خواتین کے مسائل کا حل ۔۔۔صرف اسلام

مارچ کا ایک دن خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چند لوگ، چند این جی اوز بڑے بڑے سیمینار منعقد کرکے عورتوں کے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن بے سود۔

دورِ قدیم نے عورت کو پستی کے گڑھے میں پھینک کر اس کی توہین اور اس کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کے نت نئے ڈھنگ تراشے تھے، اور دورِ جدید کی جاہلیت نے آزادی کا نام دے کر عورت کے استحصال۔ اس کی توہین و تذلیل اور ظلم و ستم کے نئے نئے راستے ایجاد کرلیے ہیں۔ مردوں کے دوش بدوش کام کرنے اور برابر کے حقوق کا لالچ دے کر صنفِ نازک کو اس طرح جکڑا گیا ہے کہ وہ مظلوم نہ گھر کی رہی نہ گھاٹ کی۔ اس کو مغربی تہذیب نے آزادی کے نام پر شمع محفل بنادیا ہے۔ چراغِ خانہ جب شمع محفل بن جائے تو گھر تاریک ہوجاتے ہیں اور محفلیں پْررونق ہوکر دورِ جاہلیت کی یاد تازہ کردیتی ہیں۔ آج کی عورت اپنا مرتبہ و مقام کھو دینے کو اپنی آزادی تصور کرتی ہے۔ ایسی آزادی جو بے راہ روی کو فروغ دے وہ مسلم معاشرے اور مسلم کلچر کی عکاس نہیں ہوسکتی۔

اسلام دینِ فطرت ہے، اس نے عورت کو اس کا صحیح مقام و مرتبہ دیا ہے۔ ایسا مرتبہ کسی دور میں کسی بھی مذہب کے ماننے والوں نے عورت کو نہیں دیا۔ آج جدید دورِ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی خواتین جب آزادی کا نعرہ لگا کر اپنے آپ کو پردے کی بندشوں سے آزاد کرکے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کا عزم لے کر نکلتی ہیں تو نہ جانے کتنی ہوسناک نظریں ان کے تعاقب میں ہوتی ہیں۔ وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ ہمارے پیارے نبیؐنے مسلم خاتون کے بارے میں کتنے خوبصورت الفاظ میں ارشاد فرمایا: ’’میں تم کو نازک آبگینوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں (یعنی خواتین کے بارے میں)۔ تم میں سے بہتر وہ ہے جو ان کے ساتھ عزت و تکریم سے رہنے والا ہو۔ اور تم میں سے بدبخت وہ ہے جو ان کے ساتھ اہانت سے پیش آتا ہے۔‘‘ اسلام میں عورت اور مرد برابر ہیں، وہ دونوں کائنات کو دوام بخشنے کے لیے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ حقوق و فرائض اور آزادیِ قول و فعل میں دونوں مساوی ہیں۔ اگر ان دونوں میں کوئی فرق ہے تو بھی فوقیت عورت ہی کو حاصل ہے اس کے لطیف احساسات‘ نزاکت طبع کے باعث۔

آج ہوس پرست مردوں نے اپنی تسکینِ جسم و جاں کے لیے ترقی و آزادی کے نام پر عورت کو بے لباس کرکے دورِ جاہلیت کی یاد تازہ کردی ہے۔ آج کی عورت سے وہ کام لیے جارہے ہیں جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ گھر نظرانداز ہونے سے بچوں میں ذہنی انتشار بڑھ رہا ہے۔ آج گھر گھر میں الیکٹرانک میڈیا اور چینلز کے توسط سے معاشرے میں بے حیائی فروغ پارہی ہے، عورت بکائو مال بن جانے پر فخر محسوس کرتی ہے۔

اللہ کا کرم اور صد شکر ہے کہ ہمارے پاس قرآن پاک بھی موجود ہے اور سیرتِ نبویؐ بھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان گندگیوں سے بچنے کی راہ بھی دکھائی ہے اور ان میں ملوث ہونے پر بدترین انجام کی وعید بھی دی ہے۔ اگر عور ت مالی پریشانیوں سے دوچار ہے تو حصولِ روزگار کے لیے نکل سکتی ہے۔ سورۃالاحزاب میں اللہ کا ارشاد ہے: ’’اے نبی! صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں، بیٹیوں اور اہلِ ایمان عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکالیا کریں تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں، اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔‘‘

ایمان کی دعویدار خواتین اس بات کو یقینی بنائیں کہ جب گھروں سے باہر نکلیں تو اپنے آپ کو ڈھانک کر نکلیں، یہ اللہ کا حکم بھی ہے اور اس کا منشاء بھی کہ ستائی نہ جائیں۔

اگر آج مسلم معاشرے میں عورت کو تحفظ حاصل نہیں تو اس کی وجہ صرف اور صرف اسلامی قوانین کا نافذ نہ ہونا ہے۔ اسلامی قوانین اور اسلامی حکومت کے قیام سے عورت کو مکمل تحفظ فراہم ہوگا۔ اگر عورت کے ساتھ ناانصافی یا زیادتی کسی بھی صورت ہورہی ہوگی تو اس کا ازالہ قانون کرے گا۔ دوسری بات یہ کہ اگر قرآن کا علم معاشرے کے ہر فرد کو ہوگا تو خواہ عورت ہو یا مرد… ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کو سمجھ پائیں گے۔ زندگی کی دوڑ میں ہر ایک کا احترام لازمی ہوگا۔ خواتین کا دن منانے سے نہیں، خواتین کو اسلامی قانون اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے سے عزت حاصل ہوگی اور ان کے مسائل حل ہوں گے۔

سورۃ التحریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔‘‘

بحیثیت مسلم مرد اور خواتین ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو جہنم کی آگ سے بچائیں، دین کے راستے پر گامزن کریں تو معاشرے کا ہر فرد اپنا مقام پالے گا، شعور و آگہی اس کا مرتبہ بلند کرے گی۔ قرآن کے مطابق زندگی بسر کرنا ہی عورت کو اس کے حقوق کی ضمانت دے سکتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نکہت معظم

Leave a Reply