک کنٹرول کرنے کا منصوبہ، اور حج کو سیاحت کی نیت سے کرنے سے یہ عبادتیں بھی بے معنی ہوسکتی ہیں۔ اچھے کام میں نیت بھی اچھی رکھنا ضروری ہے، یعنی صرف اللہ کی خوش نودی اور آخرت کا اجر۔

ایسی نیکیاں جن کو صحیح طریقے سے ادا نہ کیا گیا ہو ، قبول نہ ہوں گی،خواہ ظاہری طریقے میں نقص ہو یا دل کی کیفیت میں کمی ہو۔ ظاہری طریقے میں نقص کی ایک مثال یہ ہے کہ بنیادی شرائط پوری نہ کی گئی ہوں، مثلاً طہارت کے بغیر نماز ادا کی جائے۔

اسی طرح سے دل کی کیفیت میں کمی کی صورت یہ ہے کہ نیکیوں کو بے دلی یا سستی سے کیا جائے، یا زبردستی سمجھ کر کیا جائے، یا نیکیوں کے دوران کوئی کیفیت موجود ہی نہ ہو۔ جیساکہ ہم دیکھتے ہیں کہ سورئہ ماعون میں بے نمازیوں کے لیے نہیں،بلکہ بعض نمازیوں کے لیے بھی تباہی کی وعید ہے۔ (النساء؛ ۱۴۲)

امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا:’’انسانوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہوں گے، لیکن وہ نماز نہیں ہوگی۔‘‘

جنید بغدادیؒ کا ایک واقعہ کتب میں لکھا ہے،جس میں وہ ایک واپس آنے والے حاجی سے مناسکِ حج کے ساتھ کچھ کیفیات کے متعلق پوچھتے ہیں۔ جب وہ نفی میں جواب دیتا ہے ،تو وہ اسے حج دوبارہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

کپڑے پہن کر عریاں رہنے والیوں کے لیے وعید ہے۔ اسی طرح خواتین کے ایسے عباے جو ظاہری چمک و رنگ اور چستی سے مزید کشش کا باعث ہوں ، بے مقصد اور لایعنی پہناوا ہیں۔ مہمان نوازی کرکے ،مہمان کے جانے کے بعد اس پر تنقید و مذاق ،مہمان کی تکریم کی نفی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ:

٭ نیکی کرنے کا طریقہ بھی صحیح رکھنا چاہیے اور اس کے لیے علم حاصل کرنا چاہیے۔

٭ نیکی کے دوران اس کے آداب اور دل کی کیفیات کا خیال رکھنا چاہیے۔پوری رضامندی اور خوشی کے ساتھ نیکی کرنا چاہیے۔

٭ نیکی کرتے ہوئے ڈرتے رہنا چاہیے،کیوںکہ مومنوں کوعمل قبول نہ ہونے کاڈر رہتا ہے اور خشیت مومنوں کی کیفیت ہے۔ سورئہ انبیاء(آیت ۹۰) میں نیکیوں کی دوڑ دھوپ کے ساتھ خوف کا بھی ذکر ہے۔ رسول کریم ؐ کو بھی اپنے عمل سے نہیں، اللہ کے فضل اور رحمت سے ہی جنت میں جانے کی اْمید تھی(بخاری،ابو ہریرہ)

٭ نیکی کے بعد اس کی قبولیت کی دعا کرنی چاہیے، خواہ وہ نماز ہو، کوئی انفاق ہو، دین کے لیے نکلنا اور چلنا ہو، یا کسی بندے سے معاملہ ہو۔

نبی اکرمؐ جب نماز فجر میں سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھْمَّ اِنِّی اَسئَلْکَ رِزقًا طَیِّبًا وَّعِلمًا نَافِعًا وَّعَمَلًا مّْتَقَبَّلًا،اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں پاکیزہ روزی، نفع بخش علم اور قبول ہونے والا عمل(ابن ماجہ، اْمِ سلمہؓ)۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت دْعا کی تھی: رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنّاَ (البقرہ۲:۱۲۷) ’’اے ہمارے رب ،ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے۔‘‘

علما نے کچھ دعاؤں میں سعی مشکور مانگی ہے،یعنی ایسی کوشش جس کی قدردانی کی گئی ہو۔

نیکیاں برباد کرنے والے اعمال

نیکیاں تو اپنی جگہ صحیح ہوں ،لیکن ان کے ساتھ یا ان کے بعد کوئی ایسا کام کیا جائے کہ وہ ضائع ہوجائیں۔ ان کی مثال دنیوی امتحانوں کی منفی پیمایش ( negative marking) سے دی جاسکتی ہے۔ جن میں غلط جوابات کے نمبر ،صفر نہیں بلکہ منفی ہوتے ہیں ،جو صحیح جوابات کے نمبر بھی کاٹ لیتے ہیں۔ یہ برائیاں جو قرآن و حدیث سے معلوم ہوتی ہیں ،وہ یہ ہیں:

٭ نبیؐ کے احترام میں کمی: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام میں کمی دراصل اللہ کے احترام میں کمی اور باطن میں تقویٰ نہ ہونے کی علامت ہے:

’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنی آوازنبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ (الحجرات۴۹:۲ )

سورئہ مائدہ میں ارشاد فرمایا:’’ تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ انھی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں۔کہتے ہیں ’’ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکّر میں نہ پھنس جائیں۔‘‘ مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمھیں فیصلہ کن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا تو یہ لوگ اپنے اس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے۔ اور اْس وقت اہلِ ایمان کہیں گے: ’’ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں؟‘‘ ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے اور آخر کار یہ ناکام و نامراد ہو کر رہے۔‘‘ (المائدہ :۵۲-۵۳)

یعنی جو کچھ انھوں نے اسلام کی پیروی میں کیا،نمازیں پڑھیں،روزے رکھے،زکوٰۃدی، جہاد میں شریک ہوئے، قوانینِ اسلام کی اطاعت کی،یہ سب کچھ اس بنا پر ضائع ہوگیا کہ ان کے دلوں میں اسلام کے لیے خلوص نہ تھا اور وہ سب سے کٹ کر صرف ایک خدا کے ہوکر نہ رہ گئے تھے، بلکہ اپنی دنیا کی خاطر انھوں نے اپنے آپ کو خدا اور اس کے باغیوں کے درمیان آدھا آدھا بانٹ رکھا تھا۔(تفہیم القرآن،سورئہ مائدہ۵:۵۳)

بنیادی طور پر اس کی وجہ یہی ہے کہ حق اور باطل دونوں سے تعلق رکھنا، نفاق ہی کی قسم ہے:

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسولؐکی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرلو۔‘‘ (محمد:۳۳)

حضرت کعب بن مالک کے واقعے سے سبق ملتا ہے کہ وہ کسی بدنیتی کے بغیر صرف دنیوی مصروفیات کی وجہ سے حق و باطل کی کش مکش میں حق کا ساتھ نہ دے سکے، تو ان کی پچھلی ساری عبادت گزاریا ں اور قربانیاں خطرے میں پڑ گئی تھیں۔

٭ برائی سے منع نہ کرنا ، سمجھوتہ کرلینا : سورئہ اعراف میں اہلِ سبت کا ذکر ہے، جنھوں نے ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑنے سے دوسروں کو منع نہ کیا، تو ان کی اپنی نیکیاں اکارت چلی گئیں۔ بستی پر عذاب کی ابتدا’نیک‘ شخص سے کی گئی کیوںکہ اس نے بستی والوں کو برائیوں سے منع نہیں کیا تھا۔ اس طرح اس شخص کی اپنی نیکیاں بھی ضائع ہوگئیں۔(ترمذی،ابوبکر صدیقؓ)

بنی اسرائیل کے علما نے فاسقوں کو منع کرنے کے بجاے ان کے ساتھ کھاناپینا اور اْٹھنا بیٹھنا شروع کردیا تو ان پر بھی لعنت کی گئی۔(ابوداؤد)

٭ فسق پر مبنی رویّہ: استطاعت کے باوجود ہجرت نہ کرنا:(النسا:۹۷-۹۸)

’’ان سے کہو ’’ تم اپنے مال خواہ راضی خوشی خرچ کرو یا بہ کراہت، بہرحال وہ قبول نہ کیے جائیں گے۔ کیوں کہ تم فاسق لوگ ہو۔‘‘ (التوبہ ۹:۵۳)

کبیرہ گناہ ڈھٹائی سے کرنے سے،کبھی کبھار کی گئی، یا چھوٹی نیکیوں کی قبولیت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

مسلم کی روایت کے مطابق،حرام مال کھانے اور پہننے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی اگرچہ وہ لمبا سفر کرکے ،غبار آلود بالوں میں ،آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دْعا مانگے۔اسی طرح حرام کمائی سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے ،تو وہ قبول نہیں ہوتا۔

حضرت ثوبانؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں اپنی امت میں سے یقینی طور پر ایسے لوگوں کو جانتا ہوں، جو قیامت والے دن اس حال میں آئیں گے کہ ان کے ساتھ تہامہ پہاڑ کے برابر نیکیاں ہوں گی، تو اللہ عز وجل ان نیکیوں کو دْھول بنا دے گا۔ حضرت ثوبانؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ !ہمیں ان لوگوں کی نشانیاں بتائیے،ہمارے لیے ان لوگوں کا حال بیان فرمائیے،تاکہ ایسا نہ ہوکہ ہم انھیں جان نہ سکیں اور ان کے ساتھ ہوجائیں۔

رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا:وہ تم لوگوں کے بھائی ہوں گے اور تم ان لوگوں کی نسل میں سے ہو گے، اور رات کی عبادات میں سے اسی طرح حصہ لیں گے جس طرح تم لوگ لیتے ہو۔لیکن ان لوگوں کا معاملہ یہ ہوگاکہ جب وہ لوگ اللہ کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں کو تنہائی میں پائیں گے تو انھیں استعمال کریں گے۔(ابن ماجہ)

٭ اجتماعی معاملات میں بے احتیاطی: حضرت عبداللہ بن عمرؓسے روایت ہے کہ نبیؐ کو فتح ہوتی اور مالِ غنیمت حاصل ہوتا تو حضرت بلالؓکو حکم دیتے تھے کہ لوگوں میں اعلان کریں کہ جس کے پاس جو کچھ ہے وہ لے آئے۔لوگوں کے پاس جو مالِ غنیمت ہوتا، وہ اسے لے آتے۔ جب سب مال جمع ہو جاتا تو پھر رسولؐ اللہ پہلے اس میں سے خمس الگ کرتے، پھر باقی مال کو تمام مجاہدین میں تقسیم فرمادیتے۔ ایک دفعہ مالِ غنیمت تقسیم ہو جانے کے بعد ایک آدمی بالوں کی ایک لگام لے آیا اور کہا کہ یہ لگام بھی ہم نے مالِ غنیمت میں پائی تھی۔ آپؐ نے فرمایا:تم نے بلال کا اعلان جو اس نے تین دفعہ کیا تھا،سنا تھا؟اس نے جواب دیا: ہاں! آپؐ نے فرمایا: پھر بروقت کیوں نہ لے کرآئے؟ اس نے جواب دیا: بس دیر ہوگئی۔ آپؐ نے فرمایا: پھر تو اسے قیامت کے دن لے کرآنا،میں اب تم سے قبول نہیں کر سکتا۔(ابوداؤد)

حضرت معاذؓ سے روایت ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمراہی میں ایک غزوہ کیا۔ لوگوں نے جلدبازی میں دوسروں کے اترنے کی جگہوں میں تنگی پیدا کردی اور آمد و رفت کے راستے بندکردیے۔جب آپؐ کو خبر ملی تو آپؐ نے ایک منادی بھیجاکہ وہ لوگوں میں اعلان کرے کہ جو اترنے کی جگہوں میں تنگی پیدا کرے گا یا راستے بند کرے گا،اس کا جہاد اکارت۔(ابوداؤد)

٭ معاملات میں راست نہ ہونا:کسی کو گالی دینے، تہمت لگانے، قتل کرنے سے انسان کے نماز ،روزہ اور زکوٰۃ دوسرے انسان کو مل جاتے ہیں۔(ترمذی)

حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں کہ ان کی نماز ان کے سر سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں اٹھتی۔ایک وہ امام جس کو لوگ پسند نہیں کرتے۔ دوسرے، وہ عورت جس نے شب اس طرح گزاری کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو۔ اور تیسرے، دو بھائی جو آپس میں قطع تعلق کرلیں۔(ابنِ ماجہ)

حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

کسی پاکباز عورت پر تہمت لگانے سے سو سال کے عمل برباد ہوجاتے ہیں۔

قرض واپس نہ کرنے سے شہید کا بھی جنت میں داخلہ رْک جاتا ہے۔ (نسائی،محمد بن جحش)

حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو۔(ابن ماجہ)

مندرجہ بالا احادیث میں کلمہ گو مسلمانوں کا ہی ذکر ہے اور ضائع ہونے والی چیز ان کی نیکیاں ہیں۔ اسی لیے علما نے تشریح کی ہے کہ کوئی گناہ ایسا ہے کہ اس سے کوئی مخصوص عمل ہی ضائع ہوتا ہے یا کسی مخصوص مدت کے لیے قبول نہیں ہوتا۔اور کوئی گناہ ایسا ہے کہ اس کی شدت کے لحاظ سے نیکیاں بھی ضائع ہو سکتی ہیں۔لیکن ان کا کوئی ضابطہ ہم طے نہیں کرسکتے۔ (ترجمان السنۃ،جلد دوم،مولانا بدر عالم میرٹھی)۔ البتہ یہ کہ گناہ کی شدت کے اضافے کے لحاظ سے احتیاط بھی اتنی ہی زیادہ ہونا چاہیے۔ ان سب پہلوؤں سے ایک مومن کو بھی محتاط رہنا چاہیے۔

نیکیاں کمانے کے ساتھ ساتھ ان نیکیوں کو بچا کر رکھنے کی بھی فکر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ آخرت میں پہنچ کر معلوم ہو کہ ہرا بھرا باغ جل چکا ہے اور کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں بچا ہے (البقرہ۲:۲۶۶) ،اور جو بہت اچھا سمجھ کر کیا تھا ، وہ سب بیکار تھا۔ (الکہف۱۸:۱۰۵)

اسی مناسبت سے محترم نعیم صدیقیؒ نے فرمایا تھا: ’یارب میرے سجدوں کو لٹنے سے بچا لے چل‘۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر عائشہ یوسف

Leave a Reply