انسانی زندگی سے امید کا رشتہ

’ امید ‘ کا انسانی زندگی سے گہرا تعلق ہے۔ ہر شخص کے جذبات براہ راست اس سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس کے بغیر زندگی کے قافلہ کارواں دواں ہونا محال ہے۔کہتے ہیں : ناامید ی کفر ہے اورامید پر دنیا قائم ہے۔ یہ امید ہی ہے جس کی بناپر تاجر اپنی دوکان کھولتاہے اورصبح سے شام تک وہیں دل جمعی کے ساتھ بیٹھتاہے ،اسے توقع ہوتی ہے کہ اسے اچھا منافع ملے گا۔ کسان زمین کھودکراس میں بیج ڈالتاہے اس امیدکے ساتھ کہ اس سے ڈھیروںغلے کی پیداوارہوگی۔ والدین اپنی اولاد کی تربیت کرتے ہیں کہ آئندہ وہ ایک اچھا انسان اورقوم وملک کا معمارہوگا۔گویا کہ زندگی کے ہرشعبے میں انسان کسی نہ کسی نوعیت کی امید ضرور رکھتاہے اورامیدوںکے سہارے اپنے منصوبوںکوعملی جامہ پہنانے کی کوشش میں لگارہتاہے۔’ امید ‘کی حقیقت کیاہے ،اسے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

امید کوعربی زبان میں رجاء کہتے ہیں :کسی کام کے کامیابی سے پاجانے کی توقع ۔اس کی ضدمایوسی ہے۔

امید کے دواصطلاحی معنی بیان کئے جاتے ہیں: ایک معنی ہیں: اللہ سے درگزر اور مغفرت کی توقع رکھنا۔‘ دوسرے معنی ہیں :زندگی میں کشادگی وفراوانی کا انتظار اور مصائب وآلام سے نجات کی توقع ۔علامہ ابن قیم نے پہلے معنی کو اس انداز سے بیان کیاہے: ’’امید دراصل بندگی ہے ورنہ انسانی اعضا و جوارح اطاعت کے لیے آمادہ ہی نہ ہوتے۔ اسی طرح اس امیدکی خوشبو اگرنہ ہوتی تو ارادوںکے سمندرمیں اعمال کی کشتی ہی نہ چلتی۔‘‘ابن حجرؒ وغیرہ نے بھی امید کے اصطلاحی معنی بیان کیے ہیں ۔

یہ واقعہ ہے کہ امید انسانی تخیلات میں جان پیداکرتی ہے۔ ان تخیلات کوعملی پیکرمیں ڈھالنے کا کام انسانی اعضاء وجوارح مل کرانجام دیتے ہیں ۔ایک قول ہے:’’الایمان بین الخوف والرجاء ‘‘ ایمان خوف اورامید کے مابین ہے۔اس کے مطابق ایک مومن کے اندریہ دونوںاوصاف ہیں تویہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے دل میں ’ ایمان‘ ہے ۔قرآن کریم میں اس کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاگیا:

’’جولوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں ،نماز قائم کرتے ہیں اورجوکچھ ہم نے ان کو دیاوہ پوشیدہ اورعلانیہ طورپر خرچ کرتے ہیں وہ لو گ ایسی تجارت کے متوقع ہیں ،جس میں کوئی خسارہ نہ ہوگا۔‘‘ (سورۃ فاطر : ۲۹،۳۰) نیزفرمایا :

’’یا وہ جومطیع وفرماں بردارہے رات کے پہرمیں سجدہ اورقیام کی حالت میں ہوتا ہے اوراپنے رب سے رحمت کی امید لگاتاہے۔‘‘ (الزمر:۹)

پھریہ بھی حقیقت ہے کہ انسان جوبھی عمل کرے اگراس نے اللہ سے امید باندھ رکھی ہے تواللہ اس کی امید کے مطابق اسے عطاکرتاہے ۔

ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے گھر پہنچے جومرض وفات میں تھا۔آپؐ نے فرمایا:تمہیں کیسا محسوس ہوتاہے ؟اس نے کہااے اللہ کے رسول بہ خدا مجھے اللہ سے بہتری کی امید ہے اوراپنے گناہوںکا خوف بھی ہے۔آپ نے فرمایا اس مقام پر ایک بندے کے اندرجب یہ دونوںباتیں ہیں تواللہ اسے امید کے موافق عطاکرے گااوراس کو ان گناہوںکے خوف سے محفوظ کردے گا۔

ایک حدیث قدسی ہے، جس کے راوی حضرت انس ؓ ہیں۔اس کا ایک ٹکڑا یہ ہے:اللہ کہتاہے کہ’’ اے ابن آدم تونے مجھے یاد کیا اورمجھ سے امید باندھی میں نے تیرے تمام گناہوںکو بخش دیااورمیں بے نیاز ہوں‘‘۔نبی ؐ نے فرمایاکہ تم میں بہتر شخص وہ ہے جس سے دوسرے خیرکی امید رکھیں اوراس کے شر سے محفوظ رہیں۔’’خیرکم من یرجی خیرہ ویومن شرہ‘‘ (ترمذی:باب الفتن )

اللہ کے رسولؐ نے ہمیں ایک دعاسکھائی جسے ہم دعائے قنوت کہتے ہیں اوروترکی نماز میںروزانہ ہم دعائے قنوت میں ’ونرجوارحمتک ‘کہتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ اے خدا ہم تیری رحمت کی امید کرتے ہیں۔

امید کی وضاحت اس کے بالمقابل استعمال ہونے والے لفظ ’ناامید ی‘سے ہوتی ہے۔کیوںکہ معروف اصول ہے: تعرف الاشیاء باضداد ہا چیزیں اپنی ضدسے پہچانی جاتی ہیں۔امید کی ضد ناامیدی ہے ،اسی کو مایوسی بھی کہتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایاہے:’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔‘‘ امید مومن کا وصف خاص ہے جب کہ ناامیدی کافراورگمراہ لوگوںکی صفت ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ اللہ کی رحمت سے گمراہ لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔‘‘ (الحجر:۵۶)

نبی کریم ؐ نے صحابہ کرام ؓ کوتین بڑے گناہوںکے سلسلے میں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللہ کا شریک ٹھرانا، اللہ کی گرفت سے خود کومامون سمجھنا اوراللہ کی رحمت سے مایوس ہونا۔‘‘ (متفق علیہ)

انسان کوچاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں امیدوں کو ہمیشہ جوان رکھے ۔یہی صفت اسے اپنے مشن کو جاری رکھنے میں کامیاب بناتی ہے۔ وہ ناامید ی کو اپنے قریب بھی نہ آنے دے ۔اس لیے کہ اس سے قلب بزدل اوربے جان ہو کر ایمان سے محروم ہونے لگتا ہے۔ ناامیدی کی کیفیت میں انسان عمل سے کوسوں دور ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوںمیں یوںبھی کہاجاسکتاہے کہ امید کادوسرا نام زندگی ہے اورناامیدی کا نام موت ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
Jamil Sarwer

Leave a Reply