لفافہ

حجاب کے نام

حجاب اسلامی کا تازہ شمارہ ہاتھوں میں ہے۔ تمام مضامین اچھے ہیں۔ آپ سے ایک گزارش ہے کہ آپ عہد اسلامی کے مسلمان سپہ سالاروں، نیک دل بادشاہوں اور اولیاء اللہ و بزرگ شخصیات پر مضامین شائع کریں۔ اس کے علاوہ پسندیدہ اشعار بھی شائع کریں۔

محمد اشرف علی

پداپلی،کریم نگر

اے پی (بذریعہ ای-میل)

شمارہ اچھا لگا

اپریل کا شمارہ سامنے ہے۔ دیکھنے میں اچھا لگتا ہے۔ آپ نے ایک بار سائز کی تبدیلی کی ہے۔ اسباب کا تذکرہ بھی اداریے میں ہے۔ میرے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں۔ بڑے سائز سے یہ زیادہ خوبصورت ہے۔ مجھے امید ہے کہ اور لوگوں کو بھی پسند آئے گا۔

اس ماہ کے مضامین ٹوٹتا بکھرتا خاندانی نظام اور ازواجِ مطہرات کی خانگی زندگی بہت پسند آئے۔ خواتین کے خلاف جرائم کا سیلاب مضمون ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے جو مغربی تہذیب کے پیچھے آنکھیں بند کیے دوڑے جاتے ہیں۔ مضمون میں جن حقائق کا ذکر ہے انہیں عوام کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے جو اسلام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں۔

حجابِ اسلامی اپنی فکر کے اعتبار سے ایسا رسالہ ہے جو ہر مسلم گھر کی ضرورت ہے اور اسے دیگر زمانوں میں بھی ہونا چاہیے۔ توصیف الرحمن ندوی

بذریعہ ای-میل

سیرت نبوی کا اہم پہلو

مارچ کا حجاب اسلامی دیکھ کر طبیعت خوش ہوگئی۔ عائلی زندگی اور سیرتِ رسولؐ پڑھ کر مضمون نگار کے لیے دل سے دعائیں نکلیں۔ انہوں نے سیرت نبویؐ کے ایک ایسے اہم پہلو پر روشنی ڈالی ہے جو اسلامی معاشرت کی جان اور آپ کی سیرت پاک کا بڑا اہم حصہ ہے۔ اگر اس موضوع کو موجودہ دور کے سیاق و سباق میں دیکھا جائے جہاں میاں بیوی کا تعلق رسمی اور تجارتی اور مفاد پر مبنی ہوتا جا رہا ہے، جہاں شادیاں وبال تصور کی جا رہی ہیں اور جہاں طلاق کی شرح آسمان چھو رہی ہے تو اس پہلو کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ خاندانی اور عائلی زندگی میں شوہر بیوی کے تعلقات اور ان کی زندگی بڑے گہرے اثرات رکھتی ہے۔ آنے والی نسلوں کے ذہن و فکر اور طرزِ زندگی پر اس کا بڑا گہرا اثر پڑتا ہے۔ اس لیے میاں بیوی کے درمیان جتنے اچھے اور خوش گوار تعلقات ہوں گے اولاد پر اس کا اچھا اثر پڑے گا۔ اور اس کا اثر کسی نہ کسی طرح سماج و معاشرے پر بھی پڑے گا۔ اور اسے استحکام حاصل ہوگا۔

زیر نظر مضمون میں اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ اللہ کے رسولؐ ازواجِ مطہرات کے ساتھ کیسے رہتے تھے۔ میری تجویز ہے کہ مضمون نگار اس پر بھی ایک مضمون لکھیں کہ ازواجِ مطہرات رسولؐ کے ساتھ کیسے رہتی تھیں اور خود ان کے درمیان باہمی تعلقات کی نوعیت اور کیفیت کیا تھی۔

علاء الدین ارشد

گوال ٹولہ کانپور

[علاء الدین صاحب! آپ کا خط ہمیں تاخیر سے ملا ہے۔ آپ کی تجویز ہم تک پہنچنے سے پہلے ہی روبہ عمل آچکی۔ ’’یعنی آپ اور ہم دونوں ایک ہی انداز میں سوچتے ہیں۔‘‘ اپریل کے شمارے میں خانگی زندگی اور ازواجِ مطہرات آپ نے پڑھ لیا ہوگا۔ ایڈیٹر]

کار آمد رسالہ

فروری ۲۰۱۳ کا ماہنامہ حجاب اسلامی مسرت پاشا راہی شموگہ کے ہاتھوں پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا رسالہ پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی۔ حسد کے قریب نہ جاؤ عنوان بے حد پسند آیا۔ آج ہمارے معاشرہ کے خراب صحت اور ہماری گرتی ہوئی تہذیب کے علاج کے لیے ایسے رسالہ کی بے حد ضرورت تھی۔

اوپر ٹائٹل پر خواتین اور طالبات کا پاکیزہ رسالہ چھپا ہے۔ خواتین اور طالبات کے ساتھ ساتھ مردوں کا بھی کار آمد رسالہ ہے پورے معاشرہ کی خراب صحت کے لیے ڈاکٹر کا کام کرے گا۔

یہ خط حجاب پڑھتے پڑھتے لکھ رہا ہوں۔ اب خواتین کا تحفظ اور اٹھتے سوالات صفحہ نمبر ۱۷ پر چھپا ہے۔ خواتین کا تحفظ تب ہوگا جب ہمارا سارا معاشرہ برائیوں سے پاک ہوگا۔ کل ملا کر سارا رسالہ بہت پسند آیا اس کی اور زیادہ ترقی و کامیابی کا خواہش مند ہوں۔

اور دوسرا یہ کہ ہمارا گاؤں ارے ہلی کرناٹک کے ضلع ہاسن تعلق بیلور میں آتا ہے اسے چھوٹا سا شہر کہوں تو بھی غلط نہ ہوگا یہ چھوٹا سا شہر اردو ادب اور کافی کالی مرچ کی کاشت کے لیے مشہور ہے۔

یہاں اردو زبان کی ترقی کے لیے انجمن ترقی اردو کی شاخ کا ابتدا ہوچکی ہے اس کے زیر نگرانی اردو کتب خانہ کی افتتاح کرنے کا خیال ہے ۔ ماہ نامہ حجاب اسلامی منگوانے کے لیے ادارے کے قوانین سے آگاہ کریں۔

فقط سید رضوان شاہ حسینی

(ارے ہلی)

نائب صدر

کرناٹک اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply