ایمان کا خواب

ایمان ایک پیاری اور چلبلی سی بچی تھی۔ وہ بہت ذہین تھی۔ بڑوں کی عزت کرتی تھی اور چھوٹوں کے ساتھ محبت و پیار سے پیش آتی تھی مگر اس میں ایک کمی تھی جس کی وجہ سے اس کی والدہ بہت فکر مند رہتی تھیں۔ کھانا کھاتے وقت وہ بہت پریشان کرتی تھی اور کھانے کی ہر چیز میں عیب نکالتی تھی۔ اپنی والدہ کے بہت سمجھانے یا ڈانٹنے پر وہ تھوڑا بہت کھالیتی۔ جس کی وجہ سے بہت کمزور بھی تھی اور بار بار بیمار بھی پڑتی تھی۔

آج اس کی امی نے چکن پالک اور دال چاول بنائے تھے۔ جیسے ہی وہ کھانے کی میز پر بیٹھی پالک کو دیکھ کر اس نے برا سا منہ بنایا اور بولی مجھے پالک نہیں کھانا، یہ تو کڑوا ہوتا ہے۔ اس کی امی نے کہا کہ بیٹا دال چاول کھالو ، تو وہ بولی مجھے پیلی نہیں کالی دال کھانی ہے۔ اس کی امی اس کی عادت اچھی طرح جانتی تھیں کہ کالی دال ہوتی تو وہ کہتی کہ مجھے تو پیلی دال پسند ہے کیوں کہ وہ کھانا نہ کھانے کے بہانے ڈھونڈتی رہتی تھی۔ اس کی امی نے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے میں تمھیں پھل کاٹ کر دیتی ہوں وہ کھالینا، تو اس نے پھلوں میں بھی عیب نکالنے شروع کردیے۔ اب اس کی والدہ کو غصہ آگیا۔ ان کے ڈانٹنے پر دو چار نوالے کھاکر سونے کے لیے کمرے میں چلی گئی اور بستر پر لیٹ کر سونے کی تیاری کرنے لگی۔

پھر اس نے دیکھا کہ وہ اپنے کمرے میں نہیں بلکہ ایک ہرے بھرے میدان میں ہے۔ جس میں چاروں طرف پھلوں اور پھولوں سے لدے ہوئے درخت تھے۔ ایمان نے دیکھا کہ وہاں اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے بچے تھے۔ وہ سب کے ساتھ مل کر کھیلنے لگی۔ کھیلتے کھیلتے شام ہوگئی۔ ایمان نے دیکھا کہ دو خواتین ایک بڑی سی میز پر طرح طرح کے کھانے لگا رہی ہیں۔ انہوں نے بچوں کو آواز دی اور سبھی بچے دوڑ کر میز کے چاروں طرف بیٹھ گئے۔ ایمان بھی صبح سے کھیل رہی تھی، اسے بھی اب بھوک لگنے لگی تھی۔ وہ بھی بچوں کے ساتھ میز کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔ سبھی بچے اپنی اپنی پلیٹوں میں طرح طرح کے کھانے نکال کر مزے لے لے کر کھا رہے تھے۔ ایمان نے جلدی سے بریانی کی ڈش اٹھانی چاہی مگر یہ کیا بریانی کی ڈش کھسک کر اس سے دور چلی گئی۔ ایمان نے سوچا شاید یہ میرا وہم ہے۔ اس نے دو بارہ ڈش اٹھانی چاہی مگر یہ کیا اس بار وہ اس سے بہت ہی دور چلی گئی، ساتھ ہی اس میں سے آواز آئی۔

’’نہیں ایمان تم مجھے نہیں کھاسکتیں۔ پرسوں ہی تو جب تمہاری امی نے بریانی بنائی تھی تم نے کہا تھا کہ تمہیں بریانی بالکل پسند نہیں۔‘‘

ایمان نے دوسری ڈش کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ ڈش بھی دور ہوگئی اور اس میں سے آواز آئی کہ ’’ایمان میں پالک ہوں تمہیں تو میری خوشبو تک سے نفرت ہے اس لیے تم مجھے نہیں کھاسکتیں۔‘‘ اسی طرح وہ جس چیز کی طرف ہاتھ بڑھاتی وہ اس سے دور ہوجاتی۔

وقت گزرتا جا رہا تھا۔ بھوک کی وجہ سے ایمان کے پیٹ میں درد ہونے لگا۔ وہ تیزی سے اٹھی اور درخت سے پھل توڑنے کی کوشش کرنے لگی۔ مگر یہ کیا وہ جس درخت کے پاس جاتی وہ بہت اونچا ہوجاتا اور اس میں سے آواز آتی کہ ’’نہیں ایمان! تم ہمیں نہیں کھاسکتیں۔ تم تو ہمیں پسند ہی نہیں کرتیں۔‘‘

بھوک کی وجہ سے ایمان کے پیٹ کا درد بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ رونے لگی اور بولی ’’مجھے بہت تیز بھوک لگی ہے۔ مجھے کچھ کھانا ہے۔‘‘ کھانے کی سبھی چیزوں نے ایک ساتھ کہا ’’ایمان ہم سب اللہ کریم کی نعمتیں ہیں۔ اللہ کریم نے تم کو کھانے کی کتنی ساری نعمتیں دی ہیں مگر تم سب میں عیب نکال کر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتی ہو اس لیے جب تک تم اپنے آپ کو نہیں سدھاروگی، ہم تمہارے پاس نہیں آئیں گے۔‘‘

ایمان نے روتے ہوئے کہا ’’مجھ سے سچ مچ بڑی غلطی ہوگئی۔ اب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور اب میں کبھی کھانے کی کسی چیز میں کوئی عیب نہیں نکالوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ زور زور سے رونے لگی۔

ایمان کو لگا کہ کوئی اسے زور سے جھنجھوڑ رہا ہے۔ جھنجھوڑنے سے ایمان کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے دیکھا وہ اپنے بستر پر ہی تھی اور امی اسے اٹھا رہی تھیں ’’بیٹا ایمان اٹھو! کیا آج اسکول نہیں جانا ہے۔‘‘

ایمان تیزی سے اٹھی اور اپنی امی سے چمٹ کر رونے لگی اور بولی ’’امی آج میں نے بہت ڈراؤنا خواب دیکھا ہے‘‘ پھر وہ امی سے بولی ’’امی آج سے میں کبھی کھانے کی کسی چیز میں عیب نہیں نکالوں گی اور ایک اچھی بچی بن کر دکھاؤں گی۔‘‘

اس کی امی نے ناشتے میں اسے انڈا اور سیب کھانے کو دیا جسے اس نے چپ چاپ کھالیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ اس نے اپنی امی سے کہا ’’امی میری سمجھ میں یہ اچھی طرح آگیا ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔ جب ہم کسی بھی چیز میں عیب نکالتے ہیں تو دراصل ہم، اللہ کریم کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ جب یہ چیزیں نہیں ملتیں تب ہمیں ان چیزوں کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔‘‘

اس نے اپنی امی سے وعدہ کیا کہ ’’اب وہ کبھی اللہ کریم کی کسی بھی نعمت کی ناشکری نہیں کرے گی اور ایک اچھی بچی بن کر دکھائے گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ام فاکہہ زنجانی (جدہ)

Leave a Reply