خرید و فروخت

’’سودا طے ہوگیا ہے۔‘‘ بڑے میاں نے اطمینان سے بتایا۔

’’اچھا۔۔۔۔؟ کتے میں طے ہوا؟ بڑی بی نے اشتیاق سے پوچھا :

’’پانچ لاکھ پر طے ہوا ہے۔‘‘

’’پانچ لاکھ؟‘‘ مگر تم تو کہہ رہے تھے کہ سات سے کم پر پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دوگے۔ اتنا تگڑا مال تم نے صرف پانچ لاکھ میں بیچ ڈالا؟‘‘

’’دو لاکھ ڈسکاؤنٹ کرنا پڑا۔ بہت بھاؤ تاؤ کر رہے تھے وہ لوگ۔ کہہ رہے تھے کہ ابھی دو دو بوجھ اور سرکانا ہے۔‘‘

یہ ان کا ’’بوجھ‘‘ تھا۔ تمہاری گردن کیوں جھک گئی؟ یہ تو اچھی رہی۔ ابھی سے اپنی منوانے لگے یہ لوگ۔ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ان کے ’’سینے کی سل‘‘ ہم اپنے متھے مڑھ رہے ہیں۔ انہیں تو ہمارا مشکور ہونا چاہیے۔ بڑی بی بر افروختہ ہوئیں۔

بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔ اب بتاؤ زندگی کی ساری جمع پونجی لگا کر مال ہم نے تیا رکیا۔ خون پسینے سے سینچا، تیس برس تک کھانا خرچہ ہم نے پورا کیا۔ بڑا کیا، سدھایا، جانور بنایا، سدھانے میں ہی ہمارا لاکھوں کا خرچہ ہوگیا۔ یہ تو سراسر گھاٹے کا سودا ہوا۔ تمہاری تو مت ماری گئی ہے۔ بڑی بی غصہ میں بڑبڑانے لگیں۔

تم ٹھیک کہتی ہو۔ ابھی آگے کی بھی تو سوچو۔ وہ ’’بوجھ‘ آئے گی تو مزید ’’بار‘‘ لائے گی۔ اب تو ساری زندگی ہمارے جانور کا یہی خرچہ ہوگا۔ مزید ’’جانور‘‘ ہوں گے۔ ان کا دانہ پانی، ان کے کھال کھڑ کا خرچہ، یہ سارا خرچہ تو ا بھی باقی ہے۔ بڑے میاں کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا۔

اور یہ کیوں بھول رہے ہو کہ اگر ’’اور بوجھ‘‘ بڑھ گیا تو انہیں دھکا دینے کے لیے مال کا جوڑ توڑ بھی تو ساری عمر کرنا پڑے گا۔ ہمارا جانور تو کولھو کے بیل کی طرح ساری زندگی پیستا رہے گا۔ بڑی بی کے خدشات میں اضافہ ہوا۔

اتنا دور تک تو میں نے سوچا ہی نہیں۔ ہم شریف آدمی، بھلا ہمارے ذہن میں اتنی دور کی سوچیں کہاں سے آنے لگیں۔ بڑے میاں کو صدمہ ہوا۔

میں نے سوچا ہے بے چارے لوگوں کی گردن بوجھ ڈھوتے ڈھوتے ٹوٹنے کی کگار پر پہنچ چکی ہے۔ کچھ ان کا بھلا ہی کردیں۔ اب دیکھو ان کا بھلا کرنے کے چکر میں اپنا برا بھلا بھی دھیان میں نہ رکھا۔ مگر کم سے کم ان لوگوں کو تو ہماری شرافت پر رحم کھانا چاہیے تھا۔ اپنی ہی مجبوری کا رونا رونے لگے۔ میرا تو دماغ ماؤف ہوگیا تھا۔ بس پھر کیا تھا۔ جیسا انہوں نے کہا میں نے مان لیا۔

پانچ لاکھ تو ہمیں منہ چڑاتے ہوئے محسوس ہورہے ہیں۔ یہ کوئی انصاف ہے، خرچہ کریں سولہ آنے اور ملے، آٹھ آنہ بھی نہیں؟ ہائے ہم تو لٹ گئے برباد ہوگئے۔ ہائے ہائے بھلائی کا تو زمانہ ہی نہ رہا۔بڑی بی لگیں واویلا کرنے۔ اور بڑے میاں سر پر ہاتھ دھرے بزنس میں ہوجانے والے نقصان کا حساب کتاب کرنے سے بھی خود کو قاصر محسوس کر رہے تھے۔

دکھ اور صدمے سے دونوں کی آنکھیں پھٹ گئی تھیں، اور وہ دونوں اپنے اپنے بال نوچنے لگے تھے۔

٭٭٭

چلو ہمارا کچھ تو بوجھ ہلکا ہوا۔ بوجھ کے ابا یعنی ادھر کے بڑے میاں نے کہا۔

پھر بھی کافی قیمت مانگ رہے ہیں وہ لوگ یہ بوجھ ڈھونے کا بڑی بی بولیں۔

ارے قیمت تو بہت لگائی تھی انہوں نے۔ مان ہی نہیں رہے تھے۔ وہ تو میں نے مجبوری کے دوچار آنسو ٹپکائے تو بڑے میاں کچھ ڈھیلے پڑے۔ پھربھی پانچ لاکھ بہت زیادہ ہیں۔ بڑی بی بے چین تھیں۔

اس رہائی کے آگے کچھ بھی نہیں جو کچھ دنوں بعد ہمیں ملنے والی ہے۔

تم بھول رہے ہو کہ ابھی صرف ’’سر‘‘ کا ’’بوجھ‘‘ ، ’’سرکا‘‘ ہے۔ اور دونوں کندھوں کا بوجھ سر چڑھنے کو بے تاب ہے۔ میری تونیندیں اڑی ہوئی ہیں اور تمھیں رہائی سوجھ رہی ہے۔

ہاں! ٹھیک کہتی ہو تم۔ نیندیں تو میری بھی اڑی رہتی ہیں۔ ایک تو اچھے جانوروں کا کال پڑ گیا ہے منڈی میں، اور جو میسر بھی ہیں تو مالک اتنے اونچے دام بتاتا ہے کہ سن کر پسینہ آجاتا ہے۔ بڑے میاں شکستہ آواز میں بولے۔

کیا مجبوری ہے ہماری بھی۔ تین تین بوجھ ساری زندگی ڈھوتے رہے۔ گردن دکھ گئی ہماری تو ’’دھکا دینے‘‘ کے لائق تو یہ دیکھتے دیکھتے ہی ہوگئی تھیں۔ مگر کوئی ’’کنواں‘‘ ملے بھی تو۔ بڑی بی نے آہ بھری۔ مایوس کیوں ہوتی ہو۔ دھیرے دھیرے ہی سہی ہمارے کندھے بھی ہلکے ہوں گے۔ بڑے میاں نے سمجھایا۔

مایوس کیوں نہ ہوؤں؟ اپنا تو کوئی جانور بھی نہیں ہے۔ جسے بیچ کر ہم بھی کچھ مال کمالیں۔ اور بڑھاپے کی زندگی سکون و چین سے کاٹیں۔ بڑی بی نے حسرت سے کہا۔

ہاں ہمارے بھی جانور ہوتے تو کم از کم ان پر جو خرچ کرتے اس کی قیمت تو وصول ہوجاتی۔ نرا بوجھ ہی بوجھ ہے ہمارے ہاں تو۔ ایک تو اتنا دن ڈھونے میں خرچہ کیا۔ اور ابھی بھی گلو خلاصی بھی تباہی ہوگی جب اپنا خون تک نچوڑ لیا جائے گا۔ کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جہاں صرف جانور ہی جانور ہوتے ہیں۔ بڑے میاں بھی مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبنے لگے۔

لیکن خیر! مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ رہائی کی کوئی راہ تو نکلی۔

ویسے بھی ہم لوگ جو جانور خرید رہے ہیں۔ وہ بھی تو ہمارا اپنا ہوانا۔ اب سوچو ہمارا جانور ہوتا تو ہمیں بھی اسے بیچنا پڑتا اور بیچنے کے بعد تو ہمارااس پر سے اختیار ختم ہو جاتا اور یہ تو ہمارا خریدا ہوا مال ہوگا۔ گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔‘‘ بڑی بی خوش ہوئیں۔

ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ پیسے کا انتظام تو ہو ہی جائے گا۔ اصل مسئلہ تو یہ حل ہوگیا کہ ہمارا بوجھ ڈھونے کو کوئی جانور مل گیا۔ بس اب کوئی اچھی سی تاریخ دیکھو کر ’’یومِ نجات‘‘ طے کرلیں گے۔

ہاں یہ ٹھیک ہے۔ بڑی بی نے اتفاق کیا۔

بڑے دنوں سے ارمان تھا ’’یومِ نجات‘‘ کا مگر پھر گھر کا سونا پن کچھ بے چین کرے گا۔ عادت سی پڑ گئی ہے بوجھ ڈھونے کی۔ بڑی بی نے بے چینی ظاہر کی۔

یہی زمانے کی ریت ہے۔ پورا تو کرنا ہے۔ ویسے بھی اتنا تگڑا مال دے کر جانور خرید رہے ہیں۔ ہم جب حکم دیں گے جانور پر سوار ہوکر آجائے گی۔ بڑے میاں خوش ہوکر بولے۔ بڑی بی بھی مسکرا دیں۔

اب یہ فکر مندی کی باتیں چھوڑو۔ ہمارے دن گئے فکر کرنے کے۔ خوشیاں مناؤ اور یومِ نجات کی تیاری کرو۔ بڑے میاں تو گویا ہلکے پھلکے ہوگئے اور ان ددنوں کو آنے والے دنوں کی خوشیوں کے شادیانے ابھی سے سنائی دینے

شیئر کیجیے
Default image
واصفہ غنی (اورنگ آباد، بہار)

Leave a Reply