میں کھو گئی تھی

سفر پر روانہ ہونے والے تمام لوگوں کی طرح مجھے بھی اپنا اٹیچی کیس تیار کرنا تھا۔ چھوٹی بڑی تمام ضروری اور غیر ضروری چیزیں ڈھونڈ ڈھانڈ کر اس میں ٹھونسنا تھیں، چناں چہ میں نے کپڑوں والی الماری کھولی۔ کتابیں اُلٹ پلٹ کیں۔ وہ تمام چیزیں اکٹھی کیں جو پہلے بکھری ہوئی تھیں، مگر کچھ ہی دیر بعد میں نے پھر سب کچھ بکھیر کر رکھ دیا۔ ساری چیزیں اب ادھر ادھر منتشر پڑی تھیں اور مجھے اُنھیں اس طرح بے ترتیب دیکھ کر خوشی محسوس ہو رہی تھی۔ گویا میں انہیں اکٹھا کرنے اور اپنے ساتھ لے جانے کی کوئی خواہش نہیں رکھتی تھیں، بالکل نہیں۔

’’آخر انسان اٹیچی کیس کے ساتھ ہی سفر کیوں کرے؟ کیوں، کس لیے؟‘‘ یہ سوچتے ہوئے میں نے اٹیچی کیس کے بغیر ہی سفر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

پیرس میں جب ہم اپنے ہوٹل پہنچے تو برآمدے میں رکھے انبار میں سے لوگ اپنے اپنے اٹیچی کیس نکال کر سنبھالنے لگے۔ وہ انہیں صحیح سالم پاکر اطمینان محسوس کر رہے تھے۔ میں چپ چاپ ایک طرف کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی۔ میری چھوٹی بہن مجھ سے پوچھنے لگی: ’’تمہارا اٹیچی کیس کہاں ہے؟‘‘

میں نے سر کو نفی میں جنبش دی۔ ساری نگاہیں حیرت سے میرا محاصرہ کرنے لگیں۔ پھر ایک درشت آواز نے مجھے مخاطب کیا۔ یہ آواز میرے ابو کی تھی: ’’کہاں ہے تمہارا اٹیچی؟‘‘

میں نے خاموشی سے اپنا سر جھکا لیا اور سہم گئی۔ خدا کی پناہ! کیا مجھ جیسا کوئی شخص سہم بھی سکتا ہے؟ مگر میں اس آواز کے لیے شدید احترام رکھتی تھی۔ یہ آواز مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی، اس لیے اب صورتِ حال کی وضاحت کرنا میرا فرض تھا۔

’’دراصل۔۔۔۔‘‘ میں نے بات شروع کی۔

لیکن خوش قسمتی سے ویٹر کی آواز میرے الفاظ پر سبقت لے گئی۔ ’’میرے ساتھ تشریف لائیے، جناب۔‘‘ اس نے کہا۔

میں نے اطمینان کا سانس لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ سب لوگ اندر کی جانب چلے۔ میں سب کے پیچھے پیچھے جا رہی تھی۔ ایک عجیب سی راحت کا احساس مجھے مسرت بخش رہا تھا۔ ایک دوسری ہی قسم کی مسرت۔ اس کا شعور مجھے آج پہلی بار ہوا تھا۔ میں بالکل خالی الذہن تھی۔ کسی قسم کا کوئی احساس میرے ذہن میں کہیں بھی موجود نہیں تھا۔ گویا میں نے ایک بار پھر جنم لیا تھا۔ کاش! میں فی الواقع نئے سرے سے جنم پاسکتی اور اپنا کوئی نیا نام رکھ لیتی۔ کون سا نام؟ ’دانیا؟‘ ’والیا؟‘ دانا، یا’د‘ ۔۔۔ مگر نہیں، ناموں میں کیا رکھا ہے؟ کیا فائدہ ہے ان کا؟ پھر یہ حرف ’د‘ ہر نئے نام کا آغاز ’د‘ ہی سے کیوں؟ ہوسکتا ہے اس حرف کا کوئی خاص ذہنی تعلق میرے لاشعور سے ہو اور یہ ان ناموں کے ساتھ مل کر ابھر آتا ہے جو میرا ذہن میرے لیے تجویز کرتا ہے۔ آخر میں کیوں اپنے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کروں؟ کیوں نہ میں بے نام ہی رہوں؟ میں ایک ایسا فرد کیوں نہیں ہوسکتی جو بغیر نام کے ہو؟ بالکل ایسے ہی جیسے میں بغیر اٹیچی کے ہوں۔

’’کیا تمہیں نیند نہیں آئے گی؟ قریب کے بستر پر لیٹی میری بہن نے سوال کیا۔

’’آجائے گی۔‘‘ میں نے جواب دیا۔

’’آخر تم اپنا اٹیچی کیوں ساتھ نہیں لائیں؟‘‘

’’میرے پاس کوئی اٹیچی نہیں۔‘‘

وہ حیران ہو کر اٹھ بیٹھی اور بولی: ’’ہیں! تمہیں ہوگیا کیا؟‘‘

’’میں گھر ہی سے نہیں لائی تھی۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

میں نے جواب میں صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔ پھر اپنا لباس احتیاط کے ساتھ تہ کر کے قریب پڑے اسٹول پر رکھا اور بستر پر لیٹ گئی۔ میری بہن حیرت سے منہ کھولے بس دیکھتی رہ گئی۔ میں نے کمبل اوپر کرتے ہوئے زیر لب کہا: ’’کل میرا نام بھی کوئی نہیں رہے گا۔‘‘

٭٭

گھڑی صبح کی اولین ساعتوں کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ سورج ابھی تک پردوں میں پوشیدہ تھا۔ میرے انگ انگ میں ایک عجیب سی چستی موجزن تھی۔ میں کھڑکی کی طرف بڑھی جس کے شیشوں کو ایک دبیز پردے نے چھپا رکھا تھا۔ میں نے پردہ ہٹایا اور ایک پٹ کھولا۔ خنک ہوامجھے کاٹنے لگی۔ میں نے سردی سے بچنے کے لیے اپنے ہاتھ سینے پہ رکھ لیے۔ ٹھنڈی ہوا مجھے پر لطف لگ رہی تھی۔ پیرس کا خوابیدہ شہر ان لطیف ساعتوں میں سانس لیتا محسوس ہوتا تھا۔ مٹیالی سی دھند کی چاد رپورے شہر کو ڈھانپ رہی تھی۔

میں بہت خوش تھی۔ آج میں اٹیچی کیس کے بغیر تھی اور اس کے بعد عنقریب مجھے بے نام ہو جانا تھا۔

٭

صبح کے سناٹے میں میرے قدموں کی چاپ نے دروازے پر موجود چاق چوبند استقبالیہ ملازم کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ دیکھنے والا یہی سمجھتا کہ یہ بالکل تازہ دم اور ہوشیار ہے اور ابھی ابھی اس کی ڈیوٹی شروع ہوئی ہے، حالاں کہ وہ تمام رات سے ڈیوٹی پر تھا اور اس کی جگہ لینے کے لیے دوسر املازم آچکا تھا۔ میرے قدم وہاں پہنچنے سے پہلے ہی اس کا ہاتھ شیشے کا دروازہ کھول چکا تھا۔

’’صبح بخیر، محترمہ! شہر ابھی تک خواب میں ڈوبا ہوا ہے اور آپ اس ٹھنڈی صبح باہر جانے والی پہلی ہستی ہیں۔‘‘ اس نے احترام سے کہا۔

میں جواباً صرف مسکرا دی۔ باہر نکلتے ہی ٹھنڈی ہوا نے میرا استقبال کیا۔ ہوٹل سے شروع ہونے والی دائیں ہاتھ کی سڑک پر میں آگے ہی آگے بڑھنے لگی۔ بالکل سیدھی۔ خدا جانے یہ سڑک کہاں جاکر ختم ہوتی ہے! سیدھے چلنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ واپسی آسان رہتی ہے۔ واپسی پر آدمی راستہ نہیں بھولتا۔ لیکن میں تو مزاجاً واپسی کو پسند نہیں کرتی۔ بس آگے ہی آگے بڑھتے چلے جانا مجھے پسند ہے۔ لوٹ کر آنا میری برداشت سے باہر ہے۔ ہم آگے ہی آگے کیوں نہیں جاسکتے؟ ہمیں لوٹنا کیوں پڑتا ہے؟ جس راستے سے ہم گزر چکے ہوتے ہیں، وہیں واپس کیوں آنا پڑتا ہے؟

اب پیرس بیدار ہو رہا تھا۔ مجھے اپنے قدم اونچائی سے اترتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ کیا ہوٹل پہاڑی کے اوپر بنا ہوا تھا؟ اگر نہیں تو پھر یہ اتنی ڈھلوان کیوں تھی؟ چلتے چلتے کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو میری ناک میں سرسراتی آئی اور مجھے اپنی طرف کھینچنے لگی۔ دکان کے سامنے میرے چلتے ہوئے قدم رک گئے۔ اُفو! بھوک کا شدید احساس مجھے تنگ کرنے لگا تھا۔ بھوک مجھے بھنبھوڑنے لگی تھی۔ مجھے یاد آیا کہ میں نے کل سے کچھ بھی تو نہیں کھایا۔ میری نگاہیں گھڑی کی طرف اٹھ گئیں۔ چلتے چلتے بڑی دیر ہوچکی تھی۔ مگر مسرت کا وہ عجیب احساس مجھ پر پوری طرح حاوی تھا۔ مجھے یہاں کوئی پہنچاننے والا نہیں تھا۔ کسی کو میرے نام کا علم نہیں تھا۔ کوئی مجھے پکار سکتا تھا نہ کوئی میری وطنیت یا قومیت سے آگاہ تھا۔

لیکن بھوک کا احساس شدید ہوتا جا رہا تھا۔ دُکان کے سامنے کھڑے کھڑے مجھے خاصی دیر ہوگئی۔ دکان میں شیشے کے پیچھے کھڑا ایک آدمی مجھے گھور گھور کر دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے حرکت کی، دروازہ کھولا اور باہر نکل کر میرے قریب آگیا۔ وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا: ’’کیا تم عرب ہو؟‘‘

اس کی آواز میں ایسی انگریزی لُکنت تھی جس پر فرانسیسی انداز غالب تھا۔ اس کی رنگت گندمی اور آنکھیں سیاہ تھیں اور بال گھنے تھے۔ مگر میرے بالوں کے مقابلے میں خوب صورت اور گھنے نہیں تھے۔

’’تم اتنی دیر سے یہاں کیوں کھڑی ہو؟ کیا تمھیں بھوک ستا رہی ہے؟ وہ پھر بولا۔

اس کی لکنت سے ظاہر تھا کہ وہ فرانسیسی کے بجائے انگریزی پر زیادہ عبور نہیں رکھتا تھا مگر وہ فرانسیسی بھی نہیں تھا۔ وہ کوئی ایشیائی ہی تھا جو اپنی قسمت سے مفرور ہوکر یہاں پہنچا تھا۔ اس نے مجھے پھر مخاطب کیا:

’’تمہارے پاس پیسے بھی نہیں مگر تمہاری آنکھیں ظاہر کرتی ہیں کہ تم تیل کے کنووں کی مالک ہو۔‘‘

پیسے؟ میں نے اپنی جیبیں ٹٹولیں۔ واقعی میرے پاس کوئی رقم نہیں تھی۔ عجیب احساس پھر بیدار ہوا۔ میں ایک اور بندھن سے بھی آزادی حاصل کرچکی تھی۔ پیسوں سے۔ اب دولت بھی مجھے اپنا غلام نہیں بنا سکتی تھی۔

اس کا ہاتھ اب میری کلائی پر آپڑا اور گرفت مضبوط ہونے لگی۔ وہ مزید قریب آگیا اور بولا: ’’آخر تم ہو کون؟‘‘

اس کی گرم گرم شکستہ سانسیں میرے چہرے کو چھونے لگیں۔ پیرس کی خنکی میرے جسم کے روئیں روئیں میں سرایت کرنے لگی۔

اچانک میرا دوسرا ہاتھ بلند ہوا اور تڑاخ سے اس کے چہرے پر جا پڑا۔ اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ میں تیزی سے گھومی اور میرے قدم مضبوطی سے فٹ پاتھ پر آگے بڑھنے لگے۔

اس نے زور سے میری طرف تھوکا اور چیخ کر کہا: ’’بھوکی عرب عورت ! تم جلد ہی لوٹ کر آؤگی۔ تم جیسی سب اسی طرح کرتی ہیں اور پھر قدموں میں آگرتی ہیں۔ یہ بھوک ہے اور ۔۔۔۔‘‘

’’لوٹوں گی کیوں؟ واپسی کس لیے؟ پیسے، اٹیچی، لباس، نام کس لیے؟ ایک ہی قومیت کی طرف نسبت کیوں؟ ایک ہی وطن سے تعلق کے کیامعنی؟ رنگ اور خون کے یہ رابطے کس لیے؟ یہ نسبتیں اور تعلق میری گردن کو زنجیروں کی طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ مجھے ان سب نسبتوں کی کوئی آرزو نہیں۔ مجھے واپسی کی کوئی خواہش نہیں۔‘‘

اب دائیں طرف کا وہ سیدھا راستہ بھی میں نے چھوڑ دیا، جس پر پہلے چلنا شروع کیا تھا۔ اب مجھے مختلف فٹ پاتھوں اور وسیع شاہراہوں نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ راستہ اب ڈھلوان نہیں تھا بلکہ وسیع اور ہموار ہوچکا تھا۔ اس کی کئی شاخیں بن چکی تھیں، جن پر سب چہرے آگے ہی آگے رواں دواں تھے۔ سارے قدم تیزی سے بڑھ رہے تھے۔

میں پوری طرح آزاد تھی۔ چیخ سکتی تھی، رو سکتی تھی اور گاسکتی تھی۔ یہاں کوئی میری طرف متوجہ نہیں ہوگا۔ کوئی میری دیوانگی کا راز جاننے کی کوشش نہیں کرے گا۔ کوئی مجھے واپسی کے لیے نہیں کہے گا۔ کوئی مجھے روک نہیں سکے گا۔

میری مسرت قائم تھی مگر بھوک کا شدید احساس اس پر غالب آنے کی کوشش کر رہا تھا اور اب تو ایک نیا احساس بھی ابھرنے لگا تھا۔ تھکن کا احساس۔

سہ پہر ہوچکی تھی۔ چلتے چلتے میرے قدم اُکتا گئے تھے۔ اور اب تو تھکن سے پیروں اور ٹانگوں میں درد بھی ہونے لگا تھا لیکن میں آگے بڑھتی رہی اور اب فٹ پاتھ بھی ختم ہوچکا تھا۔ یہاں گھر بھی منتشر منتشر اور جدا جدا تھے۔ قریب ہی ایک وسیع پارک تھا۔ میرے تھکے ہوئے قدم مجھے وہاں لے گئے ادھر ادھر چند بنچ پڑے تھے۔ میں نے ایک بنچ کا سہارا لیا۔ جوتے اُتار پھینکے۔ گھاس کی نمی میں پاؤں لتھڑا گئے۔ میں بنچ سے نیچے اُتری اور گھا س پر لپٹ گئی۔ میرا چہرہ اور بال بھی نمی سے آلودہ ہوگئے۔ پھر میں سوگئی۔

مگر نہیں، میں سوئی کہاں تھی! قدموں کی چاپ، بولنے کی آوازیں، سب کچھ تو میں سن رہی تھی، پھر بھوک اور تھکن کی شدت اور اس مسرت کا احساس! اوہ! وہ کہاں غائب ہوگیا؟ امی؟ ہاں امی۔ ابو؟ ہاں ابو۔ بہن اور بھائی؟ نہیں نہیں۔ اُنہیں میرے ذہن میں کون لے آیا ہے؟ میری وہ عجیب مسرت کہاں رہ گئی، کہاں تباہ ہوگئی؟

میرے ارد گرد کی آوازیں کم ہونے لگیں۔ تھکن نے گھاس پر نیند گہری بنادی۔ پھر میری آنکھ کھل گئی۔ ارد گرد سرسراہٹ کی آواز محسوس ہونے لگی۔ میں ڈری۔ اندھیرے نے چاروں طرف سے مجھے اپنے گھیرے میں لینا شروع کر دیا۔ شام گہری ہو رہی تھی۔ میں نے دیکھا تاریکی میں سے دو آنکھیں گھور رہی تھیں۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں۔ کیا یہ کوئی خواب ہے؟ نہیں۔ تاریکی میں دو آنکھیں واقعی مجھے گھور رہی تھیں۔ میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ قریب کھڑے شخص نے مجھے ڈرا دیا تھا۔ وہ بالکل میرے سامنے ہی کھڑا تھا اور غالباً کوئی فرانسیسی ہی تھا۔ اور میں فرانسیسی سے یکسر ناواقف تھی، اس لیے میں اس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اسے یوں کھڑے دیکھ کر مجھے خوف محسوس ہو رہا تھا۔ ہاں، خوف نے دوسرے تمام احساسات کچل ڈالے تھے اور میرے پورے وجود پر قبضہ جما لیا تھا۔ بھوک، تھکن، سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ صرف خوف تھا جس کے اندر میں ڈبکیاں کھانے لگی تھی۔ میری آنکھوں کے ڈھیلے پوری طرح خوف میں جکڑے ہوئے تھے۔

’’تاریکی اور خوف ۔۔۔۔اس خوف نے میری تئیس سالہ پختہ خود اعتمادی ریزہ ریزہ کر دی تھی۔ میں چلانے لگی: ’’امی! ابو! تاریکی۔‘‘

میری چیخوں کی باز گشت پارک کے وسیع گوشوں میں ہر طرف سنائی دینے لگی۔ گریہ اور غم میرے سینے میں جمع ہو گئے۔ میں چلاتی رہی۔ ’’ہائے تاریکی! میں تاریکی سے ڈرتی ہوں۔ تاریکی میں گھورتی ہوئی آنکھیں مجھے شکستہ کیے دیتی ہیں۔ میں واپسی کی آرزو مند ہوں۔‘‘

پھر میرے قدم مجھے اُٹھا کر دوڑنے لگے ۔۔۔۔ تیز اور تیز۔ میں واپسی کی تمنا کرتی ہوں مگر پیچھا کرنے والے قدم بھی تیز ہیں۔ میں تاریکی سے ڈرتی ہوں لیکن پیچھا کرنے والے قدم بھی تیز ہیں۔ امی! ابو! میں واپس لوٹ کر آنا چاہتی ہوں۔ مگر پیرس! یہاں کوئی راستہ ایسا سیدھا نہیں جو مجھے میرے ٹھکانے، میرے ہوٹل تک پہنچا دے۔ میں یہاں اجنبی ہوں، بھوکی ہوں، تھکی ہوئی ہوں اور خوف زدہ ہوں۔

میں واپسی کی آرزو کرتی ہوں۔ll

شیئر کیجیے
Default image
کلثوم جبر/ ترجمہ: مختار احمد

Leave a Reply