نیرنگ زمانہ

مجھے اس کھنڈر نماگھر میں کھڑے تقریباً 15 منٹ ھوچکے تھے مگر کوئی ہلچل او ر زندگی کے آثار نظر نہیں آئے۔ پھر یوں ہوا کہ سامنے کے برآمدہ میں بنے کمرہ کا دروازہ ہلکی چر چراہٹ کے ساتھ کھلا اور ایک تیز بدبودار ہوا کاجھونکا میری ناک سے ٹکراکر چلاگیا۔ اس کمرے میں ایک 9 سال کا بچہ داخل ہوا ،اور پھر فوراً ہی نکل کر بھاگ کھڑا ہوا۔

اسی کمرے میں سے کسی کی کراہنے کی سی آواز بھی آئی اور میں سمجھ گئی کہ کچھ زندگی اس کمرے میں ہے ۔

دراصل میں اپنی والدہ کے انتقال پر اپنے مائکہ آئی ہوئی تھی۔ پچھلے سال جب آئی تھی تب بھی میری امّی نے مجھ سے ذکر کیا تھا کہ چچی سے مل آنا وہ بیمارہیں، اور ذہنی مریض ہوگئی ہیں۔ چچامیاں کے انتقال کے بعد سے ان کو تن بدن کا ہوش نہیں رہتا ،بغیر برقع، او ر کبھی کبھی بغیردوپٹے کے ننگے پیر باہر نکل جاتی ہیں ،سامنے والی دکان سے ٹافیاں مانگتی ہیں،کبھی کھبی حواس باختہ سی ہوجاتی ہیں ،اورسچ پوچھو تو میں حواس باختہ ہوکر سن رہی تھی۔ اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہاتھا۔

مجھے اپنی والدہ پر جھنجھلاہٹ سی آئی کہ اتنی بڑی خبر اور آج بتارہی ہیں۔ جبکہ مجھے آئے پندرہ روز ہوگئے اور صبح میں جانے والی ہوں مگر اس میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا ۔میں ہی اپنے بچوں میں اتنی مصروف اوررشتہ داروں سے ملنے جلنے میں لگی رہتی کہ بیچاری امی تک سے سکون سے بیٹھ کر بات کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ مگر بہر حال آج امی نے جو کچھ بتایا تھا وہ انتہائی تکلیف دہ اور حیرت انگزیز تھا۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب میں 8 یا10 سال کی تھی یعنی آج سے 30-35 سال پہلے کی ۔

جن کا ذکر کر رہی ہوں وہ ایک دولت مند، خوب صورت اور بڑی تزک واحتشام والی عورت تھیں بلکہ ان کا پورا خاندان انتہائی اعلیٰ خوش اخلاق، مالدار اور صاف ستھرا تھا۔ انکے شوہر کے کئی بھائی تھے۔ سب کے سب شریف، خوبصورت، دولتمنداور ملنسار تھے ۔مگر ان کے شوہر سب سے زیادہ خوبر و اوربردبار تھے ۔چلنے کا انداز بڑا باوقار تھا۔ انتہائی صاف ستھرے کپڑے پہنتے، ان کی بیوی اس معاملہ میں بلکہ ہر معاملہ میں ان سے آگے ہی رہتی تھیں۔ خوبصورت نفیس، پاکیزہ تھیں۔ ان کی شخصیت بڑی پارسا اور بارعب تھی۔

مسکراتے چہرے والی، خوش لباس اتنی کہ پورے محلہ میں بلکہ پورے شہر میں انکا ثانی مشکل تھا۔ہر وقت دلہن سی بنی رہتیں۔اس کے باوجود بڑی ملنسار اورنیک طبیعت تھیں۔ میری والدہ سے بڑی محبت کرتی تھیں۔ بلکہ میری والدہ اور وہ محلے کی دو ایسی ہستیاں تھیں جو تمام لوگوں سے محبت اور خیرخواہی کرتی تھیں ۔

اب کچھ ان کے گھر کا بیان سن لیجئے:

چچا میاں اور چچی صاحبہ ہی کی طرح ان کا گھر صفائی اور سلیقہ مندی کی منھ بولتی تصویر تھا ۔جب بھی جائو ایسا لگتا کہ کوئی خاص بات ہے جسکی وجہ سے صرف آج ہی اتنی صفائی ہوئی ہے ۔ مگر ان کے گھر روز اتنی ہی صفائی رہتی۔ کام کرنے کو نوکر چاکر تھے، دولت تھی ،سب سے بڑی بات نیک طبیعت، سلیقہ مند اور طہارت پسند سچی مسلمان فیملی تھی۔

اللہ تعالی نے اولادِ نرینہ سے نوازا تھا۔ کوئی بیٹی نہیں تھی۔ پانچوں بیٹے شہزادوں کی طرح رہتے۔ بڑے بیٹے کو قرآن حفظ کرایا اور وہ ہندوستان سے عالم فاضل کرکے مدینہ یونیورسٹی چلاگیا۔

یہ تھیں ہمارے محلہ کی سب سے اچھی خاتون جن کو میری عمر کے سب بچے چچی کہتے تھے ۔ ذرا سن شعور کو پہنچے تو تمام لڑکیاں بابل کے گھر کی ہوکر محفوظ اور مصروف ہوگئیں اور باہر نکلنا ،کھیلنا بند ہوگیا۔جلد ہی شادی بیاہ ہوگئے اور ہم لوگ اپنے اپنے پیاکے دیس سدھارے۔ اپنی بہنوں میں اور محلہ بھر کی لڑکیوں میں سب سے دور میں ہی سدھاری۔ لہذا مائکہ کی گلیاں تک مجھے ہی سب سے زیادہ یاد آئیں۔ مگر میں ہی سب سے کم جاپاتی۔ شروع شروع میں جب بھی امی کے گھر جاتی تو ایک دن گھر میں نہ بیٹھتی۔ روز روز کسی نہ کسی سے ملنے جاتی۔ لوگ مجھے بھولا بھالا اور معصوم کہتے۔ مگر پھرمیرے بچے ہوگئے، مصروفیات، خیالات، ترجیحات اور رجحانات سب کچھ بدل گیا۔ آبائی وطن کم ہی جاتی ۔اورجتنے عرصے کو جاتی، اپنے ہی بچوں میں مصروف رہتی۔ بہنیں اور دیگر رشتہ دار خود ہی ملنے آجاتے۔ محلے والے اگر فرصت ملتی اور معلوم پڑجاتا تو ملنے آجاتے ورنہ عرصہ بیت جاتا ۔ چچی کو بھی 10 سال پہلے دیکھاتھا۔پہلے جیسی ہی تھیں وہ۔ بہوبھی ساتھ میں تھی اور پوتی بھی۔ ذراسارعب اور بڑھ گیا تھا۔ اور اب اپنی امی کی زبانی ان کی یہ کیفیت سن کر مجھے انتہائی حیرت اور تکلیف ہوئی تھی ۔انکے یہاں جانا اور ملنا ممکن ہی نہ ہوسکا اور میں اپنی سسرال آگئی۔ مگر ان کاخیال میرے دل سے نہ نکل سکا اور میںنے اللہ تعالی سے دعا کی خدا چچی کی تکلیفیں دور فرما اور کم از کم چچی کو اتنی حیات اور دیدے کہ میں صرف ایک بار انکو دیکھ لوں ۔

اللہ تعالی بڑا کریم ہے۔ اپنے خطاکار بندوں کی بھی دعا قبول فرمالیتا ہے۔ بندوں کو چاہئے کہ وہ خدائے برحق سے اچھی ،سچی اور عافیت کی دعائیں مانگیں ۔

اس اثنا میں میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا۔ ہزار کوششوں کے باوجود اپنی والدہ کا آخری دیدار نہیں کرسکی اور انتقال کے پانچویں روز وطن پہنچ سکی ۔ مو ت برحق ہے اور بندے پر صبر لازم ہے ۔

چھ سات دن ہوچکے تھے میری امی کے انتقال کو مگر عورتیں برابر آرہی تھیں تعزیت کے لئے بھی اورشائد مجھ سے ملنے کے لئے بھی۔۔۔۔میری والدہ بھی بڑی خوش مزاج اور ملنسار تھیں ، اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے ۔ ایسے ہی حالات میں پتہ چلاکہ چچی بسترِ مرگ پر ہیں ۔ میرے حواس پر ایک اور بجلی گری اور میں ان سے ملنے کو تیار ہوگئی ۔ میرے والد نے کہا ان کی حالت بڑی ناگفتہ ہے ۔بہو بیٹے ان کا کچھ خیال نہیں کرتے ۔تم پچھلے دروازے سے جانا ۔سامنے والے سے جا نہیں پائوگی کیونکہ کوئی دروازہ کھولتا ہی نہیں ہے۔ اگر کھول بھی دے تو ان سے ملنے نہیں دیتاہے ۔

لہٰذا میں پچھلے یعنی اس دروازے سے گئی جس سے پہلے ہمیشہ جاتے تھے۔ جو پہلے نہ صر ف عالیشان بلکہ اصل دروازہ یہی تھا۔

میں گھوم گھوم کر اور نظریں دوڑا دوڑا کر جگہ اور ماحول کا جائزہ لے رہی تھی۔ آس پاس صرف مٹی اور اینٹوں کے ڈھیر تھے۔ ایک طرف نئی اینٹوں کی دیوار کی طرح چن دیا گیا تھاجیسے تعمیر کے لئے آئے سامان کو رکھا جاتا ہے ۔ میں بھونڈے شگاف نما دروازے سے بڑی احتیاط کے ساتھ اندر چلی آئی تھی ورنہ چھت سے لٹکی بلّیاں اور ٹین کے پترے بڑے ہیبت ناک لگ رہے تھے۔ میرے دائیں جانب جو برآمدہ تھا کبھی کسی شاعرکی غزل یا افسانہ نگار کے تخیّل کی طرح مزین، آرستہ اور پیراستہ ہوتا تھا۔ مگر اب وہ بوسیدہ لکڑیوں،سیمنٹ کی بوریوں اور پلاسٹک کے پرانے ڈبوں کی آماجگاہ بناہو ا تھا۔ اسی برآمدہ میں وہ کمر ہ تھا جس میں کسی کے ہونے کا احساس مجھے ناگوار بو کیساتھ ہوا تھا۔ اس سے ملحقہ کمرہ ،جو کبھی باورچی خانے کے ساتھ کھانے کے کمرے کے نام موسوم تھا، پوری طرح زمین بوس ہوچکا تھا ۔

میں غور کرنے لگی کہ بچہ کدھر سے آیاتھا اور پھر کدھر بھاگ گیا۔ بوسیدہ عمارت سے ملحق عالیشان تعمیر نو کا خوبصورت مرقّع ایک بنگلہ نما بلڈنگ دعوت نظارہ د ے رہی تھی ۔ بعد میں معلوم ہو اکہ یہ چھوٹے بیٹے کا گھر ہے۔

مجھے دیر ہوچکی تھی۔ میں پریشان ہونے لگی۔ یوں بھی دل ودماغ سو گوارتھے۔ میری امی ہفتہ بھر پہلے دارفانی سے کوچ کرچکی تھیں ۔ مجھے انکا آخری دیدار تک نصیب نہیں ہواتھا اور لگتا تھا چچی کو دیکھے بغیر ہی واپس جانا ہوگا ۔تھکن بیزار ی ، دکھ اور تکلیف مجھ پر حاوی ہورہی تھی، دنیا کی ناپائدار زندگی کھلم کھلا میری چڑ چڑا ہٹ میں اضافہ کررہی تھی ۔

میں خوف اور تجسس کے ملے جلے احساس کے ساتھ اس کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ ہا تھ کے ہلکے سے دبائو سے کمرہ کا دروازہ کھل گیا۔ اگلے لمحہ میں اندر تھی۔ اسپرنگ والا چک ڈور تھا لہٰذا فوراً بندہو گیا۔

اندر کا منظر انتہائی پرھیبت تھا۔ پراگندہ کمرہ میں بدبو بہت تھی۔ اندھیرا بھی تھا جبکہ ابھی دن کے تین بجے تھے مگر اندر گہری شام کا ماحول تھا۔ایک پلنگ پر جو ضعیفہ لیٹی تھیں ان پر وہ چادر پڑی تھی جسکو بستر پر ہونا چا ہئے تھا۔یقینا وہ بوڑھی غلاظت میں لت پت تھیں۔ بدبو ناقبل ِ برداشت تھی۔ میں نے دروازہ پورا کھول دیا اور چوکھٹ میں اسپرنگ کو کنٹرول کرنے والی لکڑی پھنسادی۔ باہر سے تازی ہواکے جھونکوں نے حالت کچھ بہتر کردی۔ میں نے نا ک پر سے ہاتھ ہٹا لیا ۔دروازے کے کھلنے کی آواز نے ضعیفہ کو آنکھیں کھولنے پر مجبور کردیا۔

میرا جی چاہا میں دھاڑیں مار مار کر روئوں۔ چچی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔میں نے اپنا تعارف کرایا۔ بہت ہی خوش ہوگئیں۔ وہ پورے ہوش وحواس میں تھیں۔ اچھی طر ح پہچان گئیں۔ میری امی کے انتقال کی ان کو خبر نہیں تھی لہذا ان کو خوب یاد کیا اور کہاکہ ادھر بہت دنوں سے نہیں آئیں ورنہ اکثر آتی تھیں۔ میں نے بھی حقیقت سے روشناس کرانا مناسب نہیں سمجھا۔ یوں بھی میں دل ہی دل میں رورہی تھی ۔چچی کی بے نور آنکھوں سے بھی دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اسی راہ پر گامزن ہوگئے جس پر پہلے ہزار وں لاکھوں آنسو بہ کر سوکھ چکے تھے ۔

چچی کے پلنگ کے پاس ایک تخت تھا جس پر مٹی کا پیالہ، کچھ گلاس اور پلاسٹک کی پلیٹ تھی۔ اس میں سادے پکے ہوئے چاول تھے وہ 24 گھنٹے سے زیادہ عرصے کھلے رہنے کی وجہ سے دوبار ہ سوکھ کر کچے سے ہوگئے تھے۔ ایک کانچ کے چھوٹے گلاس میں چائے رکھی تھی جو کہ گرم تھی۔ غالبا ً وہ بچہ یہی چائے رکھنے آیا تھا کیونکہ اس میں سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔

میں با ہر نکل آئی، کیونکہ چچی نے پھر آنکھیں بند کرلی تھیں اور وہ زیر لب قرآن شریف کی تلاوت کر رہی تھیں۔

میری حالت چڑ یا کے اس بچے کی سی تھی جو گھونسلے سے گرگیا ہو اور چوٹ لگنے کی وجہ سے جس کا جسم، دل، دماغ سب کچھ مائوف ہو گیا ہو۔ میں گھر آکر بہت روئی۔ سب لوگ سمجھ رہے تھے مجھے امی کی یاد آرہی ہے ۔

مگر مو ت تو برحق ہے اور پھر میر ی والدہ ان خوش نصیبوں میں سے تھیں جو شوہر کے زیرِ سایہ اور اپنی اولاد کی طرف سے خوش اور مطمئن تھیں۔ جن کا خاتمہ بالخیر ہوا، جو اسلام، ایمان کی حالت میں خالق ِ حقیقی سے جاملیں۔ میرا ذہن پراگندہ اور دل منتشر خیالات کی آماجگاہ، چچی کی حالت زاردیکھ کربناہوا تھا ۔کاش! میں نے انکی مزید زندگی کی تمنّا نہ کی ہوتی ۔کاش! میں انکو دیکھنے ہی نہ جاتی جبکہ یہ سب فضول باتیں تھیں مگر میں رہ رہ کر سوچتی کہ چچی کی ایسی حالت کیوں اور کیسے ہوگئی۔ وہ تو نیک، مخلص، خوش اخلاق خاتون تھیں ۔ چچی کی بدنصیبی پر کسی طور یقین کرنے کو جی نہ چاہتا تھا۔

جتنی منھ اتنی باتیں ۔کسی نے کہا شوہر کا صدمہ برداشت نہیں کرسکیں، کسی نے کہا تیسرے چوتھے نمبر کی بہوئیں بہت بد اخلاق نکلیں اور ان کی زیادتیاں چچی کی اس حالت کا سبب بنیں، کسی نے کہا پانچواں بیٹا بہت نالائق نکلا۔

مگر میرے دل کو سکون اس حدیث شریف سے ملا ، نبی کریمؐ نے فرمایا:’’جب اللہ تعالی اپنے کسی بندئہ مومن کیساتھ خیر خواہی کرنا چاہتا ہے اور آخرت میں اس کے درجات بلند کرنا چاہتا ہے تو دنیا میں اس کو رنج الم میں مبتلا کردیتا ہے۔‘‘

بد نصیب تووہ ہیں جنہوں نے اپنی ماں کی قدر نہ پہچانی اور اپنی جنت کو خود اپنے ہاتھوں اجاڑ دیا ۔باپ کی موت کے بعد صرف پانچ سال کے عرصے میں اپنی بدبختی اپنے ہاتھوں سے اپنی پیشانیوں پرچسپاں کرلی ۔

کچھ عرصے کے بعد چچی کا بھی انتقال ہوگیا ۔اور وہ فردوس بریں سدھار گئیں ۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عارفہ محسنہ

Leave a Reply