شرک کا نتیجہ

حسن پور ایک بڑا گاؤں تھا، جس میں زمین دار شجاعت علی رہتے تھے۔ ان کے اندر زمین داروں کی ساری روایتی خصوصیات موجود تھیں۔ لمبا قد، چوڑے شانے، لمبی مونچھیں اور چہرے سے رعب ٹپکتا تھا۔ پورے گاؤں میں آپ کا حکم چلتا تھا۔ جب یہ اپنے جلال میں ہوتے تھے تو حویلی میں نوکروں کی روح کانپتی تھی۔ ان کی بیگم قیصر جہاں بھی ایک بڑے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں، ان کے والد بھی زمین دار تھے۔ شجاعت علی کی ایک بیٹی ماہ رخ خانم، اور ایک بیٹا شمشیر خان بارہ سال کا تھا۔ بیٹا بالکل اپنے باپ پر گیا تھا اور بیٹی کو جہاں اپنے باپ کا مزاج ملا تھا وہیں حسن و خوبصورتی اور سیرت ماں سے ملی تھی۔ بالکل اپنے نام کا عکس تھا۔ لڑائی نے شجاعت علی کو نگل لیا۔ بیگم قیصر جہاں ٹوٹ کے رہ گئیں۔ اگرچہ مالی طور پر بھی کوئی تنگی نہ تھی کہ شوہر زمین دار تھے تو گھر بیٹھے ہزاروں کی آمدنی ہوا کرتی تھی۔ بیٹا گھر میں موجود تھا ہی۔ اب اٹھتے بیٹھتے بیگم قیصر جہاں کے دماغ میں ایک ہی بات گونجتی رہتی تھی کہ جلد سے جلد ماہ رخ اپنے گھر کی ہوجائے۔ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ اچانک ایک دن ماہ رخ کو دورے پڑنا شروع ہوگئے۔ شروع شروع میں کسی نے خاص توجہ نہ دی۔ مگر پھر یہ بڑھتے ہی گئے۔ ایک دم سے دورا پڑتا اور پورا بدن اینٹھ جاتا اور ماہ رخ مچھلی کی طرح تڑپنے لگتی اور اس دوران عجیب و غریب زبان میں اول فول بکنے لگتی۔ دس بیس منٹ یہ حالت رہتی اور پھر اپنے آپ ٹھیک ہوجاتی۔ بیگم قیصر جہاں پریشان ہوگئی۔ ڈاکٹر پہ ڈاکٹر بدلے گئے مگر کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ رفتہ رفتہ بات پھیلنے لگی۔ لڑکی کا معاملہ تھا۔ بیگم قیصر جہاں کو ڈر تھا کہ اگریہی حالت رہی تو شادی ہونا مشکل ہوجائے گی۔ اوپر سے عیادت کے لیے آنے والی عورتیں جن بھوت آسیب کے سایہ کی بات کہنے لگی تھیں۔ جب کہ ہندوستان ہی کیا پورے برصغیر میں اوہام پرستی اور جن بھوت کے قصے عام ہیں۔ بیگم قیصر جہاں کو ان سب باتوں پر یقین نہیں تھا مگر جب بیماری کو ایک سال گزر گیا اور ڈاکٹر بھی کچھ نہیں بتا پائے ادھر عورتوں کے قصے جاری ہی تھے تو ان کو بھی رفتہ رفتہ آسیب کا یقین ہوتا چلا گیا اور اب عاملوں، سیانوں اور جھاڑ پھونک کرنے والوں کے چکر لگنے شروع ہوگئے۔ اور جہاں بھی عامل کا پتہ چلتا فورا اس کے یہاں جاکر اس سے علاج شروع کر ادیتی تھیں مگر بات جہاں کی تہاں تھی۔ ہر عامل ڈھیر سارے دعووں سے علاج شروع کرتا تھا اور اس کی تگڑی فیس بھی وصول کرتا تھا۔ اور ’’کالے بکرے، ناریل، لوبان، اگر بتیاں اور ڈھیر سارا غلہ‘‘ اور پتہ نہیں کیا کیا الم غلم منگا کر کام کا آغاز کرتا اور پھر دعویٰ کرتا کہ سخت مقابلے کے بعد جن کو بھکا دیا گیا ہے مگر ماہ رخ کو کچھ دن بعد پھر دورے پڑنے شروع ہوجاتے۔ اسی دوران حویلی کے ایک ملازم نے ایک بہت بڑے ’شاہ صاحب‘ کا پتہ بیگم قیصر جہاں کو بتایا اور ان کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر دیا۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ بیگم قیصر جہاں فوراً تیار ہوگئیں اور بیٹی کو لے کر اس مشہور شاہ صاحب کے پاس چل دیں۔ شاہ صاحب کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی کہ بہت تہجد گزار ہیں اور پنج وقتہ نمازی بھی ہیں (جو اپنے حجرے ہی میں ادا کرتے تھے) مسجد سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا۔ اور کہا جاتا تھا کہ ایک خاص نماز وہ کنویں میں لٹک کر پڑھتے تھے اور اگر اس دوران کسی کی نظر ان پر پڑ جاتی تھی تو وہ ان کے جاہ و جلال کا دیوانہ ہو جاتا تھا۔ اور یہ دیوانے سب کچھ تیاگ کر ان کے ’در‘ کے ہوکر رہ جاتے تھے (یہ الگ بات ہے کہ یہی لوگ شاہ صاحب کا کاروبار چلاتے تھے اور انہی کے تیار کردہ تھے)۔ بہرحال بیگم قیصر جہاں اپنی بیٹی کو لے کر ان کے دربار میں پہنچ گئیں اور اپنی باری پر جب اندر گئیں تو شاہ صاحب کو مراقبہ میں پایا۔ بیگم صاحبہ نے سلام کیا اور اپنی مشکل بتانے کے لیے اسٹارٹ لینا چاہا تھاکہ شاہ صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور آنکھ کھول کر خود ہی بیگم قیصر جہاں کے بارے میں اور ان کے شوہر کے بارے میں اور حویلی کی باتوں کو بیان کرنا شروع کردیا۔ (وہ ساری باتیں جو ان کو بیگم قیصر جہاں کے ملازم نے ہی بتائی تھیں) اور بیگم صاحبہ کا یہ حال تھا کہ حیرت کے مارے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی کہ اف! کس قدر پہنچے ہوئے ہیں، یہ حضرت!! اور مارے عقیدت کے فوراً اپنا سر شاہ صاحب کے قدموں پر رکھ دیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔ اپنے آنسوؤں سے شاہ صاحب کے پیر دھونے لگیں۔ بڑی مشکل سے شاہ صاحب نے ان کو اٹھایا۔ بیگم قیصر جہاں نے سارے حالات بیان کیے تو شاہ صاحب پھر مراقبے میں غرق ہوگئے اور ۱۰ منٹ بعد آنکھیں کھولیں اور ناامیدی اور مایوسی سے فرمایاکہ آپ نے بڑی دیر کردی ہے۔ آپ کی بچی پر ’’شاہ جنات کا سایہ‘‘ ہوگیا ہے اور وہ بہت دنوں سے اس پر قابض ہے اس کو چھڑانا بڑی جان جوکھم کا کام ہے۔ بیگم صاحبہ گڑگڑا اٹھیں کہ حضرت! آپ کے بس میں سب کچھ ہے آپ سب کچھ جانتے ہیں آپ کچھ بھی کیجیے اور میری بیٹی کو بچا لیجیے میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی اور روپے پیسے کی فکر مت کیجیے جتنا بھی ہوگا سب میں دوں گی۔

شاہ صاحب کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ دوڑ گئی اور بولے آپ کو پتا ہے کہ میں روپے کی طرف دیکھتا بھی نہیں اور یہ بات درست بھی تھی۔ شاہ صاحب ایک بھی روپیہ خود نہیں لیتے تھے البتہ ان کے ’چیلے چپاڑے‘ بڑی باریک چالوں سے اور نفسیاتی حربوں سے لوگوں کی جیب سے ایسے پیسہ نکلواتے تھے کہ لوگوں کو احساس بھی نہیں ہوتا تھا کہ شاہ صاحب نے روپیہ لیا ہے۔ بیگم صاحبہ نے گڑگڑا کر کہا کہ غلطی ہوگئی معاف کردیں اور اللہ کے نیک بندے تو ایسے ہی ہوتے ہیں جو انسانوں کی ’بے لوث خدمت‘ کرتے ہیں۔ آپ بے سہارا کی مدد کیجیے۔ بیگم صاحبہ شدت جذبات سے بلک بلک کر رو پڑیں۔ شاہ صاحب نے کہا اچھا بی بی! ذرا اپنا ہاتھ تو دکھانا اور بڑی بے نیازی کے ساتھ اپنا ہاتھ ماہ رخ کی طرف بڑھا دیا۔ ماہ رخ نے شرماتے ہوئے اپنا ہاتھ شاہ صاحب کی مضبوط گرفت میں دے دیا۔ ہاتھ تھا یا آگ کا انگارہ اور اس کے ساتھ ہی شاہ صاحب کا دماغ آگ سے جل اٹھا اور ان کے سفلی جذبات میں آگ لگ گئی۔ ماہ رخ کے ہاتھ نے انہیں ایک سکینڈ میں ہی بتا دیا تھا کہ اصلی بیماری کیا ہے مگر انھوں نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھا۔ اس دوران ایک بار بھی انھوں نے ماہ رخ کا چہرا نہیں دیکھا۔ خوب صورت ہاتھ ہی نے بتا دیا تھا کہ برقع کے اندر کیا ہوگا ۔۔۔ وہ اس میدان کے پرانے کھلاڑی تھے، جانتے تھے کہ کہ ذرا سی جلد بازی بنا بنایا کھیل بگاڑ دے گی۔ معصوم اور بھولی بھالی عورتوں کا شکار کرنے میں تو انھیں مہارت حاصل تھی۔ چنانچہ ایک گہری سانس لی اور فرمایا اچھا بی بی ذرا اپنی آنکھ تو دکھانا۔۔۔۔ انھوں نے سپاٹ اور غیر جذباتی لہجے میں کہا۔ اس کے لیے ان کو بہت محنت کرنی پڑ رہی تھی۔ ماہ رخ گھبرا گئی، وہ ایک سیدھی سادھی لڑکی تھی۔ غیر مردوں کے سامنے اس نے آج تک چہرا نہیں کھولا تھا وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ بیگم قیصر جہاں نے کہا بیٹی! سن نہیں رہی ہو حضرت کیا حکم دے رہے ہیں؟ بیگم قیصر جہاں نے بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے بیٹی کو ڈانٹ پلائی۔ ماہ رخ نے گھبرا کر جلدی سے نقاب الٹ دیا اور نگاہیں جھکا لیں۔ شاہ صاحب کی آنکھ کھلی کی کھلی رہ گئی اور وہ مارے حیرت کے گنگ ہوکر رہ گئے۔ سب کچھ ناک نقشہ، رنگ روپ سب ان کی بہن مہ جبیں جیسا تھا جو کہ ان سے آج سے پندرہ سال پہلے بچھڑ گئی تھی۔ جس کے ساتھ اسی کے کلاس میٹ نے پہلے تو پیار کا ناٹک کھیلا اور پھر اس کی عصمت لوٹ لی تھی جس کو ان کی بہن برداشت نہ کرسکی تھی اور اس نے خود کشی کرلی تھی۔ آج وہی ماہ رخ کی شکل میں ان کے سامنے موجود تھی اور ان کو لگا کہ وہ بھی اس لڑکے کا کردار ادا کرنے جا رہے ہیں، جس نے ان کی بہن کو ان سے محروم کردیا تھا۔ کیا پھر ایک بار وہی کہانی دہرائی جائے گی؟ اور کیا پھر آج ایک مہ جبیں ہوس کی بھینٹ چڑھ جائے گی؟ ان کے دل میں خیالات کی آندھیاں چلنے لگیں اور آخر کار باطل کو شکست ہوئی، شیطان ہار گیا۔ اور شاہ صاحب زور سے چیخ پڑے نہیں ۔۔۔۔ بیگم قیصر جہاں اور ماہ رخ ڈر کے مارے اچھل پڑیں اور بیگم قیصر جہاں کانپتے ہوئے پوچھنے لگیں کیا ہوا حضرت؟

ہاں کیا!! شاہ صاحب جیسے ہوش میں آگئے اور کہا کچھ نہیں بی بی سب ٹھیک ہے۔ اور انھوں نے ایک لمبی ٹھنڈی سانس لی اور ماہ رخ سے کہا کہ تم ذرا باہر جاؤ اور پھر انھوں نے بیگم قیصر جہاں سے کہا کہ میں نے آپ سے جھوٹ بولا کہ بچی پر ’شاہ جنات کا سایہ‘ ہے۔ آپ کی بچی کی صحت غیر معمولی طور پر اچھی ہے اور اس کی اب تک شادی ہو جانی چاہیے تھی۔ آپ جلد سے جلد شادی کرادیجیے سارے دورے خود بخود ٹھیک ہوجائیں گے۔ اور کہا کہ میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھئے گا کہ کبھی کسی شاہ یا عامل کے پاس نہ جائیے اور نہ ہی اپنی بچی کو لے جائیے گا، ورنہ پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ یہ دنیا بہت ہوس پرست شکاریوں سے بھری پڑی ہے جن کا کام آپ کی طرح معصوم عورتوں اور لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانا ہوتا ہے اور پھر وہ عورتیں اور لڑکیاں مال و عزت دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ دنیا اور آخرت دونوں سے جاتی ہیں۔ میری بہن آپ کی بیٹی سے مشابہ ہے تو مجھے احساس ہوگیا کیوں کہ اس کو بھی ایک انسان نما بھیڑیے نے برباد کر دیا تھا اور کسی بھی مرد کے ’پرنور چہرے‘ اور ’پرتقدس حلیہ‘ سے دھوکا نہ کھانا۔ مرد بہرحال مرد ہوتا ہے، چاہے جو ان ہو یا بوڑھا۔ اور جو عامل اور شاہ نامحرم عورتوں، لڑکیوں کو بے پردہ اور تنہائی میں دیکھنے کا خواہش مند ہو وہ کیسے نیک اور پاکباز ہوسکتا ہے؟ اور نہ ہی اس کی نیت درست ہوسکتی ہے۔ آپ نے غلطی کی جو میرے پاس چلی آئیں، اب آپ جائیے اور میری باتوں کو یاد رکھیے۔ یہ کہتے ہوئے عامل بابا باہر نکل گئے اور بیگم قیصر جہاں جو خوف اور شکوک و شبہات سے کانپ رہی تھیں اپنی بیٹی ماہ رخ کو ساتھ لیے واپس گھر آگئیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ بیٹی کی عزت بچ گئی اور اللہ تعالیٰ نے میری لاج رکھ لی۔

مگر ضروری نہیں ہے کہ ہر بار عزت محفوظ رہ جائے اور شیطان کا حملہ ناکام ہوجائے اس لیے اس سے سبق لے کر ان تمام جگہوں پر جانے سے اجتناب کرنا ہوگا۔ اور یہ جائز بھی نہیں ہے۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ سئل النبی عن النشرۃ فقال! ھو من عمل الشیطان (ابوداؤد) آپؐ سے نشرۃ (یعنی جادو کا علاج جادو کے ذریعے کرنا) کے متعلق پوچھا گیا تو آپﷺ نے فرمایا یہ شیطانی کام ہے۔ البتہ مسنون دعاؤں، اذکار و وظائف اور شرعی دم کے ذریعے ضرورت پڑنے پر علاج کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک ان دوروں کی بات ہے تو یہ دورے (یہ ایک بیماری ہے، جس کو اختناق الرحم کہا جاتا ہے) عموماً نازک مزاج اور مقوی، مرغ مسلم، روغن والی غذائیں کھانے اور ورزش، بھاگ دوڑ نہ کرنے والی غیر شادی شدہ لڑکیوں کو پڑتے ہیں جس میں مریضہ بے قابو ہوجاتی ہے اور اول فول بکنے لگتی ہے جس سے جاہل عوام یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ جن کا سایہ ہے اور پھر عامل، پیر، شاہ صاحب اور مزاروں کے چکر لگنے شروع ہوجاتے ہیں، جس میں مال کی بربادی تو ہوتی ہی ہے عصمت و عفت کے بھی لالے پڑجاتے ہیں۔ جب کہ عموماً اس کا آسان علاج شادی ہے۔ll

شیئر کیجیے
Default image
اسامہ شعیب علیگ

Leave a Reply