اچھا انسان

بیماری کا اثر اس سے زیادہ شرمندگی کا احساس۔ اسی وجہ سے صحیح الفاظ ادا نہیں ہو رہے تھے۔ ٹوٹے پھوٹے بلکہ کٹے پھٹے الفاظ میں شفیع الدین معافی کے طلب گار تھے۔ آنسو بہ رہے تھے۔ چھوٹی بھاوج سے نظریں ملانا آسان نہیں تھا۔ احساس جرم نے ان کی حالت عجیب سی کردی تھی۔ نظریں اٹھا کر فریدہ بیگم کی طرف دیکھتے اور نظریں خود ہی نیچی ہوجاتیں۔ گاؤ تکیے کے سہارے بیٹھے بلکہ بیٹھے بھی کیا نیم دراز تھے۔ فریدہ بیگم کا پرنور چہرہ عاجزی کے تاثرات لیے ان کے سامنے تھا۔ نظریں جھکائے سوتی دو پٹہ سر پہ نماز کی طرح لپیٹے وہ بار بار یہی کہہ رہی تھی ’’نہیں بھائی جان… بھائی جان آپ… آپ بس دعا دیا کریں اور بس!‘‘

’’اللہ پاک تمہیں دنیا جہان کی خوشیاں عطا فرمائے۔ زندگی کی ہر ہر خوشی بخشے، تم پر اللہ کی رحمت ہو فریدہ! مگر ایک بار کہہ دو تم نے مجھے معاف کیا۔ خدارا مجھے معاف کردو۔‘‘

وقت کا دھارا کیا کیا بہالے جاتا ہے، کیسے کیسے گوہر گہرائی سے اوپر آجاتے ہیں۔ شفیع الدین چار بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ پیسے کی افراط نے مزاج خاصا بگاڑ دیا تھا۔ ایف اے کے بعد پڑھائی سے دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ رک گیا۔ البتہ زمین داری کے کاموں میں خوب دماغ چلتا تھا۔ لہٰذا باپ کے معاون بنے رہے۔ زمین داری کے تمام گر سیکھ لیے اور باپ کے انتقال کے بعد کل جائداد کے مالک بن بیٹھے۔ کل کاروبار اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ تینوں بھائی تعلیم میں مشغول رہے، دو کی تعلیم تقریباً مکمل ہوچکی تھی۔ چھوٹا بھائی ان سے دس سال چھوٹا تھا۔ گریجویشن کر رہا تھا، وکالت پڑھنے کا ارادہ تھا۔ والد کے انتقال کے بعد درمیان والے دونوں بھائی جائداد کی طرف متوجہ ہوئے، تو بڑے بھائی کی طر سے حکم ہوا: ’’جائداد کی دیکھ بھال میری ذمہ داری ہے تمہارے بس کی بات نہیں، تم ملازمت تلاش کرو۔ سب ایک کام میں لگ جائیں گے یہ ٹھیک نہیں۔‘‘ شفیع الدین کا انداز کچھ ایسا تھا کہ دونوں خاموش ہوگئے اور روزگار کی تلاش میں لگ گئے۔ ماں سیدھی سادی خاتون تھیں ان معاملات کو سمجھ نہیں سکیں سو خاموش رہیں۔

معیزالدین سب سے چھوٹے اور لاڈلے ہونے کے باوجود فطرتاً بہت نیک طبیعت اور غریب پرور تھے۔ ماہانہ تعلیمی اخراجات کے لیے معیز کو ان کے والد کچھ رقم علیحدہ سے دیتے تھے اور معیز کا حال یہ تھا کہ اپنی ضروریات پوری ہونے کے بعد جو رقم بچ جاتی کسی ضرورت مند کو دے دیتے۔کبھی کسی غریب ساتھی کی فیس ادا کردی، کبھی کسی کے گھر راشن ڈلوا دیا، کسی بیمار کا پتا چلتا، تو علاج کے لیے رقم دے جاتے۔ ان کے اس مزاج سے سب ہی واقف تھے۔ ان کے برعکس بڑے بھائی شفیع الدین جو شادی شدہ اور تین بچوں کے باپ تھے جائداد کا نظام ہاتھ میں آتے ہی لالچ میں مبتلا ہوگئے۔ جب آمدنی آتی آدھی تو گھرانے کے لیے ہوتی اور آدھی رقم ان کے اکاؤنٹ میں جمع ہوجاتی۔ بھائیوں نے اندھا اعتماد کیا اور اس بات پر بالکل توجہ نہیں دی۔ معیز الدین تو سب سے چھوٹے تھے لہٰذاماں انھیں بالکل بچہ ہی سمجھتی رہیں۔

محلے میں ایک گھر کسی خاتون نے کرائے پر لیا۔ ان کے ساتھ دو لڑکیاں بھی تھیں۔ تینوں سخت پردہ میں رہتیں، صرف وہ خاتون کبھی کبھی ایک دکان پر خورد و نوش کا سامان خریدنے جاتیں۔ اس کے علاوہ ان کو گھر سے باہر کسی نے نہیں دیکھا۔ محلے والے حیران تھے کہ یہ خواتین کہاں سے آئی ہیں اور کون ہیں؟ صرف ایک آدمی مہینے ڈیڑھ مہینے کے بعد آتا، ایک گٹھڑی پہنچا جاتا اور ایک لے جاتا۔ رفتہ رفتہ لوگوں پر یہ عقدہ کھلا کہ یہ ماں بیٹیاں کپڑوں پر کڑھائی کا کام کرتی ہیں۔ کوئی گھر پر ہی کام دے جاتا ہے، تیار مال لے جاتا ہے۔

کچھ عرصہ بعد معیز کو کسی دوست نے بتایا کہ وہ برقع والی خاتون دکان سے گھر کا راشن لے گئی ہیں اور ادھار کے رجسٹر میں اندراج کرا گئی ہیں۔ محلہ میں خاتون کا کسی سے ملنا جلنا نہیں تھا شاید اسی وجہ سے ہر ایک ہی ان کی ٹوہ میں لگا ہوا تھا۔ دوسرے مہینے پھر دکاندار سے سامان لیا مگر مکمل ادائیگی نہ کر سکیں۔ دکاندار نے احسان جتانے والے انداز میں سامان تو دیا مگر یہ نوٹس بھی دے دیا کہ اگلے مہینے پچھلی رقم جمع کرائے بنا سامان نہیں ملے گا۔ یہ خبر بھی معیز کے کسی دوست نے دی۔

معیز نے گلی سنسان دیکھی تو ان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ دروازہ خاتون نے کھولا معیز نے بڑی تیزی سے ایک لفافہ ان کے ہاتھ میں پکڑایا اور تیزی سے پلٹ گیا۔ خاتون نے آواز دی ’’بیٹا! رک جاؤ کون ہو؟‘‘ مگر وہ ان سنی کر کے نکل گیا۔

دوسرے مہینے پھر وہ ان کے دروازہ پر کھڑا تھا۔ خاتون نے دروازہ کھولتے ہی سوال کر ڈالا ’’کون ہو بیٹا! کس نے بھیجا ہے تمہیں؟‘‘

’’مجھے کسی نے نہیں بھیجا۔ آپ کا محلے دار ہوں۔ پڑوسیوں کا بڑا حق ہے اس لیے آیا ہوں۔‘‘ ساتھ ہی لفافہ ان کی طرف بڑھا دیا۔ وہ ناں ناں کرتی رہ گئیں۔ مگر معیز لفافہ ان کی طرف اچھال کر تیزی سے پلٹ گیا۔ تقریباً پانچ ماہ یہ سلسلہ جاری رہا۔ پھر ایک روز اس خاتون نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور بتایا ’’ہمیں پھر سے کام ملنا شروع ہوگیا ہے جو کام لاتا تھا وہ بیماری کی وجہ سے اس عرصہ میں نہیں آسکا۔ اب اللہ کے فضل سے وہ ٹھیک ہوگیا ہے۔‘‘

مگر اتنا ہوا کہ انہیں اس عرصہ میں معیز کا نام معلوم ہوچکا تھا اورمعیز کو بھی ان کے متعلق کچھ معلومات مل چکی تھیں۔ وہ خاتون در اصل بازار حسن سے اپنا پیشہ چھوڑ کر نکل آئی تھیں۔ شریفانہ زندگی گزارنا چاہتی تھیں۔ نام ریحانہ تھا، دونوں بیٹیوں کو اس غلاظت سے بچا کر نکلی تھیں اور چاہتی تھیں وہ دونوں ہمیشہ اچھی اور صاف ستھری زندگی گزاریں۔ ایک رات خاموشی سے اپنی بیٹیاں اور جمع پونجی لے کر فرار ہوگئیں۔ اسٹیشن پہنچیں، ریل میں سوار ہوئیں، ٹکٹ کہیں اور کے لیے اور درمیان میں کسی دوسرے شہر اتر گئیں۔ یہی شہر جس میں اب رہائش تھی۔

شفیع الدین وہ رقم بھی بچانا چاہتے تھے جو معیز پر خرچ ہو رہی تھی۔ معیز قانون کی تعلیم حاصل کر رہے تھے دوسرا سال تھا۔ شفیع الدین کو ایک موقع مل ہی گیا۔ کسی نے انہیں بتایا کہ کرائے پر جو عورتیں رہ رہی ہیں معیز کا وہاں آنا جانا ہے، بس پھر کیا تھا۔ یہ چھان بین کی گئی کہ یہ کون عورتیں ہیں جن کا کوئی آگے ہے نہ پیچھے اور شفیع الدین نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ معیز پر بدکرداری کا الزام لگایا گیا۔ رقم کے ’’بے جا‘‘ استعمال پر لعن طعن کی گئی اور آخری حربہ یہ تھا کہ معیز کو گھر سے نکل جانے کا کہہ دیا گیا کیوں کہ بھتیجوں کے بگڑ جانے کا خدشہ تھا۔ ماں کو معیز کے متعلق ایسی شرم ناک کہانی سنائی گئی کہ وہ دل پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ اتنا صدمہ ہوا کہ جان لے گیا۔

معیز ان دنوں لا کالج کے آخری سال میں تھا۔ اخراجات کے لیے دی جانے والی رقم بند کردی گئی۔ چند جوڑے کپڑے اور کتابیں، یہ کل اثاثہ تھا جو دے کر وہ گھر سے باہر کردیے گئے۔ ایک دوست نے ساتھ دیا، رہنے کو ٹھکانہ فراہم کیا اور اپنے گھر میں ایک کمرا خالی کر دیا، ساتھ ہی کھانے پینے کی پریشانی کا مسئلہ بھی حل کر دیا۔ مگر تعلیمی اخراجات کیسے پورے ہوں گے یہ تلوار ان کے سر پہ لٹک رہی تھی۔ نوکری کی تلاش شروع کردی مگر ایسی ملازمت نہیں ملی کہ ساتھ میں پڑھائی کے لیے وقت مل سکے۔ ایک روز مغرب کی نماز کے بعد مسجد سے باہر نکلا، تو ایک بچہ چھوٹا سا ایک پرچہ پکڑا کر چلا گیا۔ ریحانہ بیگم نے انہیں اپنے گھر بلایا تھا۔ پہلے تو شش و پنج میں رہا کہ جائے نہ جائے مگر دوسرے روز ان کے دروازے پہ جاپہنچے اور ریحانہ بیگم نے خلاف معمول انہیں اپنے گھر کے اندر بلا لیا۔ صحن میں دو چار پائیاں پڑی تھیں۔ معیز حیران ایک پر جا بیٹھا۔ ریحانہ کو شاید ان کے ساتھ گزرنے والا سارا واقعہ معلوم ہوچکا تھا۔

’’معیز بیٹا! تم نے جو احسان ہم پر کیا ہے اس کا بدلہ کرنے کی توہماری اوقات نہیں۔ اگر میرا کوئی بیٹا ہوتا تو یقینا تمہاری عمر ہی کا ہوتا۔ تم سے یہ درخواست ہے کہ تم مجھے یہ حق دے دو کہ میں تمہیں بیٹا سمجھ سکوں۔‘‘

’’اس میں اجازت کی کیا بات ہے آپ ایسے کیوں کہہ رہی ہیں؟ معیز الدین کچھ نہ سمجھتے ہوئے بے ساختہ کہا۔

’’تو پھر میں ماں ہونے کا حق رکھتی ہوں نا؟‘‘ ریحانہ بیگم مسکرائیں۔

’’جی بالکل آپ میرے لیے ماں جیسی ہی ہیں۔‘‘

ریحانہ نے ایک تھیلی معیز کی طرف بڑھائی اور کہا: ’’مجھے معلوم ہے تمہاری تعلیم جاری ہے، تمہیں رقم کی ضرورت ہے، یہ قرض حسنہ سمجھ کر رکھ لو جب کمانے لگوتو آہستہ آہستہ واپس کر دینا۔‘‘

معیز دم بخود بیٹھے ریحانہ بیگم کا منہ تک رہے تھے۔

’’لے لو بیٹا!‘‘

’’نہیں… نہیں میں نوکری ڈھونڈ رہا ہوں ہوجائے گا بندوبست۔‘‘

’’میں جو کہہ رہی ہوں ماں ہونے کا حق لیا ہے میں ے تم سے اب انکار نہ کرنا۔‘‘

معیز آنکھوں میں آنسو بھرے مگر بہنے سے روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے سر جھکائے بیٹھا تھا۔ آنسو ٹپ ٹپ گود میں گرے۔ ریحانہ بیگم تڑپ کر آگے بڑھیں، معیز کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا اسے تھپکتے ہوئے بولیں ’’معیز یاد کرو بیٹا، جب تم مجھے رقم پہنچانے آیا کرتے تھے اور میں نے انکار کیا تھا، تو تم نے کیا کہا تھا… تم نے کہا تھا یہ میں نہیں لا رہا ہوں اللہ پاک بھیج رہا ہے۔ میں تو صرف وسیلہ ہوں تو بیٹا آج بھی یہی سمجھو تمہیں مجھ سے کوئی طلب نہیں تھی اور مجھے تم سے نہیں ہے۔ یہ تو حقوق العباد کا معاملہ ہے۔ انسانیت کا تقاضا ہے انکار نہ کرو میرے بچے۔‘‘

معیز نے وہ تھیلی لی، خاموشی سے گھر سے باہر آگیا۔ تھیلی میں زیور تھے، زیور زیادہ تھے رقم کم مطلوب تھی۔ لہٰذا اپنی ضرورت پوری کرکے باقی زیور اپنے پاس محفوظ کرلیے۔

سال گزر گیا۔ گھر سے رابطہ صرف اتنا رہا جب بھی اس سے بڑے دونوں بھائی گھر آتے اس سے ملنے ضرور آتے۔ دونوں ہی مختلف شہروں میں ملازمت کر رہے تھے۔ نتیجہ آیا اور معیز کی ایل ایل بی کی تعلیم مکمل ہوئی۔ عدالت سے ناتا جوڑا تو اللہ پاک نے جیسے ہاتھ پکڑ لیا۔ پچھلی محرومی کا ازالہ اللہ نے ایسا کیا کہ ہر ہر قدم پر کامیابی ملی۔

دو سال بعد وہ ریحانہ بیگم کا بچا ہوا زیور اور جتنا بیچا تھا اس سے زیادہ وزن کا نیا زیور بنوا کر ایک بار پھر ریحانہ بیگم کے درازے پر جا پہنچا۔ دو پٹہ میں چہرہ چھپائے ایک لڑکی نے دروازہ کھولا اس کو معیز نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ چہرہ تو اب بھی نہیں دیکھا دو پٹہ میں چھپا ہوا تھا، بلانے پر اندر گیا۔ ریحانہ بیگم چار پائی پر لیٹی تھیں۔ خیر و عافیت دریافت کی۔ معیز نے اس دوران نہ آنے پر شرمندگی کا اظہا رکیا نہ آنے کی وجہ ہی بتائی۔ ’’میں مقروض تھا آپ کے سامنے سر اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ آج وہ قرض حسنہ جو آپ نے مجھے بن مانگے دیا تھا لوٹانے آیا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر زیور کی وہی پوٹلی جو کبھی لے گئے تھے ان کے سرہانے پر رکھ دی۔ پھر جھجکتے ہوئے بولا: ’’ایک درخواست ہے۔‘‘

’’بولو بیٹے بولو۔‘‘

’’آپ نے مجھے بیٹا کہا تھا۔ آج میں چاہتا ہوں آپ میری ماں بن جائیں۔‘‘

ریحانہ بیگم کی آنکھیں اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ پھر بولا ’’میری سمجھ میں نہیں آتا کیسے وضاحت کروں؟ آپ … آپ… آپ اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کردیں۔‘‘ یہ جملہ اتنی جلدی میں کہا کہ حیران ہوتی ریحانہ بے اختیار ہنس پڑیں اور پھر ایک دم خاموش ہوکر معیز کا چہرہ تکنے لگیں۔ کچھ دیر تو بالکل گم صم رہیں۔ پھر اچانک ہی رو پڑیں۔ ان کے ہونٹ دھیرے دھیرے ہل رہے تھے جیسے کچھ کہنا چاہتی ہوں اور آاواز نہ نکل رہی ہو۔ پھر آخر جو دل میں تھا زبان پر آہی گیا: ’’تم اعلیٰ نسب ہو بیٹے اور میں گندی نالی کا حقیر کیڑا، تمہارے خاندان کے ہم پلہ نہیں ہیں ہم لوگ۔‘‘

’’آپ بہت محترم ہیں میرے لیے۔ پاکیزگی کی زندگی گزارنے کے لیے آپ نے ہر آرام تج دیا، ہر تکلیف برداشت کی مگر ثابت قدم رہیں۔ آپ کسی سے کم نہیں۔‘‘

یوں معیز الدین کا نکاح فریدہ سے ہوگیا۔ ان کی خوش نصیبی تھی کہ فریدہ شکل کی تو اچھی تھی کردار وعمل کی بھی خوب صورت نکلی۔ معیز کے قریبی دوست نے بھی فریدہ کی چھوٹی بہن سے شادی کی اور یوں ریحانہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوگئیں۔

شادی کے بعد معیز الدین باپ کے جانشین شفیع الدین کے گھر اپنی بیوی کو ملوانے لے گئے۔ مگر بھابی نے ان کی بیوی کو دیکھ کر جو جملہ کہا وہ تن بدن میں آگ لگانے کو کافی تھا ’’موری کی اینٹ جوبارے یہ لگادی، اسے تو کسی ’’کوٹھے‘‘ پہ لگاتے۔‘‘ اسی وقت اندر سے بڑے بھائی کی آواز آئی ’’بیگم اس سے کہہ غلاظت کا ڈھیر یہاں سے لے جائے۔ ہم باعزت لوگ ہیں، یہ شاید بھول گیا کہ یہاں اس کی جگہ نہیں۔‘‘ معیز الدین نم آنکھوں سے بیوی کو لیے گھر لوٹ آئے۔

شفیع الدین نے تینوں بھائیوں سے قطع تعلق کر لیا تھا کہیں جائداد کا حساب نہ مانگ لیں۔ دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کے ماں باپ بن کر معیز اور فریدہ نے ان کی بہت اچھی تعلیم و تربیت کی۔

…٭…

اور آج تئیس سال بعد شفیع الدین اسی چھوٹی بھاوج جسے ذلیل کر کے گھر سے نکالا تھا اس کے سامنے معافی کے طلب گار تھے۔ اپنی غلطیاں، اپنی زیادتیاں سب خود ہی یاد آگئیں۔ وجہ … وہی مکافاتِ عمل!

پیسے پر نازاں تھے۔ بیوی کے حسین اور اعلیٰ خاندان کا ہونے پر فخر تھا۔ نوکروں کی فوج تھی گھر میں ہر چیز کی فراوانی، مگر اس فراوانی نے دل محبت سے خالی کردیے۔ محبت کی جگہ دل میں پیسا آن بسا۔ بیگم آرام طلب اور شوقین مزاج تھیں۔ خدمت گزاری ان کے نزدیک صرف نوکروں کا فرض تھا۔ شوہر بیمار ہوئے، جگر خراب ہوا اور حالت بگڑتی چلی گئی۔ پرہیز تھا نہیں صرف دوا کیا کرتی۔ مہینہ دو مہینے تو اچھی دیکھ بھال ہوئی۔ بیماری نے مزاج میں چڑچڑا پن پیدا کر دیا۔ سب ان سے دور بھاگنے لگے بلکہ اکتانے لگے۔ بیگم نے کمرا الگ کر دیا پھر بڑے پوتے کو الگ کمرے کی ضرورت پڑ گئی، تو شفیع الدین کو سرونٹ کوارٹر میں منتقل کر دیا گیا۔ کیوں کہ بچے ان کے ’’شور‘‘ سے ’’تنگ‘‘ ہونے لگے تھے۔

گھر والے دلچسپی نہ لیں، تو نوکروں کو کیا پڑی تھی کہ ان کا خیال رکھتے۔ وہ بالکل تنہا رہ گئے۔ کمزوری اتنی بڑھی کہ اٹھنا محال ہوگیا نہ کسی کو دوا کا خیال نہ وقت پر کھانا، حالت بگڑتی چلی گئی۔ غلاظت میں لتھڑے پڑے موت کی دعا مانگتے اور وہ بھی دور بھاگتی۔ اپنی بے بسی پہ روتے رہتے۔

ایک دن کسی ملنے والے نے تذکرہ کیا کہ شفیع الدین جیسا امیر آدمی آج کل سرونٹ کوارٹر میں پڑا رہتا ہے۔ بہت بیمار ہے۔ بیوی بچے کوئی بھی خیال رکھنے والا نہیں۔ فریدہ بیگم نے سنا، تو لرز کر رہ گئیں۔ دل کی نیکی نے مجبور کیا، تو خاموشی سے کسی کو بتائے بنا ان کے گھر جا پہنچیں۔ دن کے دس بجے تھے گھر کے لوگ ابھی تک بیدار نہیں ہوئے تھے۔ ایک نوکر کو دیکھا، تو اس سے پوچھ کر سرونٹ کوارٹر میں چلی گئیں۔ ان کا حال دیکھا تو حیرت میں رہ گئیں۔ ’’یا اللہ! ایسی شان والے آدمی کا یہ حال۔‘‘

ملازم سے کہہ کر پائپ لیا کمرا دھویا، بستر بدلا، چائے بنوائی انہیں کچھ کھلایا پلایا۔ دوائیں دیکھیں، ملازم سے ان کا طریقہ سمجھا اور گھر آگئیں۔ پھر وہ ہر روز اسی وقت گھر سے نکلتیں اور وہاں پہنچ جاتیں تاکہ گھر والوں کے سوتے سوتے سب کام کر کے واپس آسکیں۔ کچھ نہ کچھ پکا کر لے جاتیں انہیں اپنے ہاتھ سے کھلاتیں۔ مناسب غذا ملی، تو صحت پر کچھ بہتری کے آثار پیدا ہوئے۔ ہفتہ بعد ایک روز شفیع الدین صاحب نے فریدہ سے پوچھا کہ تم کون ہو کیا بیگم صاحبہ نے تمہیں ملازم رکھا ہے، مگر وہ اس سوال کا جواب مسکرا کر ٹال گئیں۔ کچھ نہ بولیں۔ اپنے کام میں لگی رہیں۔ ان کے جانے کے بعد ملازم نے کہا کہ یہ ملازمہ نہیں ہیں۔ بیگم صاحبہ نے تو انہیں دیکھا ہی نہیں ہے۔ یہ روز ایک گاڑی میں آتی ہیں۔ ڈرائیور واپس چلا جاتا ہے دو گھنٹے بعد وہی گاڑی انہیں واپس لے جاتی ہے۔ یہ سن کر وہ سوچ میں پڑ گئے کہ آخر یہ کون ہے گاڑی میں آتی ہے، تو یقینا غریب گھر کی نہیں ہے۔۔۔ کون ہے۔۔۔؟

اگلے روز فریدہ وہاں پہنچیں تو شفیع صاحب نے پہلی بات یہ کی ’’کون ہو تم کیوں میری خدمت کر رہی ہو؟ آج سچ سچ بتا دو… میں کل سے سو نہیں سکا۔ گاڑی میں آتی ہو اس کا مطلب ہے کہ اچھے گھر سے تعلق ہے جب تک تم بتاؤگی نہیں میں کچھ نہیں کھاؤں گا۔‘‘ پھر وہ سچ مچ کسی ضدی بچے کی طرح منہ بند کر کے بیٹھ گئے۔

’’میں خدمت کیوں کر رہی ہوں اس کا جواب تو یہ ہے کہ یہ میرا میرے اللہ سے معاملہ ہے۔ دوسرا کون ہوں اس کا جواب یہ ہے کہ میں غیر نہیں ہوں۔ بھائی جان میں آپ کے چھوٹے بھائی کی بیوی ہوں۔ فریدہ نام ہے میرا۔‘‘

’’معیز کی بیوی…؟‘‘ ’’جی صحیح سمجھے آپ!‘‘

شفیع الدین کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ انہیں یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ جسے انھوں نے اسے ذلیل کر کے گھر سے نکالا تھا اس کے بدلے میں کوئی ایسا بھی کر سکتا ہے۔ جس بیگم پر ان کو ناز تھا وہ ان کی خیریت پوچھنے بھی ہفتہ دس دن بعد آتی ہے۔ جس اولاد کے لیے سب کا حق مارا وہ دور بھاگتی ہے۔ جسے … جسے … اف خدا! جسے میں نے پیسا تو ایک طرف عزت بھی نہ دی وہ میری خدمت کر ہی ہے۔ اتنے دن سے پھر وہی لمحہ تھا وہ اس سے معافی مانگ رہے تھے۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر رہے تھے، رو رہے تھے، ان دنوں کے لیے جب ان سے یہ سب سرزد ہوتا چلا گیا تھا۔ ’’کاش، کاش… میں بھی اچھا انسان ہوتا۔‘‘ lll

شیئر کیجیے
Default image
فاطمہ زہرہ

Leave a Reply