آؤ بزرگوں کی قبروں کو روشن کریں!

موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن ہی نہیں ہے یہ تو آکر ہی رہے گی۔ قبر ٹھکانا ہوگا، جو بار بار اعلان کرتی ہے: میں مٹی کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں، دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا یا جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہوں۔ ہم کتنے ہی لوگوں کو اپنے کندھوں پر لے جاکر اس گھر کے سپرد کر اآئے۔ اب وہ ہیں اور ان کے اعمال۔ اب کوئی کسی کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ ہم لاکھ چاہیں ان کی کوئی خدمت کریں مگر نہیں کرسکتے۔ سب راستے بند اور مسدود ہیں۔ لیکن ذرا غور کیا جائے تو راستہ ہے۔

اللہ کے رسولؐ نے فرمایا ہے نیک اور اچھی اولاد صدقۂ جاریہ ہے۔ ہم اپنے متوفین کی چھوڑی ہوئی خوبیوں کو آگے بڑھا کر، ان کے عزیزو اقارب کے ساتھ حسن سلوک کر کے ان کی اب بھی خدمت کرسکتے ہیں۔ ایک شخص نے اللہ کے رسولؐ سے پوچھا کہ میری ماں فوت ہوچکی ہیں کیا میں اب بھی ان کی کوئی خدمت کر سکتا ہوں۔ آپؐ نے سوال کیا کہ تمہاری خالہ ہے؟ کہا: جی ہاں، تو ان کی خدمت کرو۔ اسی طرح ایک اور موقع پر جواب میں فرمایا اپنے والد کے دوستوں کی عزت کرو ان کی خدمت کرو۔ خطبۂ جمعہ میںیہ آیت ہم مسلسل سنتے ہیں:

’’ اللہ عدل او راحسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔‘‘

جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو کتنے ہی رشتوں کے درمیان زمین پر قدم رکھتے ہیں۔ ماں باپ دادا دادی، نانا نانی، خالہ پھوپھی، بہن بھائی اور جب موت آتی ہے تو کتنے ہی رشتے باقی رہ جاتے ہیں۔ بہن بھائی کے علاوہ پھوپھی خالہ وغیرہ۔ ہمیں آیاتِ قرآنی اور ہدایات رسولؐ کے ذریعے ان سے ربط و ضبط، صلہ رحمی کا حکم دیا جاتا ہے۔ ہمیں یہ سب یاد رہتا ہے۔ ہمارے ماں باپ اپنی بیٹیوں بیٹوں کو کتنا چاہتے تھے، ہماری پھوپھیوں کے ساتھ کس درجہ محبت رکھتے تھے۔ عید، بقرعید کے موقع پر ان کو عیدی دیتے تھے جس دن ہماری کوئی بہن، خالہ یا پھوپی آتی اس خاطر داری تو الگ اس دن کی آمدنی بھی اس کے ہاتھ میں رکھ دیتے تھے۔ لے ’’جنت‘‘ تو آئی ہے آج ساری دوکان کی آمدنی یہ لے یہ تیری ہے۔ان باتوں سے کیسا خوش گوار ماحول بنتا تھا۔ آج بھی ہمارے چاروں طرف ہمارے رشتے پھیلے ہوئے ہیں مگر اب ہم سوچتے ہی نہیں۔ ہوگی کوئی جنت رحمت یا اس کی اولاد۔ نتیجتاً زندگی میں کوئی کیف اور کوئی خلوص نہیں۔ آج ہم اپنے درمیان صلہ رحمی کے جذبوں کو پھر زندہ کریں۔ اپنے رشتے داروں اور ان کے دوست احباب کی خدمت کریں ان سے تعلق جوڑیں تو ان ہی کی نہیں ہم اپنی قبر میں بھی روشنی کریں گے۔ اور یہ حسن عمل صدقہ جاریہ بن جائے گا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد داؤد (نگینہ)

Leave a Reply