ریل کی پٹریوں پر پڑی ہوئی کہانی

لوگ آسمان کی طرف یوں دیکھ رہے تھے جیسے خدا زمین پر نہ ہو۔

پل کے نیچے ریل کی ٹوٹی پھوٹی بوگیاں اوندھی پڑی تھیں اور ندی کی بپھری ہوئی موجیں جانے کون سی صورتوں کو مٹانے پر تلی ہوئی تھیں۔

سارا جنگل زخمیوں کی چیخوں سے گونج رہا تھا۔

ایک رات گزر گئی ۔۔۔۔ مگر ابھی تک بوگیوں میں پھنسے ہوئے لوگ مدد کے لیے چلا رہے تھے۔ کنارے پر لوگوں کا ہجوم تھا۔ کام کرنے والے فوج اور ہاسپٹل کے لوگ، تماشائی اور بے تحاشا رونے والے ۔۔۔۔ ندی کے کنارے کٹی پھٹی لاشیں پڑی تھیں، ان کی بدبو کی وجہ سے آنے والے ادھر جانے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔ پھر کوئی انہیں پکڑ کے اس طرف لے جاتا۔

’’یہ ہے ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ اور یہ ـ۔۔۔۔۔؟‘‘

’’ہاں ۔۔۔۔ شاید۔۔۔۔ یا اللہ یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔ اپنے عزیزوں رشتے داروں کے ٹوٹے پھوٹے چہرے دیکھ کر رونے والوں کی چیخوں سے سارا جنگل گونج رہا تھا۔

’’چلو، اپنے آدمی کی لاش لے کر آگے جاؤ۔۔۔۔ سب باری باری آؤ ۔۔۔۔ مردوں کی لاشیں ادھر ہیں۔‘‘

میونسپلٹی کا ایک جوان منہ پر کپڑا باندھے ہجوم کو کنٹرول کر رہا تھا۔

موت کی ارزانی نے زندہ رہنے والوں کو بے حس کر دیا تھا۔ بھلا ایک ساتھ اتنے مردوں کو اٹھانا کوئی معمولی کام تھا۔ پانی میں پھول کر، دھوپ میں سڑ کر ساری لاشیںاتنی سرکش ہوگئی تھیں، اتنی بھاری کہ انھیں اٹھانے والے مزدور حیران تھے۔ ان سب مرنے والوں کے جینے کا مقصد کیا تھا۔ یہی کہ اس ندی میں ڈوب مریں اور بے شمار لوگوں کو تھکا ڈالیں۔

’’صاب میرا مرد ۔۔۔۔۔ باوا ۔۔۔۔۔ باوا۔۔۔۔۔‘‘ چیتھڑے لگائے پاگلوں کی صورت ایک بھکارن آگے بڑھی۔ اس کی گود میں چار پانچ دن کا بچہ تھا اور ساتھ میں چار پانچ روتے ہوئے ننگ دھڑنگ بچے۔

’’چل ہٹ ۔۔۔۔ بعد میں آنا۔۔۔‘‘ لاشیں حوالے کرنے والا اسے دھکا دے کر آگے بڑھا دیتا تھا۔

’’صاب میرا بھورا ۔۔۔۔ میں کل سے یہاں بیٹھی ہوں صاب۔ ریل میں بھیک مانگتا تھا۔ اسی گاڑی میں تھا صاب۔‘‘

’’افوہ … دماغ کھالیا اس بھکارن نے … چل آگے جا۔ وہ سامنے مردوں کی لاشیں پڑی ہیں۔ جلدی جلدی دیکھ … ’’اس نے بھکارن کو آگے دھکیل کر اپنے ساتھی سے کہا۔

’’سالی یوں لاش ڈھونڈ رہی ہے جیسے کریا کرم کرے گی گھر جاکر پتی کا۔‘‘

’’یہ پاگل یہ بھی نہیں جانتے کہ یہاں مفت گڑھوں میں لاشیں دبانے کا انتظام کر دیا ہے سرکار نے۔‘‘

’’اری مل گیا تیرا پتی۔ سالی زمین پر کیا ڈھونڈ رہی ہے، وہ تو آسمان پر پہنچ گیا اب۔‘‘

’’کالی لنگی پہنے تھا وہ اور کاندھے پر چمڑے کی جھولی تھی…‘‘

’’ارے کالی لنگی تو کب کی کھل گئی ہوگی سالے کی اور جھولی کیا لٹیروں نے چھوڑی ہوگی۔ جب سے ٹرین گری ہے، جو سنتا ہے دوڑا چلا آتا ہے لوٹ مار کرنے … جلدی دیکھ … وہ کالا کپڑا کیا ہے…؟‘‘

’’ہاں شاید یہی ہے، ٹانگ پر پھوڑا تھا اس کے۔‘‘

’’بس تو جلدی لاش کو اٹھاؤ۔ یہاں پولیس والے کسی کو ٹھہرنے نہیں دیتے۔‘‘

مگر لاش تو منوں وزنی ہوگئی تھی، چھوٹی پانچ دن کی زچہ، بھورا اتنا بھاری تھا۔ اسے کبھی نہ لگا۔

’’باوا… باوا… میرا باوا…‘‘ ننھے ننھے بھوکے پیاسے بچے باپ کی لاش دیکھ کر چلانے لگے۔

آٹھ برس کا منا آگے بڑھا کہ اماں کی مدد کر کے لاش کو سرکا سکے۔ مگر بدبو کا ایک بھپکا اس کی ناک میں گھس گیا اور وہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔

’’یا اللہ… میں لٹ گئی۔ منے کے باپو، تم بچوں کو چھوڑ کر کہاں چلے گئے۔‘‘ تھکی ہاری چھوٹی لاش کے کنارے صف ماتم بچھانے کے ارادے سے بیٹھ گئی۔ مگر ایک پولیس والا ڈنڈا گھماتا ہوا آیا۔

’’جلدی لاش اٹھاؤ… گھر جاکر رونا، دیر لگاؤ گے تو ہم لاش کو اٹھا کر لاریوں میں ڈال کر لے جائیں گے۔‘‘

چھوٹی ڈر کے مارے گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔ یہاں سے لاش کو لے جانے کا مطلب تھا ایک لاری کرائے پر کرنا۔ سب لوگ اپنے لوگوں کی لاشیں اسی طرح لے جا رہے تھے۔ اور پھر کفن دفن کرنا، کون سا گھر تھا، جہاں بیٹھ کر وہ برادری کو اکٹھا کرنے والی تھی۔

اسٹیشن کے سامنے، ایک ٹوٹی دیوار کے نیچے وہ پانچ بچوں کو سمیٹے بیٹھی رہتی تھی۔ بھورا صبح ہی جھولی ڈالے اجنتا ایکسپریس سے چلا جاتا تھا۔ شام کو لوٹتا تو اس کی جھولی مسافروں کے جھوٹے کھانوں سے بھری ہوتی تھی۔ چھوٹی نے دیوار میں کیلیں گاڑھ کر ایک پرانے تھیلے کی چھت ڈال لی تھی۔ بارش اور دھوپ سے بچنے کے لیے سب اس کے نیچے بیٹھ جاتے تھے۔ اسی چھت تلے چھوٹی پانچ بچوں کی ماں بنی۔ غنڈے اسے گاؤں سے اٹھا کر لائے تو کئی مہینے اسے ادھر ادھر چھپا کر عیش کرتے رہے۔ پھر ایک دن اسٹیشن کے سامنے پٹک کر چلے گئے۔ اسے ہوش آیا تو اس کی ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں۔ تب بھورا ہی اس کے کام آیا۔ مہینوں اس نے بیمار چھوٹی کی دیکھ بھال کی۔ اپنی بھیک کے کھانے میں اسے شریک کیا۔ چھوٹی کو کچھ یاد نہیں ہے کہ وہ کب بھورے کی دوست سے بیوی بنی اور بھورے نے اسے پانچ بچوں کی ماں بنا دیا۔

’’تو لاش اٹھائے گی یا نہیں۔ کب تک ان بچوں کو لے کر یہاں کھڑی رہے گی…‘‘

’’بابو، میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میں زچہ بھکارن ہوں۔‘‘

’’اچھا، اچھا، تو پھر ان بچوں کو لے کر ہٹ جاؤ۔ ہم لاوارث لاشوں کے ساتھ اسے بھی دفن کردیں گے۔ یہاں آؤ۔ اس رجسٹر پر انگوٹھا لگاؤ۔ کہاں رہتی ہو…؟ تمہارا نام کیا ہے…؟ تمہارے مرد کا نام کیا تھا…؟‘‘

جب وہ لوگ بھورے کی لاش کو گھسیٹ کر لیے جارہے تھے تو چھوٹی کے ساتھ ساتھ بچے بھی رونے لگے۔ چھوٹی نے ارادہ کیا کہ منہ پر سے کپڑا ہٹا کر بھورے کی صورت دیکھ لے، مگر وہ آگے بڑھنے کی ہمت نہ کرسکی۔ بھوک سے روتے چلاتے پانچ بچوں کو گھسیٹتی ہوئی، وہ اپنے ٹھکانے پر آئی، تو آس پاس کے بھکاری خوانچے والے، رکشا والے اکٹھے ہوگئے۔

’’بے چاری معذور عورت ہے۔ مرد ریل کے حادثے میں مر گیا۔ پانچ بچے ہیں۔‘‘

دو چار منٹ بھوکے بچوں کا تماشہ دیکھ کر سب چلے گئے۔ اب اسے معلوم ہوا کہ اندھا بھورا زندگی میں کتنا اُجالا پھیلائے ہوئے تھا۔ ہمدردی کے بول چاول کے دانے تو نہ تھے کہ چھ بیٹوں کی دوزخ بھرتی۔ کبھی کوڑھی فقیر ترس کھا کے کسی بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھما دیتا۔ لوگ دس پانچ پیسے اس کے سامنے پھینک کر چلے جاتے۔ وہ سب تو جھوٹی تھالیوں کا کھانا کھاکر پلے تھے، ان کے پاس ہنڈیا تھی نہ چولھا۔ چھوٹی تو بچا ہوا کھانا آس پاس بیٹھے ہوئے بھکاریوں کو بانٹ دیتی تھی۔

’’اماں مجھے بھی ایک جھولی لادے۔ میں بھی باوا کی طرح ریلوں میں چڑھ کر بھیک مانگوں گا۔‘‘

’’مگر تو ابھی چھوٹا ہے۔ ریل پر کیسے چڑھے گا، گر پڑا تو …؟‘‘ چھوٹی نے منا کو بہت روکا، مگر وہ اسٹیشن پر رکنے والی ریلوں کے سامنے بھاگ دوڑ کر کے دو ایک روپے لے آتا تھا۔

’’تیرا نام چھوٹی ہے …؟ کیا تیرا مرد اجنتا ایکسپریس کے ایکسیڈنٹ میں مرا ہے؟‘‘

ایک دن ایک بابو رجسٹر لیے اس کے پاس آیا۔

’’اچھا تو کل ریلوے کے آفس میں آجانا… تجھے پانچ ہزار روپے ملیں گے۔‘‘

’’پانچ ہزار …‘‘ چھوٹی دھکا کھاکر پیچھے کی طرف لڑھک گئی۔ پانچ ہزار کی دہشت سے اس کا سارا بدن کانپنے لگا۔ کیا بھورا اتنا قیمتی تھا؟

پانچ ہزار روپے سنبھال کر وہ باہر آئی تو ساری دنیا بدل چکی تھی۔ اسے صلاح مشورے دینے والوں کی بھیڑ لگی تھی۔ مگر روپے کی قوت نے تو جیسے اس پر چودہ طبق روشن کردیے تھے۔ اور وہ سرمایہ داروں کی طرح ساری دنیا کو اپنا دشمن مان چکی تھی۔

پیٹ بھر کے کھانا کھایا۔ بچوں کو چائے اور بن کھلائے۔ اپنے لیے نئی ساڑی خریدی اور کہیں ٹین کی چھت والا گھر کرائے پر لینے کے خواب دیکھنے لگی۔ اب اس کی ٹوٹی ٹانگوں میں اتنا دم آگیا تھا کہ سارے اسٹیشن پر دوڑ سکتی تھی۔ کیسا اچھا تھا بھورا… مرنے کے بعد بھی بچوں کے جینے کا سامان کر گیا۔

رات کو چھوٹی سوتی تو بار بار بھورا اس کے سامنے آکھڑا ہوتا۔ لاٹھی کے سہارے راہ ٹٹولتا اس کی طرف بڑھتا۔ اس کے گندے کپڑوں کی سڑانڈ چاروں طرف پھیل جاتی تھی۔ میں نے اسے کفن پہنایا نہ دفن کیا۔ اسی لیے اس کی روح بھٹکتی پھرتی ہے۔

چھوٹی نے بار بار آنکھیں بند کیں۔ پھر دیکھو تو وہ سر پر کھڑا ہے۔

’’چھوٹی … چھوٹی …‘‘ ہاں بالکل ایسے ہی پکارتا تھا وہ بدنصیب۔ ’’چھوٹی سو گئی کیا…؟‘‘

وہ ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی، اسٹیشن کی روشنی میں بھورا سامنے کھڑا تھا۔ کالی لنگی باندھے، جھولی لٹکائے۔

’’کون…؟ کون ہے تو …؟‘‘ وہ گھبرا گئی۔

’’خفا ہوگئی کیا۔۔۔۔؟‘‘ بھورے نے ایک عاشق مزاج شوہر کی طرح اسے اپنی طرف کھینچا۔

’’ریل میں ایک پولیس والے سے میری لڑائی ہوگئی تھی۔ اس نے زبردستی ایک اسٹیشن پر اتار دیا۔ میں بھٹک کر دوسری گاڑی میں سوار ہوا تو بمبئی۔‘‘

’’تو آگیا۔۔۔۔۔؟ تو زندہ ہیـ۔۔۔۔۔؟باپ رے۔۔۔۔۔‘‘ خوف کے مارے چھوٹی کانپنے لگی۔

’’تو اجنتا گاڑی کے الٹنے سے مر گیا تھا نا۔ میں وہاں دیکھنے گئی تھی۔ وہ لوگ تیری لاش اٹھا کر لے گئے تھے۔‘‘

’’میری لاش۔۔۔۔۔! کہاں تھی۔۔۔۔۔؟‘‘

چھوٹی کچھ نہ کہہ سکی۔۔۔۔۔ گھبراہٹ کے مارے وہ روئے جا رہی تھی۔

’’تو ریل کے الٹنے سے مر گیا تھا۔ اس لیے اسٹیشن کے بابو نے مجھے پانچ ہزار روپے دیے ہیں۔‘‘

’’پانچ ہزار ۔۔۔۔۔!‘‘ بھورا اچھل پڑا۔ اس کی جان کی قیمت پانچ ہزار ہے۔ یہ تو اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔

’’اب کیا ہوگا! لوگ تجھے دیکھ لیں کہ تو زندہ ہے تو روپے چھین لیں گے۔‘‘ چھوٹی دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر رونے لگی۔

اپنے وجود پر بھورا شرم کے مارے زمین میں گڑھا جا رہا تھا۔ کیسی حماقت کی ہے اس نے زندہ رہ کر۔

’’باوا تو کہاں سے آگیا۔۔۔۔۔؟ منا اور بٹو بھی اٹھ بیٹھے۔‘‘ وہ بدبو کی لاش کیا تیری نہیں تھی!‘‘

جب بچوں نے سنا کہ باوا کے زندہ رہنے پر روپے چھین کر لے جائیں گے تو وہ بھی رونے لگے۔ سب کو روتا دیکھ کر بھورا بھی رونے لگا۔ اگر وہ اس ریل میں کچل کر مر جاتا تو پانچ ہزار روپے مل جاتے۔ تھوڑی دیر بعد جیسے بھورے کو کسی خیال نے چونکا دیا اور وہ اپنی لاٹھی ٹٹولتے ہوئے بولا۔

’’چھوٹی، اپن یہاں سے بھاگ جائیں گے۔ جلدی اٹھ، بمبئی ایکسپریس اب آتی ہوگی۔

سوتے سوتے بچوں کو گھسیٹتے، گٹھریاں پوٹلیاں سنبھالے، وہ دونوں اسٹیشن کی طرف بھاگے تو بھورا نے ایک کپڑے سے اپنا منہ ڈھانپ لیا تھا۔ ٹرین دھیرے دھیرے اسٹیشن سے آگے بڑھی تو چھوٹی نے جھانک کر دیکھا۔ ٹاٹ کی چھت پر لٹکتے ہوئے چیتھڑے ہل ہل کر اسے الوداع کہہ رہے تھے۔ اچھا ہوا میں نے پرانا سامان چھوڑ دیا۔ چھوتی نے ایک نئے محل میں داخل ہونے والی مہارانی کی طرح سوچا۔

گاؤں کا یہ اسٹیشن بہت چھوٹا تھا۔ یہاں ایکسپریس گاڑیاں نہیں ٹھہرتی تھیں۔ دن میں دو ایک بار کوئی مال گاڑی یا پسنجر گاری آکر رکتی تو جانے کا نام نہ لیتی۔ مگر اسٹیشن کے سامنے ٹین کی چھت والی جھونپڑی بڑی آرام دہ تھی۔ منا اور بٹو اسٹیشن پر بھاگ دوڑ کر عادت کے مطابق کچھ مانگ لاتے تھے، مگر بھورا اب بہت کاہل ہوگیا تھا۔ اسے دارو کی لت لگ گئی تھی۔ رات دن چھوٹی سے پیسوں پر لڑائی ہوتی۔ وہ دن بھر جھونپڑی میں پڑا کھانسے جاتا تھا۔ بچوں کو سارا دن بھوک لگتی تھی۔ چھوٹی کی ہنڈیا دن بھر چولہے پر چڑھی رہتی تھی۔ کیوں کہ یہاں سے ایسی کوئی ریل نہ جاتی تھی جس کے مسافروں کا جھوٹا کھانا بھورا سمیٹ کر بچوں کے لیے لا دیتا۔ دھیرے دھیرے سوکھی لکڑیوں کے ساتھ پانچ ہزار روپے جانے کب جل بجھے۔ پتہ ہی نہ چلا۔

اب بھوکے بچے اسٹیشن کے مسافروں کے پیچھے بھاگتے، کنگالوں کی اس بستی میں سارا دن بھورا لاٹھی تھامے ٹھوکریں کھانا پھرتا مگر دو مٹھی اناج سے زیادہ کچھ نہ ملتا۔ سات آدمیوں کے پیٹ کی دوزخ بھڑکتی اور سب ایک دوسرے کو پھاڑنے کھانے کی سوچتے۔

پانچ ہزار روپے ملنے کی کہانی آج بھی وہ یاد کرتے تو جنت کے دروازے سے کھل جاتے تھے۔

’’تونے کیسے پہچانا کہ وہ لاش میری ہے ۔۔۔؟ ایک دن بھوک بہلانے کے لیے بھورا نے پھر وہی کہانی چھیڑ دی۔

’’اماں تو بس روئے جا رہی تھی، مگر میں نے ایک لاش کے پاس جاکر کہا کہ یہ تو میرے باوا کی لاش ہے۔ بس وہ لوگ مان گئے۔‘‘ منا اپنے کارنامے پر بڑے فخر سے بولا۔

’’بڑا چالاک ہے رے یہ چھورا ۔۔۔۔۔‘‘ بھورا اپنی اندھی آنکھیں گھما کر ہنسنے لگا۔ بھوک بڑی بری بیماری ہے۔ مگر دنیا کے ہر دکھ کی سب سے بڑی دوا بچے ہیں۔

’’ اور میں نے بھی تو کہا تھا کہ یہ باوا ہے۔ میں تو خوب روئی تھی۔‘‘ بٹو چاہتی تھی کہ پانچ ہزار روپے ملنے والی کہانی میں اس کا بھی حصہ ہو۔

’’ارے میں تو دکھ کے مارے پاگل ہوگئی تھی۔ میں کیا جانوں کہ تو مرے گا تو پانچ ہزار روپے ملیں گے۔‘‘

’’تو یہ سرکاری قانون ہے، کوئی ریل کے نیچے کٹ جائے یا ریل اُلٹ جائے تو سرکار کو جان کی قیمت دینا پڑتی ہے۔‘‘ بھورے نے انہیں سمجھایا۔

چھوٹی نے اب بڑے غصہ میں اندھے بھورے کو گھورا۔ لاش گھسیٹ کر انہوں نے لاری میں ڈال دی تھی۔ پھر جانے کہاں سے آمرا پانچ ہزار میں حصہ لینے۔

صبح سویرے بھیک مانگنے بھورا اور منا چلے گئے تو چھوٹی جھونپڑی کے سامنے بیٹھ کر بٹو کے سر میں جوئیں دیکھنے لگی۔ سامنے دور دور تک جنگل پھیلا تھا۔ ایک طرف کھیتوں کا سلسلہ تھا۔ ان کے آگے بنجاروں کی عارضی جھونپڑیاں تھیں۔ یہ لوگ نئی دیلوے لائن بچھانے آئے تھے۔ کھیتوں کے بیچ میں سے پتلی سڑک گاؤں کی طرف جاتی تھی۔

کسی ریل کے آنے کا وقت تھاجو ہری جھنڈی دکھانے والے بابو کے ساتھ دو چار لوگ ادھر ادھر بھاگ دوڑ کر رہے تھے۔ ایک مال گاڑی تیزی سے آئی اور اسٹیشن پار کر کے آگے بڑھی ۔۔۔۔ پھر ایک زور دار دھماکے کے ساتھ اچانک رک گئی۔ شاید انجن پٹڑی سے اُتر گیا۔ لوگ ادھر دوڑنے لگے۔

’’کوئی ریل کے نیچے آگیا ہے۔ شاید بکری تھی۔ نہیں کوئی بچہ تھا۔‘‘ لوگ چلا رہے تھے۔

’’ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ بنجاروں کا بچہ تھا۔‘‘ لوگ چلا رہے تھے۔

بٹو اور چھوٹی بھی ادھر دوڑیں۔ بٹو نے خون میں ڈوبی لاش دیکھی تو اس کے پاس جاکر چلانے لگی۔ ’’یہ میرا بھائی ہے منا۔ منا ہے یہ۔ اماں اماں منا ریل کے نیچے آگیا۔‘‘

’’منا۔۔۔۔۔!‘‘ چھوٹی چکرا گئی۔ دل میں جیسے کسی نے بھالا اتار دیا۔ ’’سب لوگ ہٹ جاؤ۔ یہ میرا بھائی ہے۔‘‘ بٹو جیسے خوشی سے پاگل ہوئی جا رہی تھی۔ پورا اسٹیشن لوگوں سے بھر گیا۔ چھوٹی دیوار کے سہارے آنکھیں بند کر کے کھڑی ہوگئی۔

’’باوا باوا منا ریل کے نیچے آگیا۔ میں نے اسے پہچان لیا ہے۔‘‘ دور سے باوا کو آتے دیکھ کر بٹو چلانے لگی۔ پھر منا کو باوا کے ساتھ دیکھا تو منہ بسورتے ہوئے آہستہ سے بولی۔

’’منا! تو اس وقت کہاں سے آگیا رے۔۔۔؟‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
جیلانی بانو

Leave a Reply