اسلام اور عہد جدید کا چیلنج

اس میں ذرا بھی مبالغہ نہیں کہ عصر حاضر میں اسلام کو جن سیاسی اور فکری خطرات اور چیلنجوں کا سامنا ہے وہ اپنی نوعیت اور سنگینی کے اعتبار سے دوسری تمام تحریکوں کو درپیش چیلنج سے کہیں زیادہ ہیں، اسلام کے علاوہ دوسرے باطل نظاموں میں کسی کو بھی اگر ان حالات سے دوچار ہونا پڑتا جن سے اسلام کو سابقہ درپیش ہے تو یقینا اس کا وجود ختم ہوجاتا، اس کے نشانات مٹ جاتے اور وہ عہدِ رفتہ کی داستانِ پارینہ بن جاتا!!

لیکن ۔۔۔ یہ اسلام ہی ہے ۔۔۔۔۔ ہمیشہ باقی رہنے والا خدائی طریق زندگی جو اپنی لافانی خصوصیتوں کی بدولت تحریک کی تمام کوششوں پر قابو پالیتا ہے اور حق و باطل کے ہر معرکہ سے فتح یاب و طاقت ور ہوکر ابھرتا ہے، اس طرح زمانہ پر اپنی اس ابدیت کا اعلان کرتا ہے جسے اللہ نے اس کی ایک نمایاں صفت بتایا ہے۔

انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون (الحجر:۹)

’’بلاشبہ ہم ہی نے یہ ذکر و قرآن نازل کیا ہے اور بلاشبہ ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘

اسلام کے خلاف شبہات کے عوامل

اسلام پر رجعت پرستی کا الزام لگایا گیا ۔۔۔۔ الزام تراشیاں کرنے والوں کے نزدیک اسلام کی دعوت دینا، انسانیت کی گاڑی کو عہد ماضی کی طرف لے جانا ہے اور تہذیب و ثقافت کے رواں دواں قافلہ سے ہزاروں سال پیچھے رہ جانا ہے۔ ضخیم روسی انسائیکلو پیڈیا (جلد بارہ) کے صفحہ ۶۱۵-۶۱۹ پر یہ عبارت درج ہے۔

’’اسلام نے دوسرے مذاہب کی طرح ہمیشہ رجعت پسندانہ پارٹ ادا کیا ہے۔ یہ ہمیشہ رجعت پسند طبقوں کے ہاتھوں میں محنت کش طبقہ کو کچلنے کا ایک ہتھیار رہا ہے اور مشرق کی قوموں کو غلام بنانے کے لیے استعمار کے ہاتھ میں ایک موثر ذریعہ رہا ہے۔ قرآن اور سنت دونوں ہی طبقاتی نظام، لوٹ کھسوٹ اور ظلم و بربریت کی حمایت کرتے رہے ہیں ۔۔۔ الیٰ آخرہ۔

پھر ایک گروہ ایسے لوگوں کا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اسلام عہد ماضی کا ایک تجربہ ہے جو عربوں پر آزمایا گیا تھا اور بس، اس نے اپنا دور پورا کرلیا، اب اسلام کے پاس تعمیر و ترقی کی بنیادیں نہیں ہیں۔ میکائیل عفلق اپنی کتاب ’’فی سبیل البعث‘‘ کے صفحہ ۵۱ پر لکھتا ہے:

’’یہ امت (یعنی عربی قوم) جس نے حمورابی کے قوانین، جاہلی اشعار اور دین محمد(ﷺ) اور عہد مامون کی تہذیب و ثقافت کی شکل میں اپنی صلاحیتوں کا کھل کر مظاہرہ کرلیا ہے، ان سب کے پیچھے ایک ہی جذبہ و شعور کارفرما تھا۔۔۔۔ الخ‘‘

اس مصنف نے یہ الزام تراشی کی ہے کہ اسلام ایک تجریدی نظریہ ہے اور ایک ایسا نظریاتی فلسفہ ہے جس کی عملی تطبیق عہد حاضر میں ممکن نہیں ۔۔۔۔!

موجودہ دور میں اسلام کو جس طرح دہشت گردوں سے جوڑ دیا گیا ہے وہ ایک عالمی سازش ہے جو دنیا کے ہر حصے میں جاری ہے۔

اسی طرح دشمنانِ اسلام نے اسلام کے خلاف مختلف طریقوں سے الزام تراشیاں کی ہیں، اللہ کا ارشاد ہے:

یریدون لیطفؤا نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ و لو کرہ الکافرون (الصف:۸)

یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔ اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘

بہت سے اسباب و عوامل ایسے رہے ہیں، جن کی وجہ سے اس طرح کے گمراہ کن شکوک و شبہات کو پروان چڑھنے اور اسلام کے خلاف باطل نظریات کو جمنے کا موقع ملا۔ ان میںسے چند اہم اسباب یہ ہیں:

(۱) اسلام کا تحریکی وجود ایک طویل عرصے سے اُمت کی قیادت کے منصب سے محروم رہا ہے، اس چیز نے دشمنوں کو دست درازی کرنے کا موقع دیا کیوں کہ کوئی ایسی اسلامی حکومت نہیں رہی جو اسلام کی مدافعت کرتی اور مخالفوں کے پھیلائے ہوئے الزامات کا جواب دیتی۔

(۲) امت اسلامیہ فکری اور ذہنی طور پر مغربی تہذیب و تمدن کے زیر اثر مادی آلودگیوں میں مبتلا ہوگئی۔

(۳) مارکسی فکر و نظر کو مسلم سماج میں گھس آنے کا موقع ملا اور وہ اپنے ساتھ ایسے خیالات و تصورات کا سیلاب بہالے آیا جو ہر دینی فکر کا مخالف ہے، یہ خیالات و افکار در حقیقت مغربی کلیسا کے اس انحراف کے رد عمل میں پیدا ہوئے جو اس نے مسیحیت کی اصل روح سے کیا تھا۔

(۴) مسلمان اپنے دین کی حقیقت، اسلامی خصوصیات اور شریعت اسلامیہ کی ہمہ گیری کے شعور سے ناواقف ہوتے گئے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیسویں صدی عیسوی میں عالم اسلام کے اندر جو باطل نظریات و مذاہب کا سیلاب آیا وہ اُس کا لقمہ تر بن گئے۔

یہ اور اس طرح کے دیگر اسباب تھے جنھوں نے اسلام کو کشمکش حیات سے رفتہ رفتہ الگ کر دیا اور اسلام کی ایسی تعبیر کی گئی جو کہ اس کی روح کے منافی تھی، پھر اس کے بعد مسلمانوں کی ایک نئی نسل پیدا ہوئی جو اسلام سے بالکل ناآشنا تھی، اور اگر اسلام سے اسے واقف بھی ہوئی تو ایسے گوشوں سے جس نے اسلام سے اور دور کر دیا۔ اس طرح اسلام اپنے افکار و اخلاق اور اپنے مبادی و اصول کے ساتھ ایک الگ وادی میں قید کر دیا گیا اور اس اسلام سے انتساب رکھنے والے مسلمان دوسرے سرے پر کھڑے رہے ۔۔۔۔ دونوں کے درمیان تعلق کا کوئی شائبہ تک نہیں تھا!

کاش مسلمان باخبر ہوتے

اے کاش کہ مسلمان باخبر ہوتے کہ اسلام ۔۔۔۔

غلامی کے مقابلے میں آزادی کی مدھر پکار ہے

اونچ نیچ بھید بھاؤ کے ماحول میں مساوات اور برابری کی محبت بھری آواز ہے اور نفرتوں اور سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کے مقابلے میں اجتماعی انصاف کا دل نواز پیغام ہے۔

اور اے کاش ۔۔۔۔ کہ مسلمانوں کو اس حقیقت کا شعور ہوتا کہ ان کے دین کی یہ خصوصیات اور یہ خوبیاں ہیں تو اشتراکیت و قومیت کے پرفریب نعرے اور باطل نظریات اسلامی ملکوں میں راہ نہ پاتے اور نہ مسلم سماج میں درآمد کیے ہوئے باطل نظریات اور گمراہ کن نعروں کی منڈی بنتا!!!

مسلم نوجوان خاص طور سے تعلیم یافتہ نوجوان لارڈ اسٹنلے کی بات غور سے سنیں ۔۔۔۔ لارڈ اسٹنلے پہلے عیسائی تھے پھر انہیں اسلام لانے کی توفیق ہوئی۔ اپنے قبولِ اسلام کے اسباب و عوامل پر گفتگو کرتے ہوئے لارڈ اسٹنلے نے کہا۔۔۔!

’’میں مسلمان ہوں ۔۔۔ میں نے اسلام کا اثر محسوس کیا اور میں نے اس اثر کی اپنے دل میں خوب قدر کی، مجھے اسلام عزیز ہے اس لیے کہ میں نے اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان بہت بڑا فرق دیکھا اور اس لیے کہ میں نے اسلام خوب غور و خوض کے بعد قبول کیا ہے۔ اس کے سوا اب کوئی دوسرا مذہب قابل قبول نہیں ۔ میں مسلمان ہوں تہذیب و تمدن کے مظاہر میری نظر میں بے وقعت ہیں۔ ان میں صحیح صرف وہ ہے جو کتاب و سنت کی نظر میں درست ہے۔تمدن کے ان پرفریب مظاہر اور ان جھوٹے مناظر کے غلط اور باطل ہونے کی جلد ہی زمانہ گواہی دے گا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
استاذ فتحی یکن

Leave a Reply