تب اور اب

چھوٹا سا ویران اسٹیشن، آدھی رات کا وقت، اجنبی شہر، نامانوس زبان، میں پلیٹ فارم پر سایہ سا بنا، اِدھر اْدھر دیکھ رہا تھا۔ ابھی ابھی ایک پسنجر ٹرین مجھے یہاں اْتار کر گئی تھی۔ مجھے خود اپنی عقل پر حیرت ہونے لگی۔ آئرلینڈ یونیورسٹی کے لیے مجھے ایک ریسرچ پیپر لکھنے کی پیشکش ہوئی تھی کہ میں ملک کے کسی ایسے علاقے کی ثقافت کے بارے میں لکھوں جسے جدید تہذیب کی آلایشوں اور سائنسی ایجادات کی سہولتوں نے چھوا تک نہ ہو۔ اسی پیپر پر میرے وہاں داخلے اور ملازمت کا انحصار بھی تھا۔ میرے ایک میڈیائی دوست نے مجھے اس شہر کا نام بتایا تھا اور جب میں نے اس سے کہا، کوئی اتا پتا بتائو، کہاں ٹھہروں کس سے ملوں، تو اس نے کہا تھا، یہیں سے تو ان کی ثقافت کا کھوج ملے گا۔ حوالے اور تعارف سے بے نیاز ہو کر جائو اور تلاش کرو۔

اسٹیشن پر اتنا سناٹا اور خاموشی تھی پھر شہر کا عالم کیا ہوگا میں ابھی کھڑا سوچ رہا تھا کہ باہر کس طرف سے نکلا جائے کہ ایک میلا کچیلا قلی آکر سامنے کھڑا ہوگیا۔ ’’بائو جی! سامان اٹھائوں؟‘‘ سامان ہی کتنا تھا۔ میرا ایک سفری بیگ تھا جسے میں اکثر خود ہی اٹھا لیا کرتا تھا۔ مگر اس خیال سے کہ قلی معلومات کا پہلا سورس ہوتا ہے میں نے بیگ کی طرف اشارہ کردیا۔ اس نے اٹھا لیا اور باہر کو لپکا۔ میں خارجی راستے سے ناواقف تھا، سو اْس کے پیچھے چلنے لگا۔

باہر تانگوں کا اڈہ تھا۔ مجھے وہ وہاں لے آیا۔ ’’یہاں کوئی اور سواری نہیں۔‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’نہیں بائو جی! یہاں صرف تانگہ چلتا ہے یا سائیکل رکشہ۔ مگر وہ صبح کی سواری کے لیے دستیاب ہوتے ہیں آدھی رات کو نہیں۔‘‘ ایک تانگے والا جو پچھلی سیٹ پر سو رہا تھا اٹھا اور قریب آگیا۔ ’’کہاں جانا ہے بائو جی؟‘‘ ’’میں نے کہا شہر جانا ہے۔ تم سامان رکھو۔‘‘ میں نے قلی کو پیسے دیے، اْچک کر پچھلی سیٹ پر بیٹھا۔ تانگے والے نے آگے بیٹھ کر چابک گھمایا اور گھوڑا دوڑنے لگا۔

’’شہر یہاں سے کتنی دور ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’کافی دور ہے۔‘‘ وہ بولا۔ ’’اسٹیشن شہر سے باہر ہے۔ آپ کس طرف جائیں گے؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’مجھے شہر کے کسی ہوٹل میں لے چلو۔‘‘ ’’ہوٹل! بائو جی اس شہر میں کوئی ہوٹل نہیں ہے۔‘‘ ’’کوئی سرائے جہاں رات کو قیام ہو سکے۔‘‘ ’’سرائے بھی نہیں ہے۔‘‘ ’’جو مسافر لوگ ہوتے ہیں وہ کہاں ٹھہرتے ہیں؟‘‘ ’’اس شہر کے لوگ بڑے مہمان نواز ہیں۔ جو بھی دروازہ کھٹکھٹائے اسے اپنے گھر ٹھہرا لیتے ہیں۔‘‘

’’عجیب بات ہے بھلا کسی اجنبی مہمان کو کوئی کیسے اپنے گھر میں ٹھہرا سکتا ہے؟‘‘ ’’آپ آزما کر دیکھ لیں بائو جی۔‘‘ تانگہ خاموش، نیم تاریک اور سنسان سڑکوں پر بھاگا چلا جا رہا تھا۔ چوراہوں پر کارپوریشن کی بتیاں روشن اور دکانیں بند تھیں۔ کسی کسی دکان کے باہر چارپائی پر یا تھڑے پر کوئی سویا ہوا نظر آتا تھا یا کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ پھر اس کا تانگہ ایک نسبتاً تنگ بازار میں داخل ہوگیا۔

بولا یہ اس شہر کا سب سے بڑا بازار ہے اور یہاں سے اندرونِ شہر شروع ہو جاتا ہے۔ بازار سْونا تھا جیسے جِن پھر گیا ہو۔ ’’یہاں بازار کتنے بجے بند ہو جاتا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’بائو جی! عشاء کی اذان ہوتے ہی دکانیں بند ہو جاتی ہیں۔ لوگ کاروبار بند کرکے مساجد کی طرف دوڑتے ہیں۔ عشا کی نماز پڑھ کر اپنے گھروں کو چلے جاتے اور کھانا کھا کر سو جاتے ہیں۔‘‘ ’’اتنی جلدی!‘‘ میں حیران ہوا۔ ’’ہاں جی! پھر علی الصبح فجر کی اذان کے ساتھ نور کے تڑکے اٹھ بیٹھتے ہیں۔ ناشتا کرکے دکانیں کھول لیتے ہیں۔ بائو جی! جلدی سوئیں گے تو جلدی اٹھیں گے نا؟‘‘

میں اس فلسفے پر غور کرتا ہوا … خاموش ہوگیا۔ بازار سے ہوتا ہوا تانگہ ایک گلی میں آ کر رک گیا۔ ’’یہ کیا جگہ ہے؟‘‘ یہ حاجی عبیداللہ کا گھر ہے۔ اکثر مسافر ان کے مہمان ہوتے ہیں۔ ‘‘ ’’اگر انھوں نے دروازہ نہ کھولا تو…‘‘ ’’بائو جی کوئی اور دروازہ کھل جائے گا۔ یہ شہر ایسا نہیں ہے۔‘‘ وہ تانگے سے اتر کر دروازہ کھٹکھٹانے لگا۔ میں بھی اْتر آیا۔ میں نے گھڑی دیکھی، اس وقت پچھلی رات کا ایک بج رہا تھا۔ سارا ماحول جیسے مراقبے میں تھا۔ کوئی آواز، کوئی آہٹ نہیں تھی۔ یکایک دروازہ کھل گیا۔ ایک بزرگ صورت نے باہر جھانکا۔

’’آپ کے مہمان آئے ہیں جی۔‘‘ تانگے والے نے زور سے کہا۔ ’’بسم اللہ کہہ کر بزرگ نے دونوں کواڑ کھول دیے۔ ’’آئیے اندر آجائیے۔‘‘ میں ڈرتا جھجکتا اندر چلا گیا۔ تانگے والے نے میرا بیگ اندر رکھ دیا۔ میں نے جیب سے نکال کر اسے پیسے دیے۔ وہ چلا گیا۔ بزرگ نے دروازہ بند کرلیا اور مجھ سے کہا تشریف رکھیے۔ میں نے معذرت خواہانہ انداز میں زبان کھولی۔ ’’جی میں … مجھے…‘‘ ’’بیٹھیے۔‘‘ انھوں نے ٹوک کر کہا۔ ’’آپ سفر سے تھکے ہوئے آئے ہیں۔ میں پہلے آپ کے کھانے کا بندوبست کرتا ہوں۔ تب تک آپ غسل خانے جا کر ہاتھ منہ دھو لیں۔‘‘ انھوں نے غسل خانے کی طرف اشارہ کر دیا۔

پھر جاتے جاتے رک گئے اور بولے ’’اس وقت جو گھر میں حاضر ہے وہی پیش کرسکتا ہوں۔‘‘ میں نے جلدی سے کہا ’’کوئی مضائقہ نہیں۔ آپ گھر والوں کو تکلیف نہ دیں۔ کھانے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔‘‘ وہ بولے ’’بستے گھروں میں مہمان بھوکے نہیں سوتے۔‘‘ اور باہر نکل گئے۔ میں منہ ہاتھ دھو کر باہر آیا تو اسی کمرے میں ایک بستر لگا تھا۔ میرے دل میں شکوک و شبہات اٹھنے لگے۔ نہ میرا اتا پتا معلوم کیا۔ نہ سوالات کی بوچھاڑ کی۔ اس پر یہ مہمان نوازی۔ کہیں میں کسی مصیبت میں نہ پھنس جائوں۔

اتنے میں بزرگ پانی کا جگ اور گلاس پکڑے ہوئے وارد ہوئے۔ ان کے پیچھے پیچھے شاید گھر کی نوکرانی ایک خوانچہ اٹھائے ہوئے تھی۔ اس نے قالین پر دسترخوان بچھایا اور کھانا لگا دیا۔ گرم گرم پھلکے اپنی خوشبو دے رہے تھے۔ مجھے احساس ہوا کہ واقعی مجھے بھوک لگی ہے۔ میں نے ڈھکن اٹھایا تو ایک پلیٹ میں چنے کی دال اور کدو پکے تھے۔ میں نے اس کو غنیمت جانا۔ پلیٹ کھسکائی۔ پہلا نوالہ توڑا تو نوکرانی کے ساتھ وہ بزرگ پھر آگئے۔ اب کے نوکرانی نے خوانچے میں سے ۵ قسم کے سالن کی رکابیاں نکال کر دسترخوان پر رکھ دیں اور خود چلی گئی۔ میں نے حیران ہو کر ان رکابیوں کی طرف دیکھا۔ ایک میں پالک گوشت، دوسری میں گوبھی گوشت، تیسری میں مٹر اور قیمہ، چوتھی میں غالباً دو تین کوفتے اور پانچویں رکابی میں مکس سبزی پڑی تھی۔ میں نے ان بزرگ سے پوچھا۔

’’ابھی تو آپ فرما رہے تھے کہ گھر میں جو بچا کھچا ہوگا لے آئیں گے۔ پھر یکایک یہ اتنے سالن کہاں سے آگئے؟‘‘ وہ مسکرائے ’’آپ تردد میں نہ پڑیں۔ کھانا کھا کر آرام کریں۔ صبح آپ کو بتادیں گے۔‘‘ میں نے ہر پلیٹ میں سے تھوڑا تھوڑا سالن لے کر کھایا۔ خدا گواہ ہے میں نے اتنا لذیذ سالن اپنے گھر میں بھی نہیں کھایا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد میں نے انھیں اپنے آنے کی غرض و غایت بتائی اور یہ بھی بتا دیا کہ تقریباً ایک ہفتہ قیام ہوگا، کیا وہ ایک ہفتہ مجھے برداشت کرسکیں گے؟ انھوں نے خوش دلی سے مجھے اجازت دے دی اور ثقافت کے ضمن میں بہت سے لوگوں کا پتا دیا کہ میں ان کے ہاں جائوں تھیسس کا مواد اکٹھا کرسکوں گا۔

ایک بات میرے لیے حیران کن تھی۔ ان کے گھر کا کھانا بہت لذیذ ہوتا تھا۔ اور ان کے گھر میں مجھے بے حد میٹھی اور پْرسکون نیند آتی تھی۔ وہیں بیٹھک ہی کو انھوں نے میرا کمرا بنا دیا تھا۔ وہ علی الصبح مجھے ناشتا کراکے اپنی دکان پر چلے جاتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی ان کے بیٹے اور گھر کے دوسرے مرد بھی کام پر چلے جاتے تھے۔ وہ سب عشاء کی نماز پڑھ کر گھر آتے تھے۔ دیکھتے دیکھتے مجھے بھی فجر کی اذان کے ساتھ اٹھنے اور پھر مسجد میں جا کر فجر پڑھنے کی عادت پڑ گئی۔ رات کو اپنے آپ عشاء کی اذان سن کر میں محلے کی مسجد میں جا بیٹھتا۔ وہاں میں دیکھتا سب محلے دار ایک دوسرے کو خوش خلقی سے ملتے۔ ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے۔ محلے کی خبریں ایک دوسرے کو بتاتے پھر گھر آجاتے۔

میں اپنے آداب کے مطابق جب کبھی ان کا شکریہ ادا کرتا یا اس تکلیف دہی کے لیے معذرت کرتا وہ ہمیشہ کہتے مہمان اللہ کی رحمت ہوتا ہے۔ جس گھر میں مہمان نہیں آتے، اس گھر کا رزق نہیں بڑھتا۔ ایک روز میں نے انھیں یاد دلایا کہ حضرت! اس رات آپ نے ایک ضیافت کا اہتمام کیسے کرلیا۔ وہ مسکرائے اور مجھے اپنے پیچھے آنے کو کہا۔ وہ مجھے چھت پر لے گئے۔ میں نے دیکھا چھت کی دیواروں میں مختلف جھروکے بنے ہوئے تھے۔ جیسے چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں ہوتی ہیں۔ انھوں نے آگے بڑھ کر ایک جھروکہ کھول دیا۔ دوسری طرف کسی کا گھر تھا۔ دوسرا جھروکہ کھولا وہاں بھی گھر نظر آیا۔ تیرا چوتھا پانچواں۔ سب جھروکے کھول دیے۔ وہ سب جھروکے دوسرے گھروں میں کھلتے تھے۔

حاجی صاحب کہنے لگے ’’یہ سب لوگ ہمارے قریبی ہمسائے ہیں۔ ہم سائے کا مطلب جانتے ہو۔ وہ لوگ جو ایک ہی سائے میں قیام کرتے ہوں۔ ہمارے شہر کی خوبی یہ ہے کہ ہم حقوق ہمسائیگی کے پیروکار ہیں۔ ہر گھر کا جھروکہ دوسرے گھر میں کھلتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ ہم ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے رہتے ہیں بلکہ بوقت ضرورت کسی ہمسائے کو کسی چیز دوائی یا مدد کی ضرورت ہو تو پیش کرتے ہیں۔ جو چیز ایک گھر سے نہیں ملتی وہ دوسرے گھر سے مل جاتی ہے۔ اس رات جب تم بے وقت آگئے۔ تو میری بیگم نے ان جھروکوں کو کھٹکھٹاکر ہمسایوں کو بتایا کہ کوئی نیا مہمان آیا ہے اگر کچھ بچا ہوا سالن ہو تو دے دیں۔۵ گھروں سے سالن کی پانچ پلیٹیں آگئی تھیں، جو ہم نے آپ کے آگے رکھ دیں۔ برخوردار یہی ہے ہماری ثقافت کا نچوڑ …! اسی لیے ہر گھر کے مرد بے فکر ہو کر کام پر چلے جاتے ہیں کہ ہر گھر کا رابطہ دوسرے گھر کے ساتھ ہے۔ ہمیں باہر سے کسی کو بلوانا نہیں پڑتا۔ محلے کے لوگ ایک برادری کی طرح رہتے ہیں اور مساجد میں اجتماع کا بھی یہی مقصد ہوتا ہے۔ میں ایک ہفتہ ان کے گھر رہا۔ بالآخر میں نے چلنے سے پہلے حاجی صاحب سے کہا۔

’’اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں ایک بات عرض کروں۔‘‘ وہ بولے ’’ضرور … ضرور۔‘‘ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا ’’حاجی صاحب مقالہ تو میرا آپ کے گھر کے اندر ہی مکمل ہوگیا تھا۔ مگر بہت سوچ سمجھ کر یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ اس ثقافت کی مجھے خیرات دے دیں۔ ’’خیرات…!‘‘ وہ حیران ہوئے۔ ’’میں سمجھا نہیں!‘‘ ’’ہے تو گْستاخی، مگر صاف صاف کہتا ہوں، مجھے اپنے خاندان کا فرد بنالیں۔ اپنی ہی فیملی میں میری شادی کرا دیں۔ میں نے اپنے بارے میں آپ کو مفصل بتا دیا تھا۔ میرے والدین آ کر رشتہ مانگ لیں گے۔ میں اپنے گھر میں بھی ایسا ہی کلچر دیکھنا چاہتا ہوں۔

حاجی صاحب تھوڑی دیر سر جھکائے بیٹھے رہے۔ میں خوف زدہ رہا۔ پھر سر اٹھا کر بولے، ’’برخوردار ! میں تمھارے جذبات کی قدر کرتا ہوں۔ میری اپنی بیٹیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں۔ میری ایک یتیم بھانجی میرے ساتھ رہتی ہے۔ اسے میں نے اپنی بیٹیوں کی طرح پالا ہے۔ پڑھایا ہے۔ اگر تمھیں منظور ہو تو…‘‘ ’’جی…‘‘ میں نے فوراً کہا۔ آپ کے زیرِسایہ تربیت پانے والی ہر لڑکی خوش نصیب ہوگی۔‘‘ اگلے مہینے میرے والدین نے آ کر رشتہ مانگا۔ میری شادی ہوگئی۔ میں نورسحر کو بیاہ کر اپنے گھر لے آیا۔ اس کے آتے ہی مجھے آئرلینڈ سے آفر بھی آ گئی کہ میرا مقالہ شامل نصاب کرلیا گیا ہے اور یونیورسٹی کی ریسرچ برانچ میں مجھے بڑی اچھی نوکری مل گئی ہے۔

میں نورسحر کو لے کر آئرلینڈ آگیا۔ اس خاتون نے میری زندگی جنت بنا دی۔ ہمارے ۴ بچے ہوئے۔ ۲ بیٹیاں اور۲ بیٹے۔ نور سحر دو چار سال کے بعد اپنے شہر آ جاتی تھی۔ میں نے جب کاروبار شروع کرلیا تو مجھے یہاں آنے کی فرصت ہی نہیں ملی۔ گھر کے خوبصورت ماحول نے اِدھر اْدھر دیکھنے کی اجازت ہی نہیں دی۔ چاروں بچوں کی شادیاں ہوگئیں، تو نور کچھ بیمار رہنے لگی۔ گزشتہ سال اس نے وطن جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ میں نے اسے بھیج دیا۔ یہاں آ کر وہ زیادہ بیمار ہوگئی۔ ایک دن اس نے فون پر مجھ سے کہا کہ اس کا وقت آگیا ہے۔ وہ واپس نہیں آئے گی۔ اسی مٹی میں دفن ہونا چاہتی ہے اور اس نے درخواست کی کہ اسے واپس آنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ پھر وہ رونے لگی۔ بس اتنا کہا، جب کبھی آپ کو فرصت ملے، میری قبر پر فاتحہ پڑھنے ضرور آنا۔ ورنہ میں قیامت تک انتظار کرتی رہوں گی۔‘‘

اسی رات اس کا انتقال ہوگیا۔ یہ سنتے ہی مجھے زبردست ہارٹ اٹیک ہوگیا۔ بیٹوں نے مجھے انتہائی نگہداشت میں بھیج دیا۔ ایک بیٹی میرے پاس رک گئی اور باقی ماں کی آخری رسومات پوری کرنے اس کے شہر آگئے۔

٭٭٭

کل رات میں پورے ۵۰ برس کے بعد اس اسٹیشن پر اْترا تھا۔ ٹرین بھی وہی ملی تھی اور رات کا وقت بھی وہی تھا۔ بس میں ۷۵ برس کا ہوگیا تھا۔ جب میں پہلی بار آیا تو میری عمر۲۵برس کی تھی۔ اسی طرح میرے ساتھ ایک سفری بیگ تھا۔ میں نے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر چاروں طرف دیکھا۔ جنگلے کے اوپر بڑے بڑے قمقمے روشن تھے۔ سٹیشن پر دو تین اسٹال بن گئے تھے۔ ایک پر کھانا مل رہا تھا۔ دوسرا چائے اور مشروبات کا تھا۔ تیسرا ایک بک سٹال تھا جس پر باتصویر رسالے اور اخبار لٹک رہے تھے۔ اس وقت اسٹیشن پر کافی چہل پہل تھی۔ مسافر آجا رہے تھے۔

حسبِ معمول قلی میرے قریب آگیا۔ میں نے سامان اٹھوایا اور باہر نکل آیا۔ باہر بھی روشنی کا وافر انتظام تھا اور پارکنگ میں پیلی ٹیکسیاں کھڑی تھیں اور ساتھ آٹو رکشے بھی کھڑے تھے۔ میں نے ٹیکسی کو اشارے سے بلایا، اپنا سامان رکھوایا اور اسے شہر چلنے کو کہا۔ وہ چل پڑی۔ میں نے پوچھا ’’بھئی یہاں پہلے تانگے بھی تو ہوا کرتے تھے۔‘‘ ’’کب کی بات کر رہے ہو صاحب! تانگے تو اب خواب ہوگئے۔ کارپوریشن نے تانگے کی سواری پر پابندی لگا دی ہے۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘ ’’گندگی بہت پھیلاتے تھے جی۔‘‘ اور وہ سائیکل رکشے؟‘‘ ’’اس کو غیرانسانی کہہ کر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ آٹو رکشے چلتے ہیں۔‘‘ ’’یہ تو اچھا ہوا۔‘‘ میں نے کہا۔ پھر اس کو شاہی بازار چلنے کو کہا۔ باہر کا سارا ماحول بھی بدلا ہوا تھا۔ سڑکوں کے چوراہوں پر ریستوران اور تکہ شاپس بنی ہوئی تھیں۔ ساتھ میں مختلف مشروبات کی دکانیں تھیں۔ جن پر رات کے ان لمحوں میں بھی شور والا میوزک بج رہا تھا۔ اس وقت بھی کچھ خوش فکرے بیٹھے تکے کباب کھا رہے تھے۔

ساری سڑکیں روشن تھیں۔ کہیں کہیں کئی منزلہ پلازے بنے ہوئے تھے۔ ہر گھر کے باہر سڑک پر موٹر کھڑی تھی۔ اِکا دْکا ٹریفک بھی نظر آرہا تھا۔ ٹیکسی کے اندر ڈرائیور نے ایک بے ہودہ سے گیت کی کیسٹ لگا رکھی تھی۔ عمارتیں بلندو بالا ہو گئی تھیں اور بڑی بڑی دکانوں کے بورڈ انگریزی میں لکھے نظر آرہے تھے۔ جب ٹیکسی شاہی بازار کے اندر داخل ہوئی تو اس کا نقشہ بھی بدلا ہوا تھا۔ زیورات کی دکانوں کے آگے بڑے بڑے شوکیس بنے ہوئے تھے۔ ریڈی میڈ کپڑوں والی ڈمیوں کی بہت سی دکانیں تھیں۔ گو بازار بند تھا مگر ہر شوکیس کے اندر چھوٹی بتی جل رہی تھی۔

دکانوں کے بیچ ہوٹل اور ریستوران بن گئے تھے جو ابھی تک بند نہیں ہوئے تھے۔ ٹیکسی حاجی صاحب کی گلی میں مڑ گئی۔ گو حاجی صاحب کو فوت ہوئے ۲۰ سال ہوگئے تھے۔ پھر بھی میں نے اپنے آنے کی اطلاع اپنے سسرال میں دے دی تھی۔ ٹیکسی جس گھر کے آگے رْکی اس کا نقشہ بھی بدلا ہوا تھا۔ یہ گھر کئی منزلہ عمارت میں بدل چکا تھا اور باہر ایک لوہے کا گیٹ لگا تھا۔ اس پر کال بیل لگی تھی۔ ٹیکسی کو رخصت کرکے میں نے گھنٹی بجائی۔ بار بار گھنٹی بجانے کے بعد ایک باوردی چوکیدار آگیا۔ گیٹ کھولے بغیر للکارا۔ میں نے اپنا نام بتایا۔ اس نے گیٹ کھول دیا۔ میں اندر چلا گیا۔ اس نے گیٹ بند کردیا۔

پھر میرا سامان اٹھا کر ایک چھوٹے سے کمرے میں لے آیا۔ میں نے کہا ’’اندر اطلاع کردو میرے آنے کی۔‘‘ ’’اس وقت اطلاع نہیں ہو سکتی۔ سب لوگ سو رہے ہیں۔ ‘‘ میں نے کہا ’’ان کو معلوم ہے مجھے آنا ہے۔ میرے بات ہوئی تھی۔‘‘ ’’جی ہاں‘‘ وہ بولا ’’صاحب نے کہا تھا آپ کو اس کمرے میں ٹھہرادیا جائے۔ وہ لوگ صبح اٹھیں گے، آپ کو بلا لیں گے۔‘‘ میرا سر گھوم گیا۔ میں نے اِدھر اْدھر دیکھا۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں بستر لگا تھا۔ غالباً مجھے یہاں قیام کرنا تھا۔ کچھ کھانے کو مل جائے گا؟‘‘ میں نے یونہی کہہ دیا۔

’’صاحب اندر کا کچن تو بند ہو چکا ہے۔ آپ کہیں تو نکڑ والے ہوٹل سے کھانا لے آئوں۔ وہ اس وقت کھلا ہوگا۔‘‘

’’نہیں رہنے دو۔‘‘ میں کافی عرصہ سے پرہیزی کھانے کھا رہا تھا۔ بازار کا کھانا کھانا مناسب نہ سمجھا۔ چوکیدار کو بھیج دیا اور گزرے دنوں کو یاد کرنے لگا۔ سوتے جاگتے رات گزر ہی گئی۔ فجر کی اذان سن کر آنکھ کھل گئی۔ اتنے عرصہ بعد یہ اذان بہت اچھی لگی۔ میں نے اٹھ کر وضو کیا اور مسجد کو روانہ ہوگیا۔ اِدھر اْدھر سے نکل کر چند لوگ آئے، جن میں ضعیف العمر بزرگ تھے۔ ملازم قسم کے لڑکے تھے۔ باقی شاید دکاندار تھے۔ بمشکل ایک صف پوری ہوئی اور نماز کھڑی ہوگئی۔ مولوی صاحب بھی کوئی نوجوان تھے۔ انھوں نے مختصر دعا کرائی اور سب ایک دوسرے کو علیک سلیک کیے بغیر باہر نکل گئے۔ میں یونہی ٹہلتا ٹہلتا بازار کے دوسرے سرے پر نکل گیا۔ ۸ بج گئے مگر کسی نے دکان نہیں کھولی۔ البتہ ہوٹلوں کا کام شروع ہوگیا تھا۔ میں نے ایک آدمی سے پوچھا، دکانیں کس وقت کھلتی ہیں۔ اس نے کہا، ’’کچھ دس بجے اور کچھ گیارہ بجے۔‘‘ ’’اتنی دیر سے کیوں؟‘‘

’’رات کو جو ۱۲ بجے تک کھلی رہتی ہیں۔‘‘ میں گھوم پھر کر گھر آگیا۔ مبادا گھر والے میرے انتظار میں ہوں۔ گھر ابھی تک غنودگی میں ڈوبا ہوا تھا۔ میں نے چوکیدار کو بلا کر پوچھا ’’گھر والے کب اٹھیں گے؟‘‘ وہ بولا ’’وقت مقرر نہیں ہے، جس کا جب دل چاہتا ہے اٹھ بیٹھتا ہے۔‘‘ ’’پتا کیسے لگتا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’صاحب لوگوں کے کمروں سے تیز میوزک کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔‘‘ میں سر جھکا کر بیٹھا رہا۔ مجھے چائے کی طلب ہو رہی تھی۔ میں نے چوکیدار سے پوچھا تو وہ بولا ’’نکڑ والے ہوٹل پر بہت اچھی چائے ملتی ہے، لے آئوں؟‘‘

میں نے کہا ’’میں خود وہاں سے پی آئوں گا۔‘‘ میں باہر نکل کر اس گندے غلیظ ہوٹل میں آ بیٹھا۔ چائے کا آرڈر دیا۔ پورے بازار کا حلیہ بدل چکا تھا۔ دکانوں کا ڈیزائن بدل چکا تھا۔ ہوٹل کے اندر سمع خراش قسم کا میوزک بج رہا تھا۔ دکانیں ابھی نہیں کھلی تھیں۔ میں چائے پی کر واپس آگیا۔ چوکیدار بھی ناشتا کرچکا تھا۔ میرے لیے وقت گزارنا مشکل ہو رہا تھا۔ حاجی صاحب کے دونوں بیٹے بھی فوت ہو چکے تھے۔ اب اس گھر میں ان کے پوتے پوتیاں رہتے تھے۔ یہ مجھے فون پر نورسحر نے بتایا تھا۔

میں نے گیٹ میں کھڑے ہو کر اس ۴ منزلہ عمارت کو دیکھا۔ مجھے اس کی چھت پر جانے کی طلب ہونے لگی۔ میں نے چوکیدار سے کہا ’’میں چھت پر جانا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ بولا ’’چھت پر کچھ نہیں ہے۔ پانی کی ٹینکیاں لگی ہوئی ہیں یا گھر کا کاٹھ کباڑ پڑا ہے۔‘‘ میں نے کہا ’’مجھے سیڑھیاں دکھائو، میں جائوں گا۔‘‘ وہ مجھے سیڑھیوں کی طر ف لے آیا اور بولا ’’سر آپ اتنی زیادہ سیڑھیاں چڑھ نہیں سکیں گے۔ میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ ‘‘ واقعی یہ وہ چھت نہیں تھی۔ چار تو پانی کی ٹنکیاں بنی ہوئی تھیں۔ چار ہی ڈش انٹینے لگے ہوئے تھے۔ ٹوٹے ہوئے کولر، ائیرکنڈیشنر اور موٹروں کے فاضل پْرزے پڑے تھے۔

میں نے چاروں طرف گھوم پھر کر دیکھا۔ وہ جھروکے کہیں نہیں تھے۔ میں نے اْچک اْچک کر چاروں طرف دیکھا۔ ہمسایوں کے گھر بھی ویسے نہیں تھے۔ تقریباً ہر گھر ۲ منزلہ یا ۳ منزلہ ہوچکا تھا۔ چھتوں کے اوپر ٹنکیاں اور انٹینے ہی نظر آ رہے تھے۔ ہر گھر دوسرے سے بیگانہ کھڑا تھا۔ چھت پر سے سارے شہر پرنظر ڈالی تو اس کے اندر پہلے والی طمانیت اور سکون نظر نہیں آیا۔ ایک بے چینی تھی جو سارے گھروں پر منڈلاتی پھر رہی تھی۔ شاید ہر گھر کے اندر وہ پہلے والے لوگ بھی نہیں تھے۔ یہ سوچتے ہی میرا دل بھر آیا۔ میں پیچھے کو مڑا پتا نہیں چوکیدار کب کا مجھے چھوڑ کر جا چکا تھا اور میں بنیروں کے دائروں میں پْرانا وقت کھوجتا رہ گیا تھا۔

میں نے سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھائے اور نیچے اْترنے لگا۔ نیچے سے بڑے پْر شور مغربی سازوں کی آواز آ رہی تھی۔ شاید گھر والے جاگ گئے تھے۔ آدھے رستے میں مجھے چوکیدار آتا مل گیا۔ بولا ’’صاحب آپ کو یاد کر رہے ہیں۔‘‘ آخری منزل کے دروازے میں حاجی صاحب کا پوتا نائٹ سوٹ میں کھڑا تھا۔ مجھے دیکھ کر اس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ ’’ہیلو انکل! کل رات دیر تک پارٹی ہوتی رہی۔ میں اسٹیشن پر گاڑی بھیجنا بھول گیا۔ اْمید ہے آپ کو تکلیف نہیں ہوئی ہوگی۔ ’’بس بیٹا! تکلیف کیسی یہ تو اپنا گھر ہے۔‘‘

پھر وہ جلدی سے بولا ’’آپ آنٹی کی قبر پر جانا چاہتے ہیں۔ میں نے دفتر سے اپنا چپراسی بلا لیا ہے وہ آپ کو لے جائے گا۔ مجھے ذرا تیار ہو کر ایک میٹنگ میں جانا ہے۔ رات کو ملاقات ہوگی انکل۔‘‘ وہ میرے جواب کا انتظار کیے بغیر اندر چلا گیا۔ یہ پوچھے بنا کہ میں نے ناشتا کیا ہے یا نہیں، کچھ کھایا ہے یا نہیں۔ کہاں سویا تھا، کیسے آیا تھا۔ یہ اس گھر کا دستور تھا۔ میں نے اپنا سفری بیگ اٹھایا اور چپراسی کے ساتھ قبرستان آگیا۔ اس نے قبر کی نشاندہی کردی تو میں نے اسے رخصت کردیا۔میں آتے ہوئے بازار سے بہت سارے پھول لے آیا تھا۔ سارے پھول میں نے نورسحر کی قبر پر ڈال دیے۔ پھر دل بھر آیا۔ کیا کیا نہ یاد آیا، بیٹھا روتا رہا، چپ چاپ روتا رہا۔!!!lll

شیئر کیجیے
Default image
خالد رحیم

Leave a Reply