کبھی کسی پر ظلم نہ کرنا

ایک آدمی کٹے ہوئے بازو کے ساتھ بازار میں کھڑا آواز لگا رہا تھا، جو شخص میری روداد سن لے کبھی کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔

پوچھنے پر اس نے بتایا:

میرا تعلق حکومتی کارندوں سے تھا۔ میں پولیس کا عہدے دار تھا۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ ایک مچھیرا ایک مچھلی پکڑے آرہا ہے۔ مجھے یہ مچھلی بہت اچھی لگی۔ میں اس کے پاس پہنچا اور اس سے کہا ’’ارے میاں! یہ مچھلی مجھے دے دو۔‘‘

وہ بولا۔ ’’مجھے مچھلی دینے میں کوئی اعتراض نہیں لیکن اس کی قیمت ادا کرو اور لے جاؤ۔ میرے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں۔ بیوی بچے منتظر ہیں کہ میں کوئی چیز لے کر جاؤں اور وہ کھائیں۔‘‘

میں نے اس کو مارنا شروع کر دیا۔ میں نے مچھلی اس کے برتن سے زبردستی نکال لی اور گھر کا راستہ لیا۔ میں گھر جارہا تھا کہ اچانک مچھلی نے پھڑپھڑانا شروع کردیا اور اس نے میرے انگوٹھے پر کاٹ لیا۔ مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ رات کا وقت تھا درد بڑھنا شروع ہوگیا۔ سوچا صبح کسی طبیب کو دکھاؤں گا۔ صبح سویرے میں طبیب کے پاس پہنچا تو وہ بولا ’’اگر علاج چاہتے ہو تو یہ انگوٹھا فوری کاٹنا ہوگا اگر تم نے ذرا سی تاخیر کی تو پورا ہاتھ کاٹنا ہوگا۔‘‘ میں نے فوراً کہا اگر ایسی بات ہے تو اس کو کاٹ دو۔ چناں چہ طبیب نے انگوٹھا کاٹ دیا۔ گھر آیا تو ہاتھ میں شدید درد تھا۔ چین و سکون بالکل ختم ہوچکا تھا۔

دوسرے روز ڈاکٹر کے پاس گیا اس نے ہاتھ کاٹنے کا مشورہ دیا۔ چناں چہ میرا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ میرا خیال تھا کہ اب ہاتھ میں آرام آجائے گا مگر اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ میں نے چیخ و پکار شروع کردی۔ پھر ڈاکٹر نے دیکھا اور کہا اب تمہارا ایک ہی علاج ہے کہ پورا بازو کاٹ دیا جائے ورنہ زہر پورے جسم میں پھیل جائے گا۔ محلہ کے لوگوں میں اس بات کا چرچا ہوگیا۔ ان میں سے ایک بھلا مانس میرے پاس آیا اور پھر پوچھا: ’’تمہارے درد کا سبب کیا ہے؟‘‘

میں نے اسے مچھلی والا واقعہ سنایا۔ وہ کہنے لگا۔ ’’اے اللہ کے بندے جب تمہیں مچھلی نے کاٹا تو اس سے معافی مانگ لیتے۔دیکھو اب ایک ایک عضو تمہارا کٹ رہا ہے۔ اب بھی تمہارے پاس وقت ہے اس مچھیرے کو تلاش کرو اور اس کو کسی طرح راضی کرلو۔‘‘میں نے اُسی وقت اس کی تلاش شروع کردی۔ میں نے اس کو ایک جگہ پر تلاش کرلیا۔ میں نے اس کو دیکھا اور اس کے قدموں میں گر پڑا اور اس سے معافی مانگی اور کہا ’’مجھے اللہ کے لیے معاف کردو۔‘‘ چھیرا بولا ’’تم کون ہو؟‘‘ میں نے کہا میں وہی بدنصیب ہوں جس نے تم سے مچھلی چھین لی تھی۔ میں نے اس کو اپنا ہاتھ دکھایا۔ اس نے میرا ہاتھ دیکھا تو وہ رو پڑا اور کہا ’’جاؤ میں تمہیں اللہ کے لیے معاف کرتا ہوں۔‘‘ پھر میں نے کہا ’’میرے بھائی آپ نے مجھے کیا بد دعادی تھی؟‘‘ مچھیرا بولا ’’ہاں! میں نے کہا تھا اے اللہ! میں کمزور ہوں یہ طاقتور ہے۔ اس نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر مجھ سے میرا رزق چھینا ہے۔ میرے رب! اس شخص کو پریشانی میں مبتلا کردے اور مجھے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھا۔‘‘ میں نے کہا ’’میرے بھائی! اللہ نے تمہیں اپنی قدرت کا کرشمہ دکھا دیا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرتا ہوں۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد ارسلان (نئی دہلی)

Leave a Reply