منفی طرزِ فکر و عمل سے نجات

وہ دوست کی گاڑی میں سوار ہوا تو چھوٹتے ہی بولا: ’’تمھاری گاڑی کتنی کھٹارا ہے؟‘‘ اس کے گھر گیا تو سامانِ آرایش دیکھ کر کہا:

’’اوہ! تم نے گھر کا سامان نہیں بدلا۔‘‘

اس کے بچے دیکھے تو بولا: ’’ماشاء اللہ! کتنے پیارے بچے ہیں، تم انھیں اس سے زیادہ خوبصورت کپڑے نہیں پہنا سکتے؟‘‘

بیوی نے کھانا پیش کیا۔ بے چاری نے گھنٹوں باورچی خانے میں گھس کر کھانا تیار کیا تھا۔ وہ بولا: ’’تم نے چاول کیوں نہیں پکائے؟ اوہ! نمک کم ہے۔ یہ ڈش تو مجھے ذرا پسند نہیں۔‘‘

پھلوں کی دکان پر جاتا ہے۔ دکان قسم قسم کے پھلوں سے اٹی پڑی ہے۔ وہ پوچھتا ہے: ’’آم ملیں گے؟‘‘

دکان دار جواب دیتا ہے: ’’جی نہیں، آم گرمیوں میں ہوتا ہے۔‘‘

وہ پوچھتا ہے: ’’تربوز ہوگا؟‘‘

دکان دار: ’’نہیں۔‘‘

وہ غصے میں لال پیلا ہوکر کہتا ہے: ’’آپ کے پاس کوئی چیز نہیں تو یہ دکان کیوں کھول رکھی ہے؟‘‘ اور یہ بھول جاتا ہے کہ دکان میں پھلوں کی چالیس سے زائد اقسام موجود ہیں۔

جی ہاں! بعض لوگ تنقید کر کر کے آپ کو زچ کردیتے ہیں۔ ناممکن ہے کہ انھیں جلدی کوئی چیز پسند آجائے۔ مزیدار کھانے میں انھیں وہ بال نظر آتا ہے جو انجانے میں گر پڑا تھا۔ صاف کپڑوں میں انھیں صرف سیاہی کا وہ ہلکا دھبہ ہی دکھائی دیتا ہے جو غلطی سے لگ گیا تھا۔ مفید کتاب میں انھیں کہیں سے پروف کی غلطی نظر آجاتی ہے۔ ان کی تنقید سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ ہمیشہ نکتہ چینی کرنے والے۔ ہر چھوٹی بڑی شے میں کیڑے نکالنے والے۔

ایک شخص سیکنڈری اور یونیورسٹی کے دنوں میں طویل عرصے تک میرا ہم جماعت رہا ہے۔ ہمارے تعلقات اب بھی قائم ہیں۔ مجھے نہیں یاد کہ اس نے آج تک کسی شئے کی تعریف کی ہو۔ میں نے اس سے اپنی کتاب کے بارے میں پوچھا جس کی لوگوں نے بڑی تعریف کی اور اس کے سیکڑوں ہزاروں نسخے اب تک نکل چکے ہیں، اس نے سرد مہری سے کہا: ’’اچھی کتاب ہے۔ لیکن اس میں فلاں واقعہ غیر مناسب ہے۔ پوائنٹ کا سائز بھی مجھے پسند نہیں آیا۔ طباعت بھی گھٹیا قسم کی ہے۔ اور ۔۔۔۔۔‘‘

ایک روز میں نے اس سے پوچھا کہ فلاں کا اندازِ تقریر کیسا ہے، اس نے مقرر کا کوئی اچھا پہلو بیان نہ کیا۔ وہ مجھ پر بہت گراں بار ہوگیا۔ اب میں کسی بھی شے کے متعلق اس کی رائے نہیں پوچھتا۔

بعض افراد مثالیت (Idealism) کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسا شخص چاہتا ہے کہ اس کی بیوی چوبیس گھٹنے گھر کو شیشے کی مانند چمکا کر رکھے اور اس کے بچے سارا دن صاف ستھرے اٹن شن رہیں۔ مہمان آئیں تو انھیں بہترین کھانا ملے۔ بیوی کے پاس بیٹھے تو وہ اس سے خوبصورت باتیں کرے، تلخی پیدا نہ کرے۔ بچے بھی ہمیشہ اس کی ہاں میں ہاں ملائیں۔ اپنے رفقائے کار سے اور گلی، محلے، سڑک، بازار میں ملنے والے ہر شخص سے وہ یہی چاہتا ہے کہ اس کا رویہ سو فیصد ٹھیک ٹھاک ہو۔ ان میں سے کوئی ذرا سی بھی کوتاہی کرے تو وہ اپنی تیز دھار زبان سے جا و بے جا تنقید کرتا اور قدم قدم پر نکتہ چینی سے دوسروں کو بدمزہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ لوگ اس سے اکتا جاتے ہیں کیوں کہ اسے سفید براق صحیفوں میں صرف چار دھبے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ جس شخص کی یہ حالت ہے اس نے دراصل اپنے آپ کو عذاب میں ڈال رکھا ہے۔ قریبی رشتے دار بھی اس سے کتراتے اور اس کی صحبت کو ثقیل سمجھتے ہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

اذا انت لم تشرب مرارا علی القذا

ظمئت، و ای الناس تصفو مشاربہ؟!

’’تم ہر بار کڑوا پانی پینے سے انکا رکروگے تو پیا سے رہ جاؤگے۔ اور کتنے لوگ ہیں جنہیں صاف پانی ملتا ہے؟!‘‘

اذا کنت فی کل الامور معاتبا

رفیقک، لن تلق الذی ستعاتبہ

’’تم ہر کام میں اپنے رفیق پر نکتہ چینی کروگے اور اسے ڈانٹ پلاؤگے تو یاد رکھو! ایک وقت ایسا آئے گا جب تمھاری ڈانٹ برداشت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘

سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ بھی ارشاد فرماتا ہے:

و اذا قلتم فاعدلوا

’’اور جب تم بات کرو تو عدل و انصاف سے کام لو۔‘‘

سارے مومنوں کی امی جان حضرت عائشہؓ، رسول اللہﷺ کا گھر والوں سے رویہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’’رسول اللہﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا۔ بھوک ہوتی تو کھالیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔‘‘

جی ہاں! رسول اللہﷺ نے کبھی کسی شے کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔

انسؓ کا بیان ہے: ’’واللہ! میں نے نو سال رسول اللہﷺ کی خدمت کی۔ مجھے معلوم نہیں کہ میں نے کوئی کام کیا ہو اور آپ نے پوچھا ہو کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ مجھ پر آپ نے کبھی نکتہ چینی نہیں کی اور واللہ! نہ کبھی آپ نے مجھے اُف کہا۔

رسول اللہؐ ایسے ہی تھے اور ہمیں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یہاں یہ وضاحت کرنی ضروری ہے کہ ہم خدانخواستہ نصیحت نہ کرنے اور غلطیاں دیکھ کر خاموش رہنے کی دعوت نہیں دے رہے ہیں۔ لیکن ہر شے میں اور خاص طور سے دنیاوی معاملات میں دقیقہ سنج نہ بنئے اور حالات کے مطابق ڈھلنے کی کوشش کیجیے۔آپ کے گھر مہمان آتا ہے۔ آپ اسے چائے پیش کرتے ہیں۔ وہ پیالی میں جھانک کر کہتا ہے: ’’آپ نے پیالی کیوں نہیں بھری؟‘‘ آپ کہتے ہیں:

’’کچھ اور چائے ڈال دوں۔‘‘

وہ کہتا ہے: ’’نہیں، نہیں، اس کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘

وہ پانی مانگتا ہے، آپ پانی کا گلاس حاضر کرتے ہیں، وہ پانی پی کر کہتا ہے: ’’پانی ٹھنڈا نہیں تھا۔‘‘ پھر وہ ایئرکنڈیشنز کی طرف متوجہ ہوکر کہتا ہے: ’’یہ اے سی ٹھنڈک نہیں کرتا۔‘‘ اور گرمی کا رونا رونے لگتا ہے۔ بتائیں! ایسے انسان کا وجود آپ کے لیے گراں نہیں ہوگا اور آپ تمنا نہیں کریں گے کہ وہ آپ کے گھر سے نکل جائے اور پھر کبھی واپس نہ آئے؟

ثابت ہوا کہ لوگ زیادہ تنقید پسند نہیں کرتے۔ لیکن آپ کسی جگہ سمجھتے ہوں کہ یہاں تنقید کی ضرورت ہے تو اسے خوش نما غلاف میں لپیٹ کر دوسروں کے سامنے پیش کیجیے۔ بالواسطہ، عام الفاظ میں یا مشورے کے انداز میں تنقید کریں۔

رسول اللہﷺ جب کسی کی غلطی ملاحظہ کرتے تو منہ براہِ راست اس کا اظہار نہ کرتے بلکہ کہتے:

’’کچھ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسا اور ایسا کرتے ہیں؟‘‘

ایک دن تین گرم جوش نوجوان مدینہ آئے۔ وہ رسول اللہﷺ کی عبادت اور نماز کی کیفیت کے متعلق جاننا چاہتے تھے۔ انھوں نے ازواجِ نبیﷺ سے گھر میں آپؐ کی عبادت کے متعلق پوچھا۔

امہات المومنینؓ نے انھیں بتایا کہ آپؐ کبھی روزہ رکھتے ہیں اور کبھی نہیں رکھتے۔ رات کا کچھ حصہ سوتے ہیں اور کچھ حصہ نماز پڑھتے ہیں۔ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا: ’’یہ رسول اللہؐ ہیں۔ اللہ نے ان کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیے ہیں۔‘‘

یہ کہہ کر تینوں نے ایک ایک فیصلہ کیا۔

ایک نے کہا: ’’میں کبھی شادی نہیں کروں گا۔‘‘

دوسرے نے کہا: ’’میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا۔‘‘

تیسرے نے کہا: ’’میں رات کو آرام کے بجائے ہمیشہ قیام کروں گا۔‘‘

ان تینوں کی یہ بات رسولؐ کو پہنچی۔ آپ فوراً منبر پر تشریف فرما ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا:

’’چند افراد کو کیا ہوگیا ہے۔ انھوں نے یہ اور یہ باتیں کی ہیں۔ لیکن میں تو نماز پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں۔ روزے رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے کنارہ کشی کی وہ مجھ سے نہیں۔‘‘

ایک اور موقعے پر نبیﷺ نے محسوس کیا کہ بعض نمازی دورانِ نماز آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ یہ غلطی تھی کیوں کہ قاعدہ یہ ہے کہ نماز کے دوران سجدہ گاہ پرنظر رکھی جائے۔

آپؐ نے فرمایا:

’’چند لوگوں کو کیا مشکل ہے کہ وہ نماز کے دوران آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔‘‘

اس پر بھی لوگ باز نہ آئے تو آپ نے ان کے نام لے کر توجہ دلانے کے بجائے صرف اتنا کہا:

’’یہ لوگ اس کام سے باز آجائیں ورنہ ان کی نگاہیں اُچک لی جائیں گی۔‘‘

مدینہ میں ایک لونڈی بریرہ تھی جو آزاد ہونا چاہتی تھی۔ اس نے اپنے آقا سے اس بارے میں بات کی۔ آقا نے کچھ رقم ادا کرنے کی شرط لگائی۔ بریرہ، عائشہؓ کے پاس آئی اور ان سے اس سلسلے میں مدد کی طالب ہوئی۔ ام المومنینؓ نے کہا: ’’تم چاہو تو میں تمھیں رقم دے دوں گی اور تم آزاد ہوجانا لیکن ولاء (آزادی کی نسبت) میری ہوگی۔‘‘

بریرہ نے اپنے آقا سے بات کی تو اس نے انکار کر دیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ دونوں طرف سے فائدہ اٹھائے۔ آزادی کی قیمت بھی حاصل کرے اور نسبت بھی۔ عائشہؓ نے نبی سے دریافت کیا تو آپ کو تعجب ہوا کہ بریرہ کا آقا کتنا لالچی ہے۔ بے چاری لونڈی کو آزاد ہونے سے روک رہا ہے۔ آپ نے عائشہؓ سے کہا:

’’تم اسے خرید کر آزاد کردو۔ ولاء اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔‘‘

پھر رسول اللہﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا:

’’چند لوگوں کو کیا ہوگیا ہے (نام نہیں لیا) کہ وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں جن کا کتاب اللہ میں کوئی وجود نہیں۔ جس نے ایسی شرط عائد کی جو کتاب اللہ میں نہیں اسے کچھ نہیں ملے گا، چاہے وہ سو شرطیں لگاتا پھرے۔‘‘

جی ہاں! بالکل اسی طرح دور سے ڈنڈے کا اشارہ کریں لیکن ماریں نہیں۔ مثلاً آپ کی بیگم صاحبہ گھر کی صفائی ستھرائی پر توجہ نہیں دیتیں تو آپ ان سے کہہ سکتے ہیں: ’’کل رات میں نے فلاں دوست کے ہاں کھانا کھایا، اس کے گھر کی صفائی کا کیا کہنا۔ شیشے کی طرح چمک رہا تھا۔ سب اس کی تعریف کر رہے تھے۔‘‘

آپ کا صاحبزادہ نماز کے لیے مسجد نہیں جاتا تو آپ اس سے کہیں: ’’خالد صاحب (پڑوسی) کے بیٹے حامد کو ہر نماز کے وقت مسجد میں دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے۔‘‘

یہاں آپ مجھ سے سوال کرسکتے ہیں کہ لوگ تنقید کیوں پسند نہیں کرتے۔ دراصل تنقید انھیں کوتاہی کا احساس دلاتی ہے اور کوئی آدمی اپنے آپ کو کوتاہ باور نہیں کرنا چاہتا۔

کہتے ہیں کہ ایک سادہ آدمی کو یہ شوق چرایا کہ مجھے بھی کسی شے میں اپنی مرضی سے تصرف کا حق ہونا چاہیے۔ اس نے پانی کے دو تھرماس لیے۔ ایک سبز اور دوسرا سرخ۔ انھیں ٹھنڈے یخ پانی سے بھرا، پھر راستے میں بیٹھ گیا اور آواز لگانے لگا: ’’ٹھنڈا یخ پانی بالکل مفت۔‘‘ کوئی پیاسا اس کی طرف آتا اور سبز بوتل سے پانی پینے لگتا تو وہ کہتا: ’’نہیں، سرخ سے پیو۔‘‘ وہ سرخ بوتل سے پی لیتا۔ دوسرا آتا کہ دونوں بوتلوں کے پانی میں کیا فرق ہے تو وہ کہتا: ’’پانی ٹھیک ہونے کی ذمے داری مجھ پر ہے۔ آپ کو اچھا لگتا ہے تو پانی پیجئے ورنہ کوئی اور انتظام کرلیں۔‘‘

یہ دراصل انسان کے اس دائمی احساس کا اظہار ہے کہ اسے معتبر اور نہایت اہم گردانا جائے۔

اس لیے: شہد کی مکھی کا طرزِ عمل اپنائیں جو میٹھے پر بیٹھتی اور کڑوے سے کتراتی ہے۔ گھریلو مکھی کی طرح نہ ہوں جو ہمیشہ زخموں اور گندگی کی تلاش میں رہتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
احمد کامران علی

Leave a Reply