6

خانگی زندگی اور ازواجِ مطہراتؓ

عام طور پر کسی عزت وجاہ والے شخص کی بیوی، لیڈر یا حکمراں کی بیوی خود کو بھی اسی منصب پر فائز سمجھتی ہے جس پر اس کا شوہر فائز ہوتا ہے۔ خود کو ان تمام حقوق واختیارات کی حق دار سمجھتی ہے جو اس کے شوہر کو حاصل ہیں، یا جو اس نے اپنی طاقت اور زور کے بل پر حاصل کیے ہیں۔ عام انسان ان سے ملنے یا ان کے سامنے زبان کھولنے میں بھی اسی طرح گھبراتا ہے جس طرح ان کے شوہر کے سامنے۔اس کے علاوہ معاشرے کی عام عورتوں کی سماجی حیثیت ماضی میں افسوس ناک رہی ہے تو موجودہ دور میں بھی اس کی حیثیت کچھ بہت قابل اطمینان نہیں ہے۔ اسے آج بھی غلام اور باندی یا جنسی کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔مشرق میں اسے دبا کر رکھا گیا ہے تو مغرب نے اسے مادر زاد برہنہ کر کے شیطانی خواہشات کی تکمیل کا ذریعۂ وافر بنا دیا ہے۔

ایک دوسرے پہلو سے غور کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ماضی میں عورت کو جس طرح دبا کر رکھا گیا ہے، اس کے رد عمل کے طور پر عورت نے مرد سے بغاوت کا اعلان کیا ہے۔ چنانچہ ایک طرف عورتوں میں اس وجہ سے شادی نہ کرنے یا شادی میں تاخیر کا رجحان بڑھ رہا ہے کہ وہ خود کو ازدواجی حدود و قیود میں باندھنا نہیں چاہتیں۔اس کا نتیجہ ہے کہ جنسی بے راہ روی میں عورتیں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔دوسری جانب خاص طور سے مغربی تہذیب کے اثرات کی وجہ سے عورت یہ سمجھتی ہے کہ شادی کا مطلب مرد کی غلامی یا اپنی زندگی کو اس کے پاس گروی رکھنا ہے۔لہذا اپنی فطری خواہشات کی تکمیل کے لیے-ship Live-inتو منظور ہے لیکن کسی مرد کے ساتھ باقاعدہ ازدواجی زندگی گزارنا انھیں منظور نہیں ہے۔اس کے اثرات معاشرے اور سماج پر کس انداز میں مرتب ہو رہے ہیں، اسے سمجھنا اب مشکل نہیں رہا۔

موجودہ دور میں عورت کی حالت پر ایک اور پہلو سے غور کریں کہ وہ اب گھر سے باہر نکل کر کسب معاش کے لیے مردوں کی صف میں انھی کے برابر آکر کھڑی ہوگئی ہے۔ اس کی وجہ سے ازدواجی زندگی نئے تلخ تجربات سے گزر ہی ہے۔شوہر اور بیوی کے درمیان رشتے کی وہ پختگی اور شیرینی باقی نہیں رہی جو اس رشتے کی خاصیت ہے۔دونوں کے درمیان جذباتی ہم آہنگی مفقود ہو گئی ہے اور مادی اعتبار سے عورت خود کفیل ہوئی تو مرد کو گھر کے اندر وہ مقام دینے کو تیار نہیں جو اسے بحیثیت شوہر حاصل ہونا چاہیے۔ مغربی تہذیب اور جدیدیت کے اثرات کے طفیل یہ رجحان مسلم گھرانوں میں بھی آہستہ آہستہ نفوذ کر رہا ہے یا کر سکتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ اس سلسلے میں ان کے سامنے اسلام کے رہنما اصول اور رسولؐ اور آپ کے ازواجِ مطہرات کا اسوہ پیش کیا جائے۔

شوہر سے محبت

ازدواجی رشتہ محبت اور جذبات واحساسات سے عبارت ہے۔اس رشتے کی خوشگواری کے لیے جس طرح یہ ضروری ہے کہ مرد اپنی بیوی سے محبت کرے، اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ عورت بھی اپنے شوہر سے ویسی ہی محبت کرے۔اس پہلو سے اگر ازواج مطہرات کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہر سے بے پناہ محبت کیا کرتی تھیں۔اس کا ایک ثبوت تو وہ واقعہ ہے جس کے بعد اللہ کے حکم سے رسول اللہ ﷺ نے اپنی تمام ازواج مطہرات کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ چاہیں تو نبیؐ کی زوجیت میں رہیں یا الگ ہو جائیں۔ اس موقع پر تمام ازواج نے ایک ہی جواب دیا، جس کو حضرت عائشہؓ نے اس طرح بیان فرمایا ہے: ۔ ’’اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں اختیار دے دیا تھا، چنانچہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اپنے لیے پسند کیا۔ اور اس (اختیار) کو آپؐ نے طلاق شمار نہیں کیا تھا۔‘‘ خَیَّرَنَا رسولُ اللّٰہِ صلَّی اللّٰہُ علیہ وسلَّمَ فَاخْتَرْنَا اللّٰہَ وَ رسُولَہُ فَلَمْ یَعُدَّ عَلَیْنَا شَیْئاً (صحیح بخاری)

موجودہ زمانے کی عورتیں معاشی خود کفالت یا اپنے ذاتی معاشی استحکام کی وجہ سے جس طرح اس رشتے کی حقیقت سے دور ہو رہی ہیں ، انھیں رسول اللہ ﷺ کی سب سے محبوب اور برے وقت میں تن من دھن سے ساتھ دینے والی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہؓ کا عملی نمونہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔حضرت خدیجہؓ آپؐ سے عمر میں بڑی تھیں۔ مال ودولت کی ان کے پاس کمی نہ تھی۔لیکن انھوں نے اپنی دولت مندی کو کبھی بھی اس رشتے میں آڑے نہیں آنے دیا بلکہ بلا جھجک اپنا سب کچھ اپنے شوہر کے حوالے کر دیا۔چنانچہ ایک بار حضرت عائشہؓ نے کہا کہ آپؐ حضرت خدیجہ کی ہی تعریف کرتے رہتے ہیں جب کہ اللہ نے آپؐ کو ان سے اچھی بیویاں عطا کر دی ہیں۔ آپؐ نے جواباً فرمایا: ’’اللہ کی قسم مجھے اللہ نے خدیجہ سے اچھا بدل نہیں دیا۔ وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائیں جب لوگوں نے مجھے نبی ماننے سے انکار کر دیا تھا، انھوں نے اس وقت میری تصدیق کی جب کہ لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے، اپنے مال سے میری اس وقت غم خواری کی جبکہ لوگوں نے مجھے محروم کر دیا تھا، صرف انھی سے مجھے اولاد ہوئی، جب کہ کسی اور بیوی سے مجھے اولاد نہیں ہوئی۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کو وفات کے بعد بھی جتنی محبت حضرت خدیجہؓ سے رہی، کسی اور بیوی سے نہیں رہی۔

ازواج مطہرات کا اپنے شوہر یعنی اللہ کے رسول ﷺ سے محبت کا یہ حال تھا کہ انھیں کسی بھی طرح اپنے شوہر سے جدائی برداشت نہیں تھی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ہر ایک بیوی کے لیے دن مقرر کر رکھا تھا۔ اور جس دن جس کی باری ہوتی ، اسی دن اس بیوی کے یہاں تشریف لے جاتے۔ ہر ایک کو شدت سے اپنی باری کا انتظار رہتا اور یہ کسی کو بھی یہ گوارا نہ ہوتا کہ ان کی باری کے دن ان کے شوہر کسی اور بیوی کے پاس چلے جائیں۔

ایک بار اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ میں تمھاری خوشی اور ناراضگی کو بھانپ لیتا ہوں۔ جب تم خوش ہوتی ہو ’’محمد کے رب‘‘ کی قسم کھاتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو تو ’’ابراہیم کے رب‘‘ کی قسم کھاتی ہو۔ حضرت عائشہ نے جو جواب دیا وہ ان کی اپنے شوہر سے سچّی محبت کا اعلان ہے۔ انھوں نے عرض کیا: ’’آپ نے صحیح فرمایا، لیکن اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ کی قسم میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں۔‘‘ ( بخاری ومسلم)یعنی صرف زبان سے آپ کا نام نہیں لیتی ورنہ میرے دل میں تو آپ ہی ہیں۔

اپنے شوہر سے ام المومنین ازواج مطہرات کی محبت کا یہ حال تھا کہ اگر وہ کسی بات پر ناراض ہو جاتے تو جب تک ان کی ناراضی دور نہ ہوجاتی، انھیں چین نہ آتا۔ ازواج مطہرات کو یہ بات گوارا نہیں تھی کہ کوئی بیوی ان کی باری چھین لے اور اللہ کے رسول ﷺ ایک کی باری میں کسی دوسری زوجہ مطہرہ کے پاس تشریف لے جائیں۔ لیکن آپؐ کی ناراضگی دور کرنے کے لیے انھیں یہ بات بھی منظور تھی۔ایک بار آپؐ حضرت صفیہؓ سے کسی بات پر ناراض ہوگئے۔ حضرت صفیہ بے چین ہوگئیں اور جب انھیں قرار نہ آیا تو حضرت عائشہ کے پاس گئیں اور کہا کہ کیاآپ حضور ﷺ کی ناراضگی دور کرکے انھیں مجھ سے راضی کرا سکتی ہیں؟اس کے بدلے میں آپ میری باری لے لیں۔ حضرت عائشہ اس کام کے لیے تیار ہوگئیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرے پاس زعفران سے رنکا ہوا ایک دوپٹہ تھا۔ میں نے اس کے اوپر پانی کی چھینٹیں ماریں۔ اسے اوڑھ کر آپؐ کی خدمت میں آئی اور آپؐ کے قریب بیٹھ گئی۔ اللہ کے رسول ﷺ بولے: ’’عائشہ! ہٹو، آج تمھاری باری نہیں ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’یہ تو اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے، دیتا ہے۔ اس کے بعد میں نے آپؐ کو پوری بات بتائی تو آپؐ نے حضرت صفیہ سے اپنی ناراضگی ختم کر دی۔‘‘ (تفسیر قرطبی، النساء: ۱۲۸)اس واقعے میں حضرت صفیہ کا پریشان ہونا اور حضرت عائشہ کا اضافی باری پانے پر خوش ہونا اور اسے اللہ کا فضل قرار دینا، دونوں باتیں اپنے شوہر سے انتہائی محبت کی دلیل ہیں۔

شوہر کو اذیت ناقابلِ برداشت

نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات کو یہ بات گوارا نہیں تھی کہ کوئی ان کے شوہر کو جسمانی تو دور کی بات ذہنی اذیت بھی پہنچائے۔ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ ایسی حرکت کرنے والے کو پورا پورا جوا ب دیتیں۔ ایک بار کچھ یہودی اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں آئے اور انھوں نے ’السلام علیک‘ کی جگہ’ السّام علیک(تمھیں موت آئے)‘ کہا۔ آپؐ نے جواباً صرف ’وعلیکم‘ کہا۔ حضرت عائشہ کو یہودیوں کی بددعا کے مقابلے میں محسوس ہوا کہ جیسی بددعا یہ لوگ میرے شوہر کو دے رہے ہیں ، شوہر نے اس کے مناسب حال جواب نہیں دیا ہے۔ان کو غیرت آئی کہ کوئی ان کے شوہر کو بددعا دے۔ چنانچہ انھوں نے کہا:’’السَّامُ علیکم ولَعَنَکُمُ اللّٰہ وغَضِبَ علیکم‘‘ (تمھیں موت آئے، تم پر اللہ کی لعنت ہو اور اللہ کا غضب تم پر نازل ہو) (بخاری، کتاب الدعوات)۔حضرت عائشہ کا یہ ردعمل سراسر اپنے شوہر سے بے پناہ محبت کا نتیجہ تھا اور اس پر وہ صرف پیچ وتاپ کھا کر ہی نہیں رہ گئیں بلکہ انھیں اتنا غصہ آیا کہ خو کو خاموش نہیں رکھ پائیں۔

شوہرکی خدمت

اللہ کے رسول ﷺ اگرچہ گھر کے کام بھی خود سے کر لیا کرتے تھے۔ لیکن ازواج مطہرات بھی ان کی خدمت کے معاملے میں پیچھے نہیں رہتی تھیں اور کسی بھی طرح کی خدمت کو خوشی کے ساتھ انجام دیا کرتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ’’اللہ کے نبی ﷺ مسواک کیا کرتے تھے، مسواک کرنے کے بعداسے دھونے کے لیے مجھے عطا فرماتے ۔ میں دھو کر دیتی ۔ آپؐ پھر مسواک کرکے مجھے دیتے، میں پھر دھو کر آپؐ کو دے دیتی۔‘‘(ابو دائود)

حضرت عائشہ ہی کی ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی خدمت کتنے شوق سے کیا کرتی تھیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ جب احرام باندھتے تو میں آپ کے جسم پر خوشبو لگاتی اور خانہ کعبہ کا طواف کرنے سے پہلے احرام کھولتے تو اس وقت بھی خوشبو لگاتی۔‘‘ (بخاری) صحیح مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ مجھے جو بھی اچھی اچھی خوشبو میسر ہوتی وہ میں آپؐ کے جسم اطہر پر لگاتی تھی۔‘‘اسی طرح فرماتی ہیں : ’’میں نے اللہ کے رسول ﷺ کے ہدی کے جانوروں کی رسّی اپنے ہاتھوں سے بٹی۔‘‘ (ابو دائود)

حضرت ام سلمہؓ کو اللہ کے رسول ﷺ کے آرام اور صرورتوں کا بڑا خیال رہتا تھا۔ انھوں نے تو نکاح کے پہلے ہی دن خاص طور سے اپنے شوہر (اللہ کے رسولؐ)کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کیا ۔ان کا ایک غلام تھا جس کا نام سفینہ تھا، ان کو اس شرط ہر آزادی دے دی کہ وہ زندگی بھر اللہ کے رسولؐ کی خدمت کرتا رہے گا۔

حضرت عائشہؓ اللہ کے رسول ﷺ کے بالوں میں کنگھی کیا کرتی تھیں۔ وہ خود فرماتی ہیں: ’’اللہ کے رسول ﷺ مسجد میں معتکف ہوتے تھے۔ ایسی حالت میں آپؐ اپنا سر میری طرف کر دیا کرتے اور میں حیض کی حالت میں ہوتے ہوئے بھی آپؐ کے بالوں میں کنگھی کر دیا کرتی۔‘‘ (بخاری ومسلم)

ازواج مطہرات کو اس بات کا احساس تھا کہ ان کے شوہر کی ذِمہ داری بہت عظیم ہے، جو انھیں جسمانی و ذہنی اعتبار سے تھکا دیتی ہے۔ اس لیے ہمیشہ آپؐ کے آرام اور سکون کا خیال رکھتی تھیں۔

صبر وقناعت

عورت شادی کے بعد جب نیا گھر بساتی ہے تو بہت سے ارمان پورے کرنے کا خیال دل میں سجا لیتی ہے۔ شوہر کی مالی حالت کا بھی خیال نہیں رہتا۔ وہ ارمان پورے نہ ہوپائیں تو شوہر سے رات دن کا جھگڑا۔اللہ کے رسول ﷺ کی زیادہ تر ازواج مطہرات ایسے گھرانوں سے آئیں تھیںجہاں انھیں خوشحالی اور فارغ البالی حاصل تھی۔ ان کی ہر ضرورت بہ آسانی پوری ہوجایا کرتی تھی۔حضرت خدیجہؓ خود عرب کی بڑی تاجر تھیں، ان کا کاروبار بہت بڑا تھا۔ مقام ومرتبہ بھی ان کا بہت بلند تھا۔ لیکن شعب ابی طالب میں اپنے شوہر نامدار کے ساتھ محصور ہوئیں تو اپنی تاجرانہ شان اور سماجی حیثیت کو بالکل بھلا دیا اور جان ودل سے اپنے شوہر کے ساتھ شعب ابی طالب میں محصور رہیں۔ایک دو روز نہیں پورے تین سال تک انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ اسی حال میں گزارے اور اُف تک نہیں کہا۔حضرت امّ سلمہ ؓ قریش کے معزز اور اور مشہور شخص ابو امیّہ کی بیٹی تھیں۔حضرت صفیہؓ کا تعلق ایک یہودی امیر و رئیس خاندان سے تھا۔ حضرت ام حبیبہؓ قریش کے معروف رئیس و امیر ابوسفیان کی بیٹی تھیں۔حضرت جویریہؓ کے باپ بھی اپنے قبیلے کے رئیس تھے۔حضرت عائشہؓ کے والد ماجد حضرت ابو بکرؓ بھی ایک تاجر تھے۔ اگرچہ وہ اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا دیا کرتے تھے۔ یہی حال حضرت حفصہؓ کے والد حضرت عمرؓ کا بھی تھا۔حضرت زینب اللہ کے رسول ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ مقام اور مرتبے میں کسی عورت سے کم نہ تھیں۔اپنی فطری مجبوری کی وجہ سے اگرچہ ازواج مطہرات نے ایک بار نان نفقے میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ لیکن جب انھیں دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیااور اپنے مرتبے کا احسا س ہوا تو وہ اپنے شوہر کی خوشی میں خوش رہنے لگیں۔ کبھی کبھی گھر میں کھانے کے لیے کوئی معمولی سی چیز ہوا کرتی لیکن حرف شکایت زبان پر نہ آتی۔ایک نبی اور اپنے وقت سکے سب سے عظیم انسان کی بیویاں ہونے کے باوجود ان کے گھریلو کاموں کو انجام دینے کے لیے کوئی آیا یا نوکرانی نہیں تھی۔رسّی بٹنا، اپنے شوہر کے کپڑے دھونا، پانی بھرنا اور گھر کے دوسرے کام خو د ہی انجام دیا کرتیں۔

شوہر کے مقام ومرتبے کی حفاظت

عورت کو اپنے شوہر سے ، اس کے گھر سے کتنی ہی محبت کیوں نہ ہو۔اس کے دل سے اپنے والدین اور اپنے گھر کی محبت کبھی کم نہیں ہوتی۔ بلکہ شادی کے بعد ان سے دور رہنے کی وجہ سے اس محبت میں اضافہ ہی ہوجاتا ہے۔ گھر میں کوئی آئے، اس کو اتنی خوشی نہیں ہوتی، جتنی مائیکے سے آنے والے کی ہوتی ہے۔ اس وقت اس کے سامنے آنے والے کی ضیافت اور تواضع سے زیادہ کچھ اہم نہیں ہوتا۔ ازواج مطہرات کو بھی اپنے والدین سے ایسی ہی محبت تھی، جو فطری تھی۔ لیکن یہ محبت صرف حد تک تھی کہ ان کے شوہرِ نامدار کے مقام ومرتبے کو کوئی ٹھیس نہ پہنچے، ان کا احترام مجروح نہ ہو۔ چنانچہ ایک بار امُّ المومنین حضرت امّ حبیبہ کے والد ابو سفیان اپنی بیٹی سے ملنے کے لیے آئے۔وہ بستر پر بیٹھنے لگے تو بیٹی نے بستر جلدی سے لپیٹ دیا۔ ابوسفیان، جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے، بولے: ’’بیٹی! تم نے اس بستر کو میرے لائق نہیں سمجھا یا مجھے اس بستر کے لائق نہیں سمجھا؟‘‘ بیٹی نے جواب دیا: ’’یہ رسول اللہؐ کا بستر ہے۔ آپ مشرک ہیں، آپ اس پر کیسے بیٹھ سکتے ہیں۔‘‘ (الطبقات الکبری: ج: ۱۰)

حضرت جویریہؓ قیدی ہو کر آئیں، جنھیں بعد میں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی زوجیت میں لے لیا۔ ان کے باپ حارث بن ابی ضرار اپنی بیٹی کو چھڑانے کے لیے آئے اور اللہ کے رسول ﷺ سے کہنے لگے: ’’میری بیٹی قیدی بنائے جانے کی مستحق نہیں ہے کیوں کہ میں (اس کا باپ) باعزت آدمی ہوں۔اس لیے آپ اسے آزاد کر دیں۔‘‘ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہم اسی کو اختیار دے دیں۔‘‘ اس نے کہا: ’’کیوں نہیں۔‘‘ چنانچہ وہ اپنی بیٹی کے پاس گئے اور بولے: ’’اس شخص نے تمھیں اختیار دے دیا، بس ہمیں رسوا مت کرنا۔‘‘ حضرت جویریہؓ نے اپنے باپ سے کہا: ’’میں تو اللہ کے رسول ﷺ کو اختیار کر چکی ہوں۔‘‘ باپ بولا: ’’اللہ کی قسم تو نے واقعی ہمیں رسوا کر دیا۔‘‘ (الطبقات الکبری: ج ۱۰)

اولاد کی پرورش

عورت اگر اپنی سوتن کو برداشت کر بھی لے تو بالعموم اس کے بچوں کو برداشت کرنا اس کے لیے بہت مشکل ہوتاہے۔ اور اگر بچوں کی ماں کا انتقال ہو چکا ہو تو یہ کام اور بھی مشکل ہوتا ہے۔ لیکن ازواج مطہرات کی زندگی اس بات کی بھی گواہ ہے کہ انھوں نے اپنی سوتن کی اولاد کو کبھی غیر نہیں سمجھا اور ان کی پرورش اپنے بچوں کی طرح کی۔ حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوا تو آپؐ کی اولاد بہت چھوٹی تھیں۔ حضرت سودہؓ نے ان کی پرورش اس طرح کی کہ انھیں سوتیلی ماں ہونے کا احساس تک نہیں ہونے دیا۔ حضرت صفیہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ ام المومنین کی حیثیت سے بیت نبوی میں تشریف لائیں تو اپنے کان کے قیمتی بندے اتار کو حضرت فاطمہؓ کو پہنا دیے۔lll [email protected]

شیئر کیجیے
Default image
تنویر آفاقی

تبصرہ کیجیے