حوصلہ شکنی

بچوں کی حوصلہ شکنی

ہما اسکول سے گھر آئی اور اپنی امی کو بتایا کہ ہمارے اسکول میں کہانی لکھنے کا مقابلہ ہو رہا ہے۔ میں نے بھی حصہ لیا ہے اور نام لکھوا دیا ہے کیا آپ کہانی لکھنے میں میری مدد کریں گی؟

امی جو باورچی خانے میں کھانا پکا رہی تھیں کہنے لگیں ’’دیکھو ابھی تو میں مصروف ہوں۔ تم دیکھ رہی ہو میں کھانا پکا رہی ہوں۔ ایسا کرو تم بعد میں آنا پھر بات کریں گے۔‘‘ یہاں سے مایوس ہوکر ہما اپنی باجی کے پاس گئی تو انہوں نے کہا ’’کیا بات ہے اُداس کیوں ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’ہمارے اسکول میں کہانی لکھنے کا مقابلہ ہو رہا ہے۔ میں نے امی کو بتایا اور ان سے کہا کہ وہ کہانی لکھنے میں میری مدد کریں مگر ۔۔۔‘‘

’’مگر کیا ۔۔۔؟‘‘ انہوں نے سوال کیا۔

انہوں نے کہا ’’میں مصروف ہوں بعد میں بات کرنا کیا آپ کہانی لکھنے میں میری مدد کریں گی؟‘‘

ہما نے اُمید بھری نظروں سے دیکھا۔ باجی نے جواب دیا ’’میرے امتحان ہونے والے ہیں اسی کی تیاری کر رہی ہوں، میرے پاس وقت نہیں۔‘‘ باجی نے جواب دیا۔ ہما مایوس ہوکر کمرے میں آئی اور خود ہی کوشش کر کے کہانی لکھنے لگی۔ اس نے کہانی مکمل کی اور یہ سوچ کر سوگئی کہ کل اسکول سے آکر امی یا باجی کو کہانی دکھادوں گی اگر اچھی ہوئی تو مس کے پاس جمع کروا دوں گی۔

دوسرے دن اسکول سے آکر اس نے کھانا کھایا اور سوگئی۔ شام کو جب سوکر اٹھی تو پہلے کہانی اپنی باجی کو دکھائی انہوں نے کہانی پر ایک سرسری نگاہ ڈالی۔ صفحات کو الٹا پلٹا اور کہا ’’ہاں ٹھیک ہے اسکول میں جمع کروا دو۔‘‘

مگر ہما مطمئن نہ ہوئی۔ وہ امی کے پاس گئی تو وہ کام کر رہی تھیں۔ ہما نے ان سے کہا کہ ’’باجی نے تو کہانی سرسری انداز میں دیکھی ہے آپ کہانی پڑھ کر بتائیں یہ کیسی ہے۔‘‘ انہوں نے ہما سے کہانی لے کر رکھ دی اور کہا ’’میں فارغ ہوجاؤں پھر کہانی پڑھوں گی۔ تم رات کو سونے سے پہلے لے لینا۔‘‘ ہما یہ سن کر خوش ہوگئی۔

وہ رات کو انتظار کر رہی تھی کہ امی نے اسے کہانی تھماتے ہوئے کہا ’’میرے پاس وقت نہیں تھا اس لیے پڑھ نہیں سکی، رات بہت ہوچکی ہے۔ اب تم سو جاؤ صبح اسکول جانا ہے۔ ہما نے امی کے جانے کے بعد غصے میں کہانی پھاڑ کر پھینک دی اور سوگئی۔

کچھ دنوں کے بعد کہانی کے مقابلے کے نتائج کا اعلان ہوا۔ جب ہما نے اول آنے والی لڑکی سے اس کی کہانی لے کر پڑھی تو اسے اس بات کا احساس ہوا کہ اس لڑکی کی کہانی اتنی اچھی نہ تھی جتنی کہ میری تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس کے گھر والوں نے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی۔ اگر وہ کہانی دے دیتی تو پہلا انعام اسے ضرور ملتا۔ مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہما جیسے نہ جانے کتنے بچے اپنے گھر والوں کی بے توجہی اور حوصلہ شکنی کا شکار ہوتے ہیں اور نامناسب رویے کا شکار ہوکر نمایاں مقام حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے مشاغل میں دلچسپی لیں تاکہ وہ نمایاں مقام حاصل کرسکیں۔ جن بچوں کے ساتھ گھر والے تعاون نہیں کرتے وہ مایوس ہوکر گمنامی کی اتھاہ گہرائیوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ اس لیے والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صحیح رہ نمائی کریں تاکہ وہ معاشرے میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر کے آگے آسکیں اور ملک و ملت کی خدمت میں اپنا کلیدی رول ادا کرسکیں۔

شیئر کیجیے
Default image
روبینہ ناز

Leave a Reply