شرک کی شکلیں

خدا کی ذات، اس کی صفات یا اس کے حقوق میں کسی کو ساجھی ٹھہرانے کو شرک کہتے ہیں۔

خدا کی ذات میں کسی کو شریک کرنے کا مفہوم ہے خدا کو کسی جیسا یا کسی کو خدا جیسا قرار دینا، کسی کو اس کی ذات برادری سمجھنا یا کسی کو اس کا باپ یا بیٹا کہنا یہ بہت بڑا شرک ہے۔ اسی پر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

’’کہہ دو کہ اللہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔‘‘ (سورۂ اخلاص)

اللہ تعالیٰ بہت رحمن و رحیم ہے وہ اپنے بندے کے تمام گناہوں کو معاف کر دے گا مگر شرک ایسا گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ان الشرک لظلم عظیم ’’بے شک شرک ایک عظیم ظلم ہے۔‘‘

موجودہ دور میں شرک مسلم قوم کے اندر بہت سی شکلوں میں پایا جاتا ہے۔ جن میں سے چند یہ ہیں:

آباء پرستی

یعنی اپنے آباء واجداد کی ہر بات کی پیروی کرنا خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ اہل عرب میں یہ امر پایا جاتا تھا لیکن اب مسلمانوں میں بھی یہ چیز بہت زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔

خود پرستی

یعنی اپنے نفس کی پیروی کرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور رسول کا حکم کچھ ہو اور ہم اپنی مرضی سے کچھ اور کریں۔ جو ایسا کرتا ہے وہ اپنے نفس کی پیروی کرتا ہے۔ قرآن نے ایسے لوگوں کو تنبیہ کی ہے۔ فرمایا: کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا۔‘‘

قبر پرستی

یعنی قبروں کے اوپر چادر وغیرہ ڈالنا اور ان کے سامنے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا اور یہ تصور کرنا کہ جو کچھ وہ ان سے مانگ رہا ہے یا کہہ رہا ہے تو وہ ہماری بات سن کر اسے پوری کردیں گے۔ یہ سوچ سراسر غلط ہے اور بے بنیاد بھی ہے۔

اب ہم خود اپنا جائزہ لیں کہ کس قسم کا شرک ہمارے اندر موجود نہیں ہے۔ یوں تو ہمارے اندر بھی شرک کی سبھی قسمیں موجود ہیں تو ہم کو چاہیے کہ ہم اپنے اندر کا شرک دور کریں اور اس کے بعد دوسروں کو اس کی تلقین کریں۔ آمین۔

شیئر کیجیے
Default image
منشاء صادق طیباتی

Leave a Reply