موٹاپا

موٹاپا اور خواتین

خواتین میں جسمانی چربی مردوں کے مقابلہ میں زیادہ ہوتی ہے۔ ارتقائی بقا کے نقطہ نظر سے یہ ایک فوقیت تھی کیوں کہ عورتوں کو زرخیز رہنے، حمل کے دوران توانائی کی ضروریات اور بچوں کو دودھ پلانے کے لیے انہیں جسمانی چربی کی ضرورت تھی۔ مثلاً دودھ پلانے کے لیے انہیں روزانہ ۵۰۰ سے ۵۰۰۰ کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ حمل کے دوران انہیں کم از کم ۱۰ سے ۱۲ پاؤنڈز اضافی جسمانی چربی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ رحم میں بچے کی صحت یقینی بنائی جاسکے۔

جسمانی چربی ایسٹروجن کی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے جو زرخیزی کے لیے نہایت ضروری ہوتی ہے۔ ایسٹروجن خود بھی مزید چربی ذخیرہ کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ مشترکہ طور پر ایسٹروجن، چربی، ایسٹروجن، چربی کا چکر بنتا ہے جس کے نتیجہ میں وزن کم کرنا کچھ خواتین کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔

اگر ایک خاتون کی جسمانی چربی کی شرح ۳۰ فیصدیا ۳۲ فیصد کی اوسط سے کم ہوکر ۲۰ فیصد سے نیچے چلی جائے تو یہ شرح اس کی زرخیزی پر نہایت منفی اثر ڈالتی ہے۔ اگر یہ ۱۲ سے ۱۵ فیصد تک کم ہوجائے جیسا کہ عموماً خواتین اتھلیٹس میں ہوتا ہے تو یہ زرخیزی کو ناقص بنا دیتی ہے اور ماہواری کو مکمل طور پر منقطع کردیتی ہے۔

پیدائش کے وقت لڑکیوں میں جسمانی چربی لڑکوں کے مقابلے میں ۱۵ فیصد زیادہ ہوتی ہے۔ بلوغت کے دوران ان کی چربی میں ۵۰ فیصد اضافہ ہو جاتا ہے کیوں کہ ان کے ایسٹروجن ہارمون کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ان کے برعکس جب لڑکے بلوغت میں داخل ہوتے ہیں تو ان کا بڑھا ہوا اسٹیرون ہارمون انہیں اجازت دیتا ہے کہ ان کے پٹھوں کی نشو و نما ہو۔ تنو مند پٹھے تقریباً ۱۰ سے ۲۰ فیصد تک زیادہ مستعدی سے (عورتوں کے مقابلے میں) چربی تحلیل کرتے ہیں۔

اس طرح ۲۰ سال کی عمر میں خواتین کی اوسط جسمانی چربی کی شرح مردوں میں ۱۲ سے ۱۹ فیصد کے مقابلہ میں ۲۰ سے ۲۵ فیصد ہوتی ہے۔ ۵۵ سال کی عمر میں اوسط جسمانی چربی کی شرح عورتوں میں ۳۰ سے ۳۵ فیصد جب کہ مردوں میں ۲۳ سے ۲۸ فیصد ہوتی ہے۔

بنیادی طور پر ان ہارمون عوامل کی وجہ سے خواتین مردوں کے مقابلہ میں ۲۵ فیصد زیادہ موٹی ہوتی ہیں۔ جب ناقص کاربو ہائیڈریٹس میٹا بولزم اس قدرتی ہارمونی رجحان سے مل جاتا ہے تو خواتین میں چربی ذخیرہ ہونے کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اکیلی قوتِ ارادی بہت کم اس قابل ہوتی ہے کہ چربیلی یافتیں بننے اور ان کی تہیں ابھرنے کا طوفان روک سکے۔ بھرپور قوتِ ارادی صرف اتنا کرسکتی ہے کہ لو-کیلوری ڈائٹ پر رہنے کے لیے کسی کو کافی قوت برداشت مہیا کردے لیکن یہ مشکل عمل میں مشکوک فوائد رکھتا ہے۔ انتہائی کم کیلوری ڈائٹ سے دوچار ہونے پر جسم قدرتی طور پر مزید چربی ذخیرہ کرنے لگتا ہے جیسے قحط پڑنے والا ہو۔

چربی کے اس جماو اور موٹاپے کو کم کرنے کے لیے ایسے حیاتیاتی عمل کی ضرورت ہوتی ہے جو کھانے کی کیلوریز کو غیر موثر بنا کر اس جماؤ کو روک دے۔ اس کے لیے سب سے اہم ورزش ہے۔ مگر کبھی کبھی صرف ورزش سے مکمل نتائج حاصل نہیں ہوپاتے، اس لیے درج ذیل تینوں اقدامات ایک ساتھ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیلوری کی تقسیم نو

آپ معمولی سی کوشش کے ساتھ نصف پاؤنڈ سے لے کر ایک پاؤنڈ تک جسمانی چربی ہر ہفتے کم کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ پروٹین یا چکنائی کی بجائے نشاستہ دار غذاؤں سے کیلوریز کا حصول بڑھا کر ان کیلوریز کو غیر مؤثر بناتے ہیں۔ چربی میں کمی کا یہ درجہ حاصل کرنے کے لیے آپ کو اپنی غذاؤں پر توجہ دینا ہوتی ہے اور چربی اور چینی کا حصول محدود کردیتے ہیں۔ ایک بھرپور اور فعال زندگی کے لیے احتیاط یا ہوش مندی سے کھانا ناگزیر ہے کیوں کہ آپ جس طرح کھاتے ہیں وہ انداز آپ کے طرزِ حیات کی عکاسی کرتا ہے اگر آپ مزمن بسیار خور ہیں تو زندگی کے لیے آپ کے بنیادی نقطہ نظر میں کوئی خرابی ہے اور آپ کو انجام کار اپنے وزن میں اضافہ کی صورت میں اس خرابی کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ بازار کی الم غلم غذاؤں کو بھی بھول جائیں۔ یہ غذائیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو ہمیشہ موٹے رہیں گے۔ علاوہ ازیں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ بے حساب نشاستہ دار غذائیں کھا سکتے ہیں اور پھر ان کی کیلوریز کو غیر موثر بنالیں گے تو آپ شاید کبھی اپنا وزن کم کرنے اور پھر اسے دور رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ تجاوز ہمیشہ کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرلیتا اور بہترین منصوبوں کو تباہ کردیتا ہے۔

کھانے پر جذباتی کنٹرول

اسٹارچ بلاکرز آپ کی موڈ کیمسٹری کو بہتر بنائے اور کھانے کے لیے اشتہا کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ کھانے کے لیے آپ کی کمزوری کا خاتمہ ہوتا ہے اور بھرپور قوت کا احساس ملتا ہے۔

اس طرح آپ کو وہ جذباتی طاقت ملتی ہے، جس سے کھانے کے معاملات سے آپ اسی طرح نمٹتے ہیں جس طرح دبلے پتلے لوگ۔ دبلے پتلے لوگ کھانے کے لیے زندہ نہیں رہتے بلکہ زندہ رہنے کے لیے کھاتے ہیں۔ آپ بھی یہی رویہ اپنا سکتے ہیں۔ اسٹار بلاکرز کو موڈ کی حیاتیاتی کیمیائی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے استعمال کریں کیوں کہ یہ قوتِ ارادی کو تبادہ کردیتی ہیں۔

ورزش کرنا

آپ روزانہ ایک گھنٹہ ورزش کر کے ہر ہفتہ میں ایک پاؤنڈ وزن کم کرسکتے ہیں۔ ہم تاکید کے ساتھ مشورہ دیتے ہیں کہ آپ سخت قسم کی ورزش کے معمول پر اپنا وزن مثالی درجہ پر لانے کے بعد بھی کار بند رہیں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو بہتر محسوس کریں گے، بہتر نظر آئیں گے، اور خوب صحت مند رہیں گے۔ ورزش، جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا، محض جسمانی چربی تحلیل نہیں کرتی اور کئی طرح سے اچھے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ آپ کی مجموعی صحت کو خوب تر کرتی ہے۔ آپ کی عمومی صحت کے موازنہ میں معمولی سا اضافی وزن غیر ضروری یا فضول سی بات محسوس ہوتی ہے۔ (صحت سے ہماری مراد محض بیماری کی عدم موجودگی نہیں بلکہ صحت و توانائی ہے، طاقت ہے، جوش و جذبہ ہے اور مسرت ہے) صحت مندی حاصل کریں دبلا پن از خود آجائے گا۔

اگر آپ مطلوبہ ورزش نہیں کرسکتے یا نہیں کرنا چاہتے تو اس کے لیے خود کو لعنت ملامت نہ کرتے رہیں۔ تھوڑی بہت جتنی ورزش آپ کرسکتے ہیں کریں، بالکل ورزش نہ کرنے سے بہتر ہے روزانہ محض پندرہ منٹ اس صحت بخش عمل میں گزاریں۔ عادی ہوجانے پر آدھا گھنٹہ کی ورزش پندرہ منٹ سے بہتر ہوتی ہے۔ مکمل ورزش یا بالکل نہیں کے جال میں نہ پھنسیں۔ یہ ایک جبری سوچ ہے جو لوگوں کو مسائل سے دوچار کردیتی ہے۔ سفر چاہے کتنا لمبا ہو، ابتدا تو پہلے قدم سے ہوتی ہے۔ ایک ایک قدم چلنا تو شروع کریں۔

اسٹارچ بلاکر اسٹرٹیجی کے یہ تین اقدامات ہیں۔ یہ آپ کی زندگی کو تبدیل کرسکتے ہیں۔ا سٹارچ بلاکرز اس تبدیلی کو آسان تر بنا سکتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر طاہرہ منصور

Leave a Reply