ساس سے چھٹکارا

چین کے ایک گاؤں میں ایک خوبصورت لڑکی لی لی (Li Li) (جس کو ہم اردو میںلیلیٰ بھی کہہ سکتے ہیں، لیکن کیوں نہ اُس کو اصلی نام سے ہی پکارا جائے) رہا کرتی تھی۔ کچھ عرصہ بعد لی لی کی شادی ہوگئی اور وہ اپنے خاوند اور ساس کے پاس دوسرے گاؤں آگئی۔ لی لی اور اس کی ساس کسے تصورات، توقعات اور شخصیات بالکل ہی متضاد تھیں۔ چند دن بھی سکون سے گزرنے نہ پائے تھے کہ ساس بہو کا روایتی جھگڑا شروع ہوگیا۔ حتیٰ کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ کوئی دن یا دن کا شاید ہی کوئی گھنٹہ ایسا گزرتا ہو کہ دونوں کے درمیان گھمسان کا رن نہ پڑے۔ لی لی کا شوہر بہت سمجھدار اور نیک انسان تھا اور سارے گاؤں والے اس کی تعریف کرتے تھے۔ اس نے ماں کو سمجھا بجھا کر اور بیوی کو ڈانٹ ڈپٹ کر راہِ راست پر لانے کی بڑی کوشش کی، لیکن اُن دونوں کے تمتماتے ہوئے غصے کے سامنے اس کی ساری سمجھداری کافور ہوگئی۔ چنانچہ اس نے دخل درمعقولات سے توبہ کرلی۔ جیسے ہی گھر میں گرج چمک کے آثار نمودار ہوتے وہ گھر سے باہر چلا جاتا اور پھر وہ گھمسان کی جنگ ہوتی کہ محلے والے بھی توبہ پکار اٹھتے۔

آخر جب معاملات برداشت کی تمام حدود پھلانگ گئے تو لی لی نے ساس سے چھٹکارا پانے کافیصلہ کرلیا۔ ہوانگ لی لی کے باپ کے بڑے اچھے دوست تھے اور لی لی کو اپنی بیٹیوں سے بڑھ کر پیار کرتے تھے۔ ہوانگ کا پنسار کا کارروبار تھا اور وہ جڑی بوٹیوں سے دوائیں بناکر فروخت کرتے تھے۔ لی لی نے ہوانگ کو تمام کہانی تفصیل سے بتائی اور پھر اُن سے درخواست کی کہ وہ اُسے ایک انتہائی زود اثر زہر تیار کرکے دیں تاکہ ساس سے جان چھوٹ جائے۔

ہوانگ بہت ہی زیرک انسان تھے،انھوں نے تھوڑی دیر سوچا پھر کہا کہ لی لی میں تمہارا مسئلہ حل کردوں گا لیکن تمہیں اسی طرح کرنا ہوگا جیسا میں کہوں۔ لی لی نے وعدہ کیا کہ وہ ہر کام اُن کے حکم کے مطابق کرے گی۔ ہوانگ اندر گئے اور جڑی بوٹیوں سے بھرا ایک لفافہ لاکر لی لی کے سپرد کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا میری بات غور سے سنو۔ ہم تمہاری ساس کو جلد اثر کرنے والا زہر نہیں دے سکتے، اس سے لوگوں کو شک ہوجائے گا اور ہم قتل کے مقدمے میں دھر لیے جائیں گے۔ میں نے تمہیں انتہائی سست رفتاری سے اثر کرنے والا زہر دیا ہے جو تقریباً چھ ماہ میں اپنا اثر دکھائے گا۔ آج سے تمہیں اپنی ساس کے لیے انتہائی اچھا اور مزے دار کھانا پکانا ہے اور پکانے کے دوران اس زہر کی تھوڑی سی مقدار کھانے میں شامل کردینی ہے۔ یاد رہے کہ کھانا مزیدار ہو تاکہ اس کو زہر کا ذائقہ محسوس نہ ہو۔ دوسری اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تمہیں اپنا رویہ انتہائی دوستانہ اور مؤدبانہ رکھنا ہے اور ساس کے ساتھ جھگڑا بالکل نہیں کرنا تاکہ جس وقت وہ مرنے لگے کسی کو ہمارے بارے میں شک تک نہ ہو۔ لی لی نے ہوانگ کا شکریہ ادا کیا اور فوراً گھر کی راہ لی تاکہ وہ ساس مکاؤ مہم پر عمل شروع کرسکے۔ لی لی نے ہوانگ کی نصیحت کو پلے باندھ لیا۔ وہ اپنی ساس کے لیے بہترین اور مزیدار کھانا بناتی۔ اس کو وقت پر کھانا دیتی۔ اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی۔ اپنے غصے کو قابو میں رکھتی اور اپنی ساس کی مکمل اطاعت کرتی تاکہ کسی کو شک تک نہ ہو کہ اندر خانہ کیا کھچڑی پک رہی ہے۔

لی لی کی ساس نے مختلف طریقوں سے اس کو غصہ دلانے کی بڑی کوشش کی۔ اس کو ڈانٹا، برا بھلا کہا اور حتیٰ کہ ایک دفعہ خواہ مخواہ برتن توڑنے اور اسے کوئی چیزاٹھا کر مارنے کی بھی کوشش کی، لیکن لی لی نے یہ سب باتیں نظر انداز کردیں بلکہ اس نے اپنا رویہ مزید دوستانہ بنالیا۔ حتیٰ کہ وہ کبھی کبھار رات کو سونے سے پہلے اپنی ساس کے پاؤں بھی دبانے لگی۔

لی لی کی ساس اس کے رویے کی وجہ سے شروع شروع میںپریشان ہوئی۔ اس نے اسے اکسانے کی کوشش کی لیکن پھر لی لی کی خدمت گزاری سے اس کی پریشانی پہلے حیرانی اور پھر محبت میں تبدیل ہونے لگی۔ اس کو محسوس ہونے لگا کہ اگر اس کی بیٹی ہوتی تو وہ بھی شاید ایسی ہی ہوتی۔ اور پھر ایک دن ہمت کرکے اس نے لی لی کو بیٹی کہہ کر مخاطب کیا۔ لی لی کو ساس کے منہ سے بیٹی کا لفظ بڑا عجیب لگا لیکن وہ اپنے جذبات پر قابو پانا سیکھ چکی تھی۔ لہٰذا اس نے کسی قسم کی حیرت کا اظہار نہ کیا۔ ہفتے اور مہینے گزرتے گئے۔ لی لی کی ساس نے اس کو مستقل بیٹی کہنا شروع کردیا اور پھر لی لی کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ایک دن اُس نے بھی بے دھیانی میں اُن کو ماں کہہ کر پکار لیا۔ گو یہ سب کچھ بے دھیانی میں ہوالیکن لی لی کو یہ بات بری نہ لگی بلکہ اچھا محسوس ہوا اور پھر اس نے بھی اپنی ساس کو ماں کہہ کر بلانا شروع کردیا۔ شاید اس لفظ کی تاثیرتھی کہ لی لی کو بھی واقعی اپنی ساس سے محبت ہونا شروع ہوگئی اور وہ اسے اپنی حقیقی ماں کی طرح نظر آنے لگی۔ اور دونوں ایک دوسرے کو ماں بیٹی کی طرح چاہنے لگیں۔

لی لی کے شوہر کے لیے یہ سب کچھ حیران کن لیکن انتہائی مسرت کا باعث تھا۔ اگر وہ لی لی کو کچھ کہہ بیٹھتا تو اس کی ماں فوراً آڑے آجاتی : ’’خبردار! جو میری بیٹی کو کچھ کہا تو …‘‘ اگر وہ لی لی سے پوچھتا کہ بڑی خدمتیں ہورہی ہیں تو وہ جواب دیتی کیا ماں کی خدمت کرنا جرم ہے؟

جیسے جیسے لی لی اور اس کی ساس کے درمیان ماں بیٹی کا رشتہ مضبوط ہوتا گیا لی لی کے لیے ایک نئی پریشانی کھڑی ہونا شروع ہوگئی۔ اب وہ اپنی ماں کو مارنا نہیں چاہتی تھی لیکن یہ غم اس کو کھائے جارہا تھا کہ زہر اپنا اثر دکھا کر رہے گا اور اس کی ماں مرجائے گی۔ اور پھر ایک دن لی لی غم سے نڈھال بھاگم بھاگ ہوانگ کے پاس پہنچ گئی اور روتے ہوئے اس سے درخواست کی کہ وہ اپنی ماں کو مارنا نہیں چاہتی۔ اُس نے بتایا کہ اس کی ساس اسے ماں سے بھی زیادہ پیار کرتی ہے اور وہ یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ اس کی ماں اتنی جلدی مر جائے۔

ہوانگ نے لی لی کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا اور کہا بیٹا خوش ہوجاؤ پریشانی کی کوئی بات نہیں تمہاری ماں کو کچھ نہیں ہوگا۔ میں نے تمہیں زہر نہیں بلکہ طاقت دینے والی جڑی بوٹیاں دی تھیں تاکہ تمہاری ساس کی صحت اچھی ہو جائے۔ لی لی زہر جڑی بوٹیوں میں نہیں بلکہ تمہارے دماغ میں تھا جس کو میں نے اپنی حکمت سے نکال دیا ہے۔

لی لی یاد رکھو لڑنے والے دو فریقوں میں سے کوئی بھی ایک اگر اپنی اصلاح کرلے تو جھگڑا ختم ہوجاتا ہے۔ میں تمہاری ماں کو بھی سمجھانے کی کوشش کرسکتا تھا لیکن ہری اور تازہ شاخ کو موڑنا آسان ہوتا ہے جب کہ سوکھی ہوئی عمر رسیدہ شاخ کو موڑنے کی کوشش اکثر نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ لی لی ’’ماں‘‘ اور ’’بیٹی‘‘ کہنے کو تو صرف دو الفاظ ہیں لیکن یہ ایسے لفظ ہیں جو بولنے والے کے منہ میں شیرینی گھول دیتے ہیں اور جس کے لیے بولے جائیں اسے اٹھا کر آسمان پر بٹھا دیتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
انجینئر عبد الغفار

Leave a Reply