بدلتی معاشرتی اقدار

ہماری معاشرتی اقدار و روایات کس تیزی سے بدل رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں جس طرح معاشرہ انتشار سے دوچار ہورہا ہے، اس کا اندازہ چند بنیادی اقدار و روایات کی تبدیلی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ نماز کا اہتمام، تلاوتِ قرآن کا معمول، پردے اور حیا کی روایت، حلال و حرام کی تمیز اور صلہ رحمی اور خیرخواہی وہ بنیادی روایات ہیں جو ماضی میں مسلمانوں کا شعار اور اسلام کی بنیادی تعلیم تھیں ،اب یہ تعلیمات نظر انداز ہو رہی ہیں،جس سے معاشرتی و اخلاقی بگاڑ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ان روایات و اقدار کی کیا صورت حال ہے، اس کا ایک مختصر جائزہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے تاکہ یہ ہمارے غور و فکر کا موضوع ہو اور روایات کے تحفظ کے لیے انفرادی و اجتماعی جدوجہد کرسکیں۔

سب سے پہلے نماز ہی کو لیجیے۔نماز کی کیا اہمیت ہے یہ دین کا ستون اور ایمان کا پہلا عملی تقاضہ ہے۔ اس سے غفلت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے صاحب تفہیم القرآن لکھتے ہیں: ’’نماز سے غفلت اور اس کا ترک کردینا ہی ہر امت کے زوال و انحطاط کا پہلا قدم ہے۔ نماز وہ اوّلین رابطہ ہے جو مومن کا زندہ اور عملی تعلق خدا کے ساتھ شب و روز جوڑے رکھتا ہے اور اسے خدا پرستی کے مرکز و محور سے بچھڑنے نہیں دیتا۔ یہ بندھن ٹوٹتے ہی آدمی خدا سے دور اور دور تر ہوتا چلا جاتا ہے، حتیٰ کہ عملی تعلق سے گزرکر اس کا خیالی تعلق بھی خدا کے ساتھ باقی نہیں رہتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ بات ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر بیان فرمائی ہے کہ پچھلے تمام انبیا علیہم السلام کی امتوں کا بگاڑ نماز ضائع کرنے سے شروع ہوا‘‘ (تفہیم القرآن: جلد اوّل)

نماز مسلمان کے دین سے تعلق اور اس کے نتیجے میں بننے والی روایت اور قدر تھی۔ جیسے جیسے مغربی افکار، جدید تہذیب اور مادیت نے غلبہ پایا ویسے ویسے مسلمانوں کا مذہب سے روایتی تعلق بھی کمزور پڑتا چلا گیا اور مذہب کی روزمرہ زندگی میں اہمیت کم ہوتی چلی گئی۔ اسی کے نتیجے میں نماز کا شعار بھی متاثر ہوا۔ اگر دین کا صحیح شعور ہو، اللہ کی بندگی کے تقاضے لوگ جانیں اور سوچ سمجھ کر دینی اقدار پر عمل پیرا ہوں تو شاید یہ صورت حال نہ ہو۔ نماز جیسے اہم فریضے سے غفلت کو دور کرنے کے لیے دین کے شعور کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔

عام مسلمانوں کا معاملہ تو اپنی جگہ، اب تو خود دینی سمجھے جانے والے گھرانوں کی صورت حال بھی اطمینان بخش نہیں۔ اب یہ صورت حال بھی دیکھنے میں آرہی ہے کہ اگر والدین نماز ادا کرتے ہیں تو اولاد نماز نہیں پڑھتی، اور اگر اولاد سے سختی کی جاتی ہے تو اس کے بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر کسی دبائو کے تحت بچے نماز ادا کرتے بھی ہیں تو جیسے ہی انہیں موقع ملتا ہے وہ نماز ترک کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا غفلت برتتے ہیں۔ یہاں تک کہ نماز کے لیے سختی کا حکم ہے تو اس حکم پر بھی حکمت سے عمل پیرا نہیں ہوا جارہا ہے۔

قرآن سے دوری

ماضی میں قرآن مجید کی تلاوت بھی مسلمانوں کا شعار اور معمول تھا۔ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد بالعموم گھروں میں تلاوتِ قرآن مجید کی جاتی تھی۔ مرد و خواتین، بچے بچیاں اور بزرگ سب صبح صبح تلاوت کیا کرتے تھے۔ بچوں کو قرآن مجید بڑے اہتمام سے سکھایا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بتدریج قرآن سے تعلق کی یہ روایت بھی کمزور پڑتی گئی۔

اس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ عموماً قرآن مجید کو بلا سمجھے محض ثواب کی نیت سے پڑھا جاتا ہے۔ قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے کا رواج بہت کم ہے۔ دوسرے یہ کہ معاشرے پر مذہب کی گرفت بھی کمزور ہو گئی ہے۔آج یہ صورت حال ہے کہ تلاوتِ قرآن کا وہ معمول نہیں رہا۔ مذہبی گھرانوں میں بھی وہ کیفیت نہیں رہی۔ انگریزی اسکولوں میں تعلیم کے سبب بچوں کو قرآن مجید ناظرہ پڑھانے کا اہتمام مشکل ہوگیا ہے سمجھ کر پڑھنے کی بات تو دور۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید پڑھنے کے بعد اس سے زندہ تعلق رکھنا اور اس کے لیے رہنمائی حاصل کرنا اضافی کوشش کا متقاضی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید سے حقیقی تعلق اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب اسے کتابِ ہدایت سمجھا جائے، اس کو سمجھ کر پڑھا جائے اور اس سے روزمرہ مسائل اور عملی زندگی میں رہنمائی کے لیے ہدایت حاصل کی جائے۔ بچوں کا قرآن سے حقیقی تعلق قائم کرنے کے لیے ناظرہ قرآن پڑھاتے ہوئے اگر کچھ الفاظ کے معنی بتائے جائیں اور کچھ آیات کا ترجمہ اور ان سے ملنے والی ہدایات سے آگاہ کیا جائے تو قرآن پاک مکمل ہونے تک بچہ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے اور کتابِ ہدایت کی حیثیت سے اس کی اہمیت سے آگاہ ہوجائے گا۔ دوسری طرف اہلِ خانہ بھی قرآن مجید کی تلاوت روزانہ ترجمے کے ساتھ کرنے کو معمول بنالیں اور ہفتہ واردرسِ قرآن کے حلقے میں بچوں کے ساتھ شرکت کریں تو قرآن سے حقیقی تعلق قائم ہوسکتا ہے۔ آج کل قرآنی عربی جدید انداز میں عام فہم طریقے سے بھی سکھانے کے کورس کروائے جاتے ہیں۔ کسی ایسے کورس میں شرکت سے براہِ راست قرآن کو سمجھنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ اب تو سی ڈی اور انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے قرآنی عربی کورس کیا جاسکتا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے ہم اپنی اس روایت کو زیادہ موثر انداز میں آگے بڑھا سکیں گے اور قرآن سے زندہ تعلق قائم کرسکیں گے۔

پردہ اور حیا کی روایت

حیا اور پردہ مسلم معاشرے کی بہت مضبوط روایت اور اعلیٰ قدر ہوتی ہے ۔ مگر مغربی تہذیب اور ثقافتی یلغار کے نتیجے میں آج پردہ اور حیا جیسی بنیادی قدر معدوم ہو رہی ہے، جس طرح سے بے پردگی اور بے حیائی عام ہے، فحاشی و عریانی جس طرح سے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، وہ سب پر عیاں ہے۔ بالخصوص اخبارات و رسائل اور ٹی وی چینلز بے حیائی کو جس بے باکی سے عام کررہے ہیں، اس کا ماضی میں تصوربھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

پردے کی روایت سے کس طرح پسپائی اختیار کی گئی، اس کا تجزیہ کرتے ہوئے نعیم صدیقی ایک مقام پر لکھتے ہیں:

’’پردے کے معاملے میں بات چہرے کے پردے اور مکمل برقعے سے چلی اور مخالفانہ ماحول کی پروا نہ کرتے ہوئے پردہ داری کے اس شاندار معیار کو ہماری خواتین نے قائم کیا۔ بعد میں ماحول کا دبائو جب بڑھنے لگا تو ’’چادر‘‘ کی بات چلی۔ میں نے محسوس کیا کہ اب پسپائی کا آغاز ہوگیا ہے۔ پہلے پہل چادر اس طرح اوڑھی جانے لگی کہ تمام جسم و لباس اور زینتیں مخفی ہوجائیں، پھر وہی چادر سکڑتی دیکھی، اور شلوار کا ایک طرف کا پورا حصہ دکھائی دیتا۔ پھر شلوار کے دونوں حصے پورے سامنے آنے لگے۔ چہرے پر چادر کے پلوئوں کو پکڑ کر زیادہ اچھی طرح جوڑ لیا جاتا تھا۔ اب ان پلوئوں میں فاصلہ ہونے لگا۔ اسی طرح باقاعدہ قومی لباس مقرر ہوجانے کے باوجود بھی پتلون پہننے کا شوق جابجا نمودار ہوتا ہے۔ کئی عورتیں اپنی پانچ سات سالہ بلکہ دس بارہ سالہ بچیوں کو بھی اسکرٹ اور سایہ پہناکر گویا یہ حسرت پوری کرتی ہیں کہ ہمیں تو یہ نصیب نہ ہوا، اب ہم بچوں کو اس لباس میں سجا سنورا دیکھ کر ذہنی تسکین حاصل کریں گے۔

نعیم صدیقی مزید لکھتے ہیں:

’’یہ وہی عمل ہے جس سے گزرکر جدید طرز کی خواتین کے گھرانے میدان میں بڑھے۔ ایک رویہ نانی اماں کا تھا، پھر آزادی کے کچھ کواڑ بیٹی نے کھولے۔ آخر میں نواسی کھل کھیلی اور سیدھی اسٹیج پر آگئی۔ میں اسے شکست سمجھتا ہوں اور مخالف الحادی نظریات کی فتح۔‘‘ (ایضاً، ص 116)

حلال و حرام کی تمیز کا اٹھ جانا

ماضی میں قناعت، سادگی، اور مالِ حرام پر روکھی سوکھی کو ترجیح دینا مسلمانوں کا شعار تھا۔ رشوت اور مالِ حرام ذلت و ندامت کا باعث تھے نہ کہ عزت و فخر کی بات۔ خواتین مالِ حرام سے بچتی تھیں اور بچوں کو حلال کی روزی پر پالنے کے لیے مشکلات اٹھاتی تھیں۔ اب صورت حال بڑی حد تک اس کے برعکس ہے۔ حلال و حرام کی وہ تمیز نہیں رہی۔ رشوت اور بدعنوانی عام ہوگئی ہے اور اسے ’’اوپر کی کمائی‘‘ بلکہ ’’فضل ربی‘‘ کہا جاتا ہے۔ دولت کمانے کی ہوس میں لوگ مبتلا ہوگئے ہیں۔ مالِ حرام کے نتیجے میں معاشرے پر اس کے برے اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں۔ جرائم میں اضافہ ہورہا ہے اور نئی نسل گمراہ ہورہی ہے۔ اب حرام خوری کے خلاف معاشرے میں مزاحمت میں بھی کمی آرہی ہے۔ بدعنوانی اور کرپشن اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ملکی معاشی ابتری کا ایک بڑا سبب بھی یہی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ سادگی اور قناعت کو اپنایا جائے۔ دولت کمانے کی ہوس کے بجائے رزقِ حلال کو ترجیح دی جائے۔ قرآن و حدیث میں حرام سے بچنے کے لیے جو احکام دیے گئے ہیں ان کو عام کیا جائے اور لوگوں کو ترغیب دی جائے۔ دنیا کے معاملے میں اپنے سے نیچے والوں اور نیکی کے معاملے میں اپنے سے اوپر والوں کو دیکھنے کے اصول کو پیش نظر رکھا جائے۔ رشوت اور بدعنوانی کے مرتکب افراد کی سرزنش بھی کی جائے، نیز اجتماعی جدوجہد اور سماجی دبائو کے ذریعے اپنے اپنے دائرے میں معاشرے کے بگاڑ کو روکنے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے، اور حلال و حرام کی مٹتی ہوئی اس قدر اور روایت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔

بڑھتی ہوئی بے حسی

صلۂ رحمی اور خیر خواہی بھی ہمارے معاشرے کی ایک مضبوط قدر تھی۔ اہلِ محلہ ایک گھرانے کی طرح مل جل کر رہتے تھے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد باہم بانٹ لیتے تھے۔ بچیوں کی شادی والدین کے لیے بوجھ نہ ہوتی تھی بلکہ بچی کی شادی اہلِ محلہ کی بچی کی شادی کی طرح ہوتی۔ سب مل جل کر مصارف برداشت کرتے اور انتظام کرتے۔ بزرگوں کا احترام کیا جاتا اور ان کی خدمت باعثِ اجر سمجھی جاتی تھی۔ مادیت نے بتدریج اس روایت کو بھی متاثر کیا ہے۔ آج نفسانفسی کا عالم ہے، لوٹ کھسوٹ عام ہے اور ہوسِ زر میں لوگ مبتلا ہیں۔ لاتعلقی اور بے حسی کا یہ عالم ہے کہ خودکشی جس کا مسلم معاشرے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، آج لوگ پریشانیوں اور بھوک و افلاس کے ہاتھوں تنگ آکر اس کا ارتکاب کررہے ہیں۔ بزرگوں اور بوڑھے والدین کی خدمت اور احترام کے بجائے ان کو اولڈ ہائوس میں داخل کروایا جارہا ہے۔ اگرچہ خدمت ِخلق کا رجحان بھی بڑھا ہے۔ مختلف رفاہی تنظیمیں اور این جی اوز پہلے سے بڑھ کر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ لیکن مادیت، نفسانفسی، خودکشی کا رجحان اور بزرگوں کے لیے اولڈ ہائوس کے قیام جیسے عوامل معاشرے کو اپنی گرفت میں لیتے جا رہے ہیں۔

لمحہ فکریہ!

یہ ہماری بنیادی اقدار و روایات ہیں جو تیزی سے بدل رہی ہیں اور ان کے نتیجے میں معاشرہ انحطاط اور انتشار سے دوچار ہورہا ہے۔ ایسے میں وہ طبقہ جو ان اقدار کو آج بھی کسی نہ کسی انداز میں اپنائے ہوئے ہے، اور ملک و ملّت کے لیے درد رکھتا ہے، آگے بڑھ کر معاشرے کی بہتری کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے۔ آغاز اپنی ذات سے کیجیے، اپنے گھر کو اسلامی روایات و اقدار کا امین بنایئے۔ بچوں کی تربیت اسلامی خطوط پر کیجیے۔ قرآن کا فہم، نماز کی شعوری طور پر ادائیگی اور اخلاقی تعلیمات کا شعور عام کیجیے۔ حیا اور پردے کی روایت کو آگے بڑھائیے۔ صلہ رحمی کیجیے، بالخصوص پریشان حال لوگوں کی امداد اور ان کے مسائل کے حل کے لیے مالی امداد و اعانت کیجیے۔ اس غرض کے لیے امدادِ باہمی کے تحت عطیات اور زکوٰۃ جمع کرکے مالی وسائل کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ کسی رفاہی تنظیم یا محلہ کمیٹی کے ذریعے اہلِ محلہ کی نگہداشت اور مسائل کے حل کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ کرپشن اور لاقانونیت جو ملک کے بڑے مسائل ہیں، ان کا بنیادی سبب مالِ حرام ہے۔ اس کے خلاف مزاحمت اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔

درحقیقت معاشرتی اقدار و روایات کا فروغ اور تحفظ بنیادی طور پر حکومت کا فرض ہے۔ ہمارے ہاں اس کے برعکس صورت حال ہے۔ حکومت ہی مادیت، مغربی تہذیب اور فحاشی و عریانی کو فروغ دینے کا باعث ہے۔ ایسے میں اپنی اقدار و روایات کا تحفظ بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کا کرپشن ہی فساد کی جڑ ہے۔ اس کی اصلاح کے بغیر معاشرے کی اصلاح بہت مشکل ہے۔ اس کے باوجود اصلاحِ معاشرہ کی جدوجہد کو منظم انداز میں آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔

اگر ہم اپنی نسلوں کے دشمن نہیں ہیں اور اپنے ہاتھوں اپنا مستقبل برباد ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے تو ہمیں اخلاقی روایات و اقدار کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔ معاشرتی بگاڑ اور انحطاط کو ہاتھ پہ ہاتھ دھرے خاموشی سے برداشت نہ کیا جائے بلکہ وقت کا تقاضا ہے کہ اسے روکنے کے لیے ہر فرد اپنا کردار ادا کرے۔

شیئر کیجیے
Default image
امجد عباس

Leave a Reply