ایک شمع جلانی ہے! (قسط ــ 19)

تنکوں کا گھر بنانے بجلی کے ساتھ نکلوں

جلتے چراغ لے کر آندھی کے ساتھ نکلوں

وقت دھیرے دھیرے وہی اپنی ازلی رفتار کے ساتھ گزرتا رہا، جب کہ غافرہ کو یوں محسوس ہوتا کہ وقت تو پر لگا کر گزرتا رہا ہے۔ ماویہ پانچ سال کی ہونے لگی تو ننھے یحییٰ کی آمد نے زندگی کو مزید خوشگوار اور مزید مصروف بنا دیا۔

ابتسام میں بھی بڑی تبدیلیاں آگئی تھیں۔ وہ خود بھی موبائل کے ساتھ بہت کم وقت گزارنے لگا تھا۔ کچھ اہم کام ہوتا تبھی سوشل نیٹ ورک استعمال کرتا۔ باقی نمازیں تو پڑھ ہی لیتا لیکن فجر کے لیے نہیں اٹھ پاتا تھا۔ مگر پھر ایک دن:

’’ابو ابھی آپ سات سال کے نہیں ہوئے نا۔۔۔!!‘‘

چار سالہ ماویہ نے اپنے حساب سے بڑا اہم سوال کر دیا تھا۔ اس کی بات پر ابتسام کو فوری قہقہہ چھوٹ گیا۔ وہ چھوٹی سی تھی ابھی۔ نمبروں میں چھوٹا بڑا زیادہ سمجھ نہیں پاتی تھی۔ ابتسام نے بہ مشکل اپنی ہنسی چھپائی تھی۔

’’کیوں بیٹا…؟‘‘

’’کیوں کہ امی کہتی ہے کہ سات سال کی عمر سے نماز فرض ہوتی ہے اور ساری نمازیں فرض ہی تو ہوتی ہے۔ ممی مجھے روز صبح صبح اٹھا دیتی ہیں فجر کے لیے اور کہتی ہیں کہ جب تم سات سال کی ہوجاؤگی تب تک تو ہماری بیٹی کو ایک دم پکی عادت ہوجائے گی اور اللہ بھی خوش ہوں گے اور جس سے اللہ خوش ہو جائے انہیں اللہ پاک بہت سارے اچھے اچھے سرپرائز دیتے ہیں…‘‘ ماویہ نے معصوم انداز میں رک رک کر اپنی بات کہی۔

’’لیکن ممی آپ کو نہیں اٹھاتیں … آخر آپ کو بھی تو عادت ہونی چاہیے نا تاکہ جب ہم دونوں سات سال کے ہوجائیں گے تب ہم مل کر نماز کے لیے اٹھیں گے۔۔۔‘‘ حسب عادت اس نے جھٹ سے اپنے ابو کے ساتھ ٹیم بنالی۔ وہ بھی یہ سمجھ ہی نہیں پائی کہ اس کی اس بات پر سامنے کھڑا اس کا باپ شرمندگی کے کس مقام سے گزر رہا ہے۔

غافرہ اکثر اسے نماز کے لیے اٹھاتی رہتی مگر یا تو وہ اٹھتا ہی نہیں تھا یا پھر ٹال دیتا تھا۔ لیکن اب وہ جانتا تھا کہ وہ ایسا نہیں کرسکے گا اور پھر ہوا بھی یہی کہ اگلے دن سے وہ اسی وقت اٹھ جاتا جب غافرہ ماویہ کو آواز دیتی اور پھر وہ خود ہی ماویہ کو اٹھاتا… یہ روٹین اب اسے سب سے زیادہ عزیز تھی۔

کچھ دن ابتسام نے گھر میں نماز پڑھی ماویہ کے ساتھ اور پھر قریبی مسجد سے فجر کا وقت معلوم کر کے اگلے دن وہ صبح نماز کے لیے مسجد جانے لگا تو ماویہ بھی ضد کرنے لگی۔

’’بیٹی… لڑکیاں گھر میں نماز پڑھتی ہیں، ابو مسجد میں جائیں گے اور آپ اور میں گھر میں نماز پڑھیں گے۔‘‘ غافرہ نے اسے محبت سے سمجھانا چاہا۔

’’جھوٹ… اس دن تو وہ موبائل والی آنٹی کہہ رہی تھیں نا کہ کبھی کبھی فجر کے وقت محمدؐ اپنی نماز چھوٹی پڑھ لیتے اگر کسی عورت کا بچہ ستا رہا ہوتا تو اور یہ کہ لڑکیوں کو گھر میں ہی نماز پڑھنا چاہیے لیکن اگر وہ مسجد میں آنا چاہیں تو انھیں کوئی روک بھی نہیں سکتا۔

وہ یہ سب ضد کرتے کرتے ہی کہہ گئی لیکن غافرہ اور ابتسام شاکڈرہ گئے تھے۔ غافرہ کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ جو فرصت کے اوقات میں وہ فرحت ہاشمی اور دیگر اسکالرس کے لیکچرز سنا کرتی ہے وہ ماویہ کے ذہن میں بھی محفوظ ہو رہے ہیں… اور ان دنوں تو غافرہ حمل سے تھی تو جب کبھی وہ تھکی ہوئی ہوتی یا فرصت مل جاتی تو وہ لیپ ٹاپ پر قرآن لگا کر سننے لگتی۔ ان سات آٹھ ماہ میں تقریباً دو مرتبہ وہ مکمل قرآن مع ترجمہ و تفسیر سن چکی تھی اور خود بھی قرآن کی تلاوت کرتی رہتی۔ وہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی اس آنے والی زندگی کو ان لفظوں سے مانوس کروانا چاہتی تھی جو زندگی دیتے ہیں۔

ماویہ کے اس جواب نے ان دونوں کو ہی لاجواب کر دیا تھا کہ آج کل کے بچے اوور اسمارٹ ہوگئے ہیں۔ اور اگر ان کی اسمارٹنس اس انداز کی ہو تو پھر نظر اتارنی چاہیے ایسی اسمارٹ نس کی۔

غافرہ نے ماویہ کو تیار کر دیا۔ اب وہ روزانہ اسکارف اور سوئٹر پہنے ابتسام کے ساتھ مسجد جاتی اور اس کے لیے وہ بہت ایکسائیٹیڈ رہتی تھی۔ دھیرے دھیرے وہ اس روٹین کی اتنی عادی ہوگئی کہ کسی دن غافرہ کی آنکھ نہ کھل پاتی، ابتسام نہیں اٹھ پاتا لیکن اپنے مقررہ وقت سے دس منٹ پہلے سے ہی ماویہ کی نیند کچی ہونے لگ جاتی اور وہ اپنے روزانہ کے وقت پر اٹھ کر بیٹھ جاتی اور اس کی چلبل ہلچل سے غافرہ کی نیند خود ہی کھل جاتی۔

اگر کسی نے کہا تھا کہ 21/90 کا ایک rule ہوتا ہے کہ :

It Takes 21 days to build a habit and 90 days to build a life style.

تو سچ کہا تھا… شروعات میں چیزوں کے لیے بڑی محنت لگتی ہے لیکن جب وہ روٹین کا حصہ بن جائیں تو پھر چیزیں آسان ہوجاتی ہیں لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس شروعات کی محنت اور ناکامی سے اتنا دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں کہ پھر اس کام کو چھوڑ ہی دیتے ہیں لیکن ذرا ایک بار 21/90 کے ruleکو بھی موقع دے کر دیکھیں!

…٭…

اک تیرے کن کے یقین پہ

میں نے مانگی ہیں دعائیں بہت

یحییٰ کی آمد نے جہاں اسے ایک خوش گوار سا احساس دیا تھا وہیں وہ بہت فکر مند رہنے لگی تھی کہ دونوں بچوں کو سنبھالنا اور پھر یحییٰ کے لیے بھی ان ہی اصولوں کو followکرنا جو اس نے ماویہ کے لیے کیے تھے، اس کی ذمہ داریوں کو بڑھا رہا تھا۔ ایک طرف یحییٰ ہر چیز سے نیا نیا introduceہو رہا تھا وہیں ماویہ بھی عمر کی منزلیں پھلانگ رہی تھی۔

لیکن وقت نے اسے حیران کر دیا تھا۔ماویہ اس کا بہت سا کام ہلکا کر دیا کرتی تھی… ماویہ پر اس کی کی گئی محنت بیکار نہیں گئی تھی… اور یحییٰ سے صحیح معنوں میں اگر کوئی بحث میں جیت سکتا تھا تو وہ صرف ماویہ ہی تھی کیوں کہ کبھی کبھی غافرہ اور ابتسام بھی اس کے logics اور سوالوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے تھے۔

یحییٰ بہت سے کام ماویہ کے دیکھا دیکھی کرتا تھا، حتی کہ وہ ایک بار اسکارف پہننے کی ضد تک کرنے لگا۔

’’یحییٰ… یہ لڑکے نہیں پہنتے…‘‘ غافرہ نے اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔

’’یہ لڑکا، لڑکی کچھ نہیں ہوتا، سب انسان برابر ہوتے ہیں۔‘‘ اس نے ضد میں چلاتے ہوئے کہا تو ہوم ورک مکمل کرتی ماویہ سر پیٹ کر رہ گئی۔‘‘ ممی کی کہی باتوں کو یہ یحییٰ کہاں سے کہاں جوڑ دیتا ہے…‘‘ اس نے بیگ پیک کرتے ہوئے سوچا اور پھر آواز لگائی۔

’’ممی… آپ کھانا نکالیے ہمارے لیے! ہم دونوں ابھی آتے ہیں۔‘‘ مطلب یہ کہ اب محاذ ماویہ سنبھالنے والی ہے۔

’’بھائی میرے! ہوتے تو سب انسان برابر ہے لیکن کچھ کام لڑکیوں والے ہوتے ہیں جیسے اسکارف پہننا۔‘‘ ماویہ نے اپنے لیول پر ٹوٹی پھوٹی کوشش کی۔

’’اچھا… مگر کیوں… آپ کیوں پہنتی ہیں اسے۔‘‘ یحییٰ نے اپنا پسندیدہ سوال کیا… ’’کیوں‘‘؟

’’تاکہ … آ … کیوں کہ یہ اللہ کو پسند ہے…‘‘

’’اور …‘‘

’’اور… بس نا یحییٰ اللہ کو پسند ہے تو اور کیا…!‘‘ ماویہ نے اب قدرے غصے سے کہا…

’’تو آپی … اور …‘‘

’’اور یہ کہ ہمیں مطلب لڑکیوں کو اپنے بال ایسا سب کو نہیں بتانا چاہیے اور نہ ہی کھلے سر باہر نکلنا چاہیے…‘‘ ماویہ نے سوچتے ہوئے جواب دیا۔

’’کیوں…؟‘‘ آہ یہ یحییٰ بھی نا!‘‘

’’کیوں… اچھی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہے اور میں گڈگرل ہوں، اس بار ماویہ نے اچھا بچہ، گندا بچہ والا جواب دیا جو بچوں میں سب سے زیادہ عام ہے۔

’’مجھے بھی گڈ بوائے بننا ہے، اور اپنے بال سب کو نہیں دکھانا نا، اور ویسے بھی نانی امی کہہ رہی تھی کہ میرے بال بہت پیارے ہیں بالکل نظر لگ جاتی ہے تو اسی لیے مجھے اسکارف پہننا ہے…‘‘ ساری گفتگو کا حاصل وہی ڈھاک کے تین پات والا تھا…

’’یحییٰ اسکارف کے ساتھ پھر میچنگ فراک اور ہیر بینڈ بھی پہننا ہوتا ہے…‘‘ ماویہ نے بڑے مزے سے کہا تو یحییٰ ہچک گیا۔

’’آپی فراک گرلز پہنتی ہے…‘‘ اس نے چلا کر کہا۔

’’تو بھائی میرے … جب سے تمہیں میں کیا سمجھا رہی ہوں کہ جس طرح فراک صرف گرلز پہنتی ہیں اسی طرح اسکارف بھی صرف گرلز ہی پہنتی ہیں۔‘‘

’’بالآخر یحییٰ کے بات سمجھ میں آتو گئی تھی لیکن مسئلہ پھر بھی برقرار تھا۔

’’تو پھر میں کیا پہنوں…‘‘

’’ٹوپی … وہ نماز والی ٹوپی پہن لیا کرنا…‘‘

’’وہ جالی والی …‘‘

’’ہاں ہاں وہی…‘‘

’’اچھا آپی ایک بات سنئے نا!‘‘ اور پھر سے یحییٰ کے کیوں والے سوال شروع تھے۔

لیکن غافرہ ایک بات بہتر طریقے سے سمجھ گئی تھی کہ راحت ملتی ہے بعد کلفت … یہ اللہ کا فضل ہوتا ہے، اس کا رحم و کرم ہوتا ہے کہ بچے بچوں سے زیادہ attract ہوتے ہیں۔ اگر پہلی اولاد کی تربیت بہتر سے بہتر کی جائے تو گھر میں اوور اینڈ آل ایک ماحول دوسرے بچوں کو مل ہی جاتا ہے۔ مراحل قدرے آسان ہوجاتے ہیں۔

ہر بچہ اپنی فطرت میں الگ ہوتا ہے، مزاج میں الگ ہوتا ہے، لیکن اللہ سے محبت اور اللہ کا خوف ہر انسان کی گھٹی میں ہوتا ہے، بھلے ہی وہ کیسے ہی مزاج کا ہو او رکیسی ہی فطرت کا ہو۔ کوئی ابو بکر ہوتا ہے نرم مزاجی میں اور کوئی عمر ہوتا ہے غصہ والا۔ لیکن جہاں معاملہ اللہ کا ہو وہاں مزاج پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بچوں کی تربیت کے لیے مزاج کو وجہ کے طور پر پیش کرنا ہمیں چھوڑنا ہوگا اور اگر مائیں ہی بچوں کے مزاج کو سمجھ کر انہیں بہتر طریقہ سے بہتری کی طرف نہ موڑیں تو پھر بندہ امید بھی کس سے کرے!

…٭…

دھیرے دھیرے وقت کی تھال میں لمحوں، یادوں، صبر اور جدوجہد کے موتی گرتے گئے اور اپنی کھنک پیچھے چھوڑتے گئے… یحییٰ پانچ سال اور ماویہ دس سال کی ہوگئی تھی۔

اسکول میں بچوں کے ایڈمیشن کے بعد غافرہ کو لگنے لگا تھا کہ اس کی ذمے داری بہت بڑھ گئی ہے۔ اسکول وہ جگہ ہوتی ہے جہاں بچہ اپنے دن کا بڑا وقت گزارتا ہے۔ اچھے معیاری اردو میڈیم اسکول جہاں قصہ پارینہ بن رہے ہیں وہیں اسکولس میں اخلاقیات دینیات کا پیریڈ بھی قصہ پارینہ بن گیا ہے اب تو ہر جگہ کانونٹ اسکول ہے جو زیادہ تر عیسائی مشنریز چلاتی ہیں اور مخلوط تعلیمی نظام عام ہوگیا ہے۔

غافرہ تو بس خواب ہی دیکھتی رہ گئی کہ کوئی ایسا اسکول ملے جہاں بچوں کو ایک بہتر ماحول اور کلچر ملے۔ وہ مخلوط ادارہ نہ ہو، معیاری اور بہترین تعلیمی نظام ہو، دینیات اور اخلاقیات کا کوئی علیحدہ پیریڈ ہو۔ مگر خواب تو بس خواب ہی ہوتے ہیں نا! خیر اچھی اور معیاری تعلیم کے لیے یہ گھونٹ تو پینا ہی تھا لیکن اب غافرہ کے لیے ایک اور مشکل مرحلہ سامنے تھا۔

مخلوط تعلیمی نظام اور عیسائی مشنریز کے ذریعے چلائے جانے والے اسکول میں بچے عید سے زیادہ کرسمس کا انتظار کرتے کہ چھٹیاں بھی زیادہ ملتی ہیں اور تحائف بھی۔ اسے اپنے بچوں کو ان کی حدود بھی بتاتی تھیں اور انہیں ان کے دین فطرت اور تاریخ سے بھی جوڑے رکھنا تھا۔ تو اب وہ گھر پر قریباً دو گھنٹوں کا ایک سیشن رکھتی تھی۔

صبح فجر میں اٹھنے کی عادت ماویہ کی تو پکی ہوگئی تھی البتہ یحییٰ اکثر سستی دکھا دیتا۔ ماویہ نے اسے ویسے ہی سمجھانا چاہا تھا جیسے کبھی غافرہ نے اسے سمجھایا تھا کہ نماز تو سات سال میں فرض ہے لیکن پہلے سے ہم پڑھنے لگے تو عادت بن جاتی ہے، اللہ کو پسند آتا ہے اور اللہ ہمارے لیے بہت سے اچھے سرپرائز ہمیں دیتا ہے لیکن وہ بھی یحییٰ تھا اپنے نام کا ایک الگ بیس!

’’آپی… مما ہی تو کہتی ہیں نا کہ ہر چیز کاایک وقت ہوتا ہے او رچیزیں اپنے وقت پر ہی کرنی چاہئیں پھر یہ عادت وادت کا کیا ہے اور مجھے کوئی سر پرائز کا لالچ نہیں ہے کیوں کہ لالچ بری بلا ہے۔‘‘ یحییٰ نے منہ بناتے ہوئے کہا تو ماویہ اس کا منہ دیکھتی رہ گئی۔ اب جب اتنی ذہانت کے ساتھ کوئی بات کرے تو کوئی کیا کہے۔

یحییٰ کو بھی بہن کے تاثرات سمجھ آگئے تھے شاید۔

’’آپی آپ پریشان نہ ہوں مانا کہ میری باتیں بالکل صحیح ہیں لیکن اب ماں باپ کی بات بھی تو سننا پڑتی ہے نا… اور بڑوں کی بات بھی سننا ہی پڑتی ہے تو صبح تو اٹھنا ہی پڑے گا۔‘‘ یحییٰ کی باتیں بس یحییٰ ہی سمجھے۔

خیر تو یحییٰ بھی فجر کو اٹھ ہی جاتا… فجر کے بعد کا ایک گھنٹہ وہ خود ہی دونوں کو قرآن پڑھاتی، ترجمہ پڑھاتی اور پھر ان کے اسکول کی تیاری کے ساتھ ساتھ انھیں ہلکے پھلکے انداز میں تفسیر سمجھاتی، اسے ان کی روٹین سے relate کرواتی، کوئی ایک حدیث بتا دیتی… اور شام میں سونے سے پہلے تاریخ اسلام، انبیا، سیرت رسولؐ و صحابہ کے واقعات سناتی…

یوں دونوں بچوں کے ذہن میں شعوری یا لاشعوری طور پر یہ باتیں اور یہ واقات محفوظ ہوتے جاتے تھے۔ ماؤں کو چاہیے کہ بچوں کی ہر وقت، ہر بات پر بہتر طریقے سے بھلائی کی بات بتاتی رہیں۔ یہ کہہ کر نہ چھوڑ دیں کہ مانتا ہی نہیں اس لیے اب تو میں نے بھی کہنا چھوڑ دیا ہے۔‘‘

نہیں… ہر وقت یہ نہ کرو، وہ نہ کرو، پر بچہ چڑھ جاتا ہے، ٹھیک ہے کرلو لیکن … اور اس لیکن کے ساتھ اسے خوف خدا دیا جائے یا اللہ کی محبت، جہنم کا ڈر یا جنت کا شوق یا جو بھی بہتر انداز سمجھے وہ، اس انداز میں…‘‘

یہ باتیں ان کے ذہنوں میں محفوظ ہوجاتی ہیں اور زندگی کے مرحلے میں کہیںنا کہیں انھیں یاد آتی بھی ہیں اور انھیں خود پر عمل کرنے پر مجبور بھی کرتی ہیں۔l

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد

Leave a Reply