راکیش شرما

خلا میں پہلا بھارتی

’’اسٹرانواٹ‘‘ سے مراد وہ شخص ہے جو خلا میں سفر کرتا ہے یعنی خلا باز۔ اسٹرا نواٹ کے لیے روسی لفظ ’’کواز منواٹ‘‘ ہے۔

روسی خلا باز ’’بلوری گاگارن‘‘ خلا میں سفر کرنے والا دنیا کا پہلا شخص تھا۔ وہ خلا میں ۱۲؍ اپریل ۱۹۶۱ء کو گیا تھا۔ خلا میں جانے والا بھارت کا پہلا شخص راکیش شرما تھا۔

راکیش شرما نے ۱۳؍ اپریل ۱۹۸۴ کو دو دیگر روسی خلا بازوں کے ساتھ خلا میں اڑان بھری۔ ان کا خلائی جہاز سویوز T-II روس کے خلائی مرکز بیکز سے داغا گیا تھا۔

اس خلائی جہاز کو خلا میں پہنچانے والے راکٹ کا وزن ۳۰۰ ٹن تھا۔ وہ راکٹ صرف ۸ منٹ ۳۰ سیکنڈ میں زمین کی کشش ثقل سے باہر نکل گیا۔

خلائی جہاز سویوز T-II چوبیس گھنٹے بعد خلائی اسٹیشن سیلیوٹ ۷ کے قریب پہنچا۔ بعد میں ان دونوں خلائی جہازوں کو جوڑا گیا۔ خلا باز سیلیوٹ میں تیرتے ہوئے گئے۔ پھر لاکھوں بھارتی اپنے ٹی وی سیٹ پر اپنے پہلے خلائی مسافر کو دیکھ سکے۔

دونوں خلائی جہازوں نے اکٹھے ہوکر زمین کے تین چکر لگائے۔ خلا بازوں نے خلا سے زمین کے ۱۵۰۰ سے زیادہ فوٹو کھینچے۔

راکیش شرما نے اطلاع دی کہ وہ خلا سے بھارت کی شناخت آسانی سے کر سکتا ہے کیوں کہ وہاں سے زمین بہت کچھ جغرافیائی نقشہ کی مانند نظر آتی ہے۔ وہ بھارت کے ساحل کو گھیرے ہوئے نیلے سمندروں کو اور سر سبز میدانوں کو اور برف سے ڈھکے ہوئے چمکتے ہمالیہ کو بھی دیکھ سکا۔

اسی وجہ سے جب اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اس سے پوچھا کہ اسے خلا سے بھارت کیسا دکھائی دے رہا ہے۔ تو اس نے جواب دیا ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ دنیا میں سب سے اچھا۔ راکیش شرما خلائی جہاز سے ۱۱؍ اپریل ۱۹۸۴ کو لوٹ آیا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
قاضی تمیمہ نورس محمد محی الدین

Leave a Reply