مسلم ذہن کا فکری سانچہ

ایک مسلمان بننے کے لیے رسومات کی پابندی کے علاوہ اور بہت کچھ ضروری ہوتا ہے۔ حالانکہ رسومات بہرحال ناگزیر ہیں، مگر محض رسومات سے اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ ایک نومسلم کا پورا ذہنی، اخلاقی اور روحانی نقطہ نظر تبدیل نہ ہوجائے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد سب سے اہم تبدیلی جو میرے اندر آئی وہ میرے ذہن کا، ایک کافر ذہن سے ایک مسلمان ذہن میں پلٹ جانا تھا۔ میں اپنے ذاتی تجربے سے یہ بیان کرنے کی کوشش کروں گی کہ ایک مسلمان دنیا کو کس طرح دیکھتا ہے، زندگی کو کس طرح لیتا ہے اور اس کے رویّے، مزاج اور خواہشات پر ایمان کس طرح اثرانداز ہوتا ہے تاکہ ایک اجنبی کو گہری تفہیم حاصل ہوسکے۔

اسلام کا سب سے اہم عقیدہ انسان کا تصور ایک اللہ کے بندے کے طور پر ہے۔ ’’اسلام‘‘ کے لغوی معنی بذاتِ خود ’’اللہ کی رضا کے آگے ہتھیار ڈال دینا ہے‘‘، اور جو کوئی بھی ایسا کرتا ہے وہ مسلمان ہوتا ہے۔ چونکہ اللہ ہی پوری کائنات کا واحد مالک ہے۔ گرجے اور ریاست کی تقسیم کا مسیحی تصور ایک مسلمان کے ذہن کے لیے انتہائی غیر منطقی ظاہر ہوتا ہے۔ اسلامی حکومت کا مقصد اللہ کے قانون کو قرآن و سنت کے مطابق نافذ کرنا ہے۔ مسلمان حکمران خود آمر نہیں بن سکتا، نہ ہی خود سے کوئی قانون بنانے کا مجاز ہے۔ شریعت اور مقدس قانون کبھی بھی بدلے نہیں جاسکتے، بلکہ صرف سخت حدود کے اندر ان کی وضاحت کی جاسکتی ہے۔ ہر شے اللہ کی ہے، انسان کا کچھ بھی نہیں ہے۔ انسان مکمل طور پر اپنے رب کے اوپر منحصر ہے۔ سب کچھ جس پر انسان قابض ہے، یہاں تک کہ اس کا جسم بھی محض اللہ کی طرف سے اس پر ادھار ہے تاکہ اسے صحیح مصرف میں لائے۔ اگر انسان اس ذمہ داری سے جان چھڑائے گا تو سخت سزا کا مستحق ہوگا۔ اللہ کے لیے بطور ایک غلام کے کام کرنے کے لیے اس کو اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ اگر ضرورت پڑے تو اپنی ذاتی خوشی، مسرتیں، اپنی خواہشات، آسائشیں اور دولت، جو کچھ بھی اس کی ملکیت میں ہے، ایک حقیقی مسلمان اپنی ذاتی خوشیاں کسی بڑے فائدے کے لیے لگانے میں دقت محسوس نہیں کرے گا۔ ایسا کرنے سے وہ ابدی خوشی اور دماغی سکون محسوس کرے گا۔ اللہ کا بندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان انسانوں کے پیدا کردہ مظالم سے آزادی حاصل کرلے۔ ایک سچا مسلمان کسی آدمی سے نہیں ڈرتا، وہ صرف اللہ سے ڈرتا ہے۔

انسانیت کا سب سے بڑا المیہ غربت، بیماری اور جہالت نہیں، بلکہ اصل المیہ کفر ہے۔ غیر شادی شدہ مائیں، کچی عمر کی حاملہ دلہنیں، جنسی زیادتی، زنا سے پیدا شدہ اولادیں، جنسی بیماریاں، اسقاطِ حمل، آوارہ شرابی اور غیر معقول قوم پرستی… یہ سب کفر کے نتائج کی عکاسی کرتے ہیں۔ جو کچھ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے خیر کثیر رکھتا ہے، جب کہ کفر اللہ کی کھلی نافرمانی ہے جو قابلِ برداشت نہیں۔ ایک مسلمان اپنے ساتھی کو محض اس کے عقیدے کی درستی اور اس عقیدے کو اس کی روزمرہ کی زندگی میں عملی نمونے کے طور پر دیکھ کر جانچتا ہے۔ آدمی کی نسل، قومیت، دولت، سماجی درجات اور اس کے ذاتی وصف کے ساتھ کوئی نسبت نہیں رکھتے، اگر آدمی جو کچھ کہتا ہے اس کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کرتا تو وہ ایک منافق سے زیادہ کچھ نہیں، اور ایسے شخص میں کوئی ایمان نہیں۔ مسلمان اس بات کا قائل ہوتا ہے کہ آدمی کے اعمال مکمل طور پر اس کے عقیدے پر منحصر ہوتے ہیں، چونکہ وہ خود سے بھلائی اور اخلاقیات کا تصور نہیں گھڑ سکتا سوائے یہ کہ وہ ماورائے عقل الٰہیاتی بنیادیں ہوں۔

سچے مسلمان کو موت سے خوف نہیں آتا کیونکہ موت ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے گزر کر وہ رب کے ساتھ ابدی زندگی کو پاسکتا ہے۔ اگر ایک مسلمان کو کوئی عارضہ لاحق ہو جاتا ہے تو وہ ہر ممکن طبی راستے کو اپناتا ہے، مگر سب کچھ کرنے کے بعد بھی اگر طبی ذرائع اس کی یا اسی طرح متاثرہ اس کے پیاروں کی صحت کو ٹھیک کرنے اور زندگی بچانے میں ناکام رہیں تو وہ موت کو پْرسکون سپردگی کے ساتھ قبول کرلے گا۔ مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیشگی موت کا وقت متعین کر رکھا ہے، لہٰذا کوئی اپنے متعین کردہ وقت سے پہلے نہیں مر سکتا، نہ ہی دنیا کے تمام معالج اور ادویات اس کی موت کو ایک لمحے کے لیے ٹال سکتے ہیں۔

اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے جو سر گرمی کے ساتھ پیروکار ڈھونڈ رہا ہے۔ جہاں تک ممکن ہو اسلام کی تبلیغ کرنا اس کا مقدس فریضہ ہے۔ یہ جان کر غیر مسلموں کو حیرت ہوگی کہ دنیا کے بیشتر حصوں (خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ) میں لوگ، عام عرب اور ہندوستانی مسلم تاجروں اور بیو پاریوں کی سرگرمیوں سے مسلمان ہوئے۔ کوئی طاقت اور تشدد استعمال نہیں کیا گیا۔ نہ ہی یہ ممالک سیاسی طور پر ان کے زیراثر تھے۔ ایسا اس طرح ممکن ہوا کہ وہ تاجر حضرات اسلام کو اوّلین اہمیت دیتے تھے اور کاروبار کو ثانوی۔

مسلمان روح کو، اس کی بیرونی وضع سے علیحدہ نہیں کرتا، کیونکہ وہ مانتا ہے کہ کوئی عقیدہ اپنے ٹھوس اظہار کے بغیر مؤثر نہیں ہوتا۔ وضو اور نماز، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعین کردہ طریقے کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر مسلمان جیسے اسے نماز ادا کرنی چاہیے، ادا کرتا ہے تو وہ اپنے اندر ایک متحرک احساس اور اعلیٰ کردار پیدا کرلیتا ہے، کیونکہ اگر وہ صحیح طریقے پر ادائیگی کرے تو اسے اللہ کے علاوہ کوئی دیکھنے والا نہیں۔ کوئی دوسرا مذہب ذاتی صحت و صفائی کی ضرورت پر اتنا زور نہیں دیتا، جتنا اسلام دیتا ہے۔ جسمانی طہارت روحانی طہارت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ بیرونی انسان اندرونی انسان کا اظہار ہوتا ہے۔ قرآن و سنت کے تعزیری قوانین کے حوالے سے غیر مسلم انتہائی غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ اسلام جن جرائم کو بدترین جرائم شمار کرتا ہے وہ جرائم مغربی ممالک میں بمشکل جرائم سمجھے جاتے ہیں۔ چوری کے علاوہ قانونی سزائیں شاذ و نادر نافذ ہوتی ہیں۔ مسلمان نہیں مانتا کہ ایک قانون کی افادیت اس کے نرم ہونے پر ہے، نہ ہی مجرم افراد معاشرہ سے زیادہ قابلِ رحم ہوتے ہیں۔ مسلمان کے نزدیک قرآن و سنت کی تعزیری سزائیں آج کے لیے غیر مناسب اور ساتویں صدی کے وحشیانہ اور جابرانہ قدیم عرب کی پیداوار نہیں ہیں، بلکہ اس کے برعکس وہ مانتا ہے کہ یہ قوانین جدید قید خانوں کی نفسیاتی درماندگی اور اخلاقی بدکاریوں سے کہیں زیادہ انسانی ہیں، اور حقیقی اسلامی تناظر میں انسان کے بنائے ہوئے قوانین کے مقابلے میں لامحدود حد تک جرائم کے خلاف جنگ میں مؤثر ہیں۔

مسلمان یہ مانتا ہے کہ ایک تندرست معاشرے کے لیے مرد اور عورت کی علیحدگی انتہائی ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد اور عورت آزادانہ میل جول رکھنے سے روکے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے مسلمان مخلوط سماجی تقریبات، مخلوط تعلیمی نظام، شادی سے پہلے اظہارِ محبت کو برداشت نہیں کرسکتا۔ نہ مرد غیر عورتوں پر نظر رکھیں، نہ ہی عورتیں غیر مردوں پر۔ ہمیشہ باحیا لباس اپنایا جائے، عورتوں کو جب باہر نکلنا ضروری ہو تو اپنا پورا جسم ڈھانپنا چاہیے، اور عورت کی خوبصورتی صرف اس کے اپنے لیے ہے۔ اس کے جسم کی کسی بھی حالت میں اجنبیوں کی گندی نظروں کے سامنے عوامی نمائش نہ کی جائے۔ مرد اور عورت کی محبت کا عوامی مظاہرہ قابلِ سزا ہے۔ اسلام میں مرد گھر سے باہر کے سماجی فرائض کا ذمہ دار ہے جبکہ عورت گھر کے اندر کے ہر معاملے کی ذمہ دار ہے۔ لہٰذا عورت کا یہ کام نہیں کہ وہ مردوں کے ساتھ کاروبار یا سیاست میں مقابلہ کرے۔ ایک سچا مسلمان یہ بات اچھی طرح سمجھتا ہے کہ جب عورت ایک دفعہ گھر سے نکلتی ہے تو پھر گھر، گھر نہیں رہتا۔

رہبانیت کی قرآن و سنت میں مذمت کی گئی ہے، اور ہر مرد اور عورت سے شادی شدہ زندگی گزارنے کی توقع کی جاتی ہے۔ حالانکہ مرد چار بیویاں رکھ سکتا ہے مگر ایک سے زائد شادی کو فرض قرار نہیں دیا گیا، نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، بلکہ اس عمل کی محض اجازت دی گئی ہے۔ مسلمانوں کی غالب اکثریت ہمیشہ ایک زوجیت پر اکتفا کرنے والی ہی رہی ہے۔ کثرتِ ازدواج غیر قانونی جنسی تعلقات سے روکتی ہے، کیونکہ اگر ایک آدمی کسی دوسری عورت سے تعلق رکھنا چاہتا ہے تو اس کو اس عورت کے ساتھ شادی کرنی پڑے گی، اس کی پوری ذمہ داری اور باپ بننے کا بوجھ بھی اٹھانا پڑے گا۔

اسلامی طرزِ زندگی روحانی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ اخلاقیات اور سچائی مطلق دائمی اور عالمگیر ہیں۔ یہ اللہ کی جانب سے قائم کردہ ہیں، انسان کی طرف سے نہیں۔ لہٰذا انسان کو اس میں سازباز کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ مسلمان کے لیے قرآن، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں بلکہ اللہ کی کتاب ہے۔ وہ مانتا ہے کہ قرآن کا ہر لفظ مستند اور سچ ہے اور اس کی اطاعت ضروری ہے۔ قرآن تمام علوم کا منبع ہے اور اس کے کسی بھی حصے کے بارے میں سوال اٹھانا اللہ کی ہدایت کو رد کرنے کے مترادف ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور سنت یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ، قرآن کی صحیح تشریح کرنے کے لیے بنیاد ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر بے معنی ہیں۔ کیونکہ قرآن غلطی سے پاک مکمل اور آخری وحی ہے۔ اسلام نہ بدلا جاسکتا ہے نہ اس کی تجدید کی جاسکتی ہے۔ اس کو کبھی بھی ’’بہتر‘‘ نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام مکمل اور خودکفیل ہے۔ اس کے اندر خیالات کے چنائو کی کوئی گنجائش نہیں۔ مسلمان سمجھتا ہے کہ ’’ترقی‘‘ اسی میں ہے کہ وہ اپنی زندگی کو قرآن کی اصل اور اس کی روح کی مطابقت میں لائے۔ اس کا دنیاوی مقصد دنیاوی ترقی نہیں بلکہ آخرت کی ہمیشہ کی زندگی کی تیاری ہے۔

اسلام مسلمان سے کلی اطاعت مانگتا ہے۔ ایک مسلمان دن کے ہر لمحہ مسلمان ہوتا ہے۔ دوسرا کوئی عقیدہ رکھنے والے شخص کے ساتھ اسلام ناقابلِ تصور حد تک سخت ہے۔ اسلام کے قوانین مسلمان کی زندگی سے متعلق ہر پہلو کو قابو کرتے ہیں۔ سوتے جاگتے اسلام ہمیشہ مسلمان کے ساتھ ہوتا ہے۔ مسلمان کبھی بھی ایک لمحے کے لیے بھی اس بات کا مجاز نہیں ہے کہ وہ یہ بھول جائے کہ وہ کون ہے۔ll

شیئر کیجیے
Default image
محترمہ مریم جمیلہؒ

Leave a Reply