کیوں اپریل فول منائیں؟

ماریہ نے کمرے میں جھانکا تو اس نے دیکھا کہ سامنے اس کے دادا جان کتاب پڑھنے میں مصروف تھے۔

ماریہ دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوئی اور دادا جان کے پاس جاکر بیٹھ گئی۔ دادا جان بولے ’’ماریہ بیٹی کیا بات ہے تم کچھ افسردہ نظر آرہی ہو؟‘‘

ماریہ بولی ’’دادا جان میری ایک دوست نادیہ ہے اس کو اس کی ایک سہیلی نے فون کیا، نادیہ کی امی نے فون سنا تو اس کی سہیلی بولی، آنٹی نادیہ کا اسکول جاتے ہوئے ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اور وہ خطرناک حالت میں ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہے۔ نادیہ کی والدہ نے جیسے ہی یہ سنا تو فوراً گھر سے نکل بھاگیں۔ وہ اس قدر بدحواسی کا شکار تھیں کہ اچانک سامنے آتی ہوئی کار سے ٹکراؤ ہوگیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئیں اور اب وہ ایمرجنسی وارڈ میں زیر علاج ہیں۔

نادیہ نے بتایا کہ سب اپریل فول منا رہے ہیں اور لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش میں ان کی جانوں کے درپے ہیں۔

دادا جان میں آپ سے یہی پوچھنے آئی ہوں کہ اپریل فول کیا ہے اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور اس رسم کو کیوں منایا جاتا ہے؟

دادا جان بولے ’’ماریہ بیٹی واقعی افسوس کی بات ہے کہ ہماری نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہے اور اس کو سمجھانے والا بھی شاید کوئی نہیں اور یہ نسل مسلسل سراب کے پیچھے بھاگتی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی پہچان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ میں آج تمہیں اپریل فول کے متعلق بتاتا ہوں۔

اپریل (April) انگریزی سال کا چوتھا مہینہ ہے۔ یہ قدیم کیلنڈر ایک لاطینی لفظ (April) سے لیا گیا ہے۔ یہ لفظ عام طور پر موسم بہار کے آغاز یعنی پھولوں کے کھلنے کے موسم پر بولا جاتا ہے۔ ۱۶۴۵ء سے پہلے تک فرانس میں سال کی ابتداء جنوری کی بجائے اپریل سے کی جاتی تھی مگر بعد میں فرانس کے حکمراں شاول نہم نے اپریل کی بجائے جنوری سے سال کا آغاز کر دیا اور آج تک فرانسیسی عوام اسی کے نقشِ قدم کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اپریل فول کی ابتدا کے بارے میں بھی مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں۔

۱- یہ رسم ۱۵۶۴ء میں فرانس سے شروع ہوئی۔ جب ۱۵۶۴ء میں نیا کیلنڈرجاری کیا گیا تو کچھ لوگوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا اور نئے کیلنڈر کے متوالوں نے منکرین کیلنڈر کو استہزاء اور مذاق کا نشانہ بنایا اس عمل کا آغاز یکم اپریل سے ہوا۔

۲- آکسفورڈ جونیئر انسائیکلو پیڈیا والیم ۹ صفحہ ۴۷۳ پر لکھا ہے کہ شاید یہ ایسا وقت تھا کہ جب موسلا دھار بارش کے بعد اچانک دھوپ نکل آئی تھی۔ یہ قدرت نے (نعوذ باللہ) انسانوں کے ساتھ استہزاء کیا تھا اور جب یہ واقعہ پیش آیا تب بھی یکم اپریل تھا۔

۳- سب سے مشہور اور عام بات جو آج کل بھی لوگوں کے ذہن میں ہے کہ یہ دن لوگوں کو بیوقوف بنانے کا دن ہے۔ لوگ اسے مناکر نقصانات بھی بڑی خوشی سے برداشت کرتے ہیں اور اسی وجہ سے اہل مغرب بالخصوص اہل برطانیہ و امریکہ یکم اپریل کو All Fool day یعنی احمقوں کا دن کہتے ہیں۔ چناں چہ وہ اس دن ایسے ایسے جھوٹ بولتے ہیں جنہیں ہر سننے والا سچ تصور کر بیٹھتا ہے اور پھر عام رواج کے مطابق اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔

برصغیر اور اپریل فول:

کہا جاتا ہے کہ برصغیر میں پہلی بار اپریل فول انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر سے منایا جب وہ رنگون میں تھے۔ انگریزوں نے صبح کے وقت بہادر شاہ ظفر سے کہا، لو ناشتہ کرلو۔ جب بہادر شاہ ظفر نے کپڑا اٹھایا تو ان کے بیٹوں کے سر تھے، جس سے بہادر شاہ ظفر کو سخت صدمہ پہنچا۔ جس پر انگریزوں نے سخت مذاق اڑایا اور یہی وہ پہلا واقعہ تھا جس کی بنا پر برصغیر میں اپریل فول داخل ہوا اور پھر بڑھتے بڑھتے یہ حال ہے کہ مغربی معاشرے کی دیکھا دیکھی ہمارے عوام چاہے ان کا تعلق پڑھے لکھے طبقے سے ہو یا سادہ زندگی گزارنے والوں سے اس بد تہذیبی اور جھوٹ کی رسم کو منانے میں کوئی بھی کسی قسم کی کسر نہیں اٹھا رکھتے حالاں کہ یہ اس بدتمیزی کے طوفان سے بخوبی واقف ہیں کہ اس کے کیا نقصانات ہیں اور ہمارے جھوٹ بولنے سے ہمارے سامنے والے پر کیا اثر پڑے گا اور ہمارا وقار کس قدر خراب ہوگا؟

اپریل فول اسلام کی نظر میں

اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو اس مغربی رسم کی بنیاد جھوٹ پر مبنی ہے اور اس میں دھوکہ کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ اپنی چالاکی سے اور جھوٹ بول کر لوگوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے، حالاں کہ اسلام نے جھوٹ بولنے سے منع کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اور ان کے جھوٹ کے سبب انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔‘‘ (البقرہ:۱۰) نیز فرمایا ’’بے شک اللہ جھوٹ اور ناشکرے کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘

اور احادیث میں بھی جھوٹ کی سخت مذمت آئی ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’جھوٹ بندے کو فسق و فجور و نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے اور فسق و فجور جہنم تک پہنچا دیتی ہے۔ بندہ جھوٹ بولے چلا جاتا ہے حتی کہ اللہ کے ہاں اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘ (بخاری)

تو ماریہ بیٹا ان قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں ہمارے لیے راہِ مستقیم یہی ہے کہ ہم ان غیر اسلامی رسوم و خرافات سے کنارہ کشی اختیار کریں۔ اسی میں دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی ہے۔

ماریہ بولی دادا جان! انشاء اللہ یہ تمام باتیں میں اپنی سہیلیوں کو بھی بتاؤں گی تاکہ ہمارا معاشرہ ایک مہذب معاشرہ بن جائے اور لوگ مغرب کی گندی تقلید کا پٹہ اپنے گلوں سے اتار پھینکیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حافظہ نبیلہ خلیق

Leave a Reply