بچوں کی تربیت: چند عملی باتیں

بعض مرتبہ مصروفیت اور مشاغل کی کثرت کی وجہ سے والدین یا ان دونوں میں سے کوئی ایک یہ سمجھتا ہے کہ بچوں کی تربیت کرنا ایک مصیبت ہے یا بہت مشکل کام ہے یا میرے بس کی بات نہیں یا کوئی اور اس کام کو انجام دے دے چاہے میں اس کو پیسہ دے دوں، اس کی تنخواہ مقرر کردوں، تنخواہ کے علاوہ کچھ الگ سے دے دوں، لیکن یہ بوجھ میرے سر سے ہٹ جائے۔۔۔۔ اس لیے کہ میں بہت مصروف ہوں، میرے پاس وقت نہیں یا مجھے غصہ بہت جلدی آجاتا ہے، میں بچوں کو سمجھا نہیں سکتا یا مجھے مزہ ہی نہیں آتا، دل ہی نہیں لگتا، وغیرہ۔ ان سب باتوں کا حل یہ ہے کہ آپ اس کو بوجھ نہ سمجھیں، اس کو مصیبت و زحمت نہ سمجھین، اس کو مشکل اور اپنے بس سے باہر نہ سمجھیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس کو اپنی سعادت سمجھا جائے، اپنے لیے صدقہ جاریہ اور اپنی دعاؤں کے قبول ہونے کا ذریعہ تصور کیا جائے۔ بچوں کی تربیت اور ان کو بیٹھ کر اچھی طرح سمجھانا، ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا، اخلاق و آداب کے اعلیٰ معیار تک پہنچانے کی کوشش کرنا، دس پندرہ منٹ تک ہاتھوں کو اٹھا کر ان کا نام لے لے کر دعائیں مانگنا، اللہ تعالیٰ سے ان کو دین کی خدمت کے لیے قبول کروانا، دعاؤں کے ذریعے دنیا و آخرت کے انعامات دلوانا، سب امور اپنی سعادت بھی ہیں اور اپنی ضرورت بھی۔ کیوں کہ اولاد معاشرہ میں ایک بہترین فرد کے آنے کا ذریعہ ہے اور ان کی قربت اپنی آنے والی نسل پر احسان۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی شریک حیات کے ساتھ اس معاملے میں تعاون کیاجائے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہو۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اپنی اولاد کو عزت دو اور ان کی اچھی تربیت کرو۔‘‘

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:’’اپنے بچوں اور گھر والوں کو بھلائی کی تعلیم دو اور ان کی تربیت کرو۔‘‘

ان تمام فوائد کو سوچتے ہوئے میاں بیوی دونوں سوچیں کہ بچے کی تربیت سے دنیا و آخرت کے کیا کیا فوائد ہمیں حاصل ہوں گے، کتنے منافع ہمیں ملیں گے، کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ شوہر بیوی سے کہے کہ تم چار فائدے سوچ کر رکھنا اور میں بھی چار فائدے سوچوں گا۔ پھر اسی طرح بیوی شوہر کے ساتھ بیٹھ کر اس کے نہ کرنے کے نقصانات سوچے، پھر اسی طرح دوستوں سے مذاکرہ کریں کہ اگر ہم نے بچے کی تربیت پر توجہ نہ دی، اس کے لیے اپنا وقت فارغ نہ کیا، اسکول و مدسہ کے حالات کی خبر نہ رکھی، گھر سے باہر کن دوستوں اور سہیلیوں میں وہ وقت گزارتا/ گزارتی ہے، کون سی کتابیں دیکھتا ہے، ٹی وی سے ہم نے اس کو نہ بچایا، برے ماحول اور برے دوستوں سے نہ بچایا اور اس کے اساتذہ کرام سے وقتاً فوقتاً حالات معلوم نہ کیے تو اس کے کیا کیا نقصانات ہوں گے۔

ان شاء اللہ جب آپ اس طرح ان فوائد کا مذاکرہ کریں گے اور نقصانات کو بھی سامنے لائیں گے تو تعلیم و تربیت کا شوق پیدا ہوگا، پھر بچوں کے لیے وقت دینا، ان کو سمجھانا، ان کی دینی ذہن سازی کرنا، اللہ جل جلالہ کی عظمت و کبریائی ان کے دلوں میں بٹھانا، حضور اکرمﷺ کی سچی محبت ان کے دلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کرنا، بڑوں کا ادب چھوٹوں پر شفقت سکھلانا، اسکول اور مدرسہ کا ہوم ورک کروانا، اسکول اور مدرسوں کی حاضریوں پر کڑی نگاہ رکھنا، ان تمام امور کا اہتمام کرنا آپ کو آسان و دلچسپ معلوم ہوگا۔

پھر جس طرح دوستوں کی محفل اور مجلس میں بیٹھنے میں مزہ آتا ہے، اس سے زیادہ بچوں کی تربیت میں مزہ آئے گا۔ پھر جس طرح اخبار پڑھنے میں اور فضول کہانیوں میں وقت لگانے میں سرور حاصل ہوتا ہے، اس سے زیادہ بیوی بچوں کے پاس بیٹھ کر ان کے مسائل کی گتھیاں سلجھانے میں سرور حاصل ہوگا، پھر جس طرح کاروبار میں کسی سودے کے ہونے پر طبیعت خوش ہوتی ہے، اس سے زیادہ بچوں کو عملی طور سے اخلاق پر لانے میں خوشی محسوس ہوگی، اور جس طرح ملازم کو اوور ٹائم نہ ملنے پر غم ہوتا ہے، یا تنخواہ کٹنے پر غم ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ بچے کی اسکول و مدرسہ کی چھٹی پر غم ہوگا اور اس کی آہ نکلے گی کہ بیٹا! آج تم نے مدرسہ کی چھٹی کیوں کرلی؟ ایک کاروباری کو جس طرح ایک آرڈر ملنے کے بعد پھر وہ آرڈر کسی وجہ سے منسوخ ہوجائے تو جس طرح غم ہوتا ہے، اسی طرح بچے کے امتحان میں فیل ہونے پر غم ہوگا۔

اب میاں بیوی بیٹھ کر سوچیں کہ ہم کس طرح اس بچے کی تربیت کریں، جب تربیت پر وقت لگانے کے فوائد و منافع سامنے آگئے اور اس پر وقت نہ لگانے کے نقصانات بھی سامنے آگئے تو اب ان فوائد و منافع کے حاصل کرنے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟ اور ان نقصانات سے بچنے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟ اس پر غور کریں اور اس موضوع پر شوہر بیوی سے پوچھے اور بیوی شوہر سے۔ پھر خود سوچ کر ایسی راہ متعین کریں، جس سے بچے کی تعلیم و تربیت کی نگرانی کی پوری ذمہ داری ادا ہو۔ کیوں کہ یہ کام والدین کے علاوہ کسی اور کے سپرد نہیں ہوسکتا۔ کتنا ہی شفیق و ماہر استاد ہو، کتنا ہی اچھا اور معیاری اسکول و مدرسہ کیوں نہ ہو، لیکن آپ اپنی اس ذمہ داری کو اور اس اجر و ثواب کو اور اللہ تعالیٰ کے راضی کرنے کے ذریعہ کو ہرگز ہرگز کسی کے سپرد کر کے مطمئن نہ ہوجائیے بلکہ خود ہی فکر کیجیے۔ ہاں استاد اور پرنسپل و مہتمم، آپ کے معاون ضرور ہوں گے لیکن ایسے سرپرست کامل نہیں ہوسکتے جن کے حوالے کر کے بچے کی تربیت سے والدین مطمئن ہوجائیں۔ اس سے انشاء اللہ وہ تمام شکایتیں دور ہوجائیں گی جو بہت سے والدین کو ہوتی ہیں کہ

٭ فلاں اسکول میں تو جاکر میرا بچہ بگڑ گیا، کوئی توجہ نہیں ہے، کوئی خیال نہیں رکھتے، اتنی فیس دے کر بھی وقت ضائع ہوا۔

٭ فلاں مدرسہ میں تو میرے بچے کا صحیح طور پر حفظ بھی نہیں ہوسکا، قاری صاحب بار بار چھٹیوں پر چلے جاتے تھے، بچے کی منزل بھی کچی رہ گئی، پارے بھی پکے نہ ہوسکے، حفظ بھی مکمل نہ ہوسکا، وہاں تو بہت وقت لگ گیا وغیرہ۔

یہ سب شکایات ان شاء اللہ تعالیٰ دور ہوجائیں گی، جب آپ براہِ راست توجہ دیں گے، اگر آپ بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں ، یا آپ کو اسکول و مدرسہ کے بارے میں تفصیلی حالات کا علم نہیں ہے، لیکن آپ یہ تین کام تو کرسکتے ہیں۔

٭ ہر ماہ بچے کی حاضری کا ریکارڈ اسکول و مدرسہ سے منگوائیں، غیر حاضری پر بہت سختی سے گرفت ہو، ہر قسم کی تادیبی کارروائی جو اس عمر کے بچے کے لیے مناسب ہو کریں، غیر حاضری کے نقصانات بچے کے دل و دماغ میں اتنے شدت سے پیوست کرنے کی کوشش کریں کہ وہ غیر حاضری کو ناقابل معافی جرم سمجھے، دنیا و آخرت کی تباہی و بربادی غیر حاضری میں سمجھے، اور اسے مستقبل میں پشیمانی و پریشانی کا سبب سمجھے۔

٭ امتحانات (ٹسٹ) وغیرہ کی رپورٹ دیکھیں، امتحانات سے چند دن پہلے اپنے پاس بٹھا کر پڑھائیں، امتحانات میں پڑھائی کا خاص ماحول تیا رکرنے کی کوشش کریں۔ امتحانات میں پاس ہونے پر انعامات دیں، کم نمبر آنے پر پچھلے امتحانات سے کم نمبر ہونے پر افہام و تفہیم سے کام لیں، وجہ و سبب معلوم کریں کہ پچھلے امتحان میں یہ حال تھا اب کس وجہ سے ایسا ہوا، پھر اس کی بتائی ہوئی وجوہات پر آپ ہی مشورہ کریں، پھر سوچیں کہ کہاں ہماری غلطیاں ہیں، کہاں بچے کی کمی کوتاہی ہے اور اس کے تدارک کی تدبیر کریں۔

٭ اس کے دوستوں کے بارے میں فکر رکھیں۔ خاص طور پر جن رشتہ داروں کے گھر وہ جاتا ہے ماموں زاد، پھوپھی زاد وغیرہ اگر کسی کے اخلاق و عادات نامناسب ہوں تو ان سے بھی تعلق کم کرائیے، بچے کے ماموں اور خالہ کے لڑکے بھی اگر آپ کے بچے کی تربیت میں مانع ہوں تو مناسب کارروائی اور تربیتی اقدامات ضروری ہیں۔ مثلاً آپ نے بچے کو ٹی وی سے دور رکھا ہے، لیکن اگر یہ خدشہ ہو کہ وہ ماموں و خالہ کے گھر جاکر اس گندی و بری عادت میں مبتلا ہوجائے گا تو اس کو وہاں جانے سے روکیں، یا آپ نے بچے کو اسکول و مدرسہ کے ہوم ورک کرنے کا پابند بنایا ہے اور خالہ و پھوپھی کے بچوں کا حال اس طرح نہیں ہے یا آپ کی بچی اسکارف و دوپٹہ کی پابند ہے اور وہاں یہ ماحول نہیں، آپ نے عشاء کی نماز کے فوراً بعد سونے کی عادت بنائی ہے اور وہاں دیر سے سونے کی عادت ہے اسی طرح محلہ کے بعض غیر دینداروں کے بچے جن کے ہاں تربیت کا اہتمام نہیں تو آپ اپنے بچوں کو برے ماحول سے، برے دوستوں سے ایسے ہی بچائیے جیسے سانپ اور بچھو سے بچایا جاتا ہے۔ کیوں کہ برا ماحول، برے دوست والدین کی ساری کی کرائی محنت کو ضائع کردیتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد حنیف ندوی

Leave a Reply