چکی

انوکھی چکی

کسی گاؤں میں دو بھائی رہا کرتے تھے چھوٹا بھائی بے حد غریب اور بڑا بھائی امیر تھا۔

دیوالی آئی سارے گاؤں والے خوش تھے لیکن چھوٹا بھائی بہت اداس تھا۔ کیوں کہ چھوٹے بھائی کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ وہ دیوالی کیسے مناتا۔ اس لیے وہ اپنے بڑے بھائی کے پاس مدد مانگنے گیا۔ لیکن بڑے بھائی نے اسے جھڑک کر واپس کر دیا۔ وہ مایوس گھر لوٹ رہا تھا کہ راستے میں اسے ایک ضعیف آدمی ملا۔ اس آدمی نے پوچھا کیا بات ہے بیٹا بہت اداس نظر آرہے ہو۔ آج دیوالی ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے۔‘‘

چھوٹے بھائی نے جواب دیا: کیسی دیوالی چچا! میرے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں گھر میں میرے بیوی بچے بھوکے ہیںاور میں کچھ نہیں کر پارہا ہوں۔

اس ضعیف آدمی کے پاس لکڑیوں کا گٹھا تھا۔ ضعیف آدمی نے جواب دیا یہ لکڑیوں کا گٹھا میرے گھر پہنچا دو اس کے بدلے میں میں تمہیں ایک ایسی چیز دوں گا جس کی وجہ سے تم بے حد امیر ہوجاؤگے۔ لکڑیوں کا گٹھا لے کر وہ اس ضعیف آدمی کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ وہ گھر پہنچے ضعیف آدمی نے اسے ایک سکہ دیا اور کہا یہ سکہ لے کر تم جنگل کی طرف چلے جاؤ وہاں ایک پہاڑ ہے۔ اس پہاڑ میں ایک غار ہے جس میں تین بونے رہتے ہیں۔ وہ کہیں گے کہ یہ سکہ ہمیں دے دو اس کے بدلے تم جو مانگوگے ہم تمہیں دیں گے۔ ضعیف آدمی نے کہا لیکن تم ان سے چکی مانگنا۔

چھوٹے بھائی نے اپنا سفر شروع کیا اور پہاڑ کے غار میں جاپہنچا۔ اسے وہاں تین بونے ملے۔ ایک بونے نے کہا یہ سکہ ہمیں دے دو تم اس کے بدلے جو مانگوگے وہ تمہیں ہم دیں گے۔ چھوٹے بھائی نے جواب دیا: یہ لے کر تم مجھے اپنی چکی دے دو انھوں نے اسے چکی دے دی جب چھوٹا بھائی چکی لے کر جانے لگا تو ایک بونے نے کہا اس چکی کو ایسی ویسی چکی مت سمجھو تم اسے گھماکر جو مانگوگے وہ تمہیں مل جائے گا۔

چھوٹا بھائی اپنے گھر پہنچ گیا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا ایک کپڑا زمین پر بچھا دو۔ اس کی بیوی نے ایسا ہی کیا کپڑا زمین پر بچھا دیا ۔

چھوٹے بھائی نے چکی گھمائی اور کہا چکی چکی چاول نکال۔ چکی نے چاول کا ڈھیر لگا دیا۔ چھوٹے بھائی کو یاد آیا کہ بونوں نے کہا تھا کہ اس پر لال کپڑا ڈالنے سے چکی اپنا کام ختم کردیتی ہے۔ چھوٹے بھائی نے ایسا ہی کیا چاول مل گیا تو چھوٹے بھائی نے چکی پر لال کپڑا ڈال دیا اس کے بعد چھوٹے بھائی نے پھر چکی کو گھما کر دال نکالنے کے لیے کہا اور وہ دال نکالنے لگی۔ انھوں نے کھانا پکایا اور چھوٹے بھائی کے بیوی بچے پیٹ بھر کھانا کھاکر سوگئے۔

جب صبح ہوئی تو وہ دال چاول لے کر بازار میں فروخت کر آیا انہیں فروخت کر کے وہ بہت امیر ہوگیا۔

بڑے بھائی نے سوچا کہ کچھ دن پہلے تو یہ بے حد غریب تھا اور اب یہ مجھ سے بھی امیر ہوگیا ہے۔ ایک دن بڑا بھائی چھوٹے بھائی کے گھر میں چھپ گیا اور سمجھ گیا کہ وہ چکی کے ذریعے سے مالدار ہوا ہے۔ اس نے اس چکی کو چرا کر گاؤں سے دور لے جانے کا منصوبہ بنا لیا اور ایک دن موقع پاکر وہ اس چکی کو لے کر کشتی میں سوار ہوا اور دریا کے اس پار والے گاؤں جانے لگا۔ وہ چکی کی کرامات دیکھنے کے لیے بے چین تھا۔ اس نے کشتی میں بیٹھے بیٹھے کہا:

چکی چکی نمک نکال چکی نے نمک نکالنا شروع کردیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے نمک کا ڈھیر لگ گیا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ چکی کو کس طرح روکا جائے۔ اب چکی مسلسل نمک نکال رہی تھی اور وہ روک نہیں پا رہا تھا۔ آخر کار کشتی میں بہت زیادہ نمک جمع ہوگیا اور کشتی ڈوب گئی۔ اس طرح اس لالچی بھائی کو اپنے گناہ کی سزا مل گئی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
درانی انشا خاں بنت اسلم (ادگیر)

Leave a Reply