3

پریشانی بھی ایک نعمت ہے

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جب کسی بندے کے گناہ زیادہ ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو کسی فکر، غم یا پریشانی میں مبتلا فرما دیتے ہیں تاکہ اس نے جو گناہ کیے ہیں اس پریشانی کی وجہ سے اس کا کفارہ ہوجائے‘‘۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کو پسند فرماتے ہیں تو کسی تکلیف میں مبتلا کردیتے ہیں۔ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے پیار نہیں کرتے، وہ تو اپنے بندوں کے لیے جتنے رحمن و رحیم اور مہربان ہیں اس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ بس اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی محبت کی وجہ سے اسے عذاب دیتا ہے تاکہ جب بندہ اس کے پاس آئے تو وہ پاک صاف ہو، بندے کے ذمہ اللہ کا حساب یعنی کوئی گناہ باقی نہ ہو۔

ایک روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی تمام ازواج مطہرات میں سے سب سے زیادہ محبت کا تعلق حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تھا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مجھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواجِ مطہرات میں سے حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ پر رشک ہوا۔ روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار ہوئیں، اسی بیماری میں ان کی رحلت ہوئی۔ حضرت خدیجہؓ سخت تکلیف میں تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بیٹھے تھے تو آپؐ نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ بہت تکلیف ہورہی ہے‘‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’’تمہارا انتقال اسی تکلیف میں ہوگا‘‘۔ بظاہر یہ جواب آپؐ کے طرزعمل سے مناسبت نہیں رکھتا تھا، آپؐ نے یہ طرزعمل اس لیے اپنایا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جنت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت فرمانی تھی، لیکن اْس وقت وہ اْن درجات کی بلندی پر نہ تھیں جو اس مقام پر مطلوب ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ ان کے دل پر چوٹ مار دی جائے، کیونکہ اس چوٹ سے ان کے دل کو جو تکلیف ہوگی وہ ان کے درجات بلند کرے گی، اس کے نتیجے میں ان کو میری رفاقت جنت میں میسر ہوگی، اس لیے آپؐ نے اپنے طرزعمل سے ہٹ کر یہ بات فرمائی۔

دل کا ٹوٹنا بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر انسان اس حقیقت پر غور کرے تو یہ دل جب ٹوٹتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سبب ہوتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے ’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جن کے دل ٹوٹے ہوئے ہیں۔‘‘

اب ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ پریشانی یا فکر ہمارے لیے عذاب ہے یا درجات کی بلندی کا ذریعہ، تو یہ بڑی آسان سی بات ہے۔ اگر ہم اس پریشانی میں اللہ سے رجوع کرلیں تو یہ نعمت ہے، اگر رجوع نہ کریں تو عذاب۔ یہ انسان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس غم، فکر، پریشانی یا صدمہ کو اپنے لیے عذاب بنائے یا رجوع کرنے کا ذریعہ۔۔۔کیونکہ ابھی تک سائنس نے کوئی ایسی دوا ایجاد نہیں کی جو انسان کو غم، تکلیف یا صدمہ سے محفوظ رکھ سکے۔ اس لیے ہمیں اس بیماری، غم یا صدمے کو اپنے گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بنانا چاہیے۔

ٹوٹا ہوا دل اللہ تعالیٰ کی تجلیات اور رحمت کا مرکز ہوتا ہے، کیونکہ جب دل ٹوٹتا ہے اور بار بار ٹوٹتا ہے تو انسان شدت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، اس طرح انسان کا اللہ سے رشتہ اتنا ہی مضبوطی سے جڑ جاتا ہے جو درحقیقت ایک عظیم نعمت ہے، کیونکہ اللہ کی نظر میں اس کے درجات تیزی سے بڑھتے ہیں۔ یہ بھی ایک قسم کا مجاہدہ ہے جس سے انسان اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہوجاتا ہے۔

یاد رکھیں! دنیا کی بڑی سے بڑی تکلیف بھی آخرت کی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف کے برابر نہیں ہوسکتی۔ تکالیف پر صبر کریں، اس غم کو اپنے لیے راحت بنائیں، کیونکہ یہ راہِ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے تجویز کی ہے۔

اللہ ہم سب کو اس حقیقت کو سمجھنے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
بنت ایوب

تبصرہ کیجیے