نوعمر

نو عمر لڑکوں کے مسائل

والدین کی اپنے بچوں کے سلسلہ میں اہم ترین ذمہ داری ان کی تربیت کی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ ماں اور باپ اپنی اولاد کے سلسلہ میں اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔(تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اپنی رعیت کے سلسلہ میں جواب دہ ہے۔ مرد اپنے گھر والوں پر نگران ہے۔ عورت اپنے شوہر کے گھر پر نگران ہے۔۔اور ان کے سلسلہ میں جواب دہ ہے۔ بخاری و مسلم، روایت عبد اللہ بن عمرؓ)۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرمایا کرتے تھے۔’’اپنی اولاد کوادب سکھلاو، قیامت والے دن تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا،کہ تم نے اُسے کیا ادب سکھلایا؟ اور کس علم کی تعلیم دی؟‘‘ یقینا ہر ماں اور باپ، اپنے بچوں کی اچھی سے اچھی تربیت کی ممکنہ کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اس فریضہ کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ وہ تربیت کے گر سیکھیں، اس کی نزاکتوں سے واقف ہوں اور جانیں کہ بچوں کی اچھی تربیت کیسے یقینی بنائی جاسکتی ہے۔

نوعمروں کی تربیت

کہتے ہیں کہ بہت سے والدین کے لئے اپنے بچوں کی نوعمری کا دور سب سے چیلنجنگ دور ہوتا ہے۔ نوعمری (Adolescence) اور بلوغ (Puberty)دو الگ الگ اصطلاحیں ہیں۔ بلوغ کا تعلق ا ُن جسمانی تبدیلیوں سے ہے جو ایک بچہ کے اندرعمر کے ایک خاص مرحلہ میں آنے لگتی ہیں اور اُسے ایک بالغ مرد میں بدل دیتی ہیں۔ جبکہ نوعمری کا تعلق اس عمر میں آنے والی جذباتی اور نفسیاتی تبدیلیوں سے ہے۔ یہ دونوں تبدیلیاں ایک ساتھ بھی آسکتی ہیں اور کچھ وقفہ کے ساتھ الگ الگ بھی۔ نو عمری کی ان نفسیاتی تبدیلیوں کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ ایک معصوم بچہ جو ہر معاملہ میں اپنے والدین پر منحصر تھا ، اب ایک آزاد ، جوان فرد بن رہا ہوتا ہے۔ زندگی کی عظیم تر ذمہ داریوں اور چیلنجوں کے لئے تیار ہورہا ہوتا ہے۔اس مرحلہ میںعلیم و حکیم خدائے تعالیٰ اس کے اندر ایسے نفسیاتی رجحانات پیدا کرتا ہے جو اس کو ایک آزاد زندگی کے لئے تیار کرسکیں۔نو عمری کے اس دور کے لئے انگریزی زبان میں ’ٹین ایج ‘Teen Ageکا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو دراصل انگریزی گنتی میں ’ٹین ‘ پر ختم ہونے والے اعداد سے متعلق عمرکو کہتے ہیں یعنی تیرہ سال (تھرٹین) سے انیس سال (نائنٹین) کی عمر۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ نو عمری کا تعلق اسی عمر سے ہے۔ یہ تبدیلیاں دس گیارہ سال کی عمر میں بھی آسکتی ہیں اور بعض بچوں میں کافی تاخیر سے بھی یہ دور شروع ہوسکتا ہے۔ اس دور کو اصلاً اُس کی نفسیاتی خصوصیات کے ذریعہ ہی پہچانا جاسکتا ہے۔

نوعمری کے دور کی سب سے اہم خصوصیت تو یہی ہوتی ہے کہ بچہ اپنے آزاد وجود کو منوانے کی کوشش شروع کرتا ہے۔ وہ والدین پر اپنا انحصار تیزی سے کم کرنا شروع کردیتا ہے۔ اپنی خود کی پسند اور ناپسند تشکیل دینا شروع کرتا ہے۔ابھی تک اس کے خیالات وہی تھے جو اس کے والدین سے اس کو ملے تھے، عمر کے اس مرحلہ میں، اس کے اپنے نظریات ڈھلنے شروع ہوجاتے ہیں۔ خیالات کے معاملہ میں وہ والدین کی پیروی نہیں کرتا۔ ہر مسئلہ پر آزادانہ سوچنا شروع کرتا ہے۔ اچھے اور برے کے بارے میں اس کے اپنے تصورات بننا شروع ہوتے ہیں۔

اس دور میں والدین کے مقابلہ میں بچوں کا اپنے ہمجولیوںPeers سے تعلق زیادہ مستحکم ہونے لگتا ہے۔اس طرح گویا خالق کائنات اس کو آزاد سماجی رول کے لئے تیار فرماتا ہے۔بچے ہمجولیوں کے اثرات قبول کرنے لگتے ہیں۔اُن کے ساتھ زیادہ وقت صرف کرنے لگتے ہیں۔ ہمجولیوں کو متاثر کرنا اور ان کی نگاہ میں خود کو بہتر بنانا ، اس کی اہم ترجیح ہوتی ہے۔

اس عمر میں ہر چیز کو لے کر تجسس ہوتا ہے۔گھر سے باہر کی وسیع و عریض دنیا میں مختلف اشیا، افراد، اعمال، احوال وغیرہ سے ان کو سابقہ پیش آتا ہے۔ وہ بہت سی چیزوں کو خود آزماکر دیکھنا چاہتے ہیں۔ایڈونچر بھی اپنے شباب پر ہوتا ہے۔ تجسس اور ایڈونچر کا امتزاج انہیں نت نئے تجربات پر ابھارتا رہتا ہے۔

اس مرحلہ کے ابتدائی حصہ میں مستقبل کا شعور بہت کمزور ہوتا ہے۔ بچے حال میں جیتے ہیں۔ آئندہ کیا ہوگا؟ کس کام کا کیا اثر ہوگا؟ اس کو سوچنا اور محسوس کرنا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ دھیرے دھیرے اسی عمر میں پھر مستقبل بینی کی بھی صلاحیت پیدا ہونے لگتی ہے۔

لباس اور اپنی شناخت کے معاملہ میں اس عمر میں وہ مختلف تجربات کرنے لگتا ہے۔ اپنے ہمجولیوں میں ممتاز نظر آنے کی جستجو اُس سے طرح طرح کی حرکتیں سرزد کراتی ہے۔اپنے ظاہری وجود Appearance کو لے کر اس کی حساسیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

یہ دور مثالیت پسندی Idealismکا دور ہوتا ہے۔ بچہ اپنے خواب تشکیل دیتا ہے اور ان کو پورا کرنے کی جستجو شروع کرتا ہے۔ اپنے ہیرو بناتا ہے اور اُن کی پیروی اور ان کے جیسا بننے کی سنجیدہ کوشش شروع کردیتا ہے۔ عملی دشواریوں اور مشکلات کا شعور کمزور ہوتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے خوابوں کی دنیا بس چند قدم کے فاصلہ پر موجود ہے۔

یہ توانائی سے بھرپور دور ہوتا ہے۔ جوش، ولولہ اور قوت اپنے شباب پر ہوتی ہے۔نوعمر بچہ جو کام بھی کرتا ہے وہ بھرپور توانائی اور قوت کے ساتھ کرتا ہے۔ اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے اور اپنے ارادوں کو روبہ عمل لانے میں بھی وہ بھرپور توانائی اور حوصلہ سے کام لیتا ہے۔

یہ سب خصوصیات، اِس دور کی فطری خصوصیات ہیں۔ ان خصوصیات کا تعلق اُن بہت ساری ہارمونل تبدیلیوں سے بھی ہوتا ہے جو اس عمر میں اس کے جسم کے اندر آنے لگتی ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، ان تبدیلیوں کا ایک عظیم مقصد بھی رب کائنات کے پیش نظر ہوتا ہے۔ یہ تبدیلیاں نہ ہوں تو بچہ کبھی اُن ذمہ داریوں کے لئے تیار نہیں ہوپائے گاجو اُسے زندگی کے اگلے مرحلوں میں ادا کرنی ہیں۔

والدین کو اگر اس حقیقت کا شعور نہ ہو تو وہ ان تبدیلیوں سے گھبرا جاتے ہیں۔ جو بچہ کل تک ، اُن کی ہر بات کو آسانی سے قبول کرلیتا تھا، اب وہ سوالات کرنے لگتا ہے اور اُن کو چیلنج کرنے لگتا ہے تو انہیں لگتا ہے کہ وہ باغی ہورہا ہے۔ جو بچہ کل تک ان سے چمٹا ہوا تھا، اب الگ ہورہا ہے ، زیادہ دوستوں کے ساتھ رہنے لگا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان سے بچھڑرہا ہے۔ اس کے نت نئے تجربات،عجیب و غریب لباس اورطرح طرح کے شوق انہیں پریشان کرتے ہیں۔اُس کے بعض خیالات انہیں تشویش میں مبتلا کرتے ہیں ۔ انہیں اندیشہ ہونے لگتا ہے کہ کہیں وہ غلط راستہ پر تو نہیں جارہا ہے؟

عمر کے اس مرحلہ میںبچے کی تربیت کے دوران اگر اُسے محبت،خود اعتمادی اور خوشیاں ملیں، اُس کے ماں باپ، عمر کے مرحلہ کی نزاکتوں کو سمجھتے ہوئے، حکمت و دانشمندی کے ساتھ، اس کی تربیت ورہنمائی کا فریضہ انجام دیں تو وہ ایک بہترین شخصیت کے طور پر پروان چڑھ سکتا ہے۔ نو عمری کی یہ تبدیلیاں، اس کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی لانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اور سمجھ دار والدین کی نگرانی میں وہ ایک ایسے جوان آدمی میں بدل جاتا ہے جو صالح افکار و نظریات کا حامل ہو اور مبارک مقاصد کے لئے بھرپور توانائی کے ساتھ جدوجہد کرسکے۔ اور ایسا نہ ہوسکے، والدین ناسمجھی کا مظاہرہ کریںتو پھر تبدیلیوں کا یہ مرحلہ، خدانخواستہ، نوجوانوں کو باغی، سرکش، غلط افکار و نظریات کا علم بردار، غلط عادتوں کا شکار بلکہ جرائم پیشہ تک بنا سکتا ہے۔

۱۔نوعمری کی نفسیات کو سمجھئے

سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ والدین نوعمری کی نفسیات کو سمجھیں۔نو عمری کے دور میں والدین جب بچوں کی تربیت کرتے ہیں تو انہیں یہ جان لینا چاہئے کہ وہ ایک سفر طے کر رہے ہیں، جس کے لیے انہیں بھی با صلاحیت ہونا ضروری ہے تا کہ وہ اپنے بچے کے خوابوں کو کامیاب بنانے میں اسکی صحیح رہنمائی کرسکیں۔ بچہ کے اس مرحلہ میں قدم رکھنے سے پہلے انہیں معلوم ہو کہ اب اُن کے بچہ کے اندر کیا تبدیلیاں ممکنہ طور پر آنے والی ہیں۔ اگر آپ جو کچھ آنے والا ہے، اس سے پہلے سے واقف رہیں تو ان شاء اللہ، چیلنجوں کا سامنا کرنا آپ کے لئے آسان ہوگا۔ اس کے لئے ٹین ایج پیرینٹنگ سے متعلق کتابوں اور مضامین کا مطالعہ کیجئے۔ مولانا افضل حسین ؒکی کتاب فن تعلیم و تربیت میں اس پر کافی مواد موجود ہے۔ اردو میں ایک اور اچھی کتاب ڈاکٹر آصف محمود جاہ ’بچپن، لڑکپن اور بھولپن‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اب بڑے شہروں میں ٹین ایج پیرینٹنگ پر اچھے ورکشاپ بھی منعقد ہوتے ہیں۔ والدین کو ان سب سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے علم اور مہارت میں اضافہ کی کوشش کرنی چاہیے۔اپنے بزرگوں سے اس سلسلہ میں بات چیت کرنی چاہیے اور ان کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے۔

آپ اپنے خاندان ، اور پاس پڑوس کے دیگر نوعمروں پر غور کریں۔ ان کی شخصیتوں میں آرہی تبدیلیوں کو نوٹ کریں۔ اس سے متعلق ان کے والدین سے بات کریں۔ ایک اور مفید طریقہ یہ ہے کہ خود اپنے نوعمری کے دور کو ذہن میں تازہ کرنے کی کوشش کریں۔ اس دور کی تبدیلیوں کی گہرائی میں جانے کی کوشش کریں۔ سوچیں کہ اس دور میں آپ کی پسندو ناپسند میں، عادات و اطوار میں، ماں باپ کے ساتھ تعلق میں ، مزاج میں کیا تبدیلیاں آئی تھیں؟ اس سے بھی نوعمری کی نفسیات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

۲۔بچوں کے دوست بنئے!

نوعمربچوں پر اثرا نداز ہونے اور ان کی صحیح رہنمائی کرنے میں وہ والدین زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جن کا اپنے بچوں کے تئیں دوستانہ رویہ ہوتا ہے۔ دوستانہ رویہ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا انداز اور لب و لہجہ تحکمانہ اور ناصحانہ نہ ہو بلکہ مشورہ دینے والا ، دلیل سے قائل کرنے والے دوست کا انداز ہو۔آپ کوئی بات اس سے صرف اس بنیاد پر نہ منوائیں کہ یہ آپ کا حکم یا آپ کاتجربہ پر مبنی خیال ہے بلکہ دلیل سے ٹھنڈے لب و لہجہ میں بات کرکے اپنی بات کا اس کو قائل کریں، کوشش کریں کہ آپ کا خیال، اُس کا خیال بن جائے۔ آپ سے اپنے دل کی بات کرنے میں بچہ کو کوئی ہچکچاہٹ نہ ہو۔ وہ بلاتکلف اپنے مسائل آپ کے ساتھ شیر کرسکے۔ اپنے اسکول یا کالج کی مصروفیات کے بارے میں بتاسکے۔ اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالات آپ کے سامنے پیش کرسکے۔

اس عمر میں نصیحت، حکم ، اصول و ضوابط وغیرہ زیادہ کارگر نہیں ہوتے۔ اُلٹا ان کے خلاف بغاوت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ بے تکلف دوستانہ انداز اختیار کریں، کھل کر گفتگو کریں اور دلیل سے اس کو قائل کریں کہ اس کے لئے اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے؟ تو یقینا آپ کی بات موثر ہوسکتی ہے۔ یہ عمر خیالات کی تشکیل کی عمر ہے، اس عمل میں اس کی مدد کیجئے۔اچھے اور پاکیزہ خیالات و نظریات بنانے کے عمل کا حصہ بنئے۔دین اور دینی تعلیمات پر اس کے اعتقاد اور اعتماد کو مستحکم کیجئے۔ یہ کام بے تکلف بات چیت کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ اور اس کام میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ لڑکپن کی ابتدا ہی سے بلکہ اور پہلے سے آپ اپنے بچہ کے بے تکلف دوست بن جائیں۔تجسس اور مختلف چیزوں کو آزمانے کی نفسیات ، بعض اوقات خطرناک نتائج بھی پیدا کرتی ہے۔ اسی نفسیات کے نتیجہ میں بچے سگریٹ نوشی جیسی عادتوں کے یا غلط جنسی رویوں کے شکار ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ ان سب امور پر اُن سے کھل کر بات کرنے کی پوزیشن میں ہوں اور بات چیت کے ذریعہ اچھے رویوں کی طرف اُن کی رہنمائی کرسکیں تو غلط اور تباہ کن باتوں سے اُن کو بچایا جاسکتا ہے۔

دوستی کے لئے سب سے اہم چیز کمیونکیشن ہے۔ نوعمر بچوں کے ساتھ والدین کے کمیونکیشن کی بڑی اہمیت ہے۔ روزانہ کچھ وقت اپنے بچہ کے ساتھ بات چیت کے لئے فارغ کیجئے، خواہ یہ چند منٹ ہی کیوں نہ ہوں۔ رات میں سونے سے پہلے یا شام کی چائے پر چند منٹ بے تکلف بات کیجئے۔ اپنے بچہ کے ساتھ ہفتہ میں ایک آدھ بار کوئی ہلکی پھلکی سرگرمی اختیار کیجئے۔ کوئی گیم، یا ہوٹل میں فیملی ڈنر یا کوئی مشغلہ۔دِن میں کم از کم ایک دفعہ فیملی کے تمام ارکان کا مل کر کھانا بھی اس ضرورت کی تکمیل کرسکتا ہے۔

کمیونکیشن اور دوستانہ تعلق میں اس بات کی بڑی اہمیت ہے کہ آپ اپنے بچہ کی عزت کریں۔ اس کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔ نوعمری میں عزت نفس کو لے کر حساسیت بڑھ جاتی ہے۔ اگر آپ اس کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچائیں گے تو وہ کبھی آپ کا بے تکلف دوست نہیں بن سکتا۔ رسول اللہﷺنے بچوں کی عزت کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔’’ اکرموا اولادکم، واحسنوا ادبھم‘‘ یعنی اپنے بچوں کی عزت و اکرام کرو اور انہیں اچھا ادب سکھاو۔

۳۔ کن باتوں سے روکیں اور کیا نظر انداز کریں

اب آپ کا بچہ ایک آزاد شخصیت کا مالک بن جارہا ہے۔ اسکی پسند و ناپسند کا احترام کیجئے۔پسند و ناپسند کی تشکیل میں سنجیدہ دلائل کے ذریعہ اس کی مدد ضرور کیجئے لیکن ہر چھوٹے موٹے معاملہ میں اپنی پسند اس پر تھوپنے کی کوشش مت کیجئے۔ وہ کس کلر کے کپڑے پہننا چاہتا ہے؟ اپنے کمرہ کو کس طرح سجانا چاہتا ہے؟ کس وقت پڑھنا اور کس وقت کھیلنا چاہتا ہے؟ یہ اور اس جیسے دسیوں امور ہیں جن میں عام طور پر پسند و ناپسند بے ضرر ہوتی ہے۔ والدین خصوصا مائیں ان معاملات میں بھی اپنی پسند تھوپنا چاہتی ہیں۔ کوئی مخصوص لباس ان کو اچھا نہیں لگتا تو وہ چاہتی ہیں کہ وہ اُسے نہ پہنے جبکہ بچہ کو وہ لباس بہت پسند ہوتا ہے۔ ایسے معمولی اور بے ضرر مسائل پر بحث و تکرار بغاوت کے جذبات کو بھڑکاتی ہے۔

یہ بات یاد رکھیے کہ نو عمر بچوں پر آپ کو ویسا اختیارحاصل نہیں رہ سکتا جیسا چھوٹے بچوں پر ہوتا ہے۔ آپ چند ہی معاملات میں اُن سے اپنی بات منواسکتے ہیں۔ اس محدود اختیار کو زیادہ بڑے اور اہم معاملات کے لئے ریزرو رکھئے۔ اس اختیار کو اس وقت استعمال کیجئے، جب وہ کوئی غلط یا گناہ کا کام کرنا چاہے، یا کسی ایسی عادت یا رویہ کو اختیار کرنا چاہے جو اس کی آخرت کے لئے یامسقبل کے لئے یا صحت کے لئے نقصان دہ ہو۔آپ چھوٹی چھوٹی باتوں پر الجھتے رہیں گے تو ان بڑے معاملات میں مداخلت کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔

نئی چیزوں کو آزمانے کا اُس کا مزاج، اُس کی شخصیت کے ارتقا کے لئے ضروری ہے۔ اس کو مثبت رخ دیجئے۔ وہ اگر پہاڑ پر چڑھنا چاہیں، دوستوں کے ساتھ کسی جگہ کی سیر کرنا چاہیں، جِم جانا چاہیں،کسی نئی ریسٹورنٹ کا کھانا ٹسٹ کرنا چاہیں، تو مناسب احتیاطوں کے ساتھ انہیں کرنے دیجئے تاکہ یہی مزاج آئندہ سگریٹ کے مزہ کو ٹسٹ کرنے کی طرف راغب کرے تو آپ اپنے ویٹو کا اور روکنے کا محدود حق استعمال کرسکیں۔

۴۔توقعات کو واضح رکھیئے !

آپ اپنے بچہ سے کیا توقعات رکھتے ہیں، یہ اس پر اچھی طرح واضح ہوناچاہیے۔ یہ توقعات بہت زیادہ اور ہر معاملہ میں نہیں ہونی چاہئیں۔ بس اہم ترین معاملات میں ہونی اور بچہ پر واضح رہنی چاہئیں۔ عام طور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نو عمر بچے والدین کی توقعات کو پسند نہیں کرتے ،لیکن ایسا اس وقت ہوتا ہے جب آپ کی توقعات یا تو غیر حقیقت پسند ہوتی ہیں یا بہت سے معاملات سے متعلق ہوتی ہیں اور اس کے لئے آزادی بہت کم رہ جاتی ہے۔مسلمان والدین کو سب سے پہلے یہ بات اچھی طرح جتلادینی چاہیے کہ جن چیزوں کااسلام نے حکم دیا ہے، ان کے سلسلہ میں کوتاہی یا جن باتوں سے منع کیا ہے، ان کے قریب جانے کی کوشش کسی صورت قابل برداشت نہیں ہوگی۔ان امور کے سلسلہ میں حساسیت خود اس کے مزاج کا حصہ بن جانی چاہیے۔ کوشش کیجئے کہ چار پانچ بڑی بڑی توقعات( مثلا یہ کہ آپ کوفرائض کا پابند ہونا چاہیے، امتحانات میں اس سطح کے گریڈ لانا چاہیے، گھر کے ان چار پانچ اہم ضوابط کی پابندی کرنی چاہیے وغیرہ ) قائم کریں ۔ ہوسکے تو انہیں قائم کرنے میں بچہ سے بھی مشورہ کریں۔ اگر یہ توقعات پوری ہوجاتی ہیں تو خوش اور مطمئن رہیں۔اپنی خوشی اور اطمینان کا اظہار بھی کرتے رہیں۔ دیگر امور پر زیادہ سیریس رد عمل کا مظاہرہ نہ کریں۔

۵۔ دوستوں کو جانیں اور ان کے دوست بنیں!

نوعمری میں بچے سب سے زیادہ اثر اپنے ہمجولیوں کا قبول کرتے ہیں۔ آپ کا بچہ کس رخ پر جارہا ہے؟ اس کو جاننے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ آپ اُس کے دوستوں کو دیکھیں۔ اپنے مزاج اور رجحان کے مطابق بچہ دوستوں کا انتخاب کرتا ہے۔ اگر اس کے دوست صالح مزاج ہیں تو الحمد للہ آپ کے بچہ کے اندر بھی صالحیت۔ اچھی صحبت کی ضرورت ہر عمر کے انسانوں کے لئے ہے لیکن نو عمروں کو یہ ضرورت بہت زیادہ ہوتی ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نیک آدمی کی مثال اس شخص کی ہے جو مشک رکھے ہوا ہو، اگر تم کو اس سے مشک نہ مل سکے تو خوشبو تو مل جائے گی اور خراب آدمی کی دوستی وہم نشینی کی مثال بھٹّی دْھونکنے والے کی ہے، اگر تمہارا کپڑانہ جلے تو کم سے کم اس کے دْھوئیں سے نہ بچ سکو گے‘‘(صحیح بخاری)۔ والدین کی پہلی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنے ٹین ایجر کے دوستوں سے اچھی طرح واقف ہوں۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ وہ دوستو ں کے انتخاب میں اس کی مدد کریں اور تیسری ضرورت یہ ہے کہ وہ اس کے دوستوں کے دوست بنیں اور دوستوں پر بھی غیر محسوس طریقہ سے اثر انداز ہوں۔ وقتاً فوقتا ً بچہ کے دوستوں کو گھر پر بلانا ، اس کے دوستوں کی محفل میں چند منٹ بیٹھ جانا،ان کے ساتھ کھانا پینا اور ان کو تحائف دینا، ان کی کامیابیوں کو سلیبریٹ کرنا، دوستوں کو ان کے ناموں کے ساتھ یاد رکھنا، اچھے کاموں پر ان کی ستائش کرنا،اس طرح کے ہلکے پھلے اقدامات کے ذریعہ آپ اپنے بچہ کے دوستوں کے دوست بن سکتے ہیں۔

اچھی صحبت کے لئے ایک آسان راستہ یہ ہے کہ اپنے بچوں کو طلبہ اور نوجوانوں کی اسلامی تنظیموں سے وابستہ کرایئے۔ اس سے نیک بچوں کے درمیان وہ اٹھیں گے، بیٹھیں گے۔ ان کے مقاصد اور نظریات میں پاکیزگی آئے گی ۔ برائیوں اور بے حیائی کے کاموں سے محفوظ رہیں گے۔اور اچھے نو عمروں کے اچھے اثرات وہ قبول کریں گے۔ ان شاء اللہ۔

۶۔ پرائیویسی کا احترام اور مناسب نگاہ

ہر انسان اپنی زندگی میں کچھ پرائیویسی چاہتا ہے۔ ایک پرسنل اسپیس چاہتا ہے جس میں کوئی بھی مداخلت نہ کرے۔ یہ ضرورت اب آپ کے نوعمر بچہ کی بھی ہے۔ اب اگر آپ اس سے دن بھر کی مصروفیات کی منٹ بہ منٹ تفصیل پوچھنا شروع کریں تو وہ آزادی میں خلل محسوس کرے گا۔ اس کے ہر ای میل پیغام اور ہر میسیج کو آپ دیکھنے لگیں تواس سے بھی اس کو تکلیف ہوگی۔اور یہ احساس ہوگا کہ اس کے والدین اس پر اعتماد نہیں کرتے۔

لیکن دوسری طرف یہ بھی آپ کی ضرورت ہے کہ آپ اُس پر نگاہ رکھیں۔ دیکھیں کہ وہ کسی غلط راستہ پر تو نہیں جارہا ہے۔ انٹرنیٹ پر گمراہ ہونا تو نہایت آسان ہے۔ اس لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کی انٹرنیٹ پر سرگرمی کیا ہے۔

سمجھ دار والدین اس معاملہ میں توازن و اعتدال سے کام لیتے ہیں۔ نہ اس سے مکمل غافل ہوجاتے ہیں اور نہ اسے اپنا غلام بناکر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے بچہ کی مجموعی حرکات و سکنات کو نظر میں رکھئے، اس کے کردار اور رویہ سے باخبر رہئے اور روزمرہ کے چھوٹے معاملات میں اس پر اعتماد کیجئے اور آزادی دیجئے۔ بس یہ دیکھتے رہیے کہ کہیں ’خطرہ کی علامتیں‘Warning Signals تو ظہور پذیر نہیں ہورہی ہیں؟ ایسی علامتیں ظاہر ہونے لگیں تو مداخلت بڑھا دیجئے۔ ورنہ اس کے پرائیویسی کے حق کا احترام کیجئے۔اپنے بچہ کے اندر یہ یقین پیدا کیجئے کہ آپ اس پر اعتماد کرتے ہیں اس لئے اس کو آزادی دے رہے ہیں۔ اور یہ کہ، اگر اعتماد مجروح ہوگا تو آزادی بھی محدود ہوجائے گی۔

خطرہ کی علامتیں

نو عمر بچوں میں درج ذیل علامتیں خطرہ کی علامتیں سمجھی جاتی ہیں۔ ایسی کسی علامت کا ظہور ہو تو آپ کی توجہ بڑھ جانی چاہیے۔ آپ کو اس کی جڑ میں جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آپ خود مسئلہ کی جڑ سمجھ نہیں سکتے یا اسے حل نہیںکرسکتے تو کسی ماہر نفسیات کی مدد لینی چاہیے۔

۱۔ اچانک وزن کا تیزی سے کم ہونا یا بڑھنا: یہ کسی مرض کی بھی علامت ہوسکتی ہے اور عادتوں میں کسی بڑی تبدیلی کی بھی۔

۲۔ نیند کے مسائل، بے خوابی کی شکایت، اچانک دیر سے سونا شروع کرنا، راتوں میں گھنٹوں کمپیوٹر یا موبائل کے سامنے بیٹھنا۔صبح نہایت سست نظر آنا

۳۔ مزاج یا موڈ میں بڑی تبدیلی۔ اچانک چڑچڑا یا غصہ ور ہوجانا، بات چیت اچانک کم کردینا وغیرہ۔

۴۔ دوستوں کے حلقہ میں اچانک تبدیلی۔اچانک نئے نئے لوگوں کا ملنے آنایا ان سے فون پر بات ہوتے رہنا۔

۵۔ اسکول کے ناغوں کا بڑھ جانا۔ بغیر کسی معلوم وجہ کے اسکول ناغہ کرنا۔

۶۔ اسکول میں پرفارمنس کا اچانک گرجانا، امتحانوں میں ملنے والے نشانات میں بھاری گراوٹ۔

۷۔ خودکشی کا ذکر، (مذاق میں ہی سہی) خودکشی کے بارے میں کہنا۔

۸۔تمباکو، شراب یا ڈرگس کی علامات۔

۹۔ قانون شکنی

۱۰، رات میں دیر تک گھر سے باہر رہنا۔

ان میں سے بعض علامات، عام حالات میں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔ ان علامات کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا بچہ غلط راستہ پر ہے لیکن ان علامتوں سے اس کا امکان ضرور پیدا ہوجاتا ہے۔ سمجھ دار والدین ، ان علامتوں کے سلسلہ میں اپنے بچہ پر نظر رکھتے ہیں اور ایسی کوئی علامت دیکھتے ہیں تو فوری نوٹس لے کر اس کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

خصوصی توجہ کے متقاضی امور

۱۔ حیا و عفت: حیا اسلام کا شعار اور ایمان کا شعبہ ہے۔اس عمر میں حیا کا جذبہ پروان چڑھانے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ بچے اپنے لباس کے بارے میں حساس ہوں؛ نگاہوں کی حفاظت کریں، قرآن نے خاص طور پر حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کے کمروں میں داخل ہوتے وقت بھی اجازت لیا کریں۔ (اور جب تمہارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں تو چاہے کہ اْسی طرح اجازت لیکر آیا کریں جس طرح اْن کے بڑے اجازت لیتے رہے ہیں۔ سورہ نور آیت۵۹)

۲۔صنف مخالف سے تعلق:اس عمر سے پہلے عام طور پر لڑکوں اور لڑکیوں میں باہم میل جول پر پابندی نہیں ہوتی۔ بڑے ہونے کے بعد بھی بہت سے گھروں میں اس سلسلہ میں احتیاط نہیں برتی جاتی۔ ان نوعمروں سے عورتیں ،بچہ سمجھ کر مناسب فاصلہ نہیں رکھتیں۔کزن اور پڑوس کی لڑکیوں سے میل جول بچپن کی طرح ہی چلتا رہتا ہے۔ اسلام میںعورتوں اور مردوں کے درمیان مناسب فاصلہ کے جو احکام ہیں وہ بلوغ کے مرحلہ میں نافذ ہوجاتے ہیں۔ عورتوں کو بھی اس کا لحاظ کرنا چاہیے اور اپنے بچوں کو بھی اس کا عادی بنانا چاہیے کہ وہ اب عورتوں کے معاملہ میں اسلامی آداب کی پابندی کرنے لگیں۔گھر کے اندر بہنوں اور محرم خواتین سے بھی شریعت کی تعلیم کے مطابق مناسب فاصلہ اور احتیاط کی عادت ڈالنی چاہیے۔

۳۔وقت کا بہترین استعمال: 24گھنٹوں کا اگر صحیح استعمال کرنا وہ جانیں تو انکی تعلیمی کارکردگی پر مثبت اثر پڑھ سکتا ہے۔ وقت کا صحیح استعمال کرنے سے خود کے لیے بھی وقت نکالنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس وقت کو خاندان،دوستوں اوراپنی تخلیقی صلاحیتوںکے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ وقت کی تنظیم نماز کو بنیاد بناکر ہونی چاہیے۔

۴۔مثبت سوچ: بچہ کو ہمیشہ مثبت سوچ کا مالک بنایئے۔ اسکے مستقبل کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔ مثبت سوچ انسان کو ہمیشہ طمانیت دیتی ہے اور زندگی پُرامن ہوجاتی ہے۔

۵۔خود اعتمادی: بچوں میں خود اعتمادی پیدا کریں اس کے لیے انکی کچھ چھوٹی موٹی غلطیوں کونظر انداز کر کے انکی حوصلہ افزائی بھی کریں تاکہ ان میںیہ احساس پیدا ہوکہ وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

۶۔ارتکاز:بہت ساری الجھنوں کی بناء پر بچہ کہیںپر بھی اپنی توجہ مرکوز نہیں کرسکتا جسکا اثر اسکی تعلیم پر بھی پڑسکتا ہے۔ بچے کی الجھنوں کو دور کر کے اُس کو توجہ مرکوز کرنا سکھائیں۔ اور اسے فوکس کی تربیت دیں۔

۷۔ خود کا احترام: بچہ کوہمیشہ یہ تعلیم دیں کہ وہ اپنی عزت کرے، جب وہ اپنی عزت کریگا تو دنیا بھی اسکا احترام کرے گی۔

۸۔اچھی عادتیں: اس عمر میں عادتوں پر نگاہ رکھنا بہت ضروری ہے۔ بچپن میں قائم کی ہوئی بہت سی اچھی عادتیں اس عمر میں بگڑنے لگتی ہیں۔ بچے اپنے بڑوں کا احترام کریں، اچھی زبان استعمال کریں۔ پاک و صاف رہیں۔ نماز کی پابندی کریں اور اللہ سے تعلق مضبوط کریں۔ ان سب کی خصوصی تربیت ضروری ہے۔

email:[email protected]

website:www.innerpeacelife.com

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نازنین سعادتنو

Leave a Reply