جہیز کے نام پہ شادی نہیں

ہم آئے دن اخباروں میں پڑھتے ہیں کہ جہیزکی وجہ سے لڑکیوں کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ کہیں ان کے قتل کی خبریں آتی ہیں تو کہیں انہیں اتنا ستایا جاتا ہے کہ وہ برداشت نہ کرکے خود ہی موت کو گلے لگا لیتی ہیں۔ایسی بہت سی باتیں ہیں جو میں اور آپ ہمیشہ سے پڑھتے اور سنتے آرہے ہیں۔لڑکے والوں کا کہنا ہوتا ہے کہ میں نے اپنی بیٹے کی پڑھائی میں لاکھوں روپئے خرچ کئے۔تو مجھے ایک اچھی بہو بھی چاہئے سامان بھی۔سامان اچھا اور مہنگا ہو،آخر کار لڑکی والے بے بس اور مجبور ہو جاتے ہیں۔وہ کسی نہ کسی طرح سے اپنی بیٹی کی شادی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

لڑکی والے جواب رہتے ہوئے بھی جواب نہیں دے پاتے۔۔۔۔۔ وہ بول سکتے ہیں کہ اپنے بیٹے کی پڑھائی کا خرچ مجھ سے وصول کرنا چاہتے ہیں تو سنو میرا کیا ہوگا میں نے اپنے جگر کے گوشے کو پال پوس کے بڑا کیا ۔اچھی تعلیم سے آراستہ اور عمدہ ہنر سکھائے۔اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ایک ایسے گھر میں بھیج دیتا ہوں۔جو پہلے سے اجنبی ہے۔

رہا سوال دَین مہر کا تو دَین مہر نے بھی اس زمانے میں ایک دشمنی کی شکل اختیار کر لی ہے۔اس دَین مہر کو ذرا نکاح کے وقت ہی ادا کردے تو پھر جوانوں کی ہمت بڑھے گی۔ بحرحال میرا مقصد ہے کی جہیز کو کیسے ختم کریں۔ میرے پاس ایک نسخہ ہے کہ اگر دنیا کی تمام لڑکیاں نے مل کر طے کرلے کہ میں جہیز کے نام پر شادی ہرگز نہیں کروں گی۔ تو نوجوانوں کے کانوں میں جب یہ نعرہ گونجے گا تو وہ چونک پڑینگے اور انہیں مجبوراً شادی کرنی ہوگی۔ہم جہیز کے نام پر شادی ہرگز نہ کریں گے اس نارے میں۔ امیر غریب، خوبصورت، بدصورت، چھوٹی بڑی، ہرلڑکی کی آواز ابھرے گی تو نوجوان سٹپٹا جائیں گے۔

اس غلیظ چیز کو ہٹانے کیلئے ہمیں بیحد جدوجہد کرنی ہوگی۔ہمیں ایک جٹ ہونا ہوگا۔ایک اتحاد قائم کرنا ہوگا۔اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنی خواہشات نفس کو دباناہوگا۔تبھی ہمارے اندر یہ نعرے بلند کرنے کی خواہش ابھرے گی۔

تدبیر کہ درست زریں سے تقدیر درخشاں ہوتی ہے

قدرت بھی مدد فرماتی ہے جب کوشش انساں کی ہوتی ہے

شیئر کیجیے
Default image
عارفہ صالح رام گڑھ جھارکھنڈ

Leave a Reply