حقیقت خوف کی

کسی کا قول ہے (اگر ہمیں خوف کا خوف نہ ہو تو پھر کوئی خوف نہیں)۔ یہ بات کہنا جتنا آسان ہے کرنا اتنا ہی مشکل۔ جب ڈر ہی ڈرائے اور ڈراتا ہی جائے تو پھر ہم کیسے نہ ڈریں۔ خیرڈر کا تو کام ہی ڈرانا ہے وہ تو ڈرائے گا ہی ہمیں تو ساری عمر اپنے اور پرائے ‘دوست اور دشمن‘ حاکم اور محکوم‘ افسر اور ماتحت کسی نے کہیں چین نہیں لینے دیا۔ ابھی پنگھوڑے میں ہوتے ہیں کہ ماں ’چپ ہو جائو ’بھائو ‘کھا جائے گا‘ کہہ کہ کر ہمیں بھائو نامی کسی چیز سے ڈرانا شروع کرتی ہے اور تمام عمر اس ’بھائو‘ کے بارے میں ہمیں سوائے اس کے کچھ پتہ نہیں چلتا کہ یہ کوئی ایسی چیز ہے جس سے بڑے ڈریں یا نہ ڈریں‘ بچوں کو بغیر دیکھے‘ ماں کی بات کا اعتبار کر کے ضرور ڈرنا چاہئے۔

ذرا بڑا ہونے پر دوسرا’ ڈر ‘باپ کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ جو خود کبھی اپنے قول و فعل سے ڈرنے والی چیز ثابت ہو یا نہ ہو بہر حال ماں اس سے ڈرانے اور ساری عمر ڈرائے رکھنے کی کوشش ضرور کرتی ہے۔ ’’ابھی تمہارا ابا آ کے تمھیں ٹھیک کرتا ہے‘‘ ،’’اباّ نے دیکھ لیا توتمھاری چمڑی ادھیڑ دے گا‘‘ ،’’آنے دو تمھارے ابا کو بتاتی ہوں تمھارے کرتوت‘‘۔ ابا بیچارہ تھکا ماندہ گھر آتا ہے تو بچے سہم کر کونوں کھدروں میں چھپ جاتے ہیں کہ ہماری شامت آئی کہ آئی۔

اونچی آواز سے بولنا تو کجا جب تک ابا جان گھر میں رہیں زور سے سانس لینا بھی خطرے سے خالی نہیں سمجھتے۔ یوں ابا جان اِس منفی پروپیگنڈے کے زیر اثر‘ تمام عمر گھر میںنہ جانتے اور نہ چاہتے ہوئے ایک ولن کا کردارادا کرتا رہتا ہے۔ اسکول تو نام ہی ڈر اور خوف کا ہے۔ ہمارے زمانے میں کتابوں اور پڑھائی سے زیادہ مولا بخش کا خوف ہوا کرتا تھا۔ اور بچے بستہ سنبھالتے‘ ہچکیاں لیتے‘ دامن سے بار بار ناک پونچھتے‘ گھر سے یوں رخصت ہوا کرتے تھے جیسے چند گھنٹوں کے لیے نہیں ہمیشہ کے لیے وداع ہو رہے ہوں۔

استاد کہ جنہیں اس زمانے میں’سر‘نہیں‘ ماسٹرجی‘ کہا جاتا تھا‘ بچوں کی طرف نگاہ ِ شفقت آمیز ڈالنا کفر نہیں تو گناہ کبیرہ ضرور سمجھتے تھے۔گھرجا کر ماسٹر جی کے مولا بخش کے کرتوتوں اور مرغا بننے جیسی ورزشوں کے بارے میں کچھ کہنا آداب طالب علمی کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔ ویسے بھی ماں باپ کو پختہ یقین ہوا کرتا تھا کہ جو تاثیر ماسٹر صاحب کے مولا بخش میں ہے وہ ان کی زبان میں نہیں ہے۔ اس لئے زنگِ جہالت اتارنے کے لیے وقتاً فوقتاً بچوں کی دھنائی کو بڑی تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

مولا بخش کتابوں اور کاپیوں کے بھاری بھر کم بستے نے اس کی جگہ لے لی۔ ہر ماں اور باپ کی خواہش یہ ہے کہ بچہ پنگھوڑے سے ہی انگریزی بولنی اور لکھنی شروع کر دے۔ ماما اور پاپا کو خوف لگا رہتا ہے کہ انگریزی کی اس دوڑ میں ان کا بچہ دوسرے بچوں سے پیچھے رہ گیا تو ان کے بچے کاکیا بنے گا! اور بچے کا تو کچھ بنے گا یا نہیں بنے گا،وہ کس کو منہ دکھانے کے قابل رہیں گے؟ اپنے اس خوف کو وہ مسلسل بچے کے ذہن میں ٹھونسنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

اور یوں بچہ ایک انجانے خوف سے ڈرا، کتابوں سے الجھتا ٹیوشنوں کے چکر میں چکراتا اور اساتذہ کی دنیا بناتا‘ کامیابی کے اس سراب کے پیچھے بھاگتا ہی چلا جاتا ہے، جسے حقیقت کے روپ میں دیکھنا کم ہی نوجوانوں کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔بہت سے والدین اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ بھاگتے ہیں۔ اور آخر کار جب دونوں ’’ہف‘‘ کر گر پڑتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہی خوف جس سے بچ نکلنے کی کوشش میں سر پٹ بھاگتے رہے تھے اب بھی ویسے کا ویسا تندرست و توانا‘ ہٹا کٹا سامنے کھڑا ہے۔

جوں جوں ہم بڑے ہوتے ہیں، ہمارے ساتھ ہمارے ڈر اور خوف بھی جوان ہوتے جاتے ہیں۔ انسان جوانی کے بعد بوڑھا اور کمزورہوتا جاتا ہے مگر سائے کی طرح ہمارے ساتھ لگے ہمارے خوف‘ کمزور اور بوڑھے ہونے کے بجائے‘ ہماری کمزوری سے فائدہ اٹھا کر مزید زور آور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ نوجوانی میں ہم بے روز گاری سے ڈرتے ہیں‘روزگارمل جائے توکم آمدنی سے ڈرتے ہیں۔شادی نہ کریں تو جوانی چین نہیں لینے دیتی‘ کر لیں تو بیوی سکون سے نہیں بیٹھنے دیتی۔

اولاد نہ ہو تو جڑ کٹ جانے سے ڈرتے ہیں‘ اولاد ہو تو اس کی الٹی سیدھی حرکتوں سے ڈرتے ہیں۔رشوت لیں تو پکڑے جانے سے ڈرتے ہیں‘ نہ لیں تو برادری میں ناک کٹ جانے سے ڈرتے ہیں۔ بیماری سے ڈریں تو ڈاکٹر کی طرف بھاگتے ہیں‘ اس کی فیس ڈرائے تو بیماری کم تر برائی نظر آنے لگتی ہے۔ شریف لوگ پولیس سے ڈرتے ہیں‘ پولیس ڈاکوئوں سے ڈرتی ہے۔ جج وکیلوں سے ڈرتے ہیں‘ وکیل ججوں سے خم کھاتے ہیں۔ ماتحت افسر سے ڈرتے ہیں‘ افسر موٹی فائلوں سے۔

سڑک پر بسوں اور ویگنوں سے ڈرتے ہیں اور گھر میں بیوی کے طعنوں سے۔ یوں یہ ڈراور خوف ہمارے اتحاد اور یگانگت کی علامت بن چکے ہیں کہ ملک کے اندر ہم سب ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں اور بیرون ملک سب مل کر امریکہ سے ڈرتے ہیں۔ امریکہ تیرا شکریہ! جس طرح معاشرے کے مختلف طبقات کی خوشیاں اور غم مختلف ہوتے ہیں‘ اسی طرح ان کے ڈر اور خوف بھی بالکل مختلف ہوتے ہیں۔تا ہم بعض خوف ایسے بھی ہیں جن سے چھوٹا اور بڑا،ہر ایک یکساں خوف کھاتا ہے۔ بجٹ کا خوف ایک ایسا ہی خوف ہے۔

ہر لمحہ یہی خوف نیا ٹیکس ہے آیا

جینا ہے اگر تجھ کو تو ڈر ڈر کے جئے جاlll

شیئر کیجیے
Default image
منصور احمد

Leave a Reply