بیٹی

دسمبر کی چھٹیوں میں گاؤں جانا ہر سال فیصل اور بشارت کے لیے خوشی اور مسرت کا باعث تھا۔ اب کی بار بھی دادا جان اور دادی جان نے انہیں ہفتہ بھر پہلے ہی تیاری کرنے کے لیے کہہ دیا تھا۔ دونوں بھائیوں نے اپنا جیب خرچ جمع کرنا شروع کردیا تھا کیوں کہ جانے سے پہلے وہ رنگا رنگ ٹافیاں، چاکلیٹ، بسکٹ، نمکین خرید کر بھر لیتے تھے۔ امی بھی انہیں زائد پیسے دے دیتیں تاکہ وہ مزید چیزیں خرید سکیں۔ گاؤں میں جاکر کسانوں کے بچوں میں وہ یہ رنگا رنگ اشیاء بانٹتے تو ایک انوکھی خوشی دل کو سکون بخشتی تھی۔ ننھے بچوںکو ٹافیاں وغیرہ ملتیں تو ان کی آنکھیں چمکنے لگتیں۔ اگرچہ گاؤں کی ایک دو دکانوں پر اشیاء موجود تھیں لیکن سستی اور غیر معیاری اشیاء جو ہوتی تھیں۔

دونوں بھائیوں کی تیاری مکمل تھی۔

دادی جان نے اپنا اور دادا جان کا مشترکہ بیگ تیار کرلیا تھا۔ اتوار کی صبح گرما گرم ناشتے کے بعد چھوٹا سا قافلہ گاؤں جانے کے لیے تیار تھا۔ چھوٹی یمنیٰ منہ بسورے کھڑی تھی، بھائیوں کے جانے کی اداسی بھی تھی اور امی ابو کے بغیر رہنا بھی مشکل تھا۔ کچھ سال پہلے تک گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں میں سارے گھر والے ہی گاؤں چلے جاتے تھے۔ چچا جان کے گھر بڑی حویلی میں رہنا ان کے لیے بڑے مزے کی بات تھی۔ بڑے سارے صحن میں بھاگنا دوڑنا، کھیتوں میں جانا، بکریوں کو چارہ ڈالنا اور ان کے چھوٹے میمنوں کے ساتھ لاڈ کرنا، اب خواب لگتا تھا۔ وجہ شہروں میں روز بروز کی چوریاں تھیں۔ اب تو دن کے وقت بھی گھر چھوڑنا محال تھا، کجا کہ رات کو گھر خالی ہو۔ اس لیے اب دادا جان بچوں کو ساتھ لے جاتے اور زمینوں کے معاملات کی دیکھ بھال کر آتے۔ چچا جان کے تینوں بیٹوں احمد، علی، عمر اور بیٹی اسوہ بے تابی سے اُن کے منتظر ہوتے تھے۔ دادی جان نے رخصت ہوتے وقت فاطمہ اور یمنیٰ کو گلے لگا کر پیار کیا۔ امی جان ابو جان، فاطمہ آپی اور یمنیٰ سب انہیں دروازے پر رخصت کرنے کے لیے کھڑے تھے۔

’’اللہ حافظ، فی امان اللہ‘‘ امو، ابو آپی سب نے کہا۔‘‘

’’بھیا! باہر جانے والی دعا تو پڑھ لو‘‘ یمنیٰ نے آواز دی۔ اُسے یہ خیال تھا کہ شاید وہ دعا پڑھنا بھول گئے ہیں۔ کیوں کہ وہ جب بھی گھر سے باہر نکلتی تھی بہ آواز بلند دعا پڑھتی اور بایاں پاؤں پہلے باہر نکالتی۔

’’بسم اللہ توکلت علی اللہ۔ لاحول ولاقوۃ الا باللہ‘‘

’’شاباش میری بچی۔ یہ نالائق اونچی آواز میں نہیں پڑھتے ہمیشہ یمنیٰ ہی انہیں یاد کرواتی ہے۔‘‘ ابا جان نے فیصل کا کان کھینچا اور یمنیٰ نے بھائیوں کو دیکھ کر زبان باہر نکالی۔ وہ اپنی تعریف پر خوش ہوگئی تھی۔

ابا جان انہیں کوچ میں سوار کرا کے واپس چلے آئے۔ ویگن کے شیشے کے ساتھ سفر کی دعا جھولتی دیکھ کر دونوں بھائیوں نے جلدی سے دعا پڑھ لی۔

سبحان الذی سخرلنا ھٰذا وما کنا لہ مقرنین، و انا الیٰ ربنا لمنقلبون۔

باہر کے نظاروں میں مگن فیصل اور بشارت کو راستہ کٹنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ چچا جان انہیں لینے آئے تھے۔ دونوں نے دوڑ کر جھپی ڈالی اور زوردار سلام کیا۔ چچا جان دادا جی سے گلے ملے اور دادی امی سے بھی پیار لیا۔

ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتے حویلی آپہنچے۔ احمد، علی، عمر اور اسوہ صدر دروازے پر ان کے منتظر تھے۔ انھوں نے پہلے دایاں پاؤں اندر رکھا۔

السلام علیکم کے بعد ایک بار درود شریف اور ایک بار سورۂ اخلاص پڑھی۔ دادا جان کہتے تھے کہ اس طرح رزق میں بہت برکت ہوتی ہے۔ چچی جان بہت پیار اور خلوص سے ملیں۔ انھوں نے زبردست اور خوشبودار پلاؤ بنایا تھا۔ دادا جان کے لیے دیسی مرغ کا شوربہ تھا۔ میٹھے میں مزیدار باریک چاولوں جیسی میدے کی سوئیاں تھیں۔ جو گاؤں کی عورتیں انگلی اور انگوٹھے کے پوروں سے مسل کر باریک سوئیاں بناتی ہیں۔ بہرحال کھانے کا لطف آگیا۔ چھاچ کی لسّی، دوپہر کو نمکین اور صبح کو میٹھی ہمیشہ سے بچوں کو پسند تھی۔ وہ تو اپنے دوستوں پر حیران ہوتے تھے جو کہتے ’’ہمیں دودھ پسند نہیں۔‘‘

’’میں دہی نہیں کھاتی۔‘‘

وہ حیران ہوتے اور دل میں استغفر اللہ پڑھتے کہ بچے کیسے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔

مکئی کی روٹی، مکھن کے ساتھ ساگ، ساتھ میں لسّی اس سے بڑھ کر کیا نعمت ہوگی۔ دادا جان نے انہیں بتایا تھا کہ آں حضورؐ نے کبھی کسی کھانے کی چیز کو برا نہیں کہا۔ تو وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کیسے کرسکتے تھے؟

کھانے سے فراغت پاتے ہی چچا جان کی اجازت سے وہ سب کھیتوں کی طرف نکل آئے۔ کپاس چننے کا عمل اختتام پر تھا۔ کپاس چننے کے ساتھ ہی عورتیں کپاس کے ٹینڈے بھی توڑ کر بوروں میں ڈال لیتی تھیں۔ ان ٹینڈوں سے پھر ہر گھر کا صحن اور چھت بھر جاتے۔ دھوپ میں جو ٹینڈے کھلتے انہیں اکٹھا کر کے ان کی کپاس نکال لی جاتی تھی۔ احمد وغیرہ کے پاس انہیں دکھانے کو بہت کچھ تھا۔ گائے کا بچھڑا، بکریوں کے میمنے،بطخوں کے سفید رنگ کے بچے، جو جانوروں کے نہانے والے ٹوبے میں مزے سے تیرتے تھے۔ فیصل اور بشارت اپنا شاپر ساتھ لے آئے تھے۔ کپاس چنتی عورتوں اور بچوں میں انہوں نے ٹافیاں بانٹیں۔ بچوں کی خوشی ان کے لبوں، آنکھوں اور ہر حرکت سے عیاں تھی۔ دادی جی کہتی تھیں کہ ’’جب آپ اپنے ہاتھ سے دوسرے کو چیز دیتے ہیں تو آپ کا دل بڑا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کو مزید اشیا سے نوازتا ہے کیوں کہ جتنے حق دار ہوں گے اتنی ہی چیز میں برکت زیادہ ہوگی۔‘‘

رات کو صحن کے ایک طرف بڑے سے کھلے باورچی خانے میں جسے ’’چھپرے‘‘ کا نام دیا جاتا تھا چچی جان لکڑیاں جلا کر کھانا پکا رہی تھیں اور کھاتے ہوئے دادا جان اور چچا جان آپس میں باتیں بھی کرتے جا رہے تھے۔

آگ سینکتے ہوئے اچانک ہی غیر معمولی شور سنائی دیا۔ سب نے خاموش ہوکر کان لگائے۔ گلی کے کسی گھر سے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ چچی جان فوراً چادر لے کر جانے کو تیار ہوئیں۔

کسی انہونی کے خدشے سے بچے بھی چپ ہوگئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد چچی جان استغفر اللہ پڑھتی ہوئی واپس آئیں اور بتایا کہ ’’خیر دین کمہار کے گھر تیسری پوتی پیدا ہوئی، جس کے غم میں دادی اور پھوپھیاں رو رو کے بچی کی ماں کو کوسنے دے رہی ہیں۔

’’لاحول ولاقوۃ الا باللہ‘‘ اس بچاری کا کیا قصور۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے کام ہیں کہ بیٹا دے یا بیٹی۔‘‘ دادی جان بولیں۔

’’اماں جی! ابھی جہالت ختم نہیں ہوئی ہماری۔‘‘ چچا جان کو بھی دکھ ہوا۔ بہو ایک برتن میں دودھ، دیسی گھی اور کچھ دوسری اشیاء ڈال دو۔ میں ابھی ان کے گھر سے ہوکر آتا ہوں۔ فیصل آپ یہ ساری چیزیں ساتھ لے کر چلو۔‘‘ دادا جان نے کہا۔

’’جی اچھا‘‘ چچی جان نے منٹوں میں سامان تیار کیا اور فیصل دادا جی کے ساتھ خیر دین کے گھر پہنچ گیا۔

دادا جان کی دستک کے جواب میں خیر دین نے ہی دروازہ کھولا۔

’’خیر دین گھر آنے کی اجازت ہے کیا؟‘‘ دادا جان نے پوچھا۔

’’آپ کا اپنا گھر ہے اجازت کی کیا ضرورت ہے۔ آئیے آئیے اری او بشیراں ادھر آؤ چار پائی بچھاؤ۔‘‘ خیر دین چہرے سے پریشان لگ رہا تھا لیکن انداز سے ظاہر نہ ہونے دیا۔

’’خیر دین مبارک ہو ’’رحمت‘‘ تمہارے گھر آئی ہے۔‘‘

’’بچیوں کی مبارک باد کون دیتا ہے بھلا۔ پرایا دھن، خرچہ ہی خرچہ، بیٹا ہو تو بڑھاپے کا سہارا ہی بنے گا۔ کما کر لائے گا۔ اتنی مہنگائی میں تین بیٹیاں پالنا اور بیاہنا کوئی مذاق تھوڑا ہی ہے جی۔‘‘

’’خیر دین یہ بات اب پرانی ہوگئی ہے کہ بیٹا ہی کما کے کھلائے گا اور بیٹی خرچہ کروائے گی۔ آوارہ اور نکھٹو لڑکے، اور پڑھی لکھی سگھڑ بیٹیاں۔ اپنے گاؤں میں ہی کئی مثالیں مل جائیں گی تمہیں۔ اب کیا نام گنواؤں تمہیں؟‘‘

’’نہ جی لیکن پریشانی تو دل کو لگتی ہے ناجی۔‘‘ بشیر ابی بی جھجک کر بولی۔ دادا جی کا رعب دبدبہ ہی گاؤں پر ایسا تھا کہ ان کی بات کوئی رد نہ کرسکتا۔

دوسرے وہ ہر کسی کی غمی خوشی میں شریک، دکھ درد بانٹ لیتے تھے۔ ان کے شہر میں ہونے پر یہ فرائض چچا جان سر انجام دیتے تھے۔

’’پریشانی کس بات کی۔ ان کو رزق تم دوگے کیا؟ جس باری تعالیٰ نے انہیں دنیا میں بھیجا ہے ان کا رزق بھی ساتھ ہی بھیج دیا ہے۔ اس نے تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا ہے ان کا۔

اللہ تعالیٰ نے بیٹیوں کو رحمت قرار دیا ہے۔ ارشاد نبویؐ ہے۔ ’’جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاں فرشتے بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں۔ ’’اے گھر والو! تم پر سلامتی ہو‘‘ وہ لڑکی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’یہ کمزو رجان ہے۔ جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے، جو اس بچی کی نگرانی اور پرورش کرے گا۔ قیامت تک اللہ کی مدد اس کے شامل حال رہے گی۔‘‘

میرے آقا مولاؐ نے مزید فرمایا:

جس نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی وہ اور میں قیامت کے روز اس طرح اکٹھے آئیں گے اور آپؐ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔ قیامت کے دن آں حضورؐ کا ساتھ نصیب ہوجائے، سبحان اللہ اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی ہمارے لیے۔

ایک اور حدیث سنو۔

آں حضورﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان سے حسن سلوک کرے تو وہ یقینا جنت میں داخل ہوگا۔‘‘

ایک اور حدیث شریف میں فرمایا۔

’’جس شخص کے لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے اور نہ اس کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرے اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔‘‘

تم لوگوں کے پاس تو جنت میں داخلے کی یقینی سند آگئی ہے۔ ارے کملے ان کی اچھی طرح پرورش کرو۔ پڑھاؤ اچھی تربیت کر کے بیاہ دو۔ یہی کام خوش دلی سے کروگے تو جنت اور ناگواری سے کروگے تو دوزخ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

یہ مہنگا سودا نہیں ہے۔ رزق تو رب تعالیٰ ہی دیتا ہے نا۔

یہ ننھی تتلیاں ہیں، کلیاں ہیں، خوشبو لٹاتی اڑتی ہنستی دلوں کی ڈھنڈک بن کر ماں باپ کی خدمت کرتی ہیں۔ بیٹیاں ہی والدین کی پریشانی میں تڑپتی ہیں، لڑکے تو لاپرواہ ہوتے ہیں۔ بدلے میں کچھ نہیں چاہتیں۔ دعائیں بھی اپنے بھائیوں، ویروں کو ہی دیتی ہیں۔

یہ میں کچھ چیزیں لایا ہوں اور یہ تین ہزار بھی رکھو۔ ارے سوچو ہمارے آقا مولاؐ کی بھی بیٹیاں تھیں۔ تو ہم گناہ گار خطاکار اگر بیٹیوں کے باپ بنیں تو پیارے نبیؐ سے یہی نسبت شاید ہم کو بخشوالے۔ سوچو ذرا خیر دین یہ سعادت کم تو نہیں ہے۔ دادا جی کی آواز بھرا گئی۔ خیر دین نے صافے کا پلومنہ پر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔

’میاں جی میں عورتوں کی باتوں میں آگیا‘ یہ عورتیں ہماری بھی عقل مار دیتی ہیں۔ میں نبیؐ کے صدقے اور قربان۔ میں تو ان کے عاشقوں کے قدموں کی دھول مٹی بھی نہیں۔ میاں جی! آپ نے میری آنکھیں کھول دی ہیں۔ اب کبھی آپ کو شکایت نہیں ہوگی۔ ان بچیوں کے صدقے میری نسبت شہنشاہ دو جہاں ؐ سے جاملے۔ مجھے خیر دین کمہار مٹی کے برتن بنانے والے کو، مٹی میں رہنے والے کو مٹی مٹی شخص کو اور کیا چاہیے اور کچھ نہیں چاہیے۔‘‘

وہ آنکھیں بار بار پونچھ رہا تھا۔

اور آنکھیں تو فیصل کی بھی جانے کیوں بھر آ رہی تھیں۔

’’ابا جی! ابا جی!‘‘ خالد، بابا خیر دین کا دوسرے نمبر والا بیٹا خوشی سے پکارتا اندر داخل ہوا۔

’’السلام وعلیکم میاں جی‘‘ اس نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھائے۔

’’وعلیکم السلام بڑے خوش ہو برخوردار کیا بات ہے؟‘‘ دادا جی نے استفسار کیا۔

’’میاں جی ایف اے پاس کرنے کے بعد نوکری کی بڑی کوشش کی لیکن نہیں ملی۔ پھر ابا کے ساتھ برتن بنانے لگا۔ لیکن پڑھا لکھا ہونے کی وجہ سے نئے نئے ڈیزائن کی چیزیں بنائیں۔ شہر میں مینا بازار میں ادھار پیسے پکڑ کر ٹھیکر بھر کے اسٹال لگایا۔ میری بنائی اشیاء اور ڈیزائن اتنے پسند آئے کہ ہاتھوں ہاتھ بک گئے اور آج ایک بہت بڑا آرڈر ملا ہے کہ ہماری بنائی اشیاء حکومت باہر کے ملکوں کی نمائش میں بھیجے گی۔ میاں جی! اب سارے مسئلے حل ہوجائیں گے ان شاء اللہ۔ اور پارٹی نے وعدہ کیا ہے کہ کام مستقل ملے گا۔ رُکے گا نہیں، ان شاء اللہ۔ آپ دعا کیجیے گا میاں جی۔‘‘

خوشی خالد سے سنبھالے نہ سنبھل رہی تھی۔

’’ضرور کیوں نہیں بیٹا اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے حصے کا رزق دیتا ہے۔ کب؟ کیسے؟ یہ وہی جانتا ہے۔ll

شیئر کیجیے
Default image
نفیسہ بیگم

Leave a Reply