تعلیم

بچوں کی عملی اور فکری تربیت کا ایک طریقہ

کچی عمر میں جو تربیت کی جاسکتی ہے، وہ کسی اور عمر میں ممکن نہیں۔ بچپن میں جو باتیں بچے کے دماغ میں ڈال دی جائیں، وہ اس کی آئندہ شخصیت سازی میں معاون بنتی ہیں۔ یہاں پر کچھ عملی باتیں ذکر کرنی ہیں کہ ان سے متعلق اللہ کے رسولؐ نے بڑی خوش خبری دی ہیں اور فرشتوں کے اعلانات کا ذکر کیا ہے۔ یہ بچوں کے لیے تربیت کا بھی ذریعہ ہیں اور ان کے عقیدے اور اعمال کو بھی مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے اور اللہ کی عبادت کے تصور کو زندگی میں راسخ کرنے کا ذریعہ ہیں۔

جو فرض نماز جماعت سے پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد اسی جگہ بیٹھا رہے تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں کہ ’’اے اللہ! اس کو معاف فرما اور اس پر رحم فرما۔‘‘ اکثر دیکھا گیا کہ سلام پھیرنے کے بعد فوراً بچے اٹھ کر باہر صحن میں بھاگ جاتے ہیں اور اپنے ہم عمروں سے بات چیت کرنے میں مشغول ہوجاتے ہیں ۔ پھر سنن و نوافل بھی بعض اوقات خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

لہٰذا جب اپنے بچے کو مسجد میں لے کر جائیں تو بار بار یہ بات اس کے ذہن میں ڈالیں کہ دیکھو بیٹا! سلام پھیرنے کے بعد تھوڑی دیر تک اسی جگہ بیٹھے رہو اور کچھ اذکار وغیرہ بتادیں کہ یہ کرلو، پھر اطمینان سے اٹھ کر جگہ بدل کر سنن و نوافل پڑھو، پھر کسی دوسری چیز میں مشغول ہو اور دھیان کرو کہ جب تک میں صف میں بیٹھا رہوں گا، فرشتے میرے لیے دعائے مغفرت و رحمت کرتے رہیںگے۔

جب بچے کو کسی کام سے باہر بھیجنا ہو یا وہ اسکول یا مدرسہ جانے کے لیے گھر سے نکل رہا ہو تو عام نصیحتوں کے علاوہ یہ بھی بتائیں کہ بیٹا! دروازے سے باہر جاؤ تو یہ دعا پڑھو:

بسم اللہ توکلت علی اللہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ (ترمذی، ابواب الدعوات)

اور ایک روایت میں جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، دعا کے درج ذیل الفاظ ہیں، نیز اس روایت میں آسمان کی طرف منہ اٹھا کر یہ دعا پڑھنے کا بھی ذکر ہے۔

اللھم انی اعوذبک ان اضل او اضل او ازل او ازل او اظلم او اظلم او اجھل او یجھل علی

(ابوداؤد، کتاب الادب)

پھر اس بات کا یقین رکھو کہ جیسے ہی تم نے یہ دعا پڑھی تو ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ ’’اس کو ہدایت دی گئی، اس کی کفایت کی گئی، اس کی حفاظت کی گئی، اور شیطان کو اس سے دور کر دیا گیا۔‘‘

کبھی ایسا کریں کہ بچے کے ہاتھ سے کوئی چیز صدقہ کروائیں۔ اس سے بچوں میں دوسروں کو دینے کا جذبہ پیدا ہوگا اور اس کے ساتھ یہ اعلان یاد کروائیں کہ جب کوئی شخص اللہ کی رضا کے لیے صدقہ دیتا ہے تو ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے: ’’اے اللہ! اس عطا کرنے والے کو اس کا بہترین بدل عطا فرما۔‘‘ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بچے کے ذہن میں یہ بات پیدا ہوگی کہ دینے سے مال یا چیز کم نہیں ہوتی، بلکہ اس سے بہتر اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ہیں اور حضورﷺ کا فرمان ہے کہ دینے والا ہاتھ، لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ (بخاری، باب الاستعفاف عن المسئلۃ)

لہٰذا ہمیں ہمیشہ دینے والا بننا چاہیے۔

حضور اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’جب نماز کا وقت آتا ہے تو ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ اے آدم کی اولاد اٹھو اور جہنم کی اس آگ کو، جسے تم نے (گناہوں کی بدولت) اپنے اوپر جلانا شروع کر دیا ہے، بجھاؤ۔ چناں چہ (دیندار لوگ) اٹھتے ہیں، وضو کرتے ہیں اور ظہر کی نماز پڑھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے گناہوں کی (فجر سے ظہر تک) مغفرت کردی جاتی ہے۔ اسی طرح پھر عصر کے وقت، پھر مغرب کے وقت، پھر عشاء کے وقت (غرض ہر نماز کے وقت یہی صورت ہوتی ہے)۔‘‘ (طبرانی، ج۱۰، ص۱۷۴)

یہ اعلان بچوں کو یاد کروائیں اور جب بھی اذان ہوتو فوراً بچوں کو یاد دلائیں اور پوچھیں کہ اس وقت فرشتہ کیا اعلان کر رہا ہوگا؟ پھر بچے کے جواب دینے پر کہیے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ تو بچہ ان شاء اللہ کہے گا کہ ابو جان! اب ہمیں نماز پڑھنے کی تیاری کرنی چاہیے اور اپنے تمام کاموں کو مؤخر کردینا چاہیے۔

اپنے بچوں کو اکثر اس بات کی ترغیب دیں کہ وہ اپنے بھائیوں، بہنوں، ماں، باپ، رشتہ داروں، پڑوسیوں، دوستوں، سہیلیوں کے لیے دعا کریں۔ جس اچھی چیز کی طلب خود کو ہو، وہ دوسروں کے لیے بھی اور اپنے لیے بھی مانگیں۔ اسی کے ذیل میں فرشتہ کا یہ اعلان یاد کروائیں کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کے لیے کوئی دعا کرتا ہے تو ایک فرشتہ اس کی ہر دعا پر ’’لک بمثل‘‘ (ابوداؤد، باب الدعا) کہتا ہے۔ یعنی ’’اے اللہ! اس کو بھی یہی عطا فرما‘‘ اور اللہ تعالیٰ وہ چیز اس شخص کو بھی ضرور عطا فرماتے ہیں، چاہے اللہ تعالیٰ اس شخص کو عطا نہ کریں، جس کے لیے دعا مانگی گئی ہے۔

جب صبح ہوتی ہے تو ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ ’’اے ابن آدم! آج کا دن زندگی میں پھر دوبارہ نہیں آئے گا۔ جتنی نیکیاں کرسکتا ہے، کرلے۔‘‘

اس اعلان کے ذریعے وقت کی اہمیت، وقت کی قدر و قیمت بچے کے ذہن میں ڈالیے اور وقت کی حفاظت کے طریقے اس کو بتائیے۔

جس وقت سورج نکلتا ہے تو ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ ’’آج جو بھی گھر بنے گا، وہ ضرور گرے گا، اور جو بھی بچہ پیدا ہوگا وہ ضرور مرے گا۔‘‘

اس سے دنیا کے فانی ہونا، مٹی اور گارے سے بنے ہوئے گھروں کے ٹوٹنے اور قیامت کے قائم ہونے، اور آخرت کے باقی رہنے کا تصور اور یقین، اولاد کے دل و دماغ میں بٹھانے کی کوشش کیجیے۔

ہر صبح ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ ’’اے اللہ! نیکی کے کاموں پر خرچ کرنے والے کو اس کا بدل نصیب فرما، اور روک کر رکھنے والے کو برباد فرما۔‘‘

اس طرح بچوں میں خرچ کرنے کا جذبہ بڑھائیے، اگر دوکھلونے ہیں تو ایک کھلونا چچا زاد، پھوپھی زاد کو دلوائیے۔ اگر جوتے کے دو نئے جوڑے ہیں تو ایک ماسی/ چوکیدار، ڈرائیور کے بچوں کو دلوائیے، اسی طرح اپنی ضرورت سے زائد چیزوں کو روک کر رکھنے سے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کیجیے اور اپنی اولاد کو سخی بنانے کی کوشش بھی کیجیے۔

یہ اعلانات بچوں کو یاد بھی کروائیں اور ان سے گاہے بہ گاہے پوچھتے بھی رہیں اور کس اعلان سے کیا نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے؟ وہ بتائیں۔ کس اعلان کی وجہ سے ہماری زندگی میں کیا تبدیلی ہونی چاہیے، یہ بھی سکھائیں۔ ان شاء اللہ اس طرح کی کوشش سے بچوں کی ذہنی تربیت ہوگی اور یہ باتیں ان کے ذہنوں میں ایسی پختہ ہوجائیں گی کہ وہ اپنی عملی زندگی میں کبھی انہیں چھوڑ نہ سکیں گے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد حنیف ندوی

Leave a Reply