منشیات

بچوں میں منشیات کے مضر اثرات

ایک عورت دہلیز پر بیٹھی زار و قطار رو رہی ہے۔ سامنے کھڑے لڑکے کو کوستی جا رہی ہے۔ وہ ایک ۲۱،۲۲ سالہ نوجوان ہے جو وقفہ وقفہ سے دس روپے مانگ رہا ہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ لڑکا چند گھنٹے قبل ہی منشیات کے سنٹر سے ڈسچارج ہوکر گھر آیا ہے۔ ڈاکٹرس نے ’’صحت یاب‘‘ کا سرٹیفکیٹ تھما دیا تھا مگر رویہ منفی تھا۔ بہت سارے لوگ جمع ہو رہے تھے اور میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس نوجوان کو کیسے سمجھاؤں۔ آنکھیں بے اختیار نم ہونے لگیں۔

دوسرے دن اسی علاقہ کی ایک ماں غم کی تصویر بنی بیٹھی ہے۔ معلوم ہوا کہ اس کا اٹھارہ سالہ بیٹا موٹر بائک کی چوری میں پکڑا گیا ہے۔ ابھی چند مہینے پہلے تک وہ ایک معصوم سا بچہ تھا جو پابندی سے اسکول جایا کرتا تھا۔ محنت سے دل لگا کر پڑھتا تھا رفتہ رفتہ تعلیم سے جی چرانے لگا اور آخر کار اسکول چھوڑ دیا۔ اسکول چھوڑنے کے بعد ایک گیراج میں کام کرنے لگا۔ اسکول کے وقت میں اس کی دوستی کچھ بگڑے ہوئے ساتھیوں سے ہوگئی اور کسی کمزور لمحے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوستوں نے سگریٹ کے چند کش لگوا دیے۔ یہ چند کش اسے دوسری دنیا میں لے گئے۔ پھر وہ خود ہی یہ کش لینے لگا۔ آہستہ آہستہ مقدار بھی بڑھتی گئی۔ روپیوں کی کمی محسوس ہونے لگی تو چوری پر اتر آیا۔ اور آج وہ چوری کے الزام میں گرفتار ہوچکا ہے۔ یہ کہنے کو تو دو واقعات ہیں مگر حقیقت میں یہ دونوں واقعات ملکی نظام اور قوم کی نوجوان نسل کی حالت زار کے ترجمان ہیں۔

گھر آکر سوچنے لگی۔ ایسے کتنے نوجوان ہوں گے جن کی جوانی اس منشیات کی وجہ سے دم توڑ رہی ہوگی، کتنے والدین بے بسی کی آگ میں جل رہے ہوں گے اور کتنے بچے اس نشے کی لت کے سبب مجرم بن چکے ہوں گے اور کتنے بن رہے ہوں گے۔

اخبارات و رسائل میں ایسے نوجوانوں کے حالات پڑھنے کو ملتے ہیں جو اسکول کالج کے طالب علم ہیں اور نامناسب لوگوں سے دوستی کی وجہ سے غلط راہ اپنا لیتے ہیں۔ مالدار گھرانوں کے چشم و چراغ بھی اور غریب اور درمیانی خاندانوں کے بچے بھی ان مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کا شکار ہو رہے ہیں اور یہ لوگ نئی نسل کو منشیات کا عادی بنانے میں لگے ہیں صرف اس لیے کہ اس کے ذریعے انہیں دولت کمانے کا موقع ملتا ہے۔ یہ لوگ نئی نسل کو سنہرے خواب دکھا کر اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ کبھی کبھی خیالی غموں کو بھلانے کے لیے اور کبھی اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے نوجوان خود ہی اس طرف راغب ہو جاتے ہیں۔

اس طرح ان نوجوانوں کو عارضی سکون تو میسر آجاتا ہے مگر زندگی تباہ ہوجاتی ہے۔ نہ صرف ان کی زندگی تباہ ہوجاتی ہے بلکہ وہ اپنے والدین اور اہل خاندان کی زندگی کو بھی جہنم بنانے کا سبب ہوجاتے ہیں۔

ایسے فتنوں اور اندیشوں کے ماحول میں سب سے پہلی ذمے داری تو والدین کی ہے کہ وہ اپنے جگرگوشوں پر نظر رکھیں اور انہیں زندگی کے خطرات اور اندیشوں سے پہلے ہی آگاہ کردیں کہ وہ کسی بگڑے لوگوں کے جال میں نہ پھنسے۔

اس سلسلے میں والدین سے عرض ہے کہ پہلا سبق بچہ کو ماں ہی سے ملتا ہے۔ یہ ایک Universal سچائی ہے کہ ماں کی گود بچہ کا پہلا مدرسہ ہے۔ والدین کا فرض ہے کہ پہلے دن ہی سے وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنی اولاد کو بہترین تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کرنے کی فکر اور کوشش کریں۔ ماہرین اطفال کا نظریہ ہے کہ بچہ کی شخصیت کی تعمیر اسی وقت سے شروع ہوتی ہے جب ماں حاملہ ہوتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ماں دینی کتب کا مطالعہ کرے۔ مثبت سوچ والے کتب اور اخلاقی اقدار کے حامل کتب زیر مطالعہ رکھے۔ پیدائش کے فوراً بعد ہی سے بچے کی تربیت شروع ہو۔ گھر کا ماحول دینی اور اخلاقی ہو اس طرح جب وہ ماحول اور بات کو سمجھنے لگتا ہے تو بہترین عادات کا عادی بنانے میں لگ جائیں۔ باتیں کرنے لگے تو بہترین الفاظ کا استعمال ہو۔ اولین نقوش جو بچوں کے ذہن میں بنتے ہیں وہ Permanent ثابت ہوتے ہیں۔ بچہ کا اسکولی مرحلہ بھی بے حد نازک مرحلہ ہے۔ وہ بتدریج اسکول اور عمر کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ ذہنی و جسمانی تبدیلیاں رونما ہونے لگتی ہیں ایسے میں آپ کی ذمہ داریوں میں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔ آپ کی کڑی نظر بچہ کی اسکولی کارکردگی پر ہو۔ بچہ کے دوست کو ن اور کیسے ہیں، اسکول کے اوقات کے بعد وہ گھر آجاتا ہے یا کہیں اور وقت بتاتا ہے، اس پر گہری نظر رہنی چاہیے۔ اسی کے ساتھ بچہ کس حالت میں گھر آرہا ہے اس پر بھی نظر رہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ کوئی غلط حرکت کر کے گھر آرہا ہے۔ مختصراً یہ کہ اگر بچے پر گہری نظر رہے تو کسی خراب صورت حال کا پہلے ہی مرحلے میں ادراک کر کے اصلاح کی جاسکے گی۔

بچہ کے اخلاق کو مضبوط بنانے میں اساتذہ کا اہم رول ہے۔ ان نا تراشیدہ پتھروں کو تراش کر ہیرا بنانا ٹیچر کے ہاتھ میں ہے۔ بچوں کا وقت استاد کے ساتھ اسکول میں گزرتا ہے یہ معمار قوم کہلانے کے بجا طور پر مستحق ہیں۔ استاد بے غرضانہ طالب علموں کی ہمہ جہتی تربیت پر اپنے آپ کو وقف کردیں۔ وہ یہ نہ دیکھیں کہ معاشرہ انہیں کیا دے رہا ہے، بلکہ وہ دیکھیں کہ وہ معاشرہ کو کیسے افراد دے رہے ہیں۔ بہترین معاشرہ کی بنیاد بہترین افراد ہیں۔ وہ صحیح معنوں میں معمار ہیں۔ استاذ بچوں کے لیے رول ماڈل ہوں جنہیں دیکھ کر ہر بچہ کے دل میں خواہش پیدا ہو کہ وہ بھی ایسا بنے۔

کئی اسکولس کے انتظامیہ نے اقرار کیا کہ معمول کے مطابق چند بچوں کے پانی کے بوتلوں کی جانج کی گئی تو بوتلوں میں پانی یا جوس کے بجائے الکوحل ملا۔ ٹیچر اس وقت شاک میں رہ گئے جب ایک بچہ الکوحل سے بھری بوتل اسکول لے آیا۔ اس غرض سے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو دکھائے گا۔

تیسرا اہم حصہ ہے معاشرہ۔ بچہ کے اخلاقی ارتقا میں معاشرہ کا بھی رول ہے جو بے حد اہم ہے۔ انفرادی بہبود کے ساتھ ساتھ معاشرتی بہبودی بھی ضروری ہے۔ نہ صرف اپنے بچوں کی بھلائی پر نظر ہو بلکہ سماج کے ہر بچہ کی بھلائی پیش نظر ہو اور بچوں کی معاشرتی مخالف کارکردگی پر نظر ہو۔ بچوں پر منفی اثرات ڈالنے والے اشیا سے بچوں کو دور رکھنے کی اجتماعی فکر ہونی چاہیے۔ حالیہ دنوں میں منشیات کی ترسیل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ کالج، ہاسٹل، سنسان جگہیں وغیرہ منشیات کے بیوپاریوں کے لیے اڈہ بن رہے ہیں۔ یہ موت کے بیوپاری شاطرانہ انداز اپناتے ہوئے نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ معاشرہ کا فرض بنتا ہے کہ اس ماحول کا سد باب کرے۔ یہ کام ایک دو افراد کا اور نہ ہی صرف این جی اوز کا ہے بلکہ یہ کام سماج کے ہر فرد کا ہے۔ والدین، اساتذہ، اسکول کی انتظامیہ اور پولیس، دینی فکر رکھنے والے اور سماج کے خدمت گار ارباب عقل وفکر کو اس لعنت کے مقابلے کے لیے باشعور اور متحد ہونا ضروری ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سیدہ خدیجۃ الصغریٰ

تبصرہ کیجیے