قرآن

قرآن اور ہمارا رویہ

ایسا کیوں ہے کہ مسلمانوں کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ پستی، مظلومیت اور بے وقعتی کا شکار ہیں۔ غور کرنے کے بعد سمجھ میں آیا کہ ہم نے قرآن حکیم سے اپنا رابطہ توڑ لیا ہے۔ اس حقیقت کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے کچھ لوگوں کو عزت و سربلندی عطا کرتا ہے اور کچھ کو ذلیل و رسوا۔‘‘ اسی لیے آج ہمارے پاس دنیا ہے مگر دین نہیں، ہم مسلمان ہیں مگر ہم میں اسلام نہیں اور ہم مومن ہیں مگر ہم میں ایمان نہیں۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے انسان لباس پہن کر بھی ننگا دکھائی دے، کھانا کھانے کے باوجود اپنے آپ کو بھوکا محسوس کرے۔

یہ صورت حال اس لیے پیدا ہوئی کہ ہم اس مرکز ثقل سے ہٹ گئے ہیں جس کا نام قرآن ہے۔

میں نے قرآن کو مرکز ثقل اس لیے کہا کہ اس دنیا کی ہر چیز اپنے مرکز ثقل پر قائم ہے اور نظام کائنات میں جو بھی ہو رہا ہے سب ایک ضابطہ کی رو سے ہو رہا ہے۔ جس روز یہ نظام کائنات مرکز ثقل سے ہٹ جائے گا اسی روز اس کی ہر چیز بکھر جائے گی، بالکل اسی طرح جس طرح آج مسلمان قرآن سے منقطع ہوکر بکھر چکا ہے۔ منتشر ہوچکا ہے۔ آج ہم قرآن پڑھنے کے باوجود اس کی روح سے آشنا نہیں ہیں، کیوں کہ ہم نے کبھی اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کی، تفہیم القرآن میں لکھا گیا ہے:

’’قرآن کے احکام، اس کی اخلاقی تعلیمات، اس کی معاشی اور تمدنی ہدایات اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے اصول اور قوانین آدمی کی سمجھ میں اس وقت تک آہی نہیں سکتے جب تک کہ وہ ان کو عملاً برت کر نہ دیکھے۔ نہ وہ فرد اس کتاب کو سمجھ سکتا ہے، جس نے اپنی انفرادی زندگی کو اس کی پیروی سے آزاد کر رکھا ہو اور نہ وہ قوم اس سے آشنا ہوسکتی ہے، جس کے سارے ہی اجتماعی ادارے اس کی روش کے خلاف چل رہے ہوں۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ جب ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پیغمبر اسلام کے اخلاق و عادات کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے یہی جواب دیا کہ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟

قرآن فہمی کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس میں سے جو کچھ پڑھا اور سمجھا ہے اس پر عمل بھی کریں کسی بات کو سمجھنے کے لیے اس پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ سائنس، تجربات اور شواہد کی روشنی میں ثبوت مہیا کرتی ہے۔ تجربات اور شواہد کا دوسرا نام عمل ہے اور عمل صالح اسلام کی بنیاد ہے۔

آج ہماری زندگی میں قرآنی تعلیمات کا دخل کہاں تک شامل ہے؟ شاید اس سوال کے جواب میں ہم اپنے آپ کو تہی دامن پائیں گے۔ ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ آج بھی ہم میں قرآن سے رسمی احترام اور عقیدت کا جذبہ باقی ہے، مگر ہم اس کی روح سے یکسر بیگانہ ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کن تعلیمات اور اقدار کا حامل ہے اور وہ کیا چیز تھی جسے اپنا کر وہ اوج ثریا پر پہنچ گئے اور جسے ترک کر کے وہ تحت الثریٰ میں جاگرے۔

یہ سب کیسے ہوا؟ کیوں کر ہوا؟ اس کے جواب میں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ وہاں علم پر یقین محکم تھا، اس پر عمل پیہم کی ضربیں پڑتی تھیں، انہی ضربوں سے محبت کے سوتے پھوٹ نکلے جنھوں نے سارے عالم آب و گل کو تہذیب و تمدن سے سیراب کیا یعنی اسے فتح کیا۔

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ آج کی دنیا ہمارے سامنے بعثت نبوی سے قبل کے مناظر دہرا رہی ہے، وہی جہالت، کفر، الحاد، شرک، تثلیث، یہودیت، اور منافقت کے مناظر ہمارے سامنے ہیں۔ دورِ جہالت میں اولاد کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کیا جاتا تھا آج تہذیب نو میں پیدا ہونے سے پہلے ہی اسے مار دیا جاتا ہے۔ آج کے متمدن اور مہذب دور کے عالی شان فائیو اسٹار ہوٹلوں میں تہذیب اور تمدن کے نام پر وہ سب کچھ ہوتا ہے جو کسی زمانے میں جہالت کے نام سے ہوتا تھا۔ پہلے غلامی کے نام پر انسانی محنت کا استحصال ہوتا تھا۔ آج نوکری، ملازمت اور مزدوری کے نام پر سرمایہ دار انسانوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ خود ہمارے دین میں تفرقہ آن پڑا ہے، بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کے نام سے توحید پرستی پر کاری ضرب لگی، قبر پرستی نے اصنام پرستی کو بھی مات کر دیا اور مسلمان قرآن اور اللہ تعالیٰ سے دور اور دین اسلام سے کٹنا جا رہا ہے۔ غرض دور جہالت کی تمام تر برائیاں، خرابیاں آج عود کر آئی ہیں اور ان کا قلع قمع اسی وقت ہوسکتا ہے جب ہم ’’کتاب اللہ کو لے کر اٹھیں اور دعوت الی اللہ کا کام شروع کریں اور جس جس طرح یہ کتاب ہدایت دیتی جائے اسی طرح اسی طرف قدم اٹھاتے چلیں تب وہ سارے تجربات ہمیں پیش آئیں گے جو نزولِ قرآن کے وقت پیش آئے تھے۔‘‘

لہٰذا قرآن کی روح کو پانے کے لیے ہمیں وہی عرق ریزی کرنی ہوگی جو صحابہ کرام نے اپنے وقت میں کی تھی۔ تلاوتِ قرآن کے ساتھ ساتھ اس کے معانی اور مطالب کی گہرائی تک پہنچنے کا دوسرا نام فہم قرآن ہے اور قرآن نے ابتداء ہی میں کہا ہے کہ وہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو متقی اور پرہیزگار ہیں، لہٰذا قرآن سے ہدایت پانے کے لیے تقویٰ بے حد ضروری ہے۔ متقی اور پرہیزگار وہ لوگ ہیں جو اپنے اعمال کو اس طرح کرتے ہیں گویا خدا ان کو اور ان کے افعال کو دیکھ رہا ہے۔ اس تعلق سے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ تم گناہ کرنا چاہتے ہو تو وہ جگہ تلاش کرو جہاں خدا نہ ہو۔ اور ایک مومن کا یہ ایمان ہے کہ خدا ہر جگہ موجود ہے لہٰذا مومن گناہ کرنے کا تصور کر ہی نہیں سکتا۔

حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت ابی بن کعبؓ سے پوچھا: ’’تقویٰ کی حقیقت کیا ہے؟‘‘

آپ نے جواب دیا: ’’کیا تم کبھی ایسے راستے سے چلے ہو جس میں کانٹے ہوں؟‘‘

’حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’جی ہاں!‘‘

آپؓ نے پھر پوچھا: ’’اِس حالت میں تم نے کیا کیا؟‘‘

حضرت عمرؓ نے عرض کیا ’’میںنے کوشش کی کہ کانٹوں سے بچ نکلوں۔‘‘

حضرت ابی بن کعبؓ نے فرمایا: ’’بس یہی تقویٰ ہے۔‘‘

صراطِ مستقیم کی ہدایت متقی اور پرہیزگار لوگوں کو ہی ملتی ہے۔ آج ہم قرآن سے ہدایت لینا چاہیں بھی تو محرومی ہمارا مقدر ہوگی، کیوں کہ تقویٰ اور پرہیزگاری سے ہم نے اپنے جسم اور روح کی نہ پرورش کی ہے اور نہ تربیت۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نمازیں، ہمارے روزے، ہمارا حج، ہماری زکوٰۃ سب بے اثر ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد عارف عبد الرؤف چاچیا (بھیونڈی)

Leave a Reply