داستان میری اپنی خود کشی کی

میرے سامنے میرا روح سے خالی جسم اور وہ قفس رکھا ہے، جس میں، میں پچھلے ۲۶ سال سے قید تھی، بڑی مدت میں یہ قفس ٹوٹا۔۔۔۔ ٹوٹا یا توڑا گیا! اس قفس سے آزادی اتنی آسان نہیں تھی، ہر ذی روح کی طرح مجھے بھی اس قفس سے بڑی محبت تھی۔

ہمیں خبر ہے تمام دکھ ہے

یہ آس دکھ ہے، نراس دکھ ہے

اداسیوں کا لباس دکھ ہے

یہ تشنگی جو عذاب بن کر ٹھہر گئی ہے

بدن کے بوسیدہ ساحلوں پر

تو اس کا عہد و دوام دکھ ہے

اور پھراسی وحشت نما فضا میں

خموش رہنا بھی اک سزا ہے

مگر کسی سے کلام دکھ ہے

لوگ سمجھ رہے ہیں آج مہر کا جنازہ اٹھنے والا ہے۔ لیکن یہاں سے میرا جنازہ ہی نہیں بلکہ میری آرزوؤں، تمناؤں اور خوابوں کا بھی جنازہ اٹھے گا یہی نہیں اس کے ساتھ ساتھ میری ماں کی حسرتوں اور باپ کی امیدوں کا جنازہ بھی اٹھ رہا ہے، لیکن ۔۔۔۔ کوئی چشم بینا ہو؟ جو اسے دیکھ اور ۔۔۔۔ اور سمجھ سکے۔ سب کہتے ہیں کہ میں نے خود کشی کی ہے، کوئی کہتا ہے یہ مذہب سے دوری کا نتیجہ ہے کہ انسان خود کشی جیسے حرام فعل کی جانب قدم بڑھا دے۔ ان مذہب کے دعوے داروں سے پوچھو کہ یہ لوگ اس وقت کہاں تھے جب لوگ میری شخصیت کو نشانہ بناتے تھے، اللہ کے تخلیق کردہ جسم میں نقائص کی نشان دہی کر رہے تھے۔ اور میں لمحہ لمحہ قتل ہوتی اور زندہ ہوتی تھی۔ کتنا گھناؤنا جرم ہے ناقتل!! خودکشی سے بھی سنگین اور گھناؤنا!! مگر یہ بار بار دہرایا جاتا رہا۔ یہاں تک میں اس مرنے اور دوبارہ زندہ ہونے سے عاجز آگئی اور ۔۔۔۔

میرے مظلوم و معصوم ماں باپ۔۔۔۔ جنھوں نے میری پیدائش پر رب کا شکر ادا کیا تھا کہ اس نے اپنی رحمت سے انھیں نواز کر جنت تک پہنچنے کا ذریعہ بھیج دیا تھا ان کے پاس، اور پھر بڑے شوق سے میرا نام مہر رکھا، نہ جانے کیا سوچ کر ۔۔۔۔۔ لیکن شاید وہ بے خبر تھے کہ اس مہر کی تقدیر کی سیاہی ان کی آنکھوں کی روشنی چھین لے گی۔

انھوں نے مجھے بڑی محنت و مشقت سے دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ کیا۔ میری بہترین تعلیم و تربیت کی، اور جب میں عمر کے اس دور میں پہنچی جہاں لڑکیاں خوابوں کی دہلیز پر بیٹھتی ہیں اور ماں باپ کی نیندیں غائب ہوجاتی ہیں، اس وقت بھی میرے ماں باپ مطمئن تھے، انھیں میرے بہتر مستقبل کا یقین تھا۔

لیکن یہ ’’بے چارے‘‘ ماں باپ ۔۔۔ دنیا کے تقاضوں کو بھول جاتے ہیں اور اپنی نظروں سے ہی اپنی اولاد کو دیکھتے ہیں: اگر وہ دوسروں کی نظروں سے ہم بیٹیوں کو دیکھیں تو شاید انھیں احساس ہو کہ ہم میں کتنی خامیاں ہیں، اور بس یہی غلطی میرے ماں باپ سے بھی ہوئی۔۔۔ وہ بھول گئے کہ میرا گندمی رنگ میری خوبی نہیں میری سب سے بڑی خامی ہے، میری چال ٹھیک نہیں، انگلیاں چھوٹی ہیں، ہونٹ معمول سے زیادہ موٹے ہیں۔

آہ ۔۔۔۔۔ مجھے یوں محسو س ہونے لگا تھا جیسے میں ایک ناکارہ چیز ہوں جسے دکاندار نے از راہِ مذاق دکان کے باہر رکھ دیا ہو اور ساتھ میں لکھا ہو ’’بوجھو خامی ہے کہاں؟‘‘ اور ہر کوئی اپنی ذہنیت کے مطابق مجھ پر تنقید کر رہا ہے، ان سب کی سوچ ایک جگہ آکر منجمد ہوجاتی ہے اور وہ ہے ’جہیز‘ ۔۔۔۔۔ تب میں نے جانا کہ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں، میری شخصیت بالکل صفر ہے، میری اعلیٰ تعلیم، ڈگری میرے کچھ کام کی نہیں، میرا سلیقہ اور ماں باپ کی شرافت بھی قابل توجہ نہیں، ہاں قابل توجہ ہے تو صرف اور صرف مال ودولت، جس کے نہ ہونے کی صورت میں میری خوبیاں بھی خامیاں بن گئی ہیں۔ اور ایسی خامیاں بھی مجھ سے جوڑ دی گئی ہیں جو مجھ میں ہیں ہی نہیں۔

پھر وہ دن بھی آیا جب میں نے اپنی ماں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور باپ کے لہجے میں موجود کھنک کو محسوس کیا۔ معلوم ہوا کہ اک شریف اور باعزت خاندان کے لیے میں قابل قبول ہستی قرار دے دی گئی۔ ان لوگوں کو جہیز کا کوئی لالچ نہ تھا۔۔۔ لیکن انہی خوشی کے پلوں میں وہ قاتل لمحے بھی آئے جب معلوم ہوا کہ ان کا مطالبہ صرف اتنا ہی ہے کہ شادی بیاہ کی رسومات میں کہیں کمی نہ رہے، شادی سے قبل کی تمام رسومات کو بہترین طریقے سے انجام دیا جائے، آخر کو نہایت شریف اور باعزت گھرانہ تھا!۔۔۔۔ ہوں، یہ نام نہاد شرفاء! اور اس دن پہلی بار میں نے اپنے جان سے عزیز باپ کو آنسو بہاتے دیکھا، پیاری ماں کی دبی دبی سسکیاں سنیں۔ تب بابا نے ماں سے کہا تھا ’’کاش ہم نے مہر کو اتنا پڑھایا نہ ہوتا، اتنا ہی پیسہ جمع کر رکھتے تو آج ہماری بیٹی کی تقدیر کچھ اور ہی ہوتی۔۔۔‘‘

میری ہر خوبی میری خامی بنتی گئی، آنکھوں میں جو خواب تھے، جو آرزوئیں دل میں ڈیرا جمائے تھیں وہ ٹھٹھر کر رہ گئیں، لیکن پھر بھی میں نے امید کے جگنو اپنی مٹھی میں قید رکھے۔

لیکن اس دن میری ہر آرزو، ہر خواب اور ہر تمنا اپنی موت مر گئی، میں نے امیدوں کے جگنوؤں کو آزاد کر دیا اور میرا دل ویران ہوگیا جب بوا میرے لیے ایک ایسے شخص کا رشتہ لائی، جو عمر کی ۴۵ بہاریں دیکھ چکا تھا، اس کی بیوی کا انتقال ہوگیا تھا، وہ نہایت سادگی سے نکاح کا خواہش مند تھا ۔۔۔ بابا نے بوا کے جاتے ہی سر تھام لیا، ماں دل پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئی کہ کیا ان کی بیٹی کی یہی قدر ہے؟ کیا غریب ہونا سچ میں اتنا بڑا جرم ہے؟ ہم مڈل کلاس لوگ کیا اپنی بیٹیوں کو یوں ہی رخصت کریں گے؟

پھر میں نے بابا کی آنکھوں کی روشنیوں کو بجھتے دیکھا، ماں کے جھریوں زدہ چہرے پر زندگی کی رمق کو دھیما پڑتے دیکھا، ان کے خوابوں کو ٹوٹتے اور آرزوؤں کے چراغ کی لو بھڑکتے دیکھا، تب میں نے یہ فیصلہ کیا ۔۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ خود کشی حرام ہے، لیکن کوئی مجھے بتائے کہ ایک بیٹی کس طرح اپنے باپ کو کرب کے لمحات میں ہر پل گھٹتے دیکھ سکتی ہے؟ جنم دینے والی ماں کو ہر وقت غم کی چادر میں لپٹے اور آنسو سے نہاتے کیسے دیکھ سکتی ہے؟ اس سے بہتر تو یہ ہے کہ میں خود کو ہی آزمائش میں ڈال دوں۔

میری آرزوؤں اور تمناؤں کے خاتمے اور اپنی حسرتوں اور امیدوں کے جنازے پر میرے جسم کے روح سے خالی ہونے پر وہ ایک ہی بار کرب سے گزرے، شاید شدید ترین کرب سے۔۔۔ لیکن تجھے یقین ہے کہ وقت ایک اکسیری مرہم ہے، جو خادثوں سے ملے زخموں کو خود ہی بھر دیتا ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ اگر میں زندہ رہتی تو وہ ہر پل، ہر لمحہ ایک عذاب میں مبتلا رہتے، جوان بیٹی کی فکر ان کا سکون چھین لے جاتی تھی اور جہیز کی فہرست و دیگر مطالبات انھیں جاں کنی میں مبتلا کردیتے تھے۔ پہلے بیٹی پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دی جاتی تھی، اور آج بھی بیٹی زندہ درگور ہو رہی ہیں، فرق اتنا ہے کہ پہلے باپ خود یہ کام کرتا تھا، اور آج یہ ہوس زدہ، خواہشوں کا غلام سماج کر رہا ہے۔

میںاِس جہاں سے رخصت ہو رہی ہوں ۔۔۔۔۔ لیکن جانے سے پہلے یہ بات ضرور کہوں گی کہ آج ایک مہر نے ایک انتہائی قدم اٹھایا ہے جو کہ حرام کے زمرے میں آتا ہے، لیکن اب بھی ان کے حرص و لالچ کی طرف بڑھتے قدم نہیں رُکے تو انہی کی آنے والی نسلوں میں بے شمار مہر ہوں گی، مکافاتِ عمل ایک اٹل حقیقت ہے۔

اپنے بڑھتے قدم روک لو، بے شمار مہر ایسی ہیں، جن کی آنکھوں کی روشنیاں اب بجھنے لگی ہیں، ان کے خواب ٹوٹنے لگے ہیں، اٹھو اور انھیں گلے لگالو، ان کی آنکھوں میں پھر سے خواب سجا دو، انھیں ان کی شخصیت کا مان دو، ان کو دولت اور جہیز میں مت تولو۔

انقلابِ جہاں تمہاری راہ تک رہا ہے، تم خیر امت ہو، اگر بگاڑ تم میں پید اہوا ہے تو تم ہی اُسے درست کرو اور پھر اس خیر سگالی کے مشن کو دوسروں تک پہنچاؤ اور ۔۔۔۔ میرے لیے دعا کرو!ll

شیئر کیجیے
Default image
شیخ سمیہ تحریم

Leave a Reply