لازوال محبت

لازوال محبت کا نام سنتے ہی خیال آتا ہے کہ لازوال محبت کیسی ہو گی جب یہ دنیا ہی فانی ہے تو پھر محبت کیسے لازوال ہو سکتی ہے۔ دیکھا جائے تو انسان دنیا میں جس سے بھی محبت کرتا ہے اسے ہمیشہ یہ خوف رہتا ہے کہ وہ اس سے جدا نہ ہو جائے وہ اس سے بچھڑ نہ جائے۔یہ محبت چیز ہی ایسی ہے۔

کہاجاتا ہے کہ محبت فانی نہیں ہوتی مگر یہ بات ثابت ہوتی نظر نہیں آتی اگر دنیا میں کوئی کسی سے محبت کرتا ہے تو لازماً ایسا وقت ضرور آتا ہے کہ اس شخص کی کوئی ایسی بات یا عمل جو انسان کو اس سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے! ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ چھوڑ کر چلا جاتا ہے یا پھر مر جاتا ہے تو آپ کی محبت پھر سے فانی ہو جائے گی لیکن لازوال محبت مجھے بس ایک ہی محبت نظر آتی ہے وہ ہے خدا کی محبت، اس کے رسول کی محبت اور وہ محبت جو خدا اور اس کے رسول کے لیے کی جاتی ہے۔ جو دنیا میں بھی رہتی ہے اور آخرت میں بھی کیونکہ خدا کی محبت ایسی ہے جو کبھی ختم نہیں ہونے والی خدا کی محبت وہ محبت جس میں کبھی بے وفائی نہیںرسوائی نہیں کوئی جدائی نہیں۔ حضورؐ نے فرمایا: ’’اللہ سے اس لیے محبت کرو کہ اس کے انعامات تم پر بے پایاں ہیں اور مجھ سے اللہ کے لیے کرو۔‘‘ (ترمذی)

اب دیکھا جائے تو انسان انسان کو کچھ نہیں دیتا۔ نہ انسان کے بس میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے محبوب کے لیے کچھ کرے، سوائے اللہ کے۔ لہٰذا جب انسان محبت کا دعوا کرے تو اس خدا سے کرے جس نے اسے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ انسان صرف اپنے جسم پر ہی غور کرے تو اللہ نے اسے آنکھیں عطا کی ہیں اگر وہ نہ ہوتیں تو وہ اس دنیا کی خوبصورتی کو دیکھنے سے محروم ہو جاتا اس پوری تخلیق، ان نظاروں سے محروم ہو جاتا۔ ہاتھ نہ ہوتے تو انسان کھانے پینے سے محروم ہو جاتا کسی کا محتاج ہو جاتا پائوں نہ ہوتے تو چلنے سے محروم ہوتا۔

تو پھر انسان انسان کے پیچھے کیوں بھاگتا ہے۔ وہ اپنے خدا سے محبت کیوں نہیں کرتا۔ وہ انسان کے پیچھے پاگل کیوں ہوجاتا ہے۔ وہ یہ کیوں کہتا ہے کہ اس کی محبت لازوال ہے۔ حالانکہ اسے ایک نہ ایک دن اس دنیا سے چلا جانا ہے۔ فانی ہو جانا ہے۔

لازوال محبت صرف ایک محبت ہے جو اپنے پیارے خدا کی محبت ہے جو اس کے رسول کی محبت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مہرین ذوا الفقار

Leave a Reply