زخموں پر مرہم رکھنا ضرور سیکھ لیں!

ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی، بے تکلفی ہوتے ہی اس نے اپنی ایک پریشانی بیان کردی۔ اس کی شادی کو چند سال ہوچکے ہیں۔ وہ اپنی بیوی اور ماں کے ساتھ رہتا ہے۔ اپنی بیوی سے وہ بہت خوش ہے، لیکن اس کی بیوی اپنی ساس سے خوش نہیں ہے۔ ساس اسے دن بھر طعنے دیتی رہتی ہے اور اس کے ہر کام میں عیب نکالتی ہے۔ بیوی کا اصرار بڑھتا جارہا ہے کہ ایسی حالت میں وہ اس کی ماں کے ساتھ نہیں رہ سکتی ہے۔ یا تو وہ اسے الگ گھر میں رکھے، یا پھر طلاق دے دے۔ وہ مجبور ہے، ماں کو اکیلے وہ چھوڑ نہیں سکتا، اور بیوی کو طلاق دینے کا خیال بھی دل میں نہیں لاسکتا۔ اسے احساس ہے کہ بیوی کی خدمت گزاری کے باوجود زیادتی اس کی ماں کی طرف سے ہورہی ہے، مگر وہ اپنی ماں کے سامنے خود کو بے بس پاتا ہے۔

اس کی پریشانی جاننے کے بعد میرے ذہن میں ایک نسخے نے جنم لیا۔ میں نے کہا، تمہاری مجبوری میں سمجھ سکتا ہوں۔ تم ماں کے سامنے بے بس ہو، اس لئے بیوی کے دل کو زخمی ہونے سے بچا نہیں سکتے ہو، لیکن ایک کام تم ضرور کرسکتے ہو اور وہ ہے بیوی کے زخموں پر مرہم رکھنے کا کام۔ اچھی طرح سوچو تمہارے پاس بیوی کے زخمی دل کا مداوا کرنے کی کیا کیا قابل عمل صورتیں ہوسکتی ہیں۔ تم وقفے وقفے سے اس کے لئے تحفے لاسکتے ہو، ریسٹورنٹ لے جاکر پسندیدہ کھانا کھلاسکتے ہو، گاہے گاہے کہیں سیر وتفریح کے لئے ساتھ جاسکتے ہو۔ ہوسکتا ہے تمہارے محبت بھرے ہاتھوں سے ایک آئس کریم اس کے بہت سے زخموں کا مرہم بن جائے۔ غرض بیوی کے ساتھ کچھ ایسا سمجھوتہ کرسکتے ہو کہ وہ تمہاری ماں کی باتوں پر صبر کرتی رہے، اور اس کے بدلے میں تم اس پر خصوصی نوازشیں کرتے رہو۔ نصیحتوں کی اپنی اہمیت ہے، تم اسے ضرور سمجھاؤ کہ انسان چاہے تو آسانی سے تلخ باتوں کو سنی ان سنی کرسکتا ہے، بتاؤ کہ دل شکن باتوں کو نظر انداز کردینے میں بڑی عافیت رہتی ہے۔ یہ بھی یاد دلاؤ کہ صبر کرنے والوں کے لئے دنیا میں بھی اچھا انجام ہے، اور اللہ کے یہاں تو صبر کا بڑا اجر ہے۔ یہ سب کچھ سمجھانے کے ساتھ ہی اس کے زخموں پر طرح طرح سے مرہم بھی رکھتے رہو۔

بلاشبہ صورت حال اس کے برعکس بھی ہوسکتی ہے، کہیں ہوسکتا ہے بیوی کی طرف سے زیادتی ہوتی ہو، اور بیوی کی بدزبانی سے ماں کا دل دکھی ہوتا ہو، ایسی صورت میں شوہر اپنی بیوی کو نرمی سے سمجھانے کا عمل جاری رکھے، ساتھ ہی ماں کے زخموں پر مرہم بھی رکھتا رہے، وہ خود ماں کی اتنی دل جوئی اور ایسی خدمت کرے کہ اس کی ماں اپنی بہو کی زیادتی یا کوتاہی کو بھول جائے۔

اصولی بات یہ ہے کہ اپنے جن عزیزوں کی جسمانی تکلیفوں کے لئے فکر مند رہنا آپ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، ان کی قلبی تکلیفوں کی فکر کرنا بھی اپنے لئے ضروری سمجھیں۔

باہمی جھگڑوں کے علاوہ بھی زخموں پر مرہم لگانے کے بے شمار مواقع روز مرہ کی زندگی میں آتے ہیں، اگر آپ کے بچے کو کسی امتحان یا مقابلے میں کم نمبرات ملیں، تو اس کی فکر ضرور کریں کہ تیاری میں کمی کہاں رہ گئی اور وہ کیسے دور کی جائے۔ لیکن سب سے پہلے اس کی فکر کریں کہ کم نمبرات ملنے کی وجہ سے بچے کے دل پر جو زخم لگا ہے، اس پر کون سا مرہم لگائیں کہ زخم جلد مندمل ہوجائے۔

بہت زیادہ فکر اس کی کرنی چاہئے کہ کہیں آپ کی زبان یا رویے نے کسی کے دل کو زخمی تو نہیں کردیا۔ ایسے میں معافی مانگ لینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے زخم کو مندمل کرنے کی تدبیریں سوچیں۔ اگر زبان اور رویے سے دل زخمی ہوا ہے، تو زبان اور رویے سے ہی دل کا زخم مندمل بھی ہوسکتا ہے۔ اتنا خیال رہے کہ زخم لگنے میں وقت نہیں لگتا مگر زخم مندمل ہونے میں وقت ضرور لگتا ہے، اگر آپ نے زخم دیا ہے تو اس وقت تک مرہم رکھنا اپنا فرض سمجھیں جب تک زخم مندمل نہ ہوجائے۔

اس دنیا میں تکلیف پہونچانے والے کانٹے بہت ہیں، تاہم دیکھا گیا ہے کہ جس قدر انسانوں سے انسانوں کو تکلیف پہونچتی ہے کسی اور سے نہیں پہونچتی ہے۔ انسانوں کی انسانوں کے دلوں تک رسائی ہوجاتی ہے اس لئے انسان کے دل کو انسان آسانی سے زخم دے دیتا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ دل کے زخموں پر نمک چھڑکنا، ان کی تکلیف کو کئی گنا بڑھادینا، اور انہیں لمبے عرصہ تک کرید کرید کر ہرا کرتے رہنا بھی انسانوں کا سب سے پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔ یہ نہایت مکروہ مشغلہ ہے۔ دو بھائیوں میں کہا سنی ہوجائے، شوہر اور بیوی میں جھگڑا ہوجائے، باپ بیٹے میں ناراضگی ہوجائے، دو دوستوں میں ناچاقی ہوجائے، ایسی ہر صورت حال میں انسانیت کا تقاضا ہے کہ جلتی پر تیل نہیں ڈالا جائے اور زخموں پر نمک نہیں چھڑکا جائے بلکہ آگے بڑھ کر اچھے سے اچھا مرہم لگایا جائے۔

یاد رکھیں نفرت کی آگ بجھانا اور دل کے زخموں پر مرہم لگانا خدمت خلق کے اچھے کاموں میں بہت عمدہ کام ہے۔

دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنے جسم پر لگنے والے زخموں کی تو خوب مرہم پٹی کرتے ہیں، اور کوشش کرتے ہیں کہ زخم گہرا ہو کر ناسور نہ بنے اور جلدی ٹھیک ہوجائے، لیکن وہ دل پر لگنے والے زخموں کی خوب خوب پرورش کرتے ہیں، اور دن بدن انہیں بڑھایا کرتے ہیں۔ یہ دل کی صحت کے لئے اچھا نہیں ہے۔ بہت زیادہ فکر اس کی کریں کہ آپ کے اپنے دل پر لگنے والے زخم جلدی مندمل ہوتے رہیں۔

بہترین مرہم اور کامیاب علاج کی تلاش ہو تو قرآن مجید پڑھیں اور دیکھیں کہ اللہ کے نیک بندوں کے دلوں پر کیسے کیسے کچوکے لگا کرتے، زخموں سے دل کیسا چھلنی ہوجاتا، لیکن وہ اللہ کی یاد سے سینے کو اس طرح آباد رکھتے اور شفایابی کے قرآنی نسخے اس طرح برتا کرتے کہ ہر زخم فورا مندمل ہوجاتا، اور دل ہمیشہ صحت مند اور توانا رہتا۔ قرآن مجید میں دل کی بیماریوں کے لئے علاج بھی ہے اور دل کے زخموں کے لئے مرہم بھی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محی الدین غازی

Leave a Reply