لائبریری

۶؍ مارچ ۔۔۔ کتاب کا عالمی دن

آج کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل کا زمانہ ہے مگر اس کے باوجود کتاب کی اہمیت و افادیت ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی ہوگی کیوں کہ کتاب انسان کی سب سے بہترین رفیق ہے جو نہ صرف انسان کو تفریح مہیا کرتی ہے بلکہ زمانے، تاریخ اور معاشرے کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کراتی ہے۔

دنیا کے ہر معاشرے کی ترقی میں کتاب کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ کتابیں چھپتی ہیں۔ کتاب کے حوالے سے اسلام کا سنہرا دور گزرا ہے جب اسلامی دنیا میں بہت زیادہ کتابیں لکھی اور پڑھی جاتی تھیں اور لائبریری کی شکل میں بھی جمع تھیں۔ جب ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا تو وہاں کی شاہی لائبریری میں لاکھوں کتب موجود تھیں جنھیں تاتاریوں نے جلا دیا اور دریائے دجلہ کی نذر کر دیا۔ اندلس میں پندرھویں صدی کے اختتام پر جب اسلامی حکومت کا خاتمہ ہوا تو غرناطہ کی ایک بڑی لائبریری کو ملکہ ازابیلا کے حکم سے جلا دیا گیا۔

آج بدقسمتی سے ہمارے یہاں مطالعہ کی عادت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا (کمپیوٹر، انٹرنیٹ، کیبل اور موبائل) نے لوگوں کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ بچوں کو صرف درسی کتب تک محدود کر دیا گیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ درسی کتابیں ہی بچے کو کامیاب بنا کر ان کے ہاتھوں میں ڈگری تھماتی ہیں مگر کیا ڈگری علم ہے؟ علم تو ڈگری کے ماسوا کوئی چیز ہے۔ ڈگری اگر علم ہوتی تو علامہ اقبالؒ آج ایک کامیاب وکیل کے طور پر یا فلسفے کے پروفیسر کے طور پر پہچانے جاتے۔

ایک وہ وقت تھا جب مسلمان کتابیں پڑھتے اور جمع کرتے تھے مگر آج ہم کتابوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کا اندازہ آپ کو برناڈلیوس کی کتاب ’’The Crisis of Islam” سے ہوسکتا ہے۔ برناڈلیوس اس حوالے سے لکھتا ہے کہ ’’دنیا میں ستائیس ملک ایسے ہیں جہاں سب سے زیادہ کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔ ان ستائیس ملکوں میں ایک بھی مسلمان ملک نہیں۔ پوری عرب دنیا میں ہر سال صرف تین سو تیس کتابوں کے تراجم شائع ہوتے ہیں جب کہ ایک چھوٹے سے یورپی ملک یونان میں اس سے چار گنا تراجم شائع ہوتے ہیں۔

کتاب کی اہمیت کے حوالے سے اگر مسلمانوں کے ماضی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کی بنیاد مطالعہ اور تحقیق تھی۔ علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے پندرہویں صدی عیسوی میں ۶۰ سال کی عمر میں عربی زبان میں ۵۶۱ کتب تصنیف کیں۔ امام محمد غزالی نے ۵۴ سال کی عمر میں کم و بیش ۸۰ کتابیں لکھیں۔ ان میں احیائے علوم اور کیمیائے سعادت جیسی مشہور کتابیں بھی شامل ہیں۔

مطالعہ و تحقیق ہمارے اسلاف کی ترقی کی بنیاد تھی اور مطالعہ اُن کا شوق نہیں، جنون ہوتا تھا۔ حکیم جالینوس سے کسی نے پوچھا ’’آپ اپنے ساتھیوں سے علم اور حکمت میں کیسے نمایاں مقام تک پہنچ گئے؟ انہوں نے جواب دیا ’’میں نے کتابیں پڑھنے کے لیے چراغ کے تیل پر اس سے زیادہ خرچ کیا جتنا لوگ کھانے پینے پر خرچ کرتے ہیں۔امام زہریؒ جب مطالعے کے لیے بیٹھتے تو ان کے ارد گرد کتابوں کا ڈھیر لگا ہوتا۔ ان کتابوں میں اس قدر محو ہوتے کہ کسی چیز کا ہوش نہ رہ جاتا۔ امام شافعیؒ کے شاگرد امام مزنی نے اپنے استاد کی ایک کتاب کا پچاس برس تک مطالعہ لیا، لکھتے ہیں: ’’ہر مرتبہ کے مطالعے میں مجھے نئے نئے فوائد حاصل ہوئے۔‘‘

امام رازیؒ کو افسوس ہوتا تھا کہ کھانے کا وقت مطالعے کے بغیر گزرتا ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ اپنے طالب علمی کے زمانے میں رات گئے تک مطالعہ کرتے۔ یہاں تک کہ والد تنگ آکر کہتے، آخر کب تک جاگوگے؟ حضرت رشید احمد گنگوہیؒ مطالعہ میں اس درجے محو رہتے کہ پاس رکھا کھانا کوئی اٹھا کر لے جاتا تو آپ کو خبر تک نہ ہوتی۔ مولانا منہاج الدین اپنے طالب علمی کے زمانے میں لاہور سے دہلی گئے۔ پاس کچھ تھا نہیں، دکان داروں کے کام کر کے ان سے آٹا اور گھی لے لیا کرتے تھے۔ رات کو آٹے کا چراغ بنا کر اس میں گھی ڈال لیتے۔ اس چراغ کی روشنی میں رات بھر مطالعہ کرتے۔ دن نکلتا تو آٹے کی روٹی بنا کر کھالیتے۔ اسی پر قناعت کرتے۔ تعلیم سے فارغ ہوئے تو اتنی شہرت ملی کہ سلطان بہلول لودھی کے دور میں دہلی کے مفتی مقرر ہوے۔ یہ شاہ عبد القدوس گنگوہیؒ کے استاد تھے۔

۶؍ مارچ کتاب کا عالمی دن ہے۔ اس دن کی مناسبت سے ہمیں چاہیے کہ اپنے اسلاف کی طرح مطالعہ، تحقیق اور تصنیف پر توجہ دیتے ہوئے ایک بار پھر وہ مقام حاصل کریں جو کبھی ہمارا طرہ امتیاز تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد شاہد

Leave a Reply