لمحۂ آگہی

یہ بیٹیاں بھی قدرت کا نہایت انمول، خوبصورت قیمتی تحفہ ہوتی ہیں۔ جب پاس ہو تو عزیز تر ہونے کے باوجود احساسِ فکر جگاتی ہیں اور جب اس احساسِ فکر کو ختم کیا جائے تو احساسِ جدائی مار ڈالتا ہے۔ میں جب بھی اپنی تینوں بیٹیوں کے مشترکہ کمرہ میں آتا ہوں تو مجھے اپنے آنگن کے سونے پن کا احساس شدت سے ہوتا ہے۔ اس آنگن کی سنہری چڑیاں اور ان کی چہچہاہٹ اب کسی اور کے آنگن کی زینت بن چکی ہے۔ نہ جانے کیوں آج بڑی شدت سے اِن تینوں کی یاد آرہی ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے اِن تینوں کی ایک مسکراتی تصویر البم سے نکالی۔

دراصل تنہائی ہے ہی عذابِ جان۔ آج بیگم صاحبہ اور میری دونوں بہویں کسی رشتہ دار کے یہاں عیادت کے لیے گئی ہوئی ہیں۔ مجھے گھٹنے کے درد نے پریشان کر رکھا تھا سو ان کے ساتھ نہ جاسکا۔گوہر کی ڈائری، اسماء کی کتابیں، شمع کے لگائے ہوئے پودے جو آج تناور پیڑ بن چکے ہیں، گھرکے ہر کونے سے ان کی یادیں وابستہ ہیں، دراصل لڑکیاں تو ہوتی ہی ہیں معصوم، سادہ، نازک دلوں کی مالک اور بیٹیوں کے روپ میں تو آبگینہ ہوتی ہیں۔ میری بیٹیاں بھی ایسی ہی معصوم، سادہ، چنچل اور نازک مزاج ہیں۔ گوہر کی دائری میں رکھی گلاب کی پتیاں، تتلیوں کے پر اور خوبصورت نقاشی کے سوکھے پتے رکھے دیکھ کر میرے ہونٹوں پر مسکان ٹھہر گئی۔ ان آبگینوں کی حفاظت کے لیے رب کائنات نے جو ہم سفر انھیں عطا کیے۔ انھیں دیکھ کر میری آنکھوں میں ٹھنڈک رہتی ہے اور میں دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرنے لگتا ہوں کہ اس نے ان میں سے کسی کو فیصل شاہان جیسا دل نہ دیا۔ میں جب بھی اپنی بیٹیوں کی جگمگاتی آنکھوں میں دیکھتا ہوں تو مجھے یہ خیال بے طرح ستاتا ہے کہ اگر میں یعنی فیصل شاہان آگہی کے لمحے سے نہ گزرتا تو شاید مجھے مکافاتِ عمل سے گزرنا پڑتا اور اسی سوچ کے ساتھ میں اندر تک لرز جاتا ہوں۔

سچ ہی کہا جاتا ہے یادِ ماضی عذاب ہے یا رب۔ میں فیصل شاہان بھی ماضی کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے ہوئے اکثر ان لمحوں کے کرب سے گزرتا ہوں جب ایک نیک صفت لڑکی کی قیمت لگائی گئی تھی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب فاطمہ میری شریک حیات کے روپ میں اس گھر میں آئی تھی۔ وہ بھی ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھیں۔ قبول صورت، نیک، صفت، وفا شعار، خدمت گزار، بااخلاق۔۔۔۔۔ اس قسم کی بہت سی خوبیاں تھیں اس میں لیکن ان تمام خوبیوں کو بے وقعت کر دیا تھا مطلوبہ جہیز کی کمی نے۔

جوڑے کی رقم، قیمتی فرنیچر، خوبصورت کراکری وغیرہ بھی ہمیں کم لگ رہے تھے۔ آج بھی دل میں ایک کسک جاگ اٹھتی ہے جب فاطمہ کا وہ چہرہ مجھے یاد آتا ہے جو میرے تیس ہزار کے مطالبے پر تھا، جہاں دکھ، کرب اور بے یقینی کی کیفیت رقم تھی۔۔۔۔ ’’بابا اور بھائی نے اپنی ساری جمع پونجی میرے جہیز میں لگا دی بلکہ قرض دار بھی ہوگئے ہیں، ابھی طوبیٰ اور نمرہ ۔۔۔۔۔ اب مزید تیس ہزار۔‘‘ اس کی لرزتی آواز اور بے ربط جملے آج بھی سماعت میں گونجتے ہیں۔ ’’مجھے اپنا بزنس شروع کرنا ہے۔ اس کے لیے سرمائے کی ضرورت ہے۔ کیا تمہارے ماں باپ بیٹی کے لیے اتنا بھی نہیں کرسکتے۔ آخر اتنا لائق فائق، پڑھا لکھا، شریف داماد ملا ہے انھیں۔‘‘ میرے وہ الفاظ! شاید میں اپنے آپ کو کیش کرانا چاہتا تھا۔

فاطمہ کی آنکھوں میں اپنے شفیق بابا کا جھریوں زدہ چہرہ اور جھکے کاندھے، محبت کرنے والے بھائی کے چہرے پر تفکروں کا جال اور ممتا کی ماری ماں کی تصویر اُبھر گئی اورشاید ان کے دکھوں اور تکالیف کا احساس کرتے ہوئے ہی فاطمہ نے ایک چپ سادھ لی اور کانٹوں بھری راہ پر چل پڑی جہاں اس کے پیر لہولہان، شخصیت کا غرور چور چور اور خوابوں کا دکھ بکھرا تھا، اس کی عزتِ نفس کی دھجیاں اڑچکی تھی۔

آج بھی ذہن پر وہ تصویر ہے جب فاطمہ ایک وفا شعار بیوی اور اطاعت گزار بہو کا کردار ادا کرتی لیکن پھر بھی اس کی ذات کو نشانہ بنایا جاتا، طنز کے تیر برسائے جاتے الفاظ کو تلخیوں کے زہر میں بجھا کر اُس بے قصور لڑکی کے شیشہ دل کو ٹکڑے، ٹکڑے کیا جاتا۔ امی، ابا، شابی، نعمان اور ۔۔۔۔۔ حرماں نصیب، بدبخت فیصل شاہان یعنی میں ہم سب اس پر پیسوں کے لیے دباؤ ڈالتے۔ لیکن وہ ایک بیٹی بھی تھی ۔۔۔۔۔ ایک بیٹی۔

انہی حالات میں شمع کی پیدائش ہوئی، ایک ننھی، معصوم، پیاری سی گلابی گلابی پری کو دیکھ کر ایک عجیب سی سرشاری ہوئی اور بیٹی کی پیدائش کی خبر سن کر جو غم میرے اندر ہاتھ پیر پھیلانے لگا تھا وہ یکدم سے ہی کہیں غائب ہوگیا جیسے کبھی تھا ہی نہیںوقتی طور پر میں سب کچھ بھول گیا۔ اپنے پیسوں کا مطالبہ، خود غرضی سب کچھ۔ جب اِس گڑیا کو گود میں اٹھاتا دل پدرانہ محبت سے لبریز ہوجاتا، میں اکثر اسے اپنی گود میں لیے بیٹھا رہتا، اس سے باتیں کرتا، اسے ہنسانے کی کوشش کرتا، پارک میں گھمانے لے جاتا، چند مہینوں میں ہی شمع مجھے جان سے زیادہ عزیز ہوگئی۔ مگر فاطمہ کے ساتھ میرا رویہ تبدیل نہ ہوا۔ وہی سرد مہری، بے رخی و بے مہری کا تاثر لیے رویہ وہ بیچاری خود ہی دوچار باتیں مجھ سے کر جاتی اور میں صرف کسی کام کے لیے ہی اُسے آواز دیتا۔

اور پھر وہ دن جب میرا دل پہلی بار کسی انجانے خدشے سے لرز اٹھا۔ مجھے آج بھی وہ دن اس کی حشر سامانیں کے ساتھ یاد ہے۔ شمع میری گود میں ہمک رہی تھی اور میں اس کا لاڈ کرتے ہوئے اس سے باتیں کیے جا رہا تھا۔ ’’میری رانی بیٹی، پاپا کی جان، میری گڑیا تو شہزادی ہے، اس کی قسمت بھی شہزادیوں جیسی ہوگی ۔۔۔ ہے نا چندا بیٹی۔‘‘ میں شمع کے ساتھ کھیلنے میں مگن تھا کہ میری نظر فاطمہ پر پڑی جو چائے پیتے ہوئے ہم دونوں کو بڑی دلچسپی اور محویت سے دیکھ رہی تھی۔ ’’ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟ کیا ہمیں نظر لگانے کا ارادہ ہے؟‘‘ میری ہر بات ٹیڑھی ہوتی۔ اس نے میری بات کو سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا ’’نہیں، ماں مجھے بتاتی تھیں کہ بابا مجھے ایسے ہی لاڈ کرتے تھے، یوں ہی ڈھیروں باتیں کرتے، آپ کو پتہ ہے ابا تو آج بھی مجھے شہزادی بیٹی کہتے ہیں۔‘‘ فاطمہ کے چہرے پر محبت کی چمک تھی اور آنکھوں میں نہ جانے کیا کچھ تھا کہ میں نظریں چرا کر رہ گیا لیکن اس کے آخری سرگوشی نما جملے نے مجھے تڑپا دیا ’’اور آج بھی وہ یہی سمجھتے ہیں کہ شہزادی بیٹی کی قسمت بھی شہزادیوں جیسی ہے ۔۔۔۔ ہائے رے خوش فہمی۔۔۔۔۔ وائے ناکامی تقدیر!‘‘ میں نے تڑپ کر اُسے دیکھا لیکن وہ تو ایک تھکی تھکی سی مسکان چہرے پر سجائے باہر چلی گئی۔

اور میں نے بے اختیار ننھی شمع کو گلے سے لگالیا اور یوں چمٹا لیا جیسے کوئی بھیانک آسیب مجھے اس سے جدا کردے گا۔ میں آپ ہی آپ بڑبڑانے لگا؛ ’’خبردار جو کسی نے کبھی بھی میری بیٹی کو ذرا سی تکلیف بھی دی تو۔۔۔!!‘‘

’’تو ۔۔۔؟ تو کیا کرلوگے تم فیصل شاہان ۔۔۔۔ آج ایک باپ اس آٹھ ماہ کی بیٹی کے لیے انجانے خوف سے لرز رہا ہے۔ ہوں ۔۔۔۔ ذرا اس باپ کی تکلیف کا اندازہ لگاؤ جس نے اپنی زندگی کے ۲۰ ، ۲۲ سال تک اپنی بیٹی کی پرورش کی، تربیت کی ، اس کے لاڈ اٹھائے، تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا، اور تم نے اُسے جہیز کی کسوٹی میں پرکھا، اس کی شخصیت، وفا شعاری، اور ہر خوبی کو حرص کی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اس کی عزتِ نفس کو روندا، اس کی آنکھوں سے سنہرے خواب چھین لیے۔ فیصل شاہان ۔۔۔۔ مکافاتِ عمل ایک اٹل حقیقت ہے۔ کیا تمھیں اس پر یقین نہیں؟‘‘ ضمیر نے مسلسل مجھ پر تازیانے برسائے اور میں ضمیر کی عدالت میں شرمسار کھڑا تھا۔

کہا جاتا ہے زندگی بدلنے کے لیے اک لمحہ چاہیے، اور یہی آگہی کا لمحہ ہوتا ہے۔ میں نے بھی اس لمحہ کو لمحہ آگہی جانا اور پھر خدا گواہ ہے کہ میں نے فاطمہ کو اس کا اصل مقام دیا۔ اپنے طرزِ عمل کی معافی مانگی اور ویسے بھی عورت محبتوں کے خمیر سے گوندھی وفا کی مورت ہوتی ہے وہ میری کایا پلٹ سے حیران ضرور تھی اور بہت زیادہ خوش بھی اور میں اس کے مسکراتے لبوں، اور لبوں کا ساتھ دیتی آنکھوں کو دیکھتا اور مطمئن ہو جاتا۔ یہ اس لمحے کا اعجاز تھا۔

میں نے جب اپنے دونوں بیٹوں کی شادی کی تو جہیز کی لعنت کو محفل شادی کی زینت نہ بننے دیا اور نہ ہی بے شمار لغو رسومات میں بے جا اسراف ہونے دیا کیوں کہ میں جانتا تھا کہ جو میرے گھر آرہی ہیں وہ کسی کی شہزادی بیٹیاں ہیں اور میں ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ قسمت بھی ویسی ہی لائی ہیں۔ میری اپنی بیٹیاں بھی کسی جہیز اور نام و نمود کے بغیر ہی پیا دیش چلی گئیں۔ آج وہ سب محبتوں کی ڈور سے بندھے ہیں، جس رشتے کی بنیاد بغیر کسی غرض اور حرص کے رکھی جائے تو محبت خود بخود ہی پیدا ہوجاتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ محبتیں لازوال بنتی جاتی ہیں اور پھر ۔۔۔۔

’’پاپا آپ بھی نا ۔۔۔۔ کتنی بار کہا ہے یوں سردی میں مت بیٹھا کریں، گھٹنوں کا درد بڑھ جائے گا۔‘‘ ایک محبت بھری آواز میرے قریب گونجی تو خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ آنکھ کھول کر دیکھا تو شمع لونگ اینڈ کیئرینگ (Loving and Caring) لہجے میں کہتی ہوئی میرے گھٹنوں پر ہاتھ رکھے دو زانو بیٹھ گئی اور مجھے لگا میرا سارا درد پل بھر میں زائل ہوگیا۔ یہ محبتوں کا کمال تھا!

’’اے شمع آپی! تم میرے ابو پر اپنی ڈاکٹری مت جھاڑا کرو۔ ابو ہم یہیں بیٹھیں گے۔ اسماء باجی گرم گرم کافی لے آئیں گی ۔۔۔۔ وہ سرد و خنک سی فضائیں، ہواؤں میں رچی خوشبو، گرم گرم کافی، نرم نرم شال، آہا‘‘ گوہر نے اپنے شاعرانہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا اور آلتی پالتی مار کر میرے قریب بیٹھ گئی۔

’’گوہر آپی ۔۔۔ آپ ہمیشہ مجھے اسماء باجی کہہ کر کام کراتی رہتی ہیں۔ میں کافی نہیں بنانے والی۔۔۔۔ ہاں الائچی والی گرم گرم چائے لے آتی ہوں۔‘‘ وہ تینوں ہی میرے اطراف بیٹھیں اپنی ہی باتیں کیے جا رہی تھیں۔ میرا آنگن پھر سے چہکنے لگا تھا۔ میں اپنی نم آنکھوں سے انھیں محبت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ اپنی شہزادی بیٹی کو ۔۔۔۔

جن کی انمول محبت گوہر نایاب ہے۔

تو پھر اِن آبگینوں کی حفاظت کیجیے اور

سنگِ جہیز سے انھیں لہولہان نہ کیجیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شیخ سمیہ تحریم

Leave a Reply