شیطانی وسوسہ اور اس سے بچاؤ (افادات علامہ ناصر الدین البانی)

دلوں میں وسوسہ ڈال کر انسان کو بہکانا ہی شیطان کا مشن ہے۔ قرآن کی آخری دو سورتوں میں اس سے اللہ کی پناہ مانگنی سکھائی گئی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ وسوسہ ڈالنے والا شیطان انسان کی شکل میں بھی ہوسکتا ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انسان کی شکل میں بھی شیطان کے ایجنٹ پوری کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اہل علم کا کہنا ہے کہ وساوس پیدا کرنے والے چار اسباب ہیں:

جہالت

اولین اور اہم ترین سبب دین کے بارے میں جہالت ہے۔ امام ابن قیمؒ کے مطابق ’’سب سے بڑا دروازہ جس کے ذریعے ابلیس انسان پر داخل ہوتا ہے وہ جہالت ہے اور وہ اس جہالت کی وجہ سے لوگوں پر غلبہ پالیتا ہے۔‘‘ اس کے مقابلے میں جو عالم ہے اس پر تو وہ چوری چھپے ہی داخل ہوتا ہے۔ بہت سے عبادت گزار بندے اپنی کم علمی کی وجہ سے بہ آسانی شیطان کا شکار بن جاتے ہیں کیوں کہ ان کے علماء ان کو عبادت کرنے کا حکم تو دیتے ہیں مگر علم حاصل کرنے کے لیے نہیں کہتے۔

ایمانی کمزوری

دوسرا سبب ایمان کی کمی اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے اور اعتماد کی کمزوری ہے، طاقت ور مومن اپنے ایمان کی قوت کی وجہ سے وسوسے ڈالنے والے اسباب سے واقفیت حاصل کرکے ان سے اپنا بچاؤ کرلیتا ہے جب کہ بچنے کی قوت وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسے سے حاصل کرتا ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہی زندگی کی راحت و خوشی پر تمام وسائل سے زیادہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :جو اللہ پر بھروسہ کرے گا تو وہ اسے کافی ہو جائے گا۔‘‘ (طلاق:۳) آیت کا یہ حصہ ’’وہ اسے کافی ہوجائے گا‘‘ یقینا غور کرنے کے قابل ہے۔

شیطانی وساوس کو قبول کرنا

تیسرا سبب شیطان کے وسوسوں اور خیالات کو قبول کرلینا اور اس کی فرماں برداری قبول کرلینا ہے۔ اگر اس کی نافرمانی کی جائے اور اس کے وسوسوں کو بھلا دیا جائے تو بندہ محفوظ و مامون رہ کر کامیاب ہوسکتا ہے۔

عقل کی کمی

عقل کی کمی چوتھا سبب ہے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ عقل مند مومن کبھی بھی شیطان کی تدبیروں، سازشوں اور خطرات کا شکار نہیں ہوتا۔

وساوس کا علاج

وساوس کو دور کرنے اور اس کے علاج کے لیے اہل علم نے جو چند مجربات یا طریقے ذکر فرمائے ہیں ان کا مختصر بیان حسب ذیل ہے:

٭ اللہ کی کتاب اور رسول اللہؐ کی سنت کا علم حاصل کریں کیوں کہ اہل وسوسہ کی اکثر حالت یہی ہوتی ہے کہ وہ دینی علم سے جاہل ہوتے ہیں اور جہالت ہی شیطان کا بہترین ہتھیار ہے۔

٭ وسوسہ دور کرنے والی ایک بہترین چیز دعا بھی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتے رہیں اور شیطان سے پناہ بھی طلب کرتے رہیں۔

٭ ذکر و اذکار بھی انسان کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا مومن کو چاہیے کہ اکثر اوقات اللہ کے ذکر میں ہی مصروف رہیں بالخصوص صبح و شام اور سونے کے اذکار کی ضرور پابندی کریں۔

٭ اکثر اوقات فارغ یا اکیلے نہ رہیں بلکہ کسی اچھی مجلس یا مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہی وقت گزاریں کیوں کہ جب انسان اکیلا ہوتا ہے تو شیطان اس کے دل میں طرح طرح کے وسوسے پیدا کرتا ہے اور اسے کمزور بنانے کی کوشش کرتا ہے، بلاشبہ بھیڑیا اسی بھیڑ کو کھاتا ہے جو اپنے ریوڑ سے الگ ہوجاتی ہے۔

٭ نیک لوگوں سے دوستی رکھیں تاکہ وہ ضرورت کے وقت آپ کے کام بھی آسکیں اور پھر نیک لوگوں کے ساتھ میل جول سے جہاں ایک طرف شیطان ذلیل و رسوا، ہوگا وہاں دوسری طرف آپ کو بھی دِلی طور پر سکون حاصل ہوگا، آپ کا سینہ کشادہ ہوگا اور شیطانی وساوس دور بھاگ جائیں گے۔

٭ دوستوں یا گھر والوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے نہ تو بدشگونی کی باتیں کریں، نہ غم و پریشانی کو جگہ دیں اور نہ ہی ماضی کے تلخ تجربات وواقعات کا ذکر کریں بلکہ تمام مصائب و آلام کو بھلا کر صرف ہنسی خوشی کی باتیں کریں، خود بھی خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کریں۔

٭ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھیں، کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوسی کا مظاہرہ نہ کریں اور مستقبل کے خدشات کو سامنے رکھ کر کبھی پریشان نہ ہوں کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو میرے کاروبار کا کیا ہوگا؟ میرے بچوں کا کیا ہوگا؟ میری بیوی کا کیا ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ۔یاد رکھئے ایسے تمام پریشان کن خدشات جو آپ کے ذہن میں آتے ہیں اکثر اوقات شیطانی وساوس ہی ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان پر زیادہ توجہ نہ دیں، صرف اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر پر کامل ایمان رکھیں، اس سے آپ کو دلی طور پر اطمینان بھی ملے گا اور وساوس بھی جاتے رہیں گے۔

٭ حلال و پاکیزہ اور اچھی چیزوں کے متعلق سوچیں، کیوں کہ اچھی چیزوں کی محبت، ان کا ذکر اور ان کی سوچ انسان کے دل میں خوشی پیدا کرتی ہے، لہٰذا ہمیشہ اپنے ذہن کو اچھی سوچوں میں مصروف رکھیں۔

٭ جسمانی ورزش کا بھی اہتمام کریں اور یاد رکھیں کہ اس سے جہاں ایک طرف آپ کی صحت اچھی رہے گی وہاں اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوں گے کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو کمزور مومن سے طاقت ور مومن زیادہ پسند ہے۔

وسوسہ اور صریح ایمان

بعض صحابہ نبی کریمﷺ کے پاس آئے اور دریافت کیا کہ ہم میں سے بعض لوگوں کے دلوں میں کچھ ایسے خیالات اور وسوسے پیدا ہوجاتے ہیں کہ ہم کسی سے ان کا ذکر کرنا بہت برا خیال کرتے ہیں۔ آپ نے پوچھا: کیا واقعی ایسا ہی معاملہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا، جی ہاں! تو آپؐ نے فرمایا: ذلک صریح الایمان ’’یہی تو صریح (یعنی صالح) ایمان کی نشانی ہے۔‘‘ (مسلم: کتاب الایمان)

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے مطابق مومن کی آزمائش شیطانی وسوسوں سے کی جاتی ہے، جو وسوسہ کفر والا ہو تو اس سے ایک مومن اپنے سینے میں تنگی محسوس کرتا ہے۔ صحابہ کرام نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے دلوں میں ایسے وسوسے پاتے ہیں کہ جن کو بیان کرنے سے متعلق ہم پسند کرتے ہیں کہ آسمان زمین پر گر پڑیں مگر ہم ان وسوسوں کو بیان نہ کریں۔ یہ سن کر آپؐ نے فرمایا: ’’یہی تو ایمان کی پختگی ہے، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے، جس نے (شیطانی) تدبیر کو وسوسہ بنا کر رد کردیا۔‘‘ اس کا معنی یہ ہے کہ شیطان مومن کو وسوسوں میں ڈالتا رہتا ہے اور جب وسوسے زیادہ ہوتے ہیں تو ایمان مضبوط ہو جاتا ہے، جب کہ شیطان چاہتا ہے کہ ایمان کو خراب کرے اور بندے کو اس رب کا نافرمان بنادے۔

وساوس اور خواتین

وساوس کا شکار زیادہ خواتین کیوں ہوتی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں شیخ ابن عثیمینؓ نے فرمایا کہ اس کی ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ عورتوں کی فطری کمزوری اور نیکی و بھلائی کے کاموں میں ان کی رغبت۔ فطری کمزوری، بھلائی کی طرف رغبت اور عبادت کی پختگی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے عورتیں وسوسوں کی زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ بہت سے نوجوان بھی اس بیماری کا شکار ہیں اور ان میں بھی یہی وجوہات ہیں یعنی قوتِ ارادی کی کمی اور نیکی کی رغبت۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعودؓ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ یہودی کہتے ہیں کہ اپنی عبادات میں ہمیں وسوسوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دل عبادت میں مشغول ہوتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں، یہودی صحیح کہتے ہیں، کیونکہ شیطان کو خانہ خراب سے کوئی واسطہ نہیں۔ یہود کے دل تو پہلے ہی تباہ و برباد ہوچکے اس لیے شیطان ان کو نہیں ورغلاتا۔ کیونکہ یہ لوگ تو پہلے ہی اس کے دوست بن چکے، وہ تو ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کو اپنا پیروکار بنانا چاہتا ہے۔ یاد رکھئے کہ شیطان خوب صورت اور آباد گھروں میں نقب لگاتا ہے تاکہ انہیں برباد کردے۔ اسی لیے وہ پکے اور سچے مسلمان کے دل میں شک کا بیج بوتا ہے تاکہ اسے اللہ تعالیٰ کے سیدھے اور سچے راستے سے بھٹکادے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ بندہ خوش بخت ہے، جو ان امراض کا شکار ہوتا ہے، اس آدمی کو تو مبارکباد دینی چاہیے کیوں کہ اس کا ایمان مضبوط ہے، جسے شیطان وسوسوں کے ذریعے کمزور کرنا چاہتا ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ جو علاج رسول اللہؐ نے بتلایا ہے اس پر عمل کرتے رہنا چاہیے ورنہ شیطان بندے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دے گا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عمران ایوب

Leave a Reply