دعا

کاش

دعا عبادت کا مغز ہے، اس سے کون انکار کرے! یہ دعا ہی تو ہے جو تقدیر بدل دیتی ہے۔ کہتے ہیں موت بھی آئے تو ٹل جاتی ہے۔ ہمیں چپکے سے ایک شخص کی تنہائی میں آواز دعا سن کر عبرت حاصل ہوئی اور یہ دعا مانگنے کا نیا ڈھنگ خوب نکلا۔ وہ مانگ رہا تھا بلکہ اقرار کر رہا تھا کہ ’’اے مالک! میں شرابی کبابی تھا، وہ کون سا گناہ تھا جو مجھ سے سرزد نہ ہوا ہو، لیکن اس حالت میں بھی تیری وحدانیت پر آنچ نہ آنے دی۔ مجھے یاد نہیں جمعہ کی نماز کے علاوہ اور بھی نمازیں ادا کی ہوں۔ میں جب صحت مند تھا میرے قدم مسجد کے بجائے شراب خانہ جاتے۔ لوگوں کی اصرار پر مسجد گیا، واعظ نے سارا غصہ مجھ پر نکالا، اس نے خوب نقص نکالے، اقرار کرتا ہوں پھر بھی کم نکالے، میں یکدم شرمندہ ہوا، صدق دل سے توبہ کی سب کچھ چھوڑ دیا۔ آج تیرے گھر پابندی سے جانا چاہتا ہوں، تونے یہ کیا کردیا! مرے پاؤں سن ہوگئے، لاکھ علاج کروایا سب ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ مرض لاعلاج ہے۔ اب تو ہی بتا میں کیا کروں؟ اس واعظ نے یہ بھی کہا کہ روز محشر انسان کے جسم کا ایک ایک عضو شہادت دے گا۔ بے شک میں نے ہر خطا کی ہے، اقرار کروں گا، لیکن میرے کریم آقا، میں بھی تیرے حبیب کا امتی ہوں، یہ حق رکھتا ہوں، میں بھی تیرے دربار میں تیرے دیے ہوئے پیروں کی خلاف دعویٰ دائر کروں گا کیوں کہ انھوں نے گناہوں میں میرا ساتھ دیا، مگر میں نے نادم ہوکر توبہ کرنے کے باوجود تیرے گھر، تری عبادت کے لیے جانے میں اور ساتھ چھوڑ دیا۔ میرا ساتھ نہ دیا ساتھ چھوڑ دیا۔ اب فیصلہ تجھ پر چھوڑتا ہوں، اس گناہ گار کی سن لے۔اس کے بعد وہ بہت کچھ کہہ گیا۔ چند دنوں بعد کیا دیکھتا ہوں وہ خود ایک معذور شخص کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر تیز تیز گام جا رہا ہے۔ اس نے اسے اس کے گھر چھوڑ کر مسجد کی راہ لی اور میں نے ہر روز اسے تکبیر اولیٰ کے ساتھ شریک نماز دیکھا۔

کاش! ہماری ندامت بھی ہماری دعاؤں میں ایسا اثر پیدا کر پاتی…! دعاؤں میں بھی ایسا اثر ہو؟

شیئر کیجیے
Default image
محمد مصطفی علی انصاری

Leave a Reply