ساس بہو

ساس بہو کے جھگڑے

ساس بہو کا جھگڑا ۹۹ فیصد گھروں کے لیے مسائل کا سبب بنتا ہے۔ یہ جھگڑا دراصل دونوں خواتین کی کم عقلی کی بنا پر سر ابھارتا ہے۔ عورت کے اندر احساس ملکیت اس قدر شدید ہوتا ہے کہ اس میں شراکت برداشت کرنا اس کے لیے قابل قبول نہیں ہوتا۔ بیوی کی حیثیت سے وہ سوتن کو اور ماں کی حیثیت سے وہ بہو کو برداشت کرنے کے لیے بڑی مشکل سے تیار ہوتی ہے۔

جب ایک دوسری عورت بہو بن کر آتی ہے تو بیٹے کے وقت اور مال و دولت میں بھی شریک بنتی ہے۔ پھر یہ بات ماں کے لیے برداشت کرنا ذرا مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر بہو نرم اور ٹھنڈے مزاج کی مالک ہے تو وہ ابتدائی سختیوں کو آسانی سے سہہ جاتی ہے اور ساس کے ظلم برداشت کرتی رہتی ہے لیکن اگر تنک مزاج ہے تو بس جوابی کارروائیاں بھی شروع ہوجاتی ہیں، جن کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ اس طرح جب وہی بہو ساس بنتی ہے تو ایک بار پھر یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو اس رشتے میں حسد کا جذبہ بھی فعال کردار ادا کرتا ہے۔ انسان میں احساس ملکیت، سوچ، تکبر اور تکبر کے بعد حسد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ساس اور بہو کے درمیان ہونے والے تنازعات میں اگر بہو ساس کو ماں کے برابر عزت دے جب کہ ساس بہو کو بیٹی کا درجہ دے دے تو ان لڑائی جھگڑوں میں پچاس فیصد کمی لائی جاسکتی ہے۔

ساس اور بہو کے درمیان چھوٹی موٹی نوک جھونک تو معمول ہے لیکن اس حد تک نہیں ہونی چاہیے کہ معاملہ لڑائی جھگڑے تک پہنچ جائے۔ ساس بہو کا رشتہ ایک مقدس رشتہ ہے اگر حقیقت میں اس رشتے کو پہچان لیا جائے تو ہر قسم کی قباحتیں ختم ہوجائیں گی۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ بہو ساس کو ماں کا درجہ نہیں دے پاتی اور ساس کا رویہ بھی شفیق ماں جیسا نہیں رہتا۔ خاندانی سسٹم کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے ضروری ہے کہ ساس اور بہو ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں۔

گھروں میں ساس اور بہو کی لڑائیاں زیادہ تر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہوتی ہیں۔ اگر خاوند اپنی بیوی کو ایک دائرہ کار میں رکھے اور خود ماں کا احترام کرتے ہوئے بیوی کو گھر میں والدہ کے مقدم ہونے کا احساس دلاتا رہے تو اس سے گھریلو ماحول میں نہ صرف توازن پیدا ہوگا بلکہ اس کے بچوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ گھروں میں زیادہ تر جھگڑے اس لیے ہیں کہ ہم اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے جا رہے ہیں اپنی حدود میں رہیں تو یہ جھگڑے ختم ہوسکتے ہیں۔ والدین جن کی ساری عمر بیٹے کی پرورش اور تعلیم پر صرف ہوجاتی ہے، بیٹے کی شادی کے بعد ان کی اولین خواہش ہوتی ہے کہ آنے والی بہو ان کی خدمت کرے۔ اگر اس وقت بیٹا اس بیوی کی باتوں میں آکر والدین کی نافرمانی شروع کردے تو والدین کے لیے یہ ناقابل برداشت ہو جاتا ہے، جس سے گھریلو ماحول میں عدم توازن پیدا ہونا یقینی بات ہے۔

ایک گھریلو سروے کے مطابق ۵۰ فیصد لوگوں نے ان لڑائی جھگڑوں کی وجہ ساس کو قرار دیا جب کہ ۴۰ فیصد نے کہا کہ ان جھگڑوں کی وجہ بہو ہوتی ہے اور ۱۰ فیصد لوگوں نے ان جھگڑوں کا ذمہ دار لڑکے یعنی شوہر کو قرار دیا۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر زیبا ملک نے کہا کہ دراصل ہمارے معاشرے میں جب ایک لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو وہ اپنے شوہر کے ساتھ مل کر ایک نئی زندگی کا آغاز نہیں کر رہی ہوتی بلکہ ایک خاندان کا حصہ بن کر اسے اپنی زندگی کا نئے سرے سے آغاز کرنا پڑتا ہے۔ ہر خاندان کے اپنے طور طریقے اور ملنے جلنے کے آداب ہوتے ہیں۔ معاملات طے کرنے کا اپنا اپنا انداز ہوتا ہے۔ آنے والی لڑکی خواہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اس کا پس منظر بالکل علیحدہ ہوتا ہے۔ جب لڑکی اس حقیقت کو نظر انداز کر کے اپنے انداز سے زندگی گزارنا چاہتی ہے تو دراصل یہی لڑائی کی اصل وجہ ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کی پرورش اس انداز سے کریں کہ وہ سسرال کو پرایا گھر نہ سمجھے بلکہ اپنا گھر سمجھے لیکن آج کل ہمارے ہاں لڑکیوں کے لیے والدین کی تربیت میں کمی واقع ہوگئی ہے۔ ادھر سسرال جاتے ہی لڑکی کا اپنی ساس سے نرم گرم کچھ ہوگیا اور اس نے جھٹ اپنی ماں کو فون کر کے بتایا کہ بڑھیانے مجھے یہ کہا ہے تو لڑکی کی والدہ اسے فوراً کہتی ہے کہ تم ایک کے بدلے میں دس سناؤ اور کھری کھری سناؤ پھر اپنا سامان اٹھا کر گھر آجاؤ تمہارے لیے دروازے کھلے ہیں۔

ڈاکٹر مسز یاسمین ارشد نے کہا کہ دراصل ایک عورت مطلب ساس نے اپنی زندگی کے آغاز میں سسرال میں اچھے دن نہیں دیکھے ہوتے۔ اس لیے وہ دل میں ٹھان لیتی ہے کہ آنے والی بہو کو کچھ تو پتہ ہونا چاہیے اور اس سے کسی نہ کسی طرح اپنا بدلہ لینا چاہیے حالاں کہ یہ بات ساس کو سوچنی چاہیے کہ ایک چیز چالیس سال قبل اگراس کے لیے ناپسندیدہ تھی تو آج اس کی بہو کے لیے پسندیدہ کیسے ہوگی۔ ساس اور بہو کا رشتہ ایک مقدس رشتہ ہے، بہو اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور ساس اپنا شفقت بھرا ہاتھ بہو کے سر پر رکھے تو معاشرے میں ساس بہو کی لڑائی کا تصور ہی ختم ہوجائے گا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مونا علی

Leave a Reply